حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

ظلم نہ کرو

پھر شرط دوم میں ہے کہ ظلم نہیں کرے گا۔ قرآن کریم میں آتاہے:فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْم بَیْنِھِمْ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ (الزخرف:۶۶)۔ اس کا ترجمہ ہے : پس ان کے اندر ہی سے گروہوں نے اختلاف کیا۔ پس اُن لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا ہلاکت ہو دردناک دن کے عذاب کی صورت میں۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺنے فرمایا ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیاں بن کر سامنے آئے گا ۔ حرص، بخل اورکینہ سے بچو کیونکہ حرص ، بخل اورکینہ نے پہلوں کو ہلاک کیا ، اس نے ان کو خونریزی پر آمادہ کیا اور ان سے قابل احترام چیزوں کی بے حرمتی کرائی ۔(مسند احمد بن حنبل۔ جلد نمبر۳۔ صفحہ ۳۲۳)

اسی طرح دوسرے کا حق دبانا بھی ظلم ہے۔ حضرت عبداللہؓ بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ مَیں نے عرض کی یارسول اللہ کون سا ظلم سب سے بڑا ہے ۔تو آنحضور ﷺنے فرمایا :سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے حق میں سے ایک ہاتھ زمین دبالے۔ اس زمین کا ایک کنکر بھی جو اس نے ازارہ ظلم لیا ہوگا تو اس کے نیچے کی زمین کے جملہ طبقات کا طوق بن کر قیامت کے روز اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔اور زمین کی گہرائی سوائے اس ہستی کے کوئی نہیں جانتا جس نے اسے پیدا کیاہے۔ (مسند احمد بن حنبل۔ جلد۱۔ صفحہ۳۹۶۔ مطبوعہ بیروت)

بعض لوگ جو اپنے بہنوں بھائیوں یا ہمسایوں کے حقوق ادا نہیں کرتے یا لڑائیوں میں جائیدادوں پر ناجائز قبضہ کرلیتے ہیں ، زمینیں دبا لیتے ہیںان کو اس پر غور کرنا چاہئے ۔احمدی ہونے کے بعد جبکہ اس شرط کے ساتھ ہم نے بیعت کی ہے کہ کسی کا حق نہیں دبائیں گے ، ظلم نہیں کریں گے ، بہت زیادہ خوف کا مقام ہے۔

ایک حدیث ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ ہم نے عرض کی جس کے پاس روپیہ ہو، نہ سامان۔آنحضور ﷺنے فرمایا کہ میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز،روزہ، زکوۃ وغیرہ اعمال لے کر آئے گا لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی،کسی پر تہمت لگائی ہوگی،کسی کا مال کھایا ہوگااور کسی کا ناحق خون بہایا ہوگایاکسی کو مارا ہوگا۔ پس ان مظلوموں کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی یہاں تک کہ اگر ان کے حقوق ادا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو ان کے گناہ اس کے ذمہ ڈال دئے جائیں گے۔ اوراس طرح جنت کی بجائے اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ۔ یہی شخص دراصل مفلس ہے۔(صحیح مسلم۔ کتاب البرّ والصلۃ۔ باب تحریم الظلم)

اب سوچیں ، غورکریں ، ہم میں سے ہر ایک کو سوچنا چاہئے۔ جو بھی ایسی حرکات کے مرتکب ہو رہے ہوں ان کے لئے خوف کا مقام ہے ۔ اللہ کرے کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسی مفلسی کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور کبھی پیش نہ ہو۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’میری تمام جماعت جو اس جگہ حاضر ہیں یا اپنے مقامات میں بودوباش رکھتے ہیں اس وصیت کو توجہ سے سنیں کہ وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں، اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی اور نیک بختی اور تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بدچلنی ان کے نزدیک نہ آسکے۔ وہ پنجوقت نماز جماعت کے پابند ہوں۔ وہ جھوٹ نہ بولیں۔ وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں۔ وہ کسی قسم کی بدکاری کے مرتکب نہ ہوں۔ اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔ غرض ہر ایک قسم کے معاصی اور جرائم اور ناکردنی اور ناگفتنی اور تمام نفسانی جذبات اور بیجا حرکات سے مجتنب رہیں اور خداتعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بند ے ہو جائیں۔ اور کوئی زہریلا خمیر ان کے وجود میں نہ رہے … اور تمام انسانوں کی ہمدردی ان کا اصول ہو اور خداتعالیٰ سے ڈریں اور اپنی زبانوں اور اپنے ہاتھوں اور اپنے دل کے خیالات کو ہرایک ناپاک اور فسادانگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچاویں اور پنجوقتہ نماز کو نہایت التزام سے قائم رکھیں اور ظلم اور تعدّ ی اور غبن اور رشوت اور اتلاف حقوق اور بیجاطرفداری سے باز رہیں۔ اور کسی بدصحبت میں نہ بیٹھیں۔ اور اگر بعد میں ثابت ہو کہ ایک شخص جو ان کے ساتھ آمد و رفت رکھتا ہے وہ خداتعالیٰ کے احکام کا پابند نہیں ہے … یا حقوق عباد کی کچھ پرواہ نہیں رکھتا اور یا ظالم طبع اور شریر مزاج اور بدچلن آدمی ہے اور یا یہ کہ جس شخص سے تمہیں تعلق بیعت اور ارادت ہے اس کی نسبت ناحق اور بے وجہ بدگوئی اور زبان درازی اور بدزبانی اور بہتان اور افترا کی عادت جاری رکھ کر خداتعالیٰ کے بندوں کو دھوکہ دینا چاہتا ہے تو تم پر لازم ہو گا کہ اس بدی کو اپنے درمیان سے دور کرو اور ایسے انسان سے پرہیز کرو جو خطرناک ہے۔ اور چاہئے کہ کسی مذہب اور کسی قوم اور کسی گروہ کے آدمی کو نقصان رسانی کا ارادہ مت کرو اور ہر ایک کے لئے سچے ناصح بنو ۔ اور چاہئے کہ شریروں اور بدمعاشوں اور مفسدوں اور بدچلنوں کو ہرگز تمہاری مجلس میں گزر نہ ہو اور نہ تمہارے مکانوں میں رہ سکیں کہ وہ کسی وقت تمہاری ٹھوکر کا موجب ہوں گے‘‘۔

اسی طرح فرمایا :’’یہ وہ امور اور وہ شرائط ہیں جو میں ابتداء سے کہتا چلا آیا ہوں۔ میری جماعت میں سے ہر ایک فرد پر لازم ہو گا کہ ان تمام وصیتوں کے کاربند ہوں اور چاہئے کہ تمہاری مجلسوں میں کوئی ناپاکی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا مشغلہ نہ ہو اور نیک دل اور پاک طبع اور پاک خیال ہو کر زمین پر چلو۔ اور یاد رکھو کہ ہر ایک شر مقابلہ کے لائق نہیں ہے۔ اس لئے لازم ہے کہ اکثر اوقات عفو اور درگزر کی عادت ڈالو اور صبر اور حلم سے کام لو ۔ اور کسی پر ناجائز طریق سے حملہ نہ کرو۔ اور جذبات نفس کو دبائے رکھو اور اگر کوئی بحث کرو یا کوئی مذہبی گفتگو ہو تو نرم الفاظ اور مہذبانہ طریق سے کرو۔ اور اگر کوئی جہالت سے پیش آوے تو سلام کہہ کر ایسی مجلس سے جلد اٹھ جائو۔ اگر تم ستائے جائو اور گالیاں دیئے جائو اور تمہارے حق میں برے برے لفظ کہے جائیں تو ہوشیار رہو کہ سفاہت کا سفاہت کے ساتھ تمہارا مقابلہ نہ ہو ورنہ تم بھی ویسے ہی ٹھہرو گے جیسا کہ وہ ہیں۔ خداتعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بناوے کہ تم تمام دنیا کے لئے نیکی اور راستبازی کا نمونہ ٹھہرو۔ سو اپنے درمیان سے ایسے شخص کو جلد نکالو جو بدی اور شرارت اور فتنہ انگیزی اور بدنفسی کا نمونہ ہے۔ جو شخص ہماری جماعت میں غربت اور نیکی اور پرہیزگاری اور حلم اور نرم زبانی اور نیک مزاجی اور نیک چلنی کے ساتھ نہیں رہ سکتا وہ جلد ہم سے جدا ہو جائے کیونکہ ہمارا خدا نہیں چاہتا کہ ایسا شخص ہم میں رہے اور یقیناً وہ بدبختی میں مرے گا کیونکہ اس نے نیک راہ کو اختیار نہ کیا۔ سو تم ہوشیار ہو جائو اور واقعی نیک دل اور غریب مزاج اور راستباز بن جائو ۔ تم پنجوقتہ نماز اور اخلاقی حالت سے شناخت کئے جائو گے اور جس میں بدی کا بیج ہے وہ اس نصیحت پر قائم نہیں رہ سکے گا‘‘۔(اشتہار مورخہ ۲۹؍مئی ۱۸۹۸ء۔ صفحہ۲۔ تبلیغ رسالت۔ جلد ہفتم۔ صفحہ۴۲-۴۴)

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۳۳ تا ۳۵)

مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button