امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ سویڈن کے ایک وفد کی ملاقات
یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت دیکھ رہا ہے، اس کی نظر سی سی ٹی وی کیمرے سے زیادہ ہے، اور جو اللہ تعالیٰ کا کیمرا ہے وہ تمہیں دن بھی، رات بھی، اُوپر بھی، نیچے بھی، دائیں بائیں، ہر جگہ دیکھ رہا ہے۔ تو اس لیے اللہ کو یاد کر کے ایمانداری سے کام کرو۔اگر ایمانداری سے کام کرو گےتو اللہ تعالیٰ پھر برکت بھی ڈالتا ہے اور پھر محنت کرو۔ اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا وقت ہے، اُس کو کبھی نہ بھولو
مورخہ ۶؍ جنوری ۲۰۲۶ء ، بروزمنگل، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ سویڈن کے اٹھارہ(۱۸) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں واقع حضورِ انور کے دفتر میں ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر بغرضِ وقفِ عارضی سویڈن سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا تھا۔

ملاقات کے آغاز میں تمام شاملین مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع ملا۔
دورانِ ملاقات شاملین کو حضور انور کی خدمت میں مختلف نوعیت کے متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
ایک خادم نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ آج کل وہ ہائی سکول کے دوسرے سال میں زیرِ تعلیم ہے، اس نے اپنے مستقبل کے بارے میں راہنمائی کی درخواست پیش کی کہ آیا وہ مربی بنے یا انجینئر؟
اس پر حضورِ انور نے خادم کو اِس کے مستقبل کے حوالے سے ایک مضبوط فیصلہ کرنے اور تذبذب سے نکلنے کی تلقین کرتے ہوئے حکیمانہ انداز میں راہنمائی عطا فرمائی کہ ’یا یُوں‘ کچھ نہیں ہوتا۔ ایک بات بتاؤ ،جو تمہیں زیادہ پسند ہے، وہ کرو۔ ’یا‘ میں آدمی confuseرہتا ہے۔ دعا کر کے فیصلہ کرو اور ایک لائن لو، ’یا‘ والی بات کوئی نہیں۔
ایک خادم نے سوال کیا کہ کم عمری میں شادی کے بارے میں والدین کو کس طرح قائل کیا جا سکتا ہے؟
اِس پر حضورِ انور نے تجویزفرمایا کہ بہتر تو یہی ہے کہ شادی ہو جائے۔ اصل تو یہی طریقہ ہے کہ اِس سوسائٹی میں شادی ہو جانی چاہیے۔ parentsسے کہو کہ میری شادی کرادیں۔ جو کچھ آپ چار سال میں کھلائیں گے، جب تک کہ مَیں ڈاکٹر بن کے jobنہیں کرتا، تو اُتنا قرضہ مَیں واپس کردوں گا۔
ایک شریکِ مجلس نے دریافت کیا کہ کاروبار کرتے وقت ایک احمدی مسلمان کو کن اصولوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے تاکہ یہ دین، اخلاقیات اور جماعتی تعلیمات کے مطابق رہے؟
اِس پر حضورِ انورنے کسی بھی کام یا کاروبار کرنے کے حوالے سے راہنما اصول بیان کرتے ہوئے بصیرت افروز راہنمائی عطا فرمائی کہ کاروبار ہو یاکوئی کام بھی ہو، ایمانداری اور محنت ہونی چاہیے۔ اس لیے جو بھی تم نے کام کرنا ہے، ایمانداری سے کرو، اور محنت سے کرو۔
حضورِ انورنے صحابۂ کرامؓ کی عملی مثال پیش کرتے ہوئے ذاتی محنت اور خود انحصاری کی برکات پر روشنی ڈالی کہ صحابہؓ جب ہجرت کر کے آئے تو بالکل ہی اُجڑے ہوئے تھے اوراُن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ بعض صحابی ؓایسے تھے کہ اُن کو انصار نے کہا کہ ہمارے ساتھ رہیں اور ہمارے ساتھ جائیداد وغیرہ شیئر کر لیں تواُنہوں نے کہا کہ نہیں! مجھے تم کچھ تھوڑا سا قرض دے دواور مجھے بازار کا رستہ بتا دو، مَیں خود اپنا کام کروں گا، اور انہوں نے ایمانداری سے کام کیا۔ اور کام کر کے قرضہ بھی واپس کر دیا اورmillionaireبن گئے۔
علاوہ ازیں حضورِ انورنے محنت، ایمانداری اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ہمہ وقت اس کی نگرانی کے شعور کے تحت اپنے کام انجام دینے کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ تو اصل چیز محنت، ایمانداری اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا ہے۔ دوسرےایک تو اللہ تعالیٰ کو نہیں بھولنا، یہ دیکھنا ہے کہ جو بھی مَیں کام کر رہا ہوں، خدا تعالیٰ میرے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے۔ تم یہ نہیں سمجھو کہ مَیں فلاں جگہ گیا یا فلاں ہال میں گیا یا فلاں جگہ ڈیوٹی پر بیٹھا یا فلاں دکان پر گیا یا سُپر سٹور میں گیا، تو یہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں، مَیں اگر کوئی چیز اُٹھا لوں گا یا دکان سے چوری کر لوں گا تو مجھے سی سی ٹی وی کیمرا نہ دیکھ لے اورپکڑا نہ جاؤں۔ یا فلاں جگہ جا کر مَیں غلط حرکت کروں تو کیمرے سے پکڑا نہ جاؤں۔ یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت دیکھ رہا ہے، اس کی نظر سی سی ٹی وی کیمرے سے زیادہ ہے، اور جو اللہ تعالیٰ کا کیمرا ہے وہ تمہیں دن بھی، رات بھی، اُوپر بھی، نیچے بھی، دائیں بائیں، ہر جگہ دیکھ رہا ہے۔ تو اس لیے اللہ کو یاد کر کے ایمانداری سے کام کرو۔ نیز اس بات پر زور دیا کہ اگر ایمانداری سے کام کرو گےتو اللہ تعالیٰ پھر برکت بھی ڈالتا ہے اور پھر محنت کرو۔ اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا وقت ہے، اُس کو کبھی نہ بھولو۔
مزید برآں اِسی تناظر میں حضورِ انور نے ایماندارمسلمان تاجروں کے دلآویزعملی نمونوں کے ذریعے سے سبق حاصل کرنے کے ضمن میں بھی توجہ دلائی کہ اِس لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی لکھا ہے کہ جومسلمان تاجر تھے، وہ ایماندار تھے، کام کرنے والے تھے اور وہ لاکھوں کروڑوں کا کام کرتے تھے۔ لیکن ایک محاورہ آپؑ نے بولا کہ دست بہ کار دل بہ یار!یعنی کہ ہاتھوں سے مَیں کام کر رہا ہوں، لیکن دل میرا اللہ کی طرف لگا ہوا ہے۔جب اللہ تعالیٰ یاد رہے تو پھر ایمانداری سے انسان کام کرتا ہے۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اِس تاکید کا اعادہ فرمایا کہ تو اگر محنت، ایمانداری، عبادت اور دعا سے کام لو گے، تو اللہ تعالیٰ اِس کام میں پھر بہت برکت ڈالتا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے نیز قلم بطور تبرک وصول کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
٭…٭…٭




