آنحضرتﷺ کی محبت الٰہی کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۶؍جنوری ۲۰۲۶ء
٭… حضرت عائشہؓ کی روایت کے مطابق آپؐ اتنی زیادہ عبادت کرتے اور عبادت کے وقت میں کھڑے ہوتے تھے کہ آپؐ کے پاؤں متورّم ہو جاتے
٭… ہر ایک صاحبِ بصیرت سمجھ سکتا ہے کہ ذکرِ الٰہی آپؐ کی غذا تھی اور اس کے بغیر آپؐ اپنی زندگی میں کوئی لُطف نہ پاتے تھے۔ اسی طرف آپؐ نے اشارہ فرمایا کہ جن چیزوں سے مجھے محبّت ہے، اُن میں سے ایک قُرَّةُ عَيْنِیْ فِی الصَّلٰوةِ ہے، یعنی نماز میں میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں
٭… ہمیں آپؐ کے اُسوہ پر چلتے ہوئے نمازوں اور عبادت کے لیے یہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تبھی ہم حقیقی مسلمان کہلا سکتے ہیں
٭ … ہمارے قلمی اور تبلیغی جہاد میں بھی، اِسی وقت برکت پڑے گی، جب ہم اپنی عبادت کے معیار اور الله تعالیٰ کی محبّت کو بھی بڑھائیں گے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اِس جہاد میں حصّہ لیں، تو پھر الله تعالیٰ کی محبّت اور دعاؤں کی طرف بھی ہمیں توجہ دینی ہو گی، اپنی عبادتوں کی طرف بھی ہمیں توجہ دینی ہو گی۔ اور اگر ہم آپؐ کے اُسوہ پر چلتے ہوئے یہ کریں گے تو تبھی ہمارے کاموں میں برکت بھی پڑے گی
٭… جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کے جلسہ سالانہ کے حوالے سے دعا کی تحریک
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۶؍جنوری ۲۰۲۶ء بمطابق ۱۶؍صلح ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۱۶؍جنوری ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت صہیب احمد صاحب (مربی سلسلہ)کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا: میں نے گذشتہ ایک خطبے میں
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے، آپؐ کی محبّتِ الٰہی کے پہلو کا ذکر کیا تھا، اِس بارے میں ہی آج مزید کچھ بیان کروں گا۔
جوانی اور دعویٔ نبوت سے پہلے بھی آپؐ میں محبّتِ الٰہی کا جوش ایسا تھا کہ آپؐ اِس سے بےتاب ہو کر غار میں جا کر محبوبِ الٰہی سے راز و نیاز میں مصروف ہو جاتے تھے۔اِسی محبّت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بیان فرماتے ہیں کہ مَیں دیکھتا ہوں کہ گرمیوں کو بھی روحانی ترقّی کے ساتھ ایک خاص مناسبت ہے۔ آنحضرتؐ کو دیکھوکہ آپؐ کو الله تعالیٰ نے مکّہ جیسے شہر میں پیدا کیا اور پھر آپؐ اُن گرمیوں میں تنہا غارِ حرا میں جا کر الله تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ وہ کیسا عجیب زمانہ ہو گا؟ آپؐ ایک پانی کا مشکیزہ اُٹھا کر لے جایا کرتے ہوں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب الله تعالیٰ کے ساتھ اُنس اور ذوق پیدا ہو جاتا ہے، تو پھر دنیا اور اہلِ دنیا سےایک نفرت اور کراہت پیدا ہو جاتی ہے۔ بالطبع تنہائی اور خلوت پسند آتی ہے۔آنحضرتؐ کی بھی یہی حالت تھی۔ الله تعالیٰ کی محبّت میں آپؐ اِس قدر فنا ہو چکے تھے کہ آپؐ اِس تنہائی میں ہی پوری لذّت اور ذوق پاتے تھے۔ ایسی جگہ میں جہاں کوئی آرام اور راحت کا سامان نہ تھا، جہاں جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہو، آپؐ وہاں کئی کئی راتیں تنہا گزارتے تھے۔ اِس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کیسے بہادر اور شجاع تھے، جب خدا تعالیٰ سے تعلق شدید ہو، تو پھر شجاعت بھی آ جاتی ہے۔ اِس لیے مومن کبھی بزدل نہیں ہوتا، اہلِ دنیا بزدل ہوتے ہیں، اِن میں حقیقی شجاعت نہیں ہوتی ہے۔
حضورِ انور نے غارِ حرا میں عبادتِ الٰہی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی بیان کردہ ایک حدیث بڑی تفصیل سے بیان فرمائی۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ الله تعالیٰ اپنے فیض کو سعی اور مجاہدہ سےمنحصر فرماتا ہے۔ نیز اِس میں صحابہ رضی الله عنہم کا طرزِ عمل ہمارے واسطے ایک اُسوہ اور عمدہ نمونہ ہے۔ صحابہؓ کی زندگی میں غور کر کے دیکھو! بھلا اُنہوں نے محض معمولی نمازوں سے ہی وہ مدارج حاصل کر لیے تھے، نہیں، بلکہ اُنہوں نے تو خدا کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جانوں تک کی پرواہ نہیں کی اور بھیڑ بکریوں کی طرح خدا کی راہ میں قربان ہو گئے، تب جا کر کہیں اُن کو یہ رُتبہ حاصل ہوا تھا۔
آپؑ فرماتے ہیں کہ اکثر لوگ ہم نے ایسے دیکھے ہیں کہ وہ یہی چاہتے ہیں کہ ایک پُھونک مار کر اِن کو درجات دلا دیے جائیں اور عرش تک اُن کی رسائی ہو جائے۔ آپؑ نے فرمایا کہ ہمارے رسولِ اکرمؐ سے بڑھ کر کون ہو گا؟ وہ افضل البشر، افضل الرسل والانبیاء تھے، جب اُنہوں نے ہی پُھونک سے وہ کام نہیں کیے، تو اور کون ہے، جو ایسا کر سکے؟ دیکھو! آپؐ نے غارِ حرا میں کیسے کیسے ریاضات کیے، خدا جانے کتنی مدّت تک تضرّعات اور گریّہ و زاری کیا کیے، تزکیہ کے لیے کیسی کیسی جانفشانیاں اور سخت سے سخت محنتیں کیا کیے، تب جا کر کہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے فیضان نازل ہوا۔
اصل بات یہی ہے کہ انسان خدا کی راہ میں جب تک اپنے اُوپر ایک موت اور حالتِ فنا وارِد نہ کر لے، تب تک اُدھر سے کوئی پرواہ نہیں کی جاتی، البتہ جب خدا دیکھتا ہے کہ انسان نے اپنی طرف سے کمال کوشش کی ہے اور میرے پانے کے واسطے اپنے اُوپر موت وارِ د کر لی ہے تو پھر وہ انسان پر خود ظاہر ہوتا ہے، اُس کو نوازتا ہے اور قُدرت نمائی سے بلند کرتا ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ الله تعالیٰ کی محبّت میں آپؐ کی نمازوں کی یہ کیفیت تھی کہ مُطرّف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے کہا کہ مَیں نبیؐ کے پاس آیا اور آپؐ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپؐ کے سینے سے ہنڈیا کے اُبلنے کی آواز کی طرح آواز آ رہی تھی۔ آپؐ اِتنی شدّت سے رو رہے تھے اور آہ و زاری کر رہے تھے کہ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے ہنڈیا میں پانی اُبل رہا ہے۔
حضرت عائشہؓ کی روایت کے مطابق آپؐ اِتنی زیادہ عبادت کرتے اور عبادت کے وقت میں کھڑے ہوتے تھے کہ آپؐ کے پاؤں متورّم ہو جاتے۔
حضرت مصلح موعود رضی الله عنہ آنحضرتؐ کی محبّت اور عبادتوں کا ذکر کرتے ہوئے ،ایک جگہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپؐ مرض الموت میں مبتلا ہوئے، تو سخت ضُعف کی وجہ سے نماز پڑھانے پر قادر نہ تھے، اِس لیے آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔ آپؓ فرماتی ہیں یہ حکم فرمانے کے بعد جب آپؐ نے مرض میں خفّت محسوس کی تو آپؐ آدمیوں کے سہارے نماز پڑھنے کے لیے نکلے، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اِس وقت میری آنکھوں کے سامنے وہ نظارہ ہے کہ شدّتِ درد کی وجہ سے آپؐ کے قدم ز مین سے چُھوتے جاتے تھے۔ جب آپؐ مسجد پہنچے، تو حضرت ابوبکرؓ نے ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹ جائیں ، تو رسولِ کریمؐ نے اُن کا ارادہ بھانپتے ہوئے اُنہیں اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہو۔آپؐ حضرت ابوبکرؓ کے پاس بیٹھ گئے، اِس کے بعدرسولِ کریمؐ نے نماز پڑھنی شروع کی اور حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کی نماز کے ساتھ ساتھ نماز پڑھنی شروع کی اور باقی لوگ حضرت ابوبکرؓ کی نماز کی اتّباع کرنے لگے۔
اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کو کیسی ہی خطرناک بیماری ہو، آپؐ خدا تعالیٰ کی یاد کو نہ بھلاتے، عام طور پر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ ذرا تکلیف ہوئی اور سب عبادتیں بھول گئیں۔
بےشک ظاہراً یہ بات معمولی معلوم ہوتی ہے، لیکن ذرا رسولِ کریمؐ کی اِس حالت کو دیکھو، جس میں آپؐ مبتلا تھے، پھر اِس ذکرِ الٰہی کے شوق کو دیکھو کہ جس کے ماتحت آپؐ نماز کے لیے دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کے تشریف لائے۔ تو معلوم ہو گا کہ یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا ، بلکہ آپؐ کے دل میں جو ذکرِ الٰہی کا شوق تھا، اِس کے اظہار کا ایک آئینہ ہے۔
ہر ایک صاحبِ بصیرت سمجھ سکتا ہے کہ ذکرِ الٰہی آپؐ کی غذا تھی اور اس کے بغیر آپؐ اپنی زندگی میں کوئی لُطف نہ پاتے تھے۔ اسی طرف آپؐ نے اشارہ فرمایا کہ جن چیزوں سے مجھے محبّت ہے، اُن میں سے ایک قُرَّةُ عَيْنِیْ فِی الصَّلٰوةِ ہے، یعنی نماز میں میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔
حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ مَیں نے بہت سے آدمیوں کو دیکھا ہے کہ ذرا عبادت کی اور مغرور ہو گئے، چند دن کی نمازوں یا عبادتوں کے بعد وہ اپنے آپ کو فرعون ِبے سامان یا فخرِ اولیاء سمجھنے لگتے ہیں اور دنیا اور ما فیہا اُن کی نظر وں میں حقیر ہو جاتی ہے، بڑے سے بڑے آدمی حقیقت کچھ نہیں جانتے۔بلکہ انسان کا تو کیا کہنا، خدا تعالیٰ پر بھی اپنا احسان جتاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو عبادت ہم نے کی ہے، گویا خدا تعالیٰ پر احسان کیا ہے اور وہ ہمارا ممنون ہے ، نعوذبالله! کہ ہم نے اُس کی عبادت کی ہے، ورنہ عبادت نہ کرتے ، تو وہ ہمارا کیا کر لیتا؟بہت کم ہیں، جو عبادت کے بعد بھی اپنی عاجزانہ حالت پر قائم رہیں، یہی نیکوں کا گروہ ہے کہ جو عاجزی سے رہتے ہیں، ہمیشہ عبادت کر کے بھی اُسے چھپاتے ہیں، الله تعالیٰ کی محبّت کو بھی چھپاتے ہیں اور اِسے بھی الله کا احسان سمجھتے ہیں کہ اُس نے ہمیں توفیق دی کہ ہم عبادت کرنے والے ہوں۔ یہی اصل میں نیک لوگوں کا گروہ ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ لوگ پوچھتے ہیں اور اکثر آجکل کے بچے اور نوجوان بھی سوال کرتے ہیں کہ نیکیاں کیا ہیں اور کس طرح پتا لگے کہ الله تعالیٰ راضی ہوتا ہے؟ الله تعالیٰ اِسی طرح راضی ہوتا ہے کہ نیکیاں کرو اَور صرف خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے کرو۔ انسان اپنا جائزہ خود لے سکتا ہے۔ کسی باہر کے آدمی کو جج بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انسان خود سمجھ سکتا ہے کہ جو نیکیاں وہ کر رہا ہے، اگر وہ خدا تعالیٰ کے لیے کر رہا ہے، پھر الله تعالیٰ کو یقیناً پسند ہیں۔
آپؐ کی عبادت ایک تسلسل کا رنگ رکھتی تھی۔ پھر اور بھی زیادہ شوق کی جلوہ نمائی ہوتی۔ پھر آپؐ اپنے ربّ کی عبادت میں مشغول ہو جاتے اور یہ راز و نیاز کا سلسلہ ایسا وسیع ہوتا کہ بارہا عبادت کرتے کرتے آپؐ کے پاؤں سُوج جاتے۔ صحابہؓ عرض کرتے، یا رسول اللهؐ! اِس قدر عبادت کی آپؐ کو کیا حاجت ہے؟ آپؐ کے تو گناہ معاف ہو چکے ہیں۔ اِس کا جواب آپؐ یہی دیتے کہ پھر کیا مَیں شکر نہ کروں؟
حضورِ انور نے فرمایا کہ
الله الله! کیا عشق ہے، کیا محبّت ہے، کیا پیار ہے، خدا تعالیٰ کی یاد میں کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے تن بدن کا ہوش نہیں رہتا۔
مگر وہ دکھ جو لوگوں کو بے چین کر دیتا ہے اور دیکھنے والے اُس سے متأثر ہو جاتے ہیں، آپؐ پر کچھ اثر نہیں کرتا، عبادات میں کچھ سستی کرنے اور آئندہ اِس قدر لمبا عرصہ اپنے ربّ کی یاد میں کھڑا رہنا ترک کرنے کی بجائے آپؐ اُن کی اِس بات کو ناپسند کرتے ہیں اور اُنہیں جواب دیتے ہیں کہ کیا مَیں خدا کا شکر گذار بندہ نہ بنوں؟ کیا اخلاص سے بھرا اَور کیسی شکرگذاری ظاہر کرنے والا یہ جواب ہے اور کس طرح آپؐ کے قلبِ مطہّر کے جذبات کو کھول کر پیش کر دیتا ہے۔
پھر اِسی تسلسل میں حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ آپؐ کس طرح اپنے کاموں میں مشغول رہتے تھے، یہ نہیں کہ صرف عبادت کر لی اور باقی کام ختم ہو گئے۔ دن بھر بھی آپؐ خدا تعالیٰ کے نام کی اشاعت اور اُس کی اطاعت و فرمانبرداری کو رواج دینے کی کوشش میں لگے رہتے۔ یہ سب کام آپؐ دن کے وقت کرتے۔ اور اِن کے بجا لانے کے بعد بجائے اِس کے کہ چُور ہو کر بستر پر جا پڑیں اور سورج نکلنے تک اِس سے سر نہ اُٹھائیں، بار بار اُٹھ کر بیٹھ جاتے اور الله تعالیٰ کی تسبیح کرتے، تحمید کرتے اور نصف رات کے گزرنے پر اُٹھ کر وضو کرتےاور تنِ تنہا اپنے ربّ کے حضور میں نہایت عجز و نیاز سے کھڑے ہو جاتے اور تلاوتِ قرآنِ شریف کرتے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ پس
ہمیں آپؐ کے اُسوہ پر چلتے ہوئے نمازوں اور عبادت کے لیے یہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تبھی ہم حقیقی مسلمان کہلا سکتے ہیں۔
آخر میں حضورِ انور نے بیان فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ کو ایک خط لکھتے ہوئے فرمایا کہ جو آپ نے اپنے عملی طریق کے لیے دریافت کیا ہے، وہ یہی اَمر ہے کہ رسول اللهؐ کی حقیقی اتّباع کی طرف رغبت کریں، رسول اللهؐ نے جن اعمال پر نہایت درجہ اپنی محبّت ظاہر فرمائی ہے ، وہ دو ہیں: ایک نماز اور ایک جہاد۔ نماز کی نسبت آنحضرتؐ نے فرمایا ہے کہ قُرَّةُ عَيْنِیْ فِی الصَّلٰوةِ یعنی آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ اور جہاد کی نسبت فرماتے ہیں کہ مَیں آرزو رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں۔یہ بیان کر کے آپؑ فرماتے ہیں کہ سو! اِس زمانے میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اِس رنگ کا جہاد یہی ہے کہ اعلائے کلمۂ اسلام میں کوشش کریں ، مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں ، دینِ متینِ اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلاویں، آنحضرتؐ کی سچّائی دنیا پر ظاہر کریں، یہی جہاد ہے، جب تک خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کرے۔اِس تناظر میں حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ پس
ہمارے قلمی اور تبلیغی جہاد میں بھی، اِسی وقت برکت پڑے گی، جب ہم اپنی عبادت کے معیار اور الله تعالیٰ کی محبّت کو بھی بڑھائیں گے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اِس جہاد میں حصّہ لیں، تو پھر الله تعالیٰ کی محبّت اور دعاؤں کی طرف بھی ہمیں توجہ دینی ہو گی، اپنی عبادتوں کی طرف بھی ہمیں توجہ دینی ہو گی۔ اور اگر ہم آپؐ کے اُسوہ پر چلتے ہوئے یہ کریں گے تو تبھی ہمارے کاموں میں برکت بھی پڑے گی۔ الله تعالیٰ ہمیں اِس کی توفیق عطا فرمائے۔
خطبہ ثانیہ سے قبل
حضورِ انور نے جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کے منعقد ہونے والے جلسہ سالانہ کی بابت دعائیہ تحریک فرمائی
کہ آج بنگلہ دیش کی جماعت کا جلسہ بھی ہو رہا ہے، وہاں مخالفت بھی کافی ہوتی ہے ، اُن کے لیے بھی دعا کریں الله تعالیٰ اُن سب کو اپنی حفاظت میں رکھے اور اُن کا جلسہ بھی بخیر و خوبی اختتام پذیر ہو۔
٭…٭…٭




