قادیان دارالامان میں جماعت احمدیہ بھارت کے ۱۳۰ویں جلسہ سالانہ سےحضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے بصیرت افروز اختتامی خطاب کا خلاصہ فرمودہ ۲۸؍دسمبر۲۰۲۵ء
ہم نے اپنی روحانی ترقی اور عہد بیعت کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہے
٭…ہر احمدی کو شرائط بیعت کو وقتاً فوقتاً اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ اب تو اس کے بارہ میں ایک کتاب بھی سامنے ہے۔ جنہوں نے شرائط بیعت اپنے گھروں میں سامنے نہیں لٹکائیں، وہ اب لگا لیں۔ اس سے پتا لگتا رہے گا کہ شرائط بیعت کیا ہیں اور جب ان کو پڑھیں گے تو اپنی اصلاح کی بھی کوشش ہوتی رہے گی اور معلوم ہوتا رہے گا کہ کس طرح میں نے حقیقی احمدی مسلمان بننا ہے اور کس طرح اپنے بیعت کے حق کو ادا کرنا ہے
٭…جب تک عمل نہ ہو لفّاظی سے کام نہیں ہوتا۔ اگر تم اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہو، اگر تم اپنے حق بیعت کو ادا کرنا چاہتے ہو تو پہلے تمہیں خود تقویٰ اور طہارت کو اختیار کرنا پڑے گا اور جب تم یہ کرو گے تو پھر تم خدا تعالیٰ کی پناہ کے حصن حصین میں آ جاؤ گے۔ اس کے ایسے مضبوط قلعے میں آجاؤ گے جہاں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا
٭…ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ ہم کس حد تک تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے اپنے عہد بیعت کو نبھانے والے ہیں۔ جس کی بیعت ہم نے کی ہے اس کا تو یہ حال ہے کہ ہمارے درد میں
دعائیں کر کر کے اس پر غشی طاری ہو رہی ہے ضعف پیدا ہو رہا ہے۔ اور ہم پوری طرح بنیادی حقوق بھی ادا نہیں کر رہے۔ یا بندوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے۔ پس یہ بہت سوچنے سمجھنے اور خوف کا مقام ہے کہیں اللہ تعالیٰ ہم سے وہ برکات نہ چھین لے جو بیعت میں آ کر ملنی چاہئیں
٭…قادیان دار الامان میں ۳۷؍ ممالک کے۱۳؍ہزار ۸۱۵؍ احباب جماعت کی شمولیت
٭…قادیان دارالامان کے علاوہ دنیا کے تین برّ اعظم افریقہ، یورپ اور جنوبی امریکہ کے کُل ۸؍ممالک سے براہ راست مناظر
٭…مختلف مراکز میں اجتماعی طور پر جلسہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد تقریباً ۴۰ ہزار
قادیان دارالامان میں جماعت احمدیہ بھارت کے ۱۳۰ویں جلسہ سالانہ سےحضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے بصیرت افروز اختتامی خطاب کا خلاصہ فرمودہ ۲۸؍دسمبر۲۰۲۵ء بمقام ایوانِ مسرور، اسلام آباد ٹلفورڈ، برطانیہ
(اسلام آباد، ٹلفورڈ، ۲۸؍دسمبر ۲۰۲۵ء، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل) محض خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے امام آخرالزمان سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی پاکیزہ اور مقدس بستی قادیان دارالامان میں جماعت احمدیہ بھارت کا ۱۳۰ واں جلسہ سالانہ ۲۶تا۲۸؍دسمبر منعقد ہوا جس میں ۱۳؍ہزار ۸۱۵؍ احباب نے شرکت کی۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔

حسبِ سابق اس جلسہ کا اختتامی خطاب امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایوان مسرور، اسلام آباد، ٹلفورڈ سے ارشاد فرمایا۔ اسلام آباد میں اس تقریب کے لیے کئی دن قبل ہی مختلف شعبہ جات سرگرم عمل ہوگئے۔ اس میں ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے کارکنان اور رضاکاران کے علاوہ مجلس خدام الاحمدیہ کے تحت خدام نے پُر خلوص انداز میں ڈیوٹیاں دیں۔ علاوہ ازیں شعبہ ضیافت نے بھی واردین کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔ یاد رہے کہ موسم سرما کی تعطیلات کے باعث اسلام آباد میں کئی دنوں سے بیرون ممالک سے احبابِ جماعت کی کثرت سے آمد رہی ہے۔ چنانچہ آج صبح نماز فجر سے ہی اسلام آباد میں جلسہ سالانہ قادیان کے اختتامی اجلاس میں شمولیت کی غرض سے احباب جماعت آنا شروع ہو گئے تھے اور مسجد مبارک کے علاوہ ایوان مسرور سے ملحق نصب کی گئی مارکی بھی پُر ہو گئی۔ نماز فجر کے بعد احبابِ جماعت کے لیے ناشتے کا انتظام بھی تھا۔
آج کی اس تقریب میں قادیان دارالامان کے علاوہ دنیا کے تین برّ اعظم افریقہ، یورپ اور جنوبی امریکہ کے کُل۸؍ممالک بھی براہ راست شامل تھے جہاں جلسہ ہائے سالانہ یا دیگر جماعتی تقریبات منعقد ہورہی تھیں۔ اس لحاظ سے یہ جلسہ بین الاقوامی رنگ اختیار کر گیا۔ سٹریم میں درج ذیل ممالک شامل ہیں:نائیجر، برکینا فاسو،ٹوگو، سینیگال، گنی بساؤ، چیک ریپبلک اور فرنچ گیانا۔ ان ممالک میں جلسہ ہائے سالانہ منعقد ہو رہے تھے جبکہ سٹریم میں جرمنی بھی شامل تھا جہاں آج نیشنل اجتماع واقفینِ نَو منعقد ہو رہا تھا۔
تشریف آوری حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ
دس بج کر ۳۵؍منٹ پر حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ پُر جوش نعروں کی گونج میں ایوانِ مسرور میں تشریف لائے۔ حضور انور کے کرسیٔ صدارت پر تشریف رکھنے کے بعد کارروائی کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ قادیان دارالامان سے محمد نور الدین ناصر صاحب نے سورۃ الحشر کی آیات ۱۹ تا ۲۵ کی تلاوت کی۔ متلوّ آیات کا اردو ترجمہ از تفسیرِ صغیر منصور احمد مسرور صاحب نے پیش کیا۔ بعد ازاں خالد ولید صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا منظوم کلام بعنوان ’محاسنِ قرآن کریم‘ میں سے منتخب اشعار پیش کیے جن کا آغاز درج ذیل شعر سے ہوا ؎
ہے شُکرِ ربِّ عَزّ و جَلّ خارج از بیاں
جس کے کلام سے ہمیں اس کا مِلا نشاں
گیارہ بج کر ایک منٹ پر حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ منبر پر تشریف لائے اور اختتامی خطاب کا آغاز فرمایا۔
خلاصہ اختتامی خطاب حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ
تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کے بعد حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
جلسہ سالانہ قادیان آج اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس جلسے کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمۂ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس لیے یہ جلسہ عام جلسوں کی طرح نہیں ہے ۔ اس جلسے کی بنیادی اینٹ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لیے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آ ملیں گی۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ جلسے منعقد ہو رہے ہیں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا، قومیں اس میں شامل ہو رہی ہیں۔
آج کے جلسے میں مختلف ممالک کے لوگ اور قومیں شامل ہیں۔ اس وقت کی اطلاع کے مطابق ۳۷؍ ملکوں کی نمائندگی ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ جلسہ خدا تعالیٰ کی خاص تائید اپنے ساتھ لیے ہوئے ہے۔
لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس جلسہ کی برکات سے وہ شخص فائدہ اٹھائے گا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیے ہوئے اپنےعہد بیعت پر قائم ہوگا ۔جو لوگ اپنی روحانی، اخلاقی بہتری اور ترقی کی طرف توجہ نہیں دیتے، وہ اس کی برکات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہم سے جو عہد بیعت لیا ہے، اس کی ہر احمدی کو ہروقت جگالی کرتے رہنا چاہیے اور خاص طور پر اس جلسے میں شامل ہو کر اس طرف خاص توجہ دینی چاہیے تبھی ہم آپؑ کی دعاؤں کے وارث بنیں گے۔ آپ نے جلسے میں شامل ہونے والوں کے لیے بہت دعائیں فرمائیں۔
آپ لوگوں نے یہاں بہت سارے علمی و دینی موضوعات پر علماء کی تقریریں سنی ہوں گی۔ یہ سب کی سب تقاریر بڑی فائدہ مند، علمی تقریریں ہوتی ہیں۔ لیکن ان تقریروں سے آپ اپنی زندگیوں میں تبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب آپ اپنے عہد بیعت کو اپنے سامنے رکھیں گے اور سچے دل سے اس کو دہراتے اور عمل کرتے رہیں گے ۔یہ ہر احمدی کا فرض ہے۔
کچھ عرصے کے بعد لوگ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے کس بات پر بیعت کی تھی۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارا احمدی ہونے کا مقصد کیا ہے۔ ہم اپنے مقصد کو تب ہی پورا کرنے والے ہو سکتے ہیں جب ہم اس کو یاد رکھیں۔ جس کے لیے ہم نے اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل کیا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں اس لیے مبعوث فرمایا تھا تاکہ جو لوگ اسلام کی تعلیم کو بھول چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دور ہٹ رہے ہیں ان کو دوبارہ خدا تعالیٰ کے قریب لایا جائے اور اسلام کی تعلیم کے بارے میں ان کو بتا کر انہیں دوبارہ عملی طور پر مسلمان بنایا جائے۔ یہی مقصد ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تھا اور آپﷺ نے اپنے صحابہؓ میں پاک تبدیلیاں پیدا کر کے ان کو عملی مسلمان بنایا تھا۔ پس یہ بہت اہم بات ہے جسے ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔
عہد بیعت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بہت سی شرائط رکھی ہیں۔ میں ان کو مختصرطور پر بیان کر دیتا ہوں۔ سب سے پہلے آپؑ نے فرمایا کہ جو میری بیعت میں شامل ہوتا ہے اس کے لیے بنیادی چیز یہ ہے کہ وہ کبھی شرک نہیں کرے گا یہاں تک کہ اسے موت آجائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شرک کی جو تعریف فرمائی ہے وہ ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنی چاہیے۔ آپؑ نے فرمایا کہ توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لا الہ الا اللہ کہیں اور دل میں ہزاروں بت جمع ہوں ۔جو شخص کسی اَور کو یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا تعالیٰ کو دینی چاہیے ان سب صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بت پرست ہے۔
پھر فرمایا کہ کسی کو بھی کسی قسم کی ناجائز تکلیف نہیں دینی۔ نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے۔ پھر فرمایا کہ اگر تم میرے ساتھ منسلک ہو اور میرے سے عہد بیعت باندھا ہے تو یاد رکھو کہ ہر حال میں رنج کی حالت ہے یا خوشی کی حالت ہے، تنگی ہے یا آسانی کی حالت ہے ہر صورت میں خدا تعالیٰ کے ساتھ ہمیشہ وفاداری کرنی ہے اور راضی با رضا رہنا ہے۔ اسی بات پر ہم بیعت کرتے ہیں۔
ہر احمدی کو ان شرائط بیعت کو وقتاً فوقتاً اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ اب تو اس کے بارہ میں ایک کتاب بھی سامنے ہے۔ جنہوں نے شرائط بیعت اپنے گھروں میں سامنے نہیں لٹکائیں، وہ اب لگا لیں۔ اس سے پتا لگتا رہے گا کہ شرائط بیعت کیا ہیں اور جب ان کو پڑھیں گے تو اپنی اصلاح کی بھی کوشش ہوتی رہے گی اور معلوم ہوتا رہے گا کہ کس طرح میں نے حقیقی احمدی مسلمان بننا ہے اور کس طرح اپنے بیعت کے حق کو ادا کرنا ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر دکھ اٹھانے کے لیے تیار ہونا چاہیے ۔ کسی بھی مشکل یا مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے منہ نہیں پھیرنا۔
بہت سارے لوگ سوال کرتے ہیں کہ ہم نے اتنی دعائیں کی ہیں لیکن پھر بھی ہم پر مشکلات وارد ہو رہی ہیں۔ ایسے لوگوں پر واضح ہو کہ اس کا یہی مطلب ہے کہ ہماری دعاؤں میں کمی ہے یا پھر اللہ تعالیٰ مزید ہمارا امتحان لینا چاہتا ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی طرف ہی جھکنا ہے۔ جب ہم اس کے سامنے جھکتے رہیں گے اور مستقل مزاجی سے اس کی عبادت کا حق ادا کرتے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ پھر فضل بھی فرمائے گا۔

پھر ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ جو غلط قسم کے رسم و رواج ہیں اور ہواو ہوس کی باتیں ہیں، ہم نے ہمیشہ ان سے بچ کے رہنا ہے اور قرآن کریم کے احکامات پر مکمل طور پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔
جب ہم عہد بیعت کا جائزہ لیں تو خود ہی پتا لگ جائے گا کہ کس حد تک ہم اس پر عمل کر رہے ہیں۔ کیا ہم اللہ اور رسولؐ کی باتوں پر سو فیصد عمل کرنے والے ہیں؟ اگر نہیں تو استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ قرآن کریم کے اوامر اور نواہی کو سامنے رکھ کر اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
پس
دنیا بھر میں ہر احمدی جو اس وقت میری یہ بات سن رہا ہے اسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے اپنی روحانی ترقی اور عہد بیعت کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہے۔ ان باتوں کو اپنے سامنے رکھنا ہے، عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے اور کبھی ان چیزوں سے دور نہیں ہٹنا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ کس طرح اپنی اصلاح کرنی چاہیے کن باتوں کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ سب سے بنیادی چیز آپؑ نے یہی بتائی کہ اپنے اندر تقویٰ پیداکرو تبھی اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کر سکو گے۔ اس بات کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ
جب تک عمل نہ ہو لفّاظی سے کام نہیں ہوتا۔ اگر تم اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہو، اگر تم اپنے حق بیعت کو ادا کرنا چاہتے ہو تو پہلے تمہیں خود تقویٰ اور طہارت کو اختیار کرنا پڑے گا اور جب تم یہ کرو گے تو پھر تم خدا تعالیٰ کی پناہ کے حصن حصین میں آجاؤ گے۔ اس کے ایسے مضبوط قلعے میں آجاؤگے جہاں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔
لوگ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوئیں۔ پہلے ہمیں یہی جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ہم نے اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کے لیے دعا کی تھی جس کی خدا تعالیٰ نے ہمیں تلقین فرمائی تھی۔ اگر نہیں تو پھر ہمارے شکوے بےفائدہ ہیں۔
بیعت کے بارے میں حضورِ انور نے فرمایا کہ صرف بیعت کافی نہیں تقویٰ ضروری ہے۔ فتح کے لیے ضروری ہے کہ تقویٰ ہو۔ آپؑ نےتوجہ دلائی کہ ضروری امر یہ ہے کہ اخلاق اور اعمال میں ترقی کریں اور تقویٰ اختیار کریں۔ ہر ایک پر لازم ہے کہ ان حملوں کا جواب دینے میں کوتاہی نہ کریں جو اسلام پر ہورہے ہیں۔اس میں اپنی کوئی بڑائی نہیں ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ نے گذشتہ خطبہ جمعہ [۱۲؍ دسمبر ۲۰۲۵ء] کے حوالے سے تبلیغ کرنے والوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ اپنی بڑائی بیان کرنے لگ جاتے ہیں حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو۔ تقویٰ اختیار کرو تاکہ بیعت کا حق اور مقاصد کو پورا کرنے والے بنو۔ نمازوں میں عاجزی ہو، تہجد ادا کرو، خدا تعالیٰ عاجز اور متقی کو ضائع نہیں کرتا۔
فرمایا کہ بعض لوگ ملتے ہیں کہ ہم لوگ بہت دعائیں کرتے ہیں۔ بے شک دعائیں کرتے ہیں لیکن ابھی وہ معیار حاصل نہیں ہوا جو ہونا چاہیے۔ اسی طرح باقی دنیا میں بھی اگر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنا ہے تو تقویٰ حاصل کرنا پڑے گا۔
ایک دن بڑے درد سے حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ اصلاح اور تقویٰ پیدا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم میری راہ اور مقصد میں روک بن جاؤ۔ اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دعا اور تدبیر پر بھروسہ کرنا حماقت ہے۔ اپنی زندگی میں ایسی تبدیلی پیدا کر لو کہ معلوم ہو کہ نئی زندگی ہے۔ ایسی تبدیلی ہو جو واضح ہو اور نظر آئے۔
آپؑ نے فرمایا کہ استغفار کی کثرت کرو۔ جن لوگوں کو کم فرصتی ہے ان کو سب سے زیادہ ڈرنا چاہیے۔ ملازمت پیشہ لوگوں سے اکثر فرائض خداوندی فوت ہوجاتے ہیں۔ نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے لیکن یہ کہنا کہ بھول گیا، یہ جائز نہیں۔ بعض لوگ نمازوں پر توجہ نہیں دیتے۔ جلسہ پر تین دن آئے ہیں۔ لوگوں نے نمازوں اور تہجد پر توجہ دی ہے۔ اور رپورٹیں بھی یہی آ رہی ہیں کہ توجہ دے رہے ہیں۔ لیکن جب گھروں پر جاتے ہیں تو باقاعدگی نہیں رہتی۔ اسی لیے آپؑ نے فرمایا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں ظلم و زیادتی نہ کرو۔ اگر صحیح طرح ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ دنیاوی نعمتوں سے نوازتا چلا جائے گا۔
پھر حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کسی کی پروا نہیں کرتا مگر صالح بندوں کی۔ آپس میں صلح کرو۔ استہزا سے دور رہو۔ آپس میں عزت سے پیش آؤ۔ دوسرے کے آرام کو ترجیح دو۔ اللہ تعالیٰ کا غضب زمین پر نازل ہو رہا ہے۔ اور وہ لوگ بچنے والے ہیں جو کامل طور پر اس کی راہ میں آتے ہیں۔ آجکل دنیا کے حالات پر غور کرنا چاہیے اور ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ حالات اللہ تعالیٰ کے غضب کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے عہد بیعت کو نبھانے کی ضرورت ہے۔
پھر حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے الہام۲۲؍جون ۱۸۹۹ء کے حوالے سے بیان فرمایا کہ بہت دفعہ خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ تم لوگ متقی بن جاؤ اورتقویٰ کی باریک راہوں پر چلو۔ پس یہ بنیادی بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتائی کہ اپنی جماعت میں یہ پیدا کرو۔ فرمایا کہ میرے دل میں بہت درد پیدا ہوتا ہے۔ میں کیا کروں کہ میری جماعت سچا تقویٰ اختیار کر لے۔ آپؑ نے دعا کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اتنی دعا کرتا ہوں کہ دعا کرتے کرتے ضعف کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ غشی اور ہلاکت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ پس
ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ ہم کس حد تک تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے اپنے عہد بیعت کو نبھانے والے ہیں۔ جس کی بیعت ہم نے کی ہے اس کا تو یہ حال ہے کہ ہمارے درد میں دعا ئیں کر کر کے اس پر غشی طاری ہو رہی ہے ضعف پیدا ہو رہاہے۔اور ہم پوری طرح بنیادی حقوق بھی ادا نہیں کر رہے۔ یا بندوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے ۔ پس یہ بہت سوچنے سمجھے اور خوف کا مقام ہے کہیں اللہ تعالیٰ ہم سے وہ برکات نہ چھین لے جو بیعت میں آکر ہمیں ملنی چاہئیں۔ جب تک کوئی جماعت اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں متقی نہ بن جائے خدا تعالیٰ کی نصرت اس کے شاملِ حال نہیں ہوتی۔ پس خدا تعالیٰ کی نصرت کے لیے متقی بننا ضروری ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے وہ دعا پیش کی جو حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے ماننے والوں کے لیے پیش فرمائی تھی۔
’’اے رب العالمین! تیرے احسانوں کا میں شکر نہیں کرسکتا، تو نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور تیرے بےغایت درجہ مجھ پر احسان ہیں میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔ میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما۔ اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جائے میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو۔ رحم فرما اور دنیا و آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل و کرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے ۔ آمین ثم آمین‘‘
فرمایا پس یہ دعائیں جو آپؑ نے کیں اور ہمیں سکھانے کے لیے کیں۔ کہ یہ دعا کرو اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرو۔ اس کے لیے دعا مانگو۔ پس اگر ہم ان باتوں پر عمل کریں گے تو ان مقاصد کو حاصل کرنے والے ہوں گے جن کے لیے حضرت مسیح موعودؑ آئے تھے۔
اگر ہمیں حضرت مسیح موعودؑ کی دعاؤں کا وارث بننا ہے اور خاص طور پر ان دعاؤں کاوارث بننا ہے جو جلسوں میں شامل ہونے والوں کے لیے آپؑ نے کی ہیں تو ہمیشہ ان باتوں کو سامنے رکھناہوگا۔ ہر وقت عہدبیعت سمجھنے اور دہرانے کے لیے سامنے رکھیں، یا ایسی جگہ پر رکھیں جہاں نظر پڑتی رہے۔ لوگ بہت ساری چیزیں فریم لگاکر رکھتے ہیں یہ بھی فریم لگا کر رکھ لیں اس سے فائدہ ہی ہوگا۔
اللہ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی حالتوں میں پاک تبدیلی پیدا کرنے والا ہو اور اس کوشش میں ہو کہ ہم نے شرائط بیعت کو بھی پورا کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ اس بارے میں حضرت مسیح موعودؑ نے بہت نصائح کی ہیں۔ جو دعائیں آپؑ نے کی ہیں ان کا وارث بننا ہے تو ہمیں اپنے عملوں کو بدلنا پڑے گا۔ اور واضح تبدیلی پیدا کرنی ہوگی۔ جب یہ ہوگاتو تب ہی ہم بیعت کا مقصد پانے والے ہوں گے۔
حضور انور کا خطاب ۱۱ بج کر ۴۶؍ منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے اجتماعی دعا کروائی۔ دعا کے بعد قادیان دارالامان سے اردو نظمیں اور عربی قصیدہ پیش کیا گیا۔
حاضری کی بابت اعلان کرتے ہوئے حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس وقت قادیان کی حاضری ہے ۱۳؍ ہزار ۸۱۵۔مختلف قوموں کے لوگ ہیں یہاں شامل ہیں۔ اس وقت یہاں یوکے میں، اسلام آباد میں ہمارے، حاضری ہے ۳؍ہزار ۳۶۵۔ اور مختلف جگہوں پہ جو جلسے ہورہے ہیں، بعض جگہ ویسے لوگ اکٹھے جمع ہوئے ہیں۔ ۶، ۷ جگہ تو جلسے ہورہے ہیں۔ افریقہ کے حالات آج کل کافی خراب ہیں۔ اس کے باوجود لوگوں نے بڑی قربانی کرکے، بڑی تکلیف برداشت کرکے جلسے میں شامل ہوئے ہیں۔ نائیجر میں اس وقت ۳؍ہزار ۳۴۰؍ لوگ ہیں۔ برکینا فاسومیں ۶؍ہزار ۱۴۱؍ہیں۔ برکینا فاسو کے حالات تو خاص طور پر بہت خراب ہیں۔ سینیگال میں ۱۵۱۰؍ ہیں۔ فرنچ گیانا میں ۵۰؍ کے قریب لوگ ہیں۔ چھوٹی سی جماعت ہے۔ چیک ریپبلک میں ۱۵۷؍ہیں، یہاں بھی چھوٹی سی جماعت ہے۔ گنی بساؤ میں ۵؍ہزار ۵۰؍ہیں۔ ٹوگو میں ۱۱۲۷؍ہیں، یہ بھی چھوٹا سا ملک ہے۔ کونگو کنشاسا میں اس وقت ۲؍ہزار ۳۴۷؍لوگ مرکز میں بیٹھے ورچوئل سن رہے ہیں۔ جرمنی میں اس وقت وقف نو کا اجتماع ہورہا ہے، وہاں ۳؍ہزار ۳۵۰؍ واقفین نو جلسہ سُن رہے ہیں۔ ٹوٹل باہر کے لوگ جو سن رہے ہیں ۲۳؍ ہزار سے اوپر ہیں، اس طرح اللہ کے فضل سے اس وقت گھروں کے علاوہ جو لوگ سن رہے ہیں، یا مختلف مراکز میں بیٹھے جلسہ سن رہے ہیں ان کے علاوہ جو اجتماعی طور پر جلسہ سن رہے ہیں ان کی کل تعداد اس وقت تقریباً ۴۰ ہزاربن جاتی ہے۔ جزاک اللہ۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ سب شامل ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ سب نیک باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں کا وارث بنائے۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔
بارہ بج کر پانچ منٹ پر حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ ایوان مسرور سے تشریف لے گئے۔
ادارہ الفضل انٹرنیشنل امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز، جماعت احمدیہ قادیان دارالامان (بھارت)، تمام شرکائے جلسہ سالانہ قادیان و دیگر ممالک نیز احبابِ جماعت احمدیہ عالمگیر کو کامیاب جلسہ سالانہ کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پیارے امام کے ارشادات کی روشنی میں شرائط بیعت پر عمل کرنے والا اور عہد بیعت کو پورا کرنے والا بنائے۔ آمین
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 12؍ دسمبر2025ء




