نیا سال اور خلفائے احمدیت کی نصائح(حصہ اول)
چند ہفتے پہلے نئے سال کا آغاز ہوا ہے۔ بلا شبہ دنوں ہفتوں اور مہینوں پر مشتمل یہ سال بھی کچھ مدت بیت جائے گا اور اگلا سال اس کی جگہ لے لے گا۔ دراصل انسانی زندگی بھی اسی قسم کے چند سال کا مجموعہ ہے اور ہر شخص اپنی زندگی کے مقررہ دن پورے کر کے بیتےہوئے سالوں کی طرح خود بھی ہمیشہ کے لیے اس جہان سے رخصت ہو جاتا ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
مگر خوش قسمت ہے وہ شخص جو اپنی چند روزہ حیات مستعار میں نہ مٹنے والی کچھ یادیں چھوڑ جاتا ہے اور آئندہ زندگی میں کام آنے والا زاد راہ اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ جو وقت ہاتھ سے نکل گیا اس پر افسوس کرنا بے سود ہوتاہے۔ ہاں مستقبل اس کے سامنے ہے اور حال اس کے قبضے میں ہے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ ان دونوں امور کی طرف ہم زیادہ توجہ دیں اور اس آنے والے سال کا بھرپور فائدہ اُٹھائیں جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
اپنی اس عمر کو اک نعمت عظمیٰ سمجھو
بعد میں تاکہ تمہیں شکوۂ ایام نہ ہو
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم سب ایک ایسی بابرکت جماعت کا حصہ ہیں جس کی بنیاد امام آخر الزمان نے خود اپنے بابرکت وجود سے رکھی۔ آج بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ ہم میں بہت سی سستی پیدا ہو رہی ہیں اور ہم اپنے اس مقصد کو بھولتے جا رہے ہیں جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں پیدا کیا ہے۔بلا شبہ ساری دنیا کو خدا تعالیٰ کے آستانے پر جھکا دینا کوئی معمولی بات نہیں۔ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا کوئی آسان کام نہیں۔ دلوں کے اندر پاک تبدیلی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ممکن ہے۔
پاک تبدیلی پیدا کرنے کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’بے خوف ہو کر مت رہو۔ استغفار اور دعاؤں میں لگ جاؤ اور ایک پاک تبدیلی پیدا کرو۔ اب غفلت کا وقت نہیں رہا۔ انسان کو نفس جھوٹی تسلی دیتا ہے کہ تیری عمر لمبی ہو گی۔ موت کو قریب سمجھو۔ خدا کا وجود برحق ہے۔ جو ظلم کی راہ سے خدا کے حقوق دوسروں کو دیتا ہے وہ ذلت کی موت دیکھے گا‘‘۔
نیز فرمایا:’’کوئی قوم ایسی دکھاؤ کہ جس کو کہا گیا کہ تم یہ کام نہ کرنا اور اس نے نہ کیا ہو۔ خدا نے یہودیوں کو کہا کہ تحریف نہ کرو۔قرآن کی نسبت یہ نہیں کہا بلکہ یہ کہا اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر:۱۰) غرض دعاؤں میں لگے رہو کہ خدا تعالیٰ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡکے گروہ میں داخل کرے۔‘‘ (ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۱۴۱۔ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے دن بدن ترقی کر رہی ہے اور ہر آنے والا نیا دن اور شروع ہونے والا ہر نیا سال اس دائرہ کو وسیع سے وسیع تر کرتا چلا جا رہا ہے۔ لوگ جوق در جوق جماعت میں شامل ہو رہے ہیں اور یوں یہ دائرہ مزید پھیل رہا ہے، الحمدللہ۔ لیکن جماعت کی اس وسعت کے ساتھ ساتھ سب کے لیے صحیح تعلیم و تربیت کا ہونا نہایت ضروری ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ہر نیا سال انسان کو نئے دور کی طرف توجہ دلاتا ہے اور نئی قربانیوں کے لیے متوجہ کرتا ہے… اسلام کے مصائب و مشکلات یوں ہی نہیں دور ہو جائیں گے وہ ایک قربانی چاہتے ہیں اور ہزاروں لاکھوں کی قربانی چاہتے ہیں۔ جب تک تمام افراد اس قربانی کے لیے تیار نہ ہوں گے اس وقت تک کبھی ہماری جماعت کو کسی قسم کی ترقی اور کامیابی نہیں مل سکتی۔ اسلام کی زندگی ہماری موت کو چاہتی ہے… پس دنیا پر حقیقت اور سچائی قائم کرنے کے لیے ہر چیز کو قربان کر دو۔ ‘‘ (خطبہ جمعہ ۷؍جنوری ۱۹۲۷ء۔ خطبات محمود جلد۱۱صفحہ۳۔۸)
ہم وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہیں قدم قدم پر خلفائے احمدیت کی راہنمائی حاصل ہے۔ ہر نئے دن کے ساتھ انسان کے طور طریقے بھی بدلتے رہتے ہیں اور انسان کا سفر اپنے آقا و مولا کے اور قریب ہوتا جاتا ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو اپنے اعمال کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے کہ آیا اس کے اعمال صالح ہیں یا نہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ احبابِ جماعت کو سالِ نو کی مبارک باد دیتے ہوئے فرماتے ہیں:’’خدا کرے کہ آپ اور میں ان نیکیوں پر ثابت قدم رہیں جو خدا تعالیٰ کو محبوب اور پیاری ہیں اور روحانی جہاد کے اس میدان میں جس کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے آج ہمارے لئے کھولا ہے اور جس میدان میں اس نے ہمیں لا کھڑا کیا ہے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کرنے اور آپؑ کی اطاعت کا دعویٰ کرنے کے بعد ہم پیٹھ نہ دکھائیں اور ہمیشہ ثابت قدمی کے ساتھ شیطان کا مقابلہ کرتے چلے جائیں۔پس یہ سالِ نو مبارک ہو آپ کے لئے بھی اور میرے لیے بھی ان معنوں میں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان اعمالِ صالحہ کے بجا لانے کی توفیق دیتا چلا جائے کہ جن کے نتیجہ میں ( اگر اور جب وہ انہیں قبول کر لیتا ہےتو )اس کی نعمتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں… خدا تعالیٰ کے فضل، اس کی رحمتیں اور برکتیں پچھلے سالوں سے زیادہ آپ پر نازل ہوں۔… اللہ تعالیٰ آپ کو روحانی میدان جنگ میں ثبات قدم عطا فرمائے اور آپ طاغوتی طاقتوں کو دنیا کے کناروں تک دھکیلتے ہوئے جہنم میں جلد تر پھینکنے والے بن جائیں … اللہ تعالیٰ… آپ کو اور مجھے اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ جو وسائل اور اسباب اس نے ہمیں دیئے ہیں۔ ہم ان کا استعمال بہترین طور پر اور کسی منصوبہ بندی کے ماتحت اور منظم طریقہ سے کریں۔‘‘ (خطبہ جمعہ ۷؍جنوری ۱۹۶۶ء، خطباتِ ناصر جلد اوّل، صفحہ ۷۸ تا ۸۸)
(جاری ہے)
(نجم السحر صدیقی روسلزہائم جرمنی)
٭…٭…٭




