میرےشفیق والد بزرگوارمحترم گیانی عبداللطیف صاحب درویش قادیان دارالامان
بلانے والا ہے سب سے پیارااسی پہ اے دل تو جاں فدا کر
خاکسار اپنے بزرگ درویش والد صاحب کی مختصراً درویشی کی داستان کا آغاز اپنے دل و جان سے پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ بیان فرموده مورخہ ۲۷؍نومبر ۲۰۰۹ء کے اُن بابرکت الفاظ سے کرتی ہے جس میں والد صاحب مرحوم کا ذکر خیر ہے۔ سیدنا حضور انور اپنے خطبہ جمعہ کے آخر میں ایک شہید مرحوم کا ذکر خیر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ’’دوسرا ایک اور جنازہ ہے وفات کا اعلان جو مکرم گیانی عبداللطیف صاحب درویش ابن مکرم عبدالرحمٰن صاحب قادیان کا ہے جو۲۰و۲۱ نومبر کی درمیا نی رات کو ۸۲سال کی عمر میں وفات پا گئے تھے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابی حضرت محمد حسین صاحب کپور تھلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے تھے، آپ نے گورمکھی کا امتحان گیانی پاس کیاتھا اس لیے گیانی کے نام سے مشہور تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک پر فوج سے ریلیز ہو کر قادیان آئے اور ۳۱۳ درویشوں میں شامل ہوئے۔ کچھ عرصہ دیہاتی مبلغین میں شامل ہو کر فیلڈ میں خدمات بجا لاتے رہے پھر ریٹائرمنٹ کے بعد ری امپلائی ہو کر دفتر زائرین میں لمبا عرصہ خدمت کی توفیق پائی۔ قرآن کریم کے گور مکھی کے ترجمے کی نظر ثانی اور پروف ریڈنگ بھی بڑی محنت سے آپ نے کی۔ کچھ عرصہ مینیجر بدر بھی رہے۔ اس طرح بہشتی مقبرہ کا ایک قطعہ بھی اپنے ذمہ لیا ہوا تھا۔ مسلسل وقار عمل کرتے رہتے تھے اس کو ٹھیک رکھنے کے لیے۔ خوش طبع اور زندہ دل انسان تھے مطالعہ کا شوق تھا۔ معاشی تنگی کے باوجود ہمیشہ خوش باش نظر آتے تھے۔ او رکہتے ہیں کہ ایک افسردہ شخص بھی ان سے بات کرتا تو خوش ہوئے بغیر نہ رہتا۔ ان کے پسماندگان میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ عبدالہادی صاحب نور ہسپتال کی لیب میں کام کر رہے ہیں اور ایک ان کی بیٹی شمیم اخترنصرت گرلزا سکول میں ٹیچر ہیں اور قادیان کی صدر لجنہ بھی ہیں۔ ان کے ایک داماد صباح الدین صاحب نائب ناظر بیت المال ہیں۔ بچے مختلف حیثیتوں میں جماعت کی خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان بچوں کو بھی اپنے والد کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان دونوں مرحومین کے شہید کے بھی اور ان کے بھی۔ نماز جنازہ غائب ابھی میں جمعہ اور عصر کی نماز کے بعد ادا کروں گا۔‘‘
ذکرِ خیر کے اِن بابرکت الفاظ کے بعد ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کچھ مختصراً بیان کرنے کی کوشش کروں گی۔ وبالله التوفیق۔
میرے والد صاحب مرحوم کا اسم گرامی مکرم گیانی عبداللطیف صاحب درویش تھا جو مکرم مولوی عبد الرحمٰن صاحب آف کپورتھلہ پنجاب کے صاحبزادے اور حضرت مولوی محمد حسین صاحب کپور تھلوی ؓصحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے تھے۔ حضرت مولوی محمد حسین صاحب کپور تھلویؓ کا اسم گرامی ۳۱۳؍صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی اس فہرست میں موجود ہے جسے سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی معرکہ آراء کتاب انجام آتھم میں رقم فرمایا ہے۔ مکرم والد صاحب کا آبائی گاؤں ریاست کپور تھلہ کی تحصیل سلطان پور لودھی میں شمال کی جانب ۱۵؍کلومیٹر کی دوری پر پرم جیت پور عرف آلوپور کے نام سے واقع ہے۔ ۱۹۲۷ء میں مکرم والد صاحب کی پیدائش آلوپور گاؤں میں ہوئی۔ آپ کے پانچ بھائیوں اور دو بہنوں میں سے ایک بھائی جو سب سے چھوٹے ہیں مکرم عبدالمنان صاحب بفضلہ تعالیٰ حیات ہیں جو کہ یو کے اپنے بیٹے مکرم عدنان احمد صاحب کے پاس مقیم ہیں۔
مکرم والد صاحب نے چھٹی کلاس تک تعلیم الاسلام اسکول قادیان میں تعلیم حاصل کی۔ بعض مجبوریوں کے باعث آگے تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور واپس اپنے آبائی گاؤں آلوپور چلے گئے۔ اسی اثنا میں جنگ عظیم چھڑ گئی تو فوج میں مکرم والد صاحب نرسنگ سپاہی کمپاؤڈر کی حیثیت سے بھرتی ہوئے۔ ٹریننگ کے بعد فوج میں پانچ سال سروس بھی کی۔ جب جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو مکرم والد صاحب بھی ریلیز ہو کر اپنے گاؤں چلے گئے۔ کچھ مدت کے بعد جالندھر کے سول ہسپتال سے مکرم والد صاحب مرحوم کے نام ایک چٹھی موصول ہوئی جس میں لکھا تھا کہ آپ جالندھر واپس چلے آؤ۔ گورنمنٹ آپ کو ملازمت دے گی۔ دوسری طرف اخبار الفضل میں بھی یہ اعلان نکل چکا تھا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے قادیان میں ایک دیہاتی مبلغین کلاس کا اجرا فرمایا ہے اس میں ریٹائرڈ اور ریلیزڈ فوجی بھی داخلہ لیں۔ مکرم والد صاحب نے اخبار الفضل میں اعلان پڑھ کر خاکسار کے دادا جان سے دریافت کیا کہ آیا میں قادیان کا رخ کروں یا جالندھر کا۔ تو مکرم دادا جان مرحوم نے فوراً فرمایا کہ قادیان کا رُخ آپ کے لیے باعث برکت ہوگا۔ یہ وہی لمحہ تھا اور یہ وہی آسمانی منصوبہ تھا جب درویش والد صاحب کو درویشی کی نعمت سے نوازنے کا میدان تیار کیا جار ہا تھا۔ مکرم والد صاحب درویشی جامہ کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور احسان گردانا کرتے تھے اور ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر گنگنا نے میں لذت محسوس کرتے کہ
یہ سراسر فضل و احساں ہے کہ مَیں آیا پسند
ورنہ درگہ میں تری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار
بس یہیں سے قادیان میں ابتلاؤں اور آزمائشوں کا دُور درویشی شروع ہوا مکرم والد صاحب کا دور درویشی ابتلاؤں اور آزمائشوں کا ایک کھلا باب ہے۔
مکرم والد صاحب کی شادی بھدرواہ صوبہ جموں وکشمیر میں مکرم محمد عبد اللہ صاحب منڈاشی کی بڑی صاحبزادی مکر مہ ثمینہ بیگم صاحبہ سے جولائی ۱۹۵۴ء میں ہوئی۔ خدا تعالیٰ نے مال، جان،اولاداور دنیاوی میدان کی ناکامی بلکہ ہر میدان میں آزمایا مگر کبھی بھی آپ کے قدم نہ لڑکھڑائے بلکہ ہمیشہ ہر پریشانی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ہردم خدا تعالیٰ کی رضا پر خوش و خرم رہے۔ مگر زندگی کی بھاگ دوڑ میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ دومعذور بیٹےعلی الترتیب ۲۵ و ۲۶ سال کی عمر کے ہو کر فوت ہوئے تھے اس کے علاوہ تین بیٹے کم سن عمر میں ہی فوت ہو گئے مگر ہر ابتلا اور آزمائش کا مقابلہ خندہ پیشانی اور کمال حوصلے سے کیا خدا کے آگے کبھی کوئی گلہ شکوہ نہ کیا بلکہ ہمیشہ ہر دکھ سکھ میں خدا کی رضا میں راضی رہے۔
اپنے درویشی کے دور میں مزدوری کی، کپڑوں کے کٹ پیس دیہاتوں میں جا کر بیچے، سبزی کا کام، لکڑی کا ٹال، مرغیوں کی خوراک، پرچون کی دکان، چائے کی دکان، انڈوں کو سائیکل پر لے کر دیہاتوں میں سپلائی کرنا نیز گذر اوقات کے لیے بھینسیں بھی رکھیں، مرغیاں پالیں وغیرہ وغیرہ۔ وہ کون سا کام بچا جو درویشی کی زندگی کو گزارنے کے لیے میرے والد صاحب نے نہ کیا ہو۔
اس کے بعد بات آتی ہے خدمات سلسلہ کی۔ یہ خدمت دین کی سعادت ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ کے سوا کچھ نہیں۔ مکرم والد صاحب تو بس خدا تعالیٰ کی درگاہ میں ہر آن یہی عرض کرتے دکھائی دیتے کہ
تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم
کس عمل پر مجھ کو دی یہ خلعت قرب و جوار
درویشی دور کے ابتدائی چند سال خاکسار کے والد صاحب نے قادیان سے باہر تبلیغی میدان میں وقف کی روح کے ساتھ گزارے بعدہٗ صدر انجمن احمدیہ قادیان کے دفاتر، نظارت امور عامہ، نظارت بیت المال، نظارت تعلیم، نظارت نشر و اشاعت، دفتر امیرمقامی و دفتر زائرین میں خدمت کا موقع ملا۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔ کچھ عرصہ تک مینیجر اخبار بدر بھی رہے۔ ۷؍۸ سال انچارج لٹریچر برانچ رہ کر خدمت کی۔ قرآن مجید کا گو رمکھی ترجمہ جو مکرم گیانی عباداللہ صاحب نے کیا تھا کی دوبارہ اشاعت اور پروف ریڈنگ کا کام بڑی محنت اور جانفشانی سے کیا۔ اس کام میں بفضلہ تعالیٰ خاکسار بھی بحیثیت گیانی پنجابی ٹیچر اپنے والد صاحب مرحوم کی پوری مددگارو معاون رہی۔ اس سلسلہ میں کافی عرصہ امرتسر اور جالندھر کے پریس میں بھی مکرم والد صاحب کو رہائش اختیارکرنی پڑتی۔ اس کے علاوہ جماعت احمد یہ کے صدسالہ جوبلی جشن ۱۹۸۹ء سے قبل منتخب آیات قرآن کریم،منتخب احادیث اور منتخب تحریرات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گورمکھی تراجم بھی مکرم والد صاحب نے بڑی محنت سے کیے۔ اسی طرح پوتر جیونی حضرت محمدﷺ گورمکھی زبان کی درستی، پروف ریڈنگ اور پرنٹنگ کا کام بھی سر انجام دیا۔ مکرم والد صاحب کی خواہش پر خاکسار نے گیانی (Honours in Punjabi) کی ڈگری حاصل کی تھی اس لیے مذکورہ بالا خدمات میں خا کسار کو بھی اپنے مکرم والد صاحب کے ساتھ بھر پور معاون اور مددگار بننے کی توفیق ملتی رہی الحمدللہ۔غالباً ۱۹۸۸ء میں ریٹائر ہوئے۔ اس کے بعد ری امپلائی ہو کر دفتر زائرین میں بحیثیت انچارج دفتر زائرین بارہ سال تک تعلیم و تربیت اور تبلیغی کام نیز غیر مسلموں کو مقامات مقدسہ کی زیارت کروانے کی ڈیوٹی سر انجام دی۔ تبلیغی جوش انتہا درجہ کا تھا۔ زیرِتبلیغ افراد کی جب تک تسلی نہ ہو جاتی اُن کو جانے نہ دیتے۔ ان زیر تبلیغ افراد کو جن میں بچے بڑے شامل ہوتے اپنے گھر لا کر حسب توفیق مکرمہ والدہ صاحبہ کے تعاون سے اُن کی تواضع بھی کرتے اور اُن کی دلجوئی بھی کرتے۔ زائرین کو مقامات مقدسہ دکھانے کے لیے خود ساتھ جاتے اور اگر ایک دن میں دو یا تین بار بھی منارة المسیح پر چڑھنا پڑتا تو اُن کے ساتھ چڑھتے۔ اور کبھی بھی بڑی عمر کے لحاظ سے تھکاوٹ محسوس نہ کرتے۔ اگر ہم نے کبھی کہنا کہ ابّاجی ! اب آپ کی عمر اجازت نہیں دیتی کہ آپ اتنی شدید گرمی میں دو تین بار منارةالمسیح پر چڑھیں آپ کسی مددگار کا رکن یا کسی لڑکے کو ساتھ بھیج دیا کریں۔ تو آگے سے کہتے کہ یہ موسموں کی شدت یا عمر کی زیادتی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ہمیں اپنی جان کی کوئی پرواہ نہیں ہم نے تو مقامات مقدسہ کی حفاظت کا جو عہد اپنے خدا سے کیا ہوا ہے اُسے اپنی عمر کی آخری سانس تک نبھانا ہے۔ اس پر ہم خاموش ہو جاتے۔
قربان جائیں درویشوں کے اس جذبہ پر کہ جو عہد جوانی میں اپنے خلیفۂ وقت اور جماعت احمدیہ سے کیا اُسے زندگی کے آخری سانس تک نبھایا۔ اللہ تعالیٰ ان سب درویشوں کی قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
مکرم والد صاحب نے اپنے ذمہ بہشتی مقبرہ قادیان کے بعض قطعات کی صفائی کا کام لیا ہوا تھا۔ ہر روز دفتر جانے سے پہلے باقاعدگی کے ساتھ قطعات کی صفائی بڑی محنت سے کرتے۔ اس کام کے لیے اپنے کپڑے اپنا سامان جیسے کسّی، کُھرپا، جھاڑو وغیرہ الگ سنبھال کر رکھتے۔ دنیا سے بالکل بےخبر کبھی کسی کونے میں جھاڑو دیتے کبھی کسی کونے میں گُھرپےسے گھاس اُکھاڑتے نظر آتے اور قطعات کو مکمل صاف ستھرا رکھتے جو دیکھنے والوں کو نمایاں نظر آتا۔
میرے درویش والد صاحب اسلامی شعار کے پابند، خلافت سے بے انتہا محبت کرنے والے، نظام جماعت کے فرمانبردار اور وفادار سپاہی، حد درجہ کی عاجزی و انکساری، زندہ دل اور مزاحیہ طبیعت کے مالک تھے۔ چھوٹے بڑے سب سے مذاق کر لیتے تھے۔ پریشانیوں کے ہوتے ہوئے بھی ہمیشہ چہرہ پر مسکراہٹ ہی رہتی۔ خدا کی رضا میں ہمیشہ خوش و خرم رہے۔ مکرم والد صاحب کی مزاحیہ طبیعت سے ہر فرد چھوٹا بڑا واقف تھا۔ اور ہر ایک کو مکرم والد صاحب کے پاس بیٹھ کر وقت گزارنا اچھا لگتا تھا۔ قادیان دار الامان سے حد درجہ محبت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی تینوں بچیوں، خاکسار شمیم اختر گیانی اور عزیزہ شاہین اختر و عزیزہ یاسمین اختر کی شادیاں بھی قادیان میں ہی کیں اور ہمیں بھی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ کے اس شعر کا مصداق بنادیا کہ
خوشا نصیب کہ تم قادیاں میں رہتے ہو
دیار مہدیٔ آخر زماں میں رہتے ہو
خدا تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا احسان اور اُس کا فضل و کرم ہے کہ اُس نے ہمیں ان خوش نصیب والدین کے ہاں پیدا کیا جن کو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پاک اور مقدس بستی یعنی قادیان دار الامان میں درویشی کی سعادت حاصل کرتے ہوئے خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔ الحمدللہ۔ یہ وہی درویش بزرگ تھے جنہوں نے صرف دنیا کو ہی دین کی خاطر ترک نہیں کیا بلکہ اپنے خونی رشتہ دار والدین، بھائیوں اور بہنوں کو ہمیشہ ہمیش کے لیے بھلا دیا۔ ان درویشوں کے حالات زندگی پڑھنے سے جسم کا ایک ایک رونگٹا کھڑا ہو جاتا ہے۔ مگر قربان جائیں ان درویشوں پر جنہوں نے نہایت صبر و تحمل کے ساتھ زندگی میں آنے والے ہر ابتلا کا مقابلہ کیا اور کبھی ماتھے پر شکن تک نہ لائے۔ ہمیشہ خدا کی رضا پر خوش رہے اور اپنی زندگی کے مقصد کو پاگئے اور اپنے پیچھے اپنی ایک نسل کو اس امید سے چھوڑ گئے کہ وہ بھی اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے اور خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت مانگتے ہوئے ان کی نیکیوں کی راہ پر قدم مارنے والی ہوگی۔ ان شاءاللہ۔
پسماندگان میں ہم تین بہنیں خاکسار شمیم اختر گیانی اہلیہ مکرم سید صباح الدین صاحب واقف زندگی قادیان،مکرمہ شاہین اختر صاحبہ اہلیہ مکرم دلاور خان صاحب واقف زندگی قادیان،مکرمہ یاسمین اختر صاحبہ اہلیہ مکرم نصیر احمد عارف واقف زندگی قادیان اور دو بھائی مکرم عبد الحفیظ صاحب گیانی(اہلیہ مکرمہ ثریا بانوصاحبہ مرحومہ )و مکرم عبد الہادی صاحب گیانی (اہلیہ مکرمہ طاہرہ صباصاحبہ) یادگار چھوڑے ہیں۔ الحمدللہ مکرم والد صاحب کے چار پوتے، ایک پوتی، سات نواسے اور دونو اسیاں ہیں جن میں سے دس بچے بفضلہ تعالیٰ وقف نو کی بابرکت تحریک میں شامل ہیں۔سب سےبڑا پوتا عزیز طاہر احمد حفیظ واقف زندگی مربی سلسلہ ہے، الحمد للہ۔ ان سب نعمتوں کو یادکر کے بہت خوش ہوتے اور ہر دم خدا تعالیٰ کا شکر بجالاتے تھکتے نہیں تھے۔
۲۰۰۲ء سے مکرم والد صاحب فالج کے حملے کی وجہ سے بیمار چلے آرہے تھے۔ دوران بیماری دو دفعہ گر جانے سے دو بار کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی جس کی وجہ سے آپریشن بھی ہوا۔ مگر کبھی ہمت نہ ہارتے۔ بلند حوصلہ تھا۔ ہر بیماری کا مقابلہ خندہ پیشانی سے کرتے رہے۔ واکر لے کر گھر میں ہی آہستہ آہستہ چلتے پھرتے رہتے تھے۔ آخری تین چار ماہ خوراک بالکل بند تھی صرف جوس پر زندہ تھے۔ اُٹھ بیٹھ نہیں سکتے تھے۔ آخر وہ لمحہ آن پہنچا جس پر ہم سب کو خدا تعالیٰ کے حضور سر تسلیم خم کرنا پڑا اور مورخہ ۲۰؍نومبر ۲۰۰۹ء بروز جمعۃالمبارک میرے درویش والد صاحب رات ۱۱:۴۵ بجے اپنے حقیقی مولیٰ سے جاملے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ والد صاحب مرحوم موصی تھے۔ اگلے دن بروز ہفتہ بہشتی مقبرہ قادیان کے قطعہ درویشان میں تدفین عمل میں آئی۔
ہو فضل تیرا یا رب یا کوئی ابتلا ہو
راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہو
قارئین کی خدمت میں خاکسار مکرم والد صاحب مرحوم کی مغفرت، اعلیٰ علیین میں جگہ پانے، نیز بلند درجات اور ہمیں اپنے بزرگ والد صاحب مرحوم کی نیکیوں اور قربانیوں کو نسلاً بعد نسلِِ قائم رکھنے کی توفیق پانے کے لیے عاجزانہ دعا کی درخواست کرتی ہے۔
مکرم والد صاحب گورمکھی میں تھوڑی بہت شعر و شاعری بھی کر لیا کرتے تھے۔ جس کا ایک نمونہ خاکسار کی شادی کے موقع پر ۲۳؍دسمبر ۱۹۸۰ء میں جو نظم تحریر کی تھی وہ درج ذیل ہے، اس کا اُردو ترجمہ خاکسار نے خود کیا ہے :
او بیٹی! جَد میں تَینوں بیٹا کر کے کہندا سی
(اے بیٹی جب میں تجھے بیٹا کہتا تھا)
کم جہڑا میں آکھدا ساں، اوہ کم تُوں کر کے بہندا سی
( جو کام میں کہتا تھا وہ کام کر کے ہی تو بیٹھتی تھی )
دَھن ہے بیٹا جِگرا تیرا،تُو دُکھ میرے نال سہندا سی
(بیٹا تیرا حوصلہ بہت بلند تھا، تو میرے ساتھ دُکھ کو برداشت کرتی تھی)
اَجیہا بیٹا کتھوں لبھّے دل میرا اِہ کہندا سی
(ایسا بیٹا میں کہاں تلاش کروں میرا دل یہ کہتا تھا)
رب لکّھاں بیٹیاں ورگی مینوں اِکو بیٹی دِتّی سی
( خدا تعالیٰ نے مجھے لاکھوں بیٹیوں جیسی ایک ہی بیٹی دی تھی )
اِہ رب دی اِک نعمت سی جہڑی عرشوں لتّھی سی
(یہ رب کی ایک نعمت تھی جو آسمان سے اتری تھی)
کی آکھاں بیٹا حُسن تیرا،تُو لالاں دی اِک گُتھی سی
( بیٹا میں تیرے حُسن کے بارہ میں کیا کہوں تو لال جیسے ہیروں کی ایک تھیلی تھی)
شہد جہے سَن بول تیرے، اخلاقاں دی وی سچی سی
(تیرے بول شہد جیسے تھے، اعلیٰ اخلاق کی بھی مالک تھی )
أج گھر اپنے تُوں جاندی ایں، میں رب دا شکر بجاندا ہاں
( آج تو اپنے گھر جا رہی ہے، میں خدا کا شکر بجالاتا ہوں)
گیت اوہدے ہی گاندا ہاں، تے تینوں اِہ میں کہندا ہاں۔
( میں اُس (خدا) کے ہی گیت گاتا ہوں۔ اور تجھے میں یہ کہتا ہوں )
جہڑا آؤندا ہے بیٹا ! تُر جاندا ہے آکھ کے میں ہُن جاندا ہاں
(جو آتا ہے بیٹا وہ یہ کہہ کر چلا جاتا ہے کہ میں اب جاتا ہوں )
بیٹا !سُکّھی وسّے گھر تیرا ہُن تیَنوں میں رب دی جھولی پاندا ہاں
(بیٹا تیرا گھر سکھی رہے، اب میں تجھے خدا کی گود میں ڈالتا ہوں )
تُوں رب دی رضا وچ رہنا ہے، ہر دُکھ سکھ نُو وی سہنا اے
(تو نے خدا کی رضا میں راضی رہنا ہے، ہر دُکھ سکھ کو بھی برداشت کرنا ہے)
پہلاں جی تُوں مَینوں کہندی سی ہُن جی جی نُوں تو کہنا اے
(پہلے تو مجھے جی کہتی تھی، اب جی اپنے خاوند کو کہنا ہے)
أج صباح بیٹا سرتاج تیرا، صباح وچ ہی تُو رہنا اے
( آج صباح بیٹا تیرا سرتاج ہے، تو نے صباح میں ہی رہنا ہے )
صباح تے صبا ہے صُبح تیری، اِہ چانن تیرا گہنا اے
(یعنی صباح اور صبا تیری صبح ہے، یہ روشنی تیر از یور ہے )
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: سیم ہیرس صاحب کا اسلام کے خلاف اعلانِ جنگ




