دوسرے عالم کا نام برزخ ہے۔اصل میں لفظ برزخ لغت عرب میں اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو دوچیزوں کے درمیان واقع ہو۔ سو چونکہ یہ زمانہ عالم بعث اور عالم نشاء اولیٰ میں واقع ہے۔ اس لئے اس کا نام برزخ ہے لیکن یہ لفظ قدیم سے اور جب سے کہ دنیا کی بناء پڑی عالم درمیانی پر بولا گیا ہے۔…روح کے افعال کاملہ صادرہونے کے لئے اسلامی اصول کے رو سے جسم کی رفاقت روح کے ساتھ دائمی ہے۔ گو موت کے بعد یہ فانی جسم روح سے الگ ہوجاتا ہے مگر عالم برزخ میں مستعار طور پر ہر ایک روح کو کسی قدر اپنے اعمال کا مزہ چکھنے کے لئے جسم ملتا ہے۔ وہ جسم اس جسم کی قسم میں سے نہیں ہوتا بلکہ ایک نور سے یا ایک تاریکی سے جیسا کہ اعمال کی صورت ہو جسم طیار ہوتا ہے۔ گویا کہ اس عالم میں انسان کی عملی حالتیں جسم کا کام دیتی ہیں۔ ایسا ہی خدا کے کلام میں بار بار ذکر آیا ہے اور بعض جسم نورانی اور بعض ظلمانی قرار دئیے ہیں جو اعمال کی روشنی یا اعمال کی ظلمت سے طیار ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ راز ایک نہایت دقیق راز ہے مگر غیر معقول نہیں۔ انسان کامل اسی زندگی میں ایک نورانی وجود اس کیفیت جسم کے علاوہ پا سکتاہے اور عالم مکاشفات میں اس کی بہت مثالیں ہیں۔ اگرچہ ایسے شخص کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے جو صرف ایک موٹی عقل کی حد تک ٹھہرا ہوا ہے لیکن جن کو عالم مکاشفات میں سے کچھ حصہ ہے وہ اس قسم کے جسم کو جو اعمال سے طیار ہوتا ہے تعجب اور استبعاد کی نگہ سے نہیں دیکھیں گے بلکہ اس مضمون سے لذت اٹھائیں گے۔ غرض یہ جسم جو اعمال کی کیفیت سے ملتا ہے یہی عالم برزخ میں نیک و بد کی جزاء کا موجب ہو جاتا ہے۔ میں اس میں صاحب تجربہ ہوں۔مجھے کشفی طور پر عین بیداری میں بارہا بعض مُردوں کی ملاقات کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے بعض فاسقوں اورگمراہی اختیار کرنے والوں کا جسم ایسا سیاہ دیکھا ہے کہ گویا وہ دھویں سے بنایا گیا ہے۔ غرض میں اس کوچہ سے ذاتی واقفیت رکھتا ہوں اور مَیں زور سے کہتا ہوں کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایاہے ایسا ہی ضرور مرنے کے بعد ہر ایک کو ایک جسم ملتا ہے خواہ نورانی خواہ ظلمانی۔ انسان کی یہ غلطی ہوگی اگر وہ ان نہایت باریک معارف کو صرف عقل کے ذریعہ سے ثابت کرنا چاہے بلکہ جاننا چاہیے کہ جیسا کہ آنکھ شیریں چیز کا مزہ نہیں بتلاسکتی اور نہ زبان کسی چیز کو دیکھ سکتی ہے ایسا ہی وہ علوم معاد جو پاک مکاشفات سے حاصل ہو سکتے ہیں صرف عقل کے ذریعہ سے ان کا عقدہ حل نہیں ہو سکتا۔ خدا نے اس دنیا میں مجہولات کے جاننے کے لئے علیحدہ علیحدہ وسائل رکھے ہیں۔ پس ہر ایک چیز کو اس کے وسیلہ کے ذریعہ سے ڈھونڈو تب اسے پالو گے۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۴۰۳ تا ۴۰۶) مزید پڑھیں: جو خدا کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا