متفرق مضامین

سردیوں کی سوغات: خشک میوہ جات

سردیوں کا موسم آتے ہی جسم کی غذائی ضروریات بدل جاتی ہیں۔ ٹھنڈ کے باعث توانائی کی طلب بڑھ جاتی ہے، قوتِ مدافعت کو سہارا درکار ہوتا ہے اور جسم کو ایسے غذائی اجزا کی ضرورت پڑتی ہے جو دیرپا طاقت فراہم کریں۔ ایسے میں خشک میوہ جات (ڈرائی فروٹ) قدرت کی وہ نعمت ہیں جو نہ صرف سردی کے اثرات سے بچاتے ہیں بلکہ مجموعی صحت کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ بادام، کاجو، اخروٹ، کشمش اور دیگر خشک میوہ جات صدیوں سے ہماری روایتی خوراک کا حصہ رہے ہیں اور جدید سائنسی تحقیق بھی ان کے فوائد کی تصدیق کرتی ہے۔

خشک میوہ جات توانائی، صحت بخش چکنائی (Healthy Fats)، وٹامنز خصوصاً وٹامن ای اور بی 6، میگنیشیم، پوٹاشیم اور طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں۔ یہ اجزا جسم کو گرم رکھتے ہیں، قوتِ مدافعت بڑھاتے ہیں، دل کی حفاظت کرتے ہیں اور سردیوں میں ہونے والی عام تھکن، سستی اور کمزوری سے بچاتے ہیں۔ جدید غذائی ماہرین کے مطابق ڈرائی فروٹ کا باقاعدہ استعمال کولیسٹرول کو متوازن رکھنے، بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے اور ذہنی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ خشک میوہ جات کیلوریز سے بھرپور ہوتے ہیں اس لیے وزن بڑھا دیتے ہیں، حالانکہ تحقیق بتاتی ہے کہ مناسب مقدار میں خشک میوہ جات کھانے والے افراد کا وزن عموماً متوازن رہتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ان میں موجود فائبر اور صحت مند چکنائی دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس دیتے ہیں، یوں غیر ضروری کھانے سے بچاؤ ہوتا ہے۔ سرد موسم میں یہ فوری اور دیرپا توانائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔

دل کے امراض آج کے دور کا بڑا مسئلہ ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ کاجو، بادام اور اخروٹ جیسے میوہ جات دل کے دوست غذائیں سمجھے جاتے ہیں۔ یہ خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم اور اچھے کولیسٹرول (HDL) کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو فری ریڈیکلز کے نقصان سے بچاتے ہیں، جس سے بڑھاپے کے اثرات سست پڑتے ہیں اور کئی دائمی بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

ہالینڈ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگر روزانہ آدھی مٹھی کے برابر خشک میوہ جات استعمال کیے جائیں تو مختلف بیماریوں کے باعث قبل از وقت اموات کے خطرے میں نمایاں کمی آتی ہے۔ اسی طرح آسٹریلوی ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ بادام اور اخروٹ کا روزانہ استعمال ذیابیطس کے امکانات کو کم کرتا ہے۔ یہ تحقیق اس بات کی دلیل ہے کہ خشک میوہ جات محض روایتی خوراک نہیں بلکہ ایک سائنسی طور پر ثابت شدہ صحت بخش غذا ہیں۔

کاجو: کاجو غذائیت کے خزانے سے کم نہیں۔ بھارتی تحقیق کے مطابق کاجو میں میگنیشیم اور پوٹاشیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو اعصاب، پٹھوں اور دل کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ یہ وٹامن ای اور بی 6 کا بہترین ذریعہ، کولیسٹرول فری اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے۔ کاجو کینسر سے بچاؤ، ہڈیوں کی مضبوطی، بہتر نیند اور بلڈ پریشر کے کنٹرول میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ نہار منہ شہد کے ساتھ کاجو کا استعمال یادداشت کی کمزوری میں بھی فائدہ دیتا ہے۔

بادام: بادام کو بجا طور پر میوہ جات کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ اس میں اینٹی آکسیڈنٹس کی وافر مقدار ہوتی ہے جبکہ چینی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بادام میں صحت مند روغنی اجزا، پروٹین، آئرن، فاسفورس اور کیلشیم پائے جاتے ہیں۔ وٹامن اے، بی اور ای سے بھرپور بادام ہڈیوں کو مضبوط، نظر کو تیز اور نزلہ زکام جیسے مسائل میں مددگار ہے۔ ماہرین بچوں کو روزانہ سات اور بڑوں کو چار بادام نہار منہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں، البتہ کڑوا بادام استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

کشمش: انگوروں کا خشک پھل یعنی کشمش آئرن، فائبر، پوٹاشیم اور میگنیشیم سے بھرپور ہوتا ہے۔ روزانہ پانچ کشمش کھانے سے خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، دانتوں اور مسوڑھوں کی صحت برقرار رہتی ہے اور بلڈپریشر کنٹرول میں رہتا ہے۔ اینٹی ایجنگ خصوصیات کے باعث یہ جھریوں سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے اور بےخوابی میں فائدہ مند ہے۔

اخروٹ: اخروٹ کو دماغی غذا کہا جاتا ہے۔اس میں موجود پروٹین، وٹامنز، منرلز اور اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کولیسٹرول کم کرنے اور دماغی صحت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے کولیسٹرول سے پریشان افراد کے لیے اخروٹ بہترین انتخاب ہے۔

اگرچہ خشک میوہ جات بےحد فائدہ مند ہیں، مگر یہ کیلوریز سے بھرپور بھی ہوتے ہیں۔ شوگر کے مریضوں اور وزن کا خیال رکھنے والے افراد کو مقدار پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ پنجیری یا شہد کے ساتھ استعمال مفید ہے، بس اعتدال ضروری ہے۔

سردیوں میں اگر آپ اپنی خوراک میں ڈرائی فروٹ شامل کر لیں تو یہ موسم نہ صرف خوشگوار بلکہ صحت بخش بھی بن سکتا ہے۔

(نوٹ: اس مضمون میں عمومی معلومات دی گئی ہیں۔ قارئین اپنے مخصوص طبی حالات کے پیش نظر اپنے ڈاکٹر یا جی پی (GP)سے مشورہ کریں۔)

(مرسلہ: انیس احمد خلیل۔ مربی سلسلہ سیرالیون)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: سیم ہیرس صاحب کا اسلام کے خلاف اعلانِ جنگ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button