میرے والدِ محترم محمد عرفان صابر صاحب
خاکسار کے والد مکرم محمد عرفان صابر صاحب ولد محترم حاجی حسن خان صاحب مرحوم معلم تعلیم القرآن مقامی جماعت احمدیہ منظورکالونی امارت کلفٹن کراچی ایک سال بون مَیرو بلڈ کینسر کی بیماری سے بڑے صبروحوصلہ سے لڑتے ہوئے مورخہ۱۸؍دسمبر۲۰۲۴ء کو ۸۲؍سال کی عمر میں طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ میں وفات پا گئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ سوچاکہ اُذْکُرُوْا مَحَاسِنَ مَوْتٰکُم کے تحت کچھ یادیں تحریر کی جائیں۔

والدصاحب اللہ کے فضل سے موصی تھے اور گذشتہ ۲۶؍سال سے ضلع کراچی میں بطور معلم تعلیم القرآن خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔ والدمرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے والد مکرم حاجی حسن خان صاحب کے ذریعہ۱۹۳۸ء میں ہوا۔مکرم حاجی حسن خان صاحب نے حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحبؓ کی تبلیغ کے ذریعہ بیعت کی اور کھوسہ بلوچ قوم میں سے بیعت کرنے والے اوّل المبائع تھے۔مکرم حاجی حسن خان صاحب نے اوّل خط کے ذریعہ اور بعدمیں قادیان جا کر حضرت مصلح موعودؓ کے دست مبارک پربیعت کی سعادت حاصل کی۔ مکرم حاجی حسن خان صاحب تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل تھے۔ان کا نمبر ۴۴۰۷؍ہے۔
خاکسار کے والدِمحترم انتہائی شفیق انسان تھے۔ ٹھنڈا مزاج، ہنس مکھ، ہر کسی کے دکھ سکھ میں بڑھ چڑھ کر شامل ہونا انتہائی غریب پرور انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ سے بے انتہا محبت کرنے والے خلیفۂ وقت،حضرت مسیح موعودؑ سے بے پناہ عشق تھا، واقفین سے بے انتہا پیار و محبت کرنے والے انسان تھے۔
خاکسار نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے والدِ محترم کو پنجوقتہ نماز باجماعت کا پابندپایا، تلاوت کلامِ پاک و تہجدونوافل سے کبھی ناغہ کرتے نہیں دیکھا۔ ہمارے گھر میں شروع سےہی غربت رہی ہے۔والد صاحب مرحوم نے زندگی میں بڑی مشقتیں کرکرکے ہم چار وں بہن بھائیوں کو پڑھایا، لکھایا اور ہمیں صبر اورہر حال میں شکر کرنا سکھایا۔غربت اور تنگدستی کے باوجود ہمیشہ سے مہمان نوازی کرتے رہے۔ خاکسار کو یاد ہے پڑھائی کے سلسلہ میں بستی صادقپورضلع عمر کوٹ سے والد صاحب نے ہمیں جب حَب چوکی بلوچستان شفٹ کیا تو حب چوکی میں ابو جان مرحوم قہوہ چائے بیچ کر ہمارا پیٹ پالا کرتے تھے۔ حب چوکی میں اُس وقت نماز سنٹر نہیں تھا۔ والد صاحب مرحوم نے وہاں کے تمام مقامی احباب کو کہہ دیاتھا کہ میرا گھرنماز سنٹر ہے یہاں آکر نماز جمعہ ادا کر لیا کرو۔ چنانچہ کافی عرصہ تک ہمارے گھر میں جمعہ کی نماز ہوتی رہی۔ ہمارے گھر میں نماز جمعہ پر کبھی ۲۰؍اورکبھی ۳۰؍افراد تک جمع ہوجایا کرتے تھے۔والد صاحب کا ایک نہایت ہی پیارا وصف تھا کہ جمعہ پر آنے والے احباب کی مہمان نوازی ضرورکیا کرتے تھے۔ احباب سے پہلے کھانے کا پوچھتے۔ جس نے کھانا نہ کھایا ہوتا تو اس کے لیے ہم گھر والوں سے کھانا بنواتے۔ اور جنہوں نے کھانا کھایا ہوا ہوتاتھا ان سب کے لیے قہوہ چائے بنواتے۔ ہم گھر والےجب کہتے کہ ابوجان یہ تو ہر جمعہ کی روٹین ہے اس مہمان نوازی کو مستقل چلانا ہمارے لیے مشکل ہوگا تو والد صاحب ہمیشہ یہی کہتےتھے کہ نہیں بیٹا یہ احباب حضرت مسیح موعودؑ کے مہمان ہیں مہمان نوازی اچھی چیز ہے۔ ہم کون سا دودھ والی چائے پلارہے ہیں،قہوہ ہی تو ہے۔ اُن دنوں ہمارے مالی حالات تنگ ہوا کرتے تھے۔ گھر کی ضرورتیں پوری نہیں ہوتی تھیں۔ قہوہ کا ایک ایک کپ ہمارے لیے بہت معنی رکھتا تھا۔ مگر والد صاحب ہمیشہ بڑے کھلے دل سے مہمانوں کی مہمان نوازی کیا کرتے تھے اور انتہائی خوشی محسوس کرتے تھے۔ عید والے دن ہمارے گھر حسب توفیق جو بھی کوئی خاص چیز پکتی وہ زیادہ مقدار میں پکواتے۔ نمازعید کے بعد گھر پر آنے والےسب احباب کو ریفریشمنٹ کرواتےتھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے قہوہ چائے جو حضرت مسیح موعودؑ کے مہمانوں کو پلاتے اس کی برکت سے والد صاحب کوکچھ عرصہ بعد ایک کرایہ کی دکان مل گئی جس میں والد صاحب کریانہ کی چیزیں فروخت تھے اور اپنی دکان میں ہی نمازیں پڑھنے کے لیے جائے نماز رکھا ہوتا تھا۔
دکان کے آس پاس کے سب لوگوں سے ابوجان کی اچھی دعا سلام اور دوستی ہوگئی تھی۔ ان سب کو پتا تھا کہ ہم احمد ی ہیں کیونکہ ابوجان ہر کسی کو جماعت احمدیہ کا تعارف کرواتے تھے۔ جب ہمارے گھر جماعتی پروگرامز شروع ہوئیں اور کراچی سے محترم مربی صاحب آنا شروع ہوئےتو مولویوں نے شورمچانا شروع کر دیا، مخالفت کی آگ میں ایک دن مولویوں نے اعلان کیا کہ جمعہ والے دن انہوں نے ہمارے گھر اور دکان پر حملہ کرنا ہے۔
ہم اس وقت چھوٹےبچے تھے۔مولویوں کی دھمکیوں سے بہت ڈرگئے۔ہم نے ابوجان مرحوم کو کہا کہ ہمارے پاس تو کوئی اسلحہ بھی نہیں ہے ہم ان مولویوں کا کیسے مقابلہ کریں گے تو ابو جا ن نے بڑے اطمینان سے کہا کہ حضور انور کو دعاکا خط لکھ دو ان شاء اللہ کچھ نہیں ہوگا۔ یہ ۱۹۹۵۔۱۹۹۶ء کی بات ہے۔ ہم بہن بھائیوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خدمت میں دعا کا خط لکھ دیا اور ہمیں بھی تسلی ہوگئی کہ اب کچھ نہیں ہوگا۔جمعہ کا دن مولویوں نےجلاؤ گھیراؤ کے لیے مقرر کیاہوا تھا۔والد صاحب نے جمعرات والے دن ہم سب بچوں کو کہا کہ چھوٹے چھوٹے پتھر جمع کرو مولوی اگر حملہ کرنے آبھی گئے تو ان کو ماریں گے اور گھر میں غلیل اور پسی ہوئی لال مرچ کا بھی انتظام کر لیا اور ہمیں کہا کہ اوّل تو کوئی آئے گا نہیں اور اگر کوئی آیا بھی تو ہمارے ہتھیار یہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم ان ہی ہتھیاروں سے ان کا مقابلہ کریں گے۔ چنانچہ پیارے آقا کی دعاؤں سے مولویوں کو ہمارے گھر کے قریب آنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ مولوی دور سے نعرے مارتے مارتے ابوجان مرحوم کی کریانہ کی دکان پر پہنچ گئے۔ وہاں جاکر نعرے مارتے رہے اور دکان جلانے کی کوشش کی لیکن ابوجان کا ہمسایہ جمالی ذات کا ایک غیر احمدی دکاندار مولویوں کے جتھے کے سامنے ہتھیار لے کر کھڑا ہو گیا اور مولویوں کو کہنے لگا کہ میری لاش سے اگر گزر کر دکان جلا سکتے ہو تو جلا دو ورنہ میں اپنے ہوتے ہوئے تمہیں دکان جلانے نہیں دوں گا۔اس پر مولویوں کا جتھا بےبسی کی حالت میں واپس چلا گیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و احسان اور حضور ؒکی دعاؤں کے طفیل ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھا۔
حضور ؒکا اس خط کا جو جواب آیا اس میں حضورؒ کے انتہائی شفقت بھرے الفاظ تھے جن کا مفہوم یہ تھا کہ اپنے والد صاحب کو میرا پیغام دیں کہ شر پسند عناصر سے دُور رہیں صرف سعید فطرت لوگوں سے رابطہ رکھیں۔ نیزپیارے حضورؒ نے دعائیں دیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر شر سے محفوظ رکھے اور والد صاحب کو پیارے آقا نے سلام بھیجا تھا اور پیارے آقا نے اپنے دستخط سے یہ خط ارسال فرمایا تھا۔اس خط کی محبت آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہے۔
ہمارے گھر کی روٹین یہ تھی کہ ہمارے گھر میں پانچوں وقت نماز باجماعت ہوتی تھی۔ ابوجان اگر گھر پرنہ ہوتے تو بھائی نماز با جماعت پڑھاتے تھے۔ابوجان کی روٹین تھی کہ ناشتہ کے وقت ہم سب بہن بھائیوں سے پوچھتے تھے کہ تلاوت کی کہ نہیں؟
حب چو کی بلوچستان میں پڑھائی کے بہت مسائل تھے چنانچہ والد صاحب نے ہمیں حب چوکی سے کراچی (بلدیہ ٹاؤن) شفٹ کردیا اور خودحب چوکی میں ہی محنت مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہی دنوں والد صاحب کی دینی محبت اور جوش کو دیکھ کراُنہیں ضلع کراچی کے تحت حب چوکی بلوچستان میں بطور معلم تعلیم القرآن مقامی خدمت کرنے کی پیشکش ہوئی۔ دُوردرازعلاقہ ہونے کی وجہ سے حب چوکی بلوچستان کے بچے قرآن اور قاعدہ پڑھنےسے محروم تھے۔ ابوجان نے انتہائی خوشی سے قرآن کریم کی خدمت کا یہ کام شروع کیا اور سائیکل پر دُوردراز بچوں کو پڑھانے جاتے تھے۔حب چوکی بلوچستان سے نیول کالونی کراچی ۱۰؍کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ وہاں بھی سائیکل پر روزانہ جاتے تھے اور بڑے پیار سے بچوں کو قاعدہ اور قرآن پڑھاتے تھے۔ بچوں پر کبھی غصہ نہیں کرتے تھے۔ چار سال کی عمر میں بچے کو قرآن کریم ناظرہ مکمل کرواکر آمین کروادیتے تھے۔
ابوجان کو ابتدا میں مبلغ پندرہ سو روپے ماہ وار وظیفہ ملتا تھاجس میں ہم انتہائی صبر اور شکر کے ساتھ وقت گذارتے تھے۔ کئی کئی دن تو ہمارے گھر سالن نہیں پکتا تھا۔ہمیں ہمیشہ صبر اور شکر کا درس دیتے تھے۔ رات کو روٹی اگر بچ جاتی تو کبھی بھی وہ ضائع نہ ہونے دیتے تھے۔ گھر میں سوکھی روٹی ہم نے کبھی نہیں دیکھی۔ رزق کی حد سے زیادہ قدر کرتے تھے۔حب چوکی اور نیول کالونی میں خدمت کے کچھ عرصہ بعد ابوجان بھی ہمارے ساتھ بلدیہ ٹاؤن کراچی شفٹ ہوگئے۔ وہاں پر والد صاحب نے بہت محنت اور لگن سےقرآن کریم کی خدمت کا کام جاری رکھا۔ متعدد بچوں کو قرآن کریم پڑھایا۔بلدیہ ٹاؤن سے نیول کالونی تک دن میں پانچ پانچ،چھ چھ مقامات پر سائیکل پر جا کرکلاسز لیتے تھے۔ گرمی ہویا سردی یا گھر میں کوئی بیماری مگروالد صاحب چھُٹی کبھی نہیں کرتے تھے۔ہمیشہ انہوں نے اپنے کام سے وفاداری کی۔ بچوں کے بھی ہردلعزیز استاد تھے ہنسی مذاق کے ساتھ اُن کو سبق پڑھایا کرتے تھے۔
والد صاحب کو واقفین زندگی سے بے انتہا محبت تھی۔ خاکسار کو یاد ہے بلدیہ ٹاؤن کراچی میں جب پہلی بار مربی سلسلہ تعینات ہوئے تو ہم نے اُن کا پُرتپاک استقبال کیا۔ ہمارے گھر میں جو بھی کھانا پکتا تھا والد صاحب نے ہمیں حکم دیاہوا ہوتاتھا کہ مربی صاحب کے گھر ضرور بھیجیں، کہتے تھے کہ واقفین پردیسی ہیں اُن کا خیال رکھا کریں۔ مربی صاحب کا گھر اور ہمارا گھر ایسے لگتا تھا ہم باہم رشتہ دار ہیں۔خاکسار نے والد صاحب سے ہی دین سے اور واقفین زندگی سے محبت سیکھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ خاکسار کی خواہش پر کہ واقفِ زندگی سے شادی کرنی ہےوالد صاحب مرحوم نے بڑی تگ ودو اور بڑی طویل کوشش اور دعاؤں کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے خاکسار کی شادی مربی سلسلہ سے کروائی۔مکرم و محترم نسیم احمد تبسم صاحب ایک لمبا عرصہ بلدیہ ٹاؤن کراچی میں بطور مربی سلسلہ تعینات رہے اور پھر مربی ضلع کراچی کے طور پر بھی خدمات بجالاتے رہے۔ اُن کے ساتھ ہمارا فیملی ریلیشن ایسا بنا کہ آج تک ان کے گھر میں آنا جانا،ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا ہماری روٹین ہے۔ خاکسار کا نکاح بھی محترم مربی صاحب نے پڑھایا تھا۔ہم آج تک اُن کی فیملی کے ساتھ پیار اور محبت کے رشتہ میں جڑے ہوئے ہیں اور یہ سب ہمارے والدِ محترم کی تربیت کا نتیجہ ہے۔خاکسار کے نکاح اور رخصتی میں شرکت کے لیے جب والدصاحب نے مکرم نواب مودود احمد خان صاحب مرحوم سابق امیر ضلع کراچی سے درخواست کی۔ چنانچہ خدا کے فضل سے محترم امیر صاحب ضلع کراچی بنفس نفیس خاکسار کی رخصتی اور نکاح میں شامل ہوئے۔اسی طرح مکرم عبدالقدیر فیاض صاحب مرحوم مربی سلسلہ اور دیگر کئی واقفین اس تقریب میں شامل ہوئے اوریہ تمام برکات والدصاحب کی کوشش اور تربیت کی وجہ سے ہمیں ملیں۔ والدصاحب کو بےانتہا خوشی تھی کہ بیٹی کی رخصتی کے موقع پر کثرت سے اللہ تعالیٰ کے پیارے وجودہماری اس خوشی میں شامل ہوئے ہیں۔
ابوجان کافی عرصہ تک جماعت احمدیہ صادق پور ضلع عمر کوٹ کے پہلے صدر جماعت کے طور پر خدمت کی توفیق پاتے رہے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر کئی اہم شعبہ جات میں خدمات کی اُنہیں توفیق ملتی رہی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے دور خلافت میں والد صاحب نے مرکزی اجتماعات مجلس خدام الاحمدیہ کے مواقع پر خلیفہ وقت کی تحریک پرتھرپارکر سندھ سے ربوہ کے چارسائیکل سفر کیے۔ تین بار نارمل قافلہ کے ساتھ چار چار دنوں میں ربوہ پہنچے۔ اور ایک بار۲۱؍خدام پر مشتمل فاسٹ قافلہ لے کر تین دن میں ربوہ پہنچے اور اللہ کے فضل سے چاروں بار امیرِ قافلہ کے طور پر یہ تمام سائیکل سفر کیے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے ساتھ تصویر اس مضمون میں دی گئی ہے۔
ایک بار کا واقعہ بتاتے تھے کہ سانگھڑ کے قریب ایک چھوٹے سے ہوٹل پر ہم نے چائے پی تو وہاں کسی مولوی کو پتا چل گیا کہ یہ احمدی ہیں۔ اُس نے شورمچادیا تو ہوٹل والوں نے لڑائی شروع کر دی کہ تم لوگوں نے ہمارے کپ پلید کردیے ہیں۔ بلکہ ایک خادم کو اُنہوں نے تھپڑ بھی مارا۔ اس پر سب خدام جوش میں آ گئے۔اُس وقت ہوٹل میں وہاں کا ایک لوکل ہم قوم غیراحمدی نوجوان بھی موجود تھا۔ اُس نے درمیان میں آکر ہوٹل والوں کو سمجھایا کہ یہ ۲۱؍لڑکے ہیں اگر انہوں نے تمہیں ذرا بھی مزہ چکھایا توتمہارے لیے یہ کافی ہیں اور میں بھی اِن کا ہی ساتھ دوں گا کیوں کہ یہ میرے قومی بھائی ہیں۔ خدام نے بھی اپنے امیر قافلہ سے اصرار کیا کہ ہمیں اجازت دیں ہم ان کو مزہ چکھاتے ہیں لیکن ابو جان نے بڑے صبر اور حوصلہ سے اُن کو سمجھایا کہ ہم نے ہرگز ایسا نہیں کرنا۔ اگر ہم نے بھی لڑائی شروع کر دی تو یہاں معاملہ خراب ہو جائے گا پولیس آجائے گی اور ہمارا،اصل مقصد فوت ہو جائے گا۔ والد صاحب نے ہوٹل والے سے کہا کہ یہ کپ آپ ہمیں دے دیں اور آپ ہم سے اُن کے پیسے وصول کرلیں اِس پر ہوٹل والے نے وہ کپ ابو جان کو دے کر ان کی قیمت وصول کرلی۔ بلکہ ہوٹل والے نے ۲۱؍کی بجائے ۲۲؍کپ دے دیے ایک زائد کپ اُس لوکل ہم قوم غیراحمدی نوجوان کا بھی اُنہوں نے ابو جان کوتھما دیا۔ تو اس طرح وہ معاملہ ختم ہوا۔ ابوجان بتاتے تھے کہ بعد میں وہ کپ ربوہ نمائش میں بھی بغیر دھوئے رکھے گئے تھے ۔
والد صاحب کوقرآن پاک سے بہت پیار تھا۔ خاکسار کے بیٹے نے جب قرآن پاک حفظ کیا تو بہت ہی خوشی کا اظہار کیا۔ اُس کو انعام دیا۔ بہت فخر محسوس کرتے تھے کہ میرا نواسہ حافظ قرآن ہے۔ ہمارے چھوٹے بھائی مکرم احسان احمد نجم (مرحوم) کا بیٹا عزیزم جامعہ احمدیہ کا طالبعلم ہے اور یہی والدصاحب مرحوم کی دلی خواہش تھی کہ اپنی اگلی نسل کو خدمتِ دین کرتے ہوئے دیکھیں اور اس کام میں دل کی گہرائیوں سے خوشی محسوس کرتے تھے۔
والد صاحب کو حافظ کلاس مقامی کراچی میں بھی کچھ عرصہ بچوں کو قرآن پاک حفظ کروانے کی سعادت ملتی رہی۔ آج خدا کے فضل سے اُن کے بہت سارے شاگرد بطور واقفِ زندگی میدانِ عمل میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔ اور جب کبھی کسی سے ملاقات ہوتو وہ والدصاحب مرحوم کا نہایت عزت و تکریم سے ذکر کرتے ہیں۔ والدصاحب مرحوم کی وفات پر بھی لاتعداد لوگوں نےگھر آکر اور بہت سارے احباب نے بذریعہ فون اور ٹیکسٹ میسج اظہارِ افسوس کیا۔
خاکسار کے والد صاحب ایک مکمل باب تھے۔ زندگی کے ہر پہلو پر ہمیں خود عمل کر کے سمجھایا۔صبر وشکر کا ایک پیکر تھے۔ انتہائی خدا ترس انسان تھے۔ جو لوگ بھی والد صاحب سے وابستہ تھے سب نے بہت ہی پیارے انداز میں ان کا ذکرخیر کیا۔
چندہ جات کی ادائیگی میں والد صاحب کا طرز عمل یہ تھا کہ ہر قسم کی آمدپر چاہے وہ کسی بھی طرح سے ہو اس پر پابندی سے لازمی چندہ اداکیا کرتےتھے۔ ہر قسم کے تحفہ اور امداد پربھی چندہ جات ادا کیا کرتے تھے۔ آخری بیماری میں بھی اگر کسی نے بیماری کی وجہ سے کوئی مدد کی ہے تو اس پربھی اپنی وفات تک چندہ ادا کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بوقت وفات نہ صرف یہ کہ اپنی حیات تک کا اُن کا سارا لازمی و طوعی چندہ ادا تھا بلکہ لازمی چندہ میں زائد ادائیگی شامل تھی۔اسی طرح والد صاحب نے اپنی زندگی میں اپنا حصہ جائیداد ادا کردیاتھا اوراُس جائیداد کا حصہ جائیداد بھی(جو اُن کواقربا کی طرف سے ابھی ملنا تھا) ادا کر دیا۔ حالانکہ وہ حصہ ابھی اُنہیں ملا بھی نہیں تھا۔لیکن کہتے تھے کہ چونکہ میرا حصہ بنتا ہے اس لیے اس کا بھی حصہ جائیداد ادا کردیا۔
والد صاحب نے ایک لمباعرصہ سعودی عرب میں گزارا متعدد حج کرنے کی سعادت ملی اور ہماری والدہ صاحبہ کی طرف سے بھی حجِ بدل کیا۔
خاکسار نے جب سے ہوش سنبھالا ہےاپنی والدہ صاحبہ کومختلف عوارض میں بیمار دیکھا ہے۔والدہ صاحبہ کی تیمارداری کے سلسلہ میں ابوجان ہسپتال میں ہوتے یا گھر پر نمازوں اورتلاوت کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے۔ایک بار امی جان کی طبیعت خراب تھی والد صاحب سارادن اور ساری رات ان کے ساتھ جاگتے رہے لیکن صبح تین بجتے ہی تہجد کی نماز پڑھنی شروع کردی۔ تہجد پڑھتے پڑھتے چکرآیا، گرگئے اور چوٹ بھی لگی، اس پر میں نے ابوجان سے کہا کہ اباجان مجبوری تھی آپ آرام کرلیتے۔ مگر ابوجان کی یہ روٹین تھی کہ نماز تہجد کے لیے صبح تین بجے اُٹھ جاتے۔تہجد کے بعد نمازفجر با جماعت ادا کر کے بلا ناغہ تلاوت کرتے تھے بعد میں اس حصہ کا ترجمہ بھی ضرور پڑھتے تھے۔ زندگی بھر والد صاحب کی یہی روٹین رہی۔
والد صاحب نے رمضان المبارک کے روزے سوائے آخری بیماری کے کبھی ترک نہیں کیے۔ بلکہ شوال کے چھ روزے بھی فرض روزوں کی طرح ہر سال مکمل کیا کرتے تھے۔ رمضان المبارک میں ایک بار ترجمہ کے ساتھ قرآن پاک کا مکمل دور کیا کرتے اور دو مرتبہ سادہ دور مکمل کرنا معمول دیکھا۔ خاکسار کے بڑے بھائی مکرم عمران احمد عاقب صاحب مرحوم کو جگر کا کینسر تھا۔والد صاحب بڑی ہمت اور حوصلہ کے ساتھ پورا ایک ماہ ہسپتال میں اُن کے ساتھ رہے اور دن رات ان کی خدمت کی۔ بھائی جان مرحوم خون کی الٹیاں کرتے تھے مگر ابوجان بڑے حوصلہ اور صبر کے ساتھ چٹان بن کر اُن کی خدمت کرتے رہے۔کبھی بھی شکوے اوربےصبری کے الفاظ زبان پہ نہ لائے۔بھائی کی وفات چالیس سال کی عمر میں ہوئی۔والد صاحب ان کی وفات تک ہسپتال میں ان کے ساتھ رہے اور ان کو سنبھالتے رہے۔ابوجان مرحوم کا اپنا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا جس میں ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ڈاکٹرز نے ٹانگ کا آپریشن کرکے راڈ ڈالنے کا کہا تو بہت حوصلہ سے وہ وقت گزارا۔اگر کبھی ابو جان کو فکر ہوتی تو یہ کہ جلدی ٹھیک ہوجاؤں اور قرآن کلاسز لینا شروع کروں۔ جب خدا کے فضل سے ٹھیک ہوگئے تو اپنی پرانی روٹین پر آگئے اور بدستور سائیکل پر جاجاکر کلاسز لیتے رہے۔آخری بیماری سے قبل ابو جان کو پراسٹیٹ کا مسئلہ ہوا اس کو بھی بہادری کے ساتھ برداشت کیا۔ ڈاکٹرز نے شعاعوں کے ذریعہ علاج کیا۔ اپنا مکمل علاج نہایت ہمت اور حوصلہ کے ساتھ کروایا کبھی بھی بیماری کے دوران ہم نے ان کے منہ سے ناشکری کے کلمات نہیں سنے۔ نہ ہی یہ سُنا کہ خرچہ کہاں سے آئے گا،کیا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔
پراسٹیٹ کے علاج کے کچھ عرصہ بعد ابو جان کو بون میرو کا کینسر ہوگیا۔ ابتدا میں بہت زیادہ وقت تو بیماری کی تشخیص میں لگ گیا۔ پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ بیماری کیا ہے۔ بالآخر جب پتا چل گیا کہ بون میرو بلڈ کینسر ہوگیا ہے تو اس بیماری میں بھی بڑے صبر اور حوصلہ سے ہمیں سمجھاتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا ہرحال میں شکر کرتے رہنا چاہیے۔خاکسار پریشان ہوتی تھی کہ میدانِ عمل میں ہونے کی وجہ سے آپ کی اور امی جان کی کچھ خدمت نہیں کرپا رہی تو مجھے کہتے کہ آپ لوگ فوجی ہیں۔ فوجی اگر بارڈر چھوڑدیں تو ملک سلامت نہیں رہتے۔ اسی بیماری کے دوران خاکسار کے چھوٹے بھائی عزیزم احسان احمد نجم کی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں چالیس سال کی عمر میں وفات ہوگئی۔ اُن کی وفات پر بڑے صبر اور حوصلہ کا مظاہرہ کیا اور ہم سب کو بھی دلاسےدیتے رہے۔بلڈ کینسر کی وجہ سے چل پھر نہیں سکتے تھے جسم سوجا ہوا تھا مگر اُن دنوں میں بھی میں نے ذاتی طور پر نوٹ کیا کہ تین بجتے ہی ابوجان جائے نماز پر ہوتے تھے کھڑے نہیں ہوسکتے تھے کرسی پر بیٹھ کر نماز تہجد ادا کیا کرتے تھے۔ان کے لیےنماز تہجد میں ناغہ کا تصور نہ تھا۔
چھوٹے بھائی احسان احمد نجم مرحوم کی اچانک حادثہ میں وفات کے بعد ابوجان کی بیماری بڑی تیزی سے بڑھی۔کراچی میں لا تعدادہسپتالوں میں علاج کروایا مگر خاطر خواہ فائدہ نہیں ملا تو خاکسار والد صاحب کوطاہرہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ لےکر آئے۔
والد صاحب کی وفات سے ایک ہفتہ قبل جب خاکسار نےاُن سےفون پر بات کی کہ ایک دو ماہ ربوہ آکر آپ کے پاس ہسپتال میں رہ کر آپ کی خدمت کرنا چاہتی ہے تو والد صاحب مرحوم نے تب بھی مجھے منع کردیا کہ تم واقفِ زندگی ہو اتنے اخراجات کیسے کروگی؟ تم بچوں کی پڑھائی کا خیال کرو اور میرے لیے صرف دعا کردیا کرو۔ تاہم خاکسارکا دل بہت اُداس تھا لہٰذا بچوں کے ہمراہ ابوجان سے ملنے ربوہ چلی گئی۔ والد صاحب خاکسار سے مل کر بہت خوش ہوئے، مجھے پیاردیا، اور مسکرائے مگربیماری کی شدت اور کمزوری اس قدر بڑھ چکی تھی کہ اِس بار صرف دونوں انگلیاں اُوپر کرکے اشارہ کیا کہ دعاکرو۔پیارے ابا جان اپنی اِسی آخری بیماری میں ایک رات اور دن بے ہوشی کے بعد اپنے پیارے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسجد مبارک ربوہ میں والد صاحب کی نمازِ جنازہ ادا ہوئی۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجازت سے بہشتی مقبرہ دارالفضل ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔نیز مورخہ ۳۰؍دسمبر ۲۰۲۴ء بروز سوموار بارہ بجے دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں حضور انور نے والد صاحب مرحوم کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔ (الفضل انٹرنیشنل مورخہ ۲۹؍جنوری ۲۰۲۵ء )
بُلانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پہ اے دل تو جاں فدا کر۔
اللّٰھم اغفرلہ وارحمہ ونورمرقدہ وارفع درجاتہ وادخلہ فی جنّٰت النعیم
(اُمِّ فراست)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: تو نیا ہے تو دِکھا، صبح نئی، شام نئیورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی




السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ماشاءاللہ صابر صاحب کے بہت ایمان افروز حالات زندگی ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو ان کے نیک اعمال پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین