متفرق مضامین

دھوپ سینکنے والی تنہائی پسند اور پرسکون سن فِش (Sunfish) – مولا مولا

سن فِش جسے سائنسی طور پر مولا مولا (Mola mola) کہا جاتا ہے، دنیا کی ایک منفرد اور عجیب مچھلی ہے جو اپنی غیر معمولی جسامت اور انوکھے جسمانی ڈھانچے کی وجہ سے سمندری حیات میں خاص مقام رکھتی ہے۔ اسے Ocean Sunfish بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اکثر سمندر کی سطح پر دھوپ سینکتے ہوئے نظر آتی ہے۔ یہ مچھلی عام طور پر تنہا رہتی ہے اور بہت کم جارحانہ ہوتی ہے۔ اس کا رویہ نہایت پرسکون ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ انسانوں کے لیے خطرناک نہیں سمجھی جاتی۔

سن فِش کا جسم گول، چپٹا اور ڈسک جیسی شکل کا ہوتا ہے، اسی وجہ سے اسے The Pancake of the Sea بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی چوڑائی کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، یعنی یہ عام مچھلیوں کی طرح لمبی نہیں بلکہ زیادہ چوڑی ہوتی ہے۔ عموماً یہ تقریباً دس فٹ (تین میٹر) لمبی اور چودہ فٹ (۴.۳ میٹر) چوڑی ہوتی ہے، جبکہ بالغ سن فِش کا وزن ایک ہزار سے دو ہزار کلوگرام تک پہنچ سکتا ہے، جو اسے دنیا کی سب سے بھاری ہڈی والی مچھلی بناتا ہے۔

اس مچھلی کی دم عام مچھلیوں جیسی نہیں ہوتی بلکہ اس کی جگہ ایک چپٹا سا حصہ ہوتا ہے جسے کلاوس (Clavus) کہا جاتا ہے۔ اس کے اوپری اور نچلے پَر بہت بڑے ہوتے ہیں جن کی مدد سے یہ پانی میں آہستہ آہستہ اوپر نیچے حرکت کرتی ہے۔

سن فِش زیادہ تر کھلے سمندروں میں پائی جاتی ہے۔ یہ بحرالکاہل، بحرِ اوقیانوس اور بحرِ ہند میں عام طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ مچھلی گرم اور معتدل پانی کو ترجیح دیتی ہے لیکن بعض اوقات ٹھنڈے علاقوں میں بھی نظر آتی ہے۔ سن فِش عام طور پر سطحِ سمندر کے قریب رہتی ہے، مگر خوراک کی تلاش میں گہرے پانیوں میں بھی چلی جاتی ہے۔

سن فِش کی غذا زیادہ تر جیلی فِش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ چھوٹے کیکڑے، پلانکٹن، چھوٹی مچھلیاں اور سمندری گھاس بھی کھا لیتی ہے۔ چونکہ جیلی فِش میں غذائیت کم ہوتی ہے، اس لیے سن فِش کو بڑی مقدار میں خوراک کھانی پڑتی ہے تاکہ وہ اپنی توانائی برقرار رکھ سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سن فِش کے دانت آپس میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ اپنا منہ مکمل طور پر بند نہیں کر سکتی۔ اسی وجہ سے یہ خوراک کو چبا نہیں پاتی بلکہ سیدھا نگل لیتی ہے۔

سن فِش کو اکثر سمندر کی سطح پر ایک طرف لیٹا ہوا دیکھا جاتا ہے۔ بظاہر یہ منظر ایسا لگتا ہے جیسے مچھلی بیمار یا مُردہ ہو، لیکن حقیقت میں وہ دھوپ سینک رہی ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق سن فِش ایسا اس لیے کرتی ہے تاکہ اس کے جسم کا درجہ حرارت بحال رہے اور جلد پر موجود پیراسائٹس (Parasites) ختم ہو جائیں۔ بعض اوقات پرندے بھی اس کے جسم سے کیڑے مکوڑے کھا لیتے ہیں، جو اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

سن فِش کی افزائشِ نسل بھی حیران کن ہے۔ ایک مادہ سن فِش ایک وقت میں ۳۰۰ ملین تک انڈے دے سکتی ہے، جو کہ کسی بھی ریڑھ دار جانور (Vertebrate)میں سب سے زیادہ تعداد سمجھی جاتی ہے۔ تاہم ان میں سے بہت کم بچے بالغ ہونے تک زندہ رہ پاتے ہیں کیونکہ زیادہ تر انڈے یا بچے دوسرے سمندری جانوروں کی خوراک بن جاتے ہیں۔

سن فِش کے بچے ابتدا میں بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کی شکل کسی حد تک کانٹے دار گیند جیسی ہوتی ہے۔ جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے ہیں، ان کی جسمانی ساخت تبدیل ہوتی جاتی ہے۔

اگرچہ سن فِش بہت بڑی ہوتی ہے، لیکن پھر بھی اس کے کچھ قدرتی دشمن موجود ہیں، جن میں شارک، Orca (قاتل وہیل) اور سمندری شیر(Sea Lion) شامل ہیں جبکہ بعض علاقوں میں خاص طور پر ایشیا کے کچھ ممالک میں انسان بھی اسے خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ سن فِش تیز اس لیے نہیں بھاگ سکتی کیونکہ اس کا جسمانی ڈھانچہ رفتار کے لیے نہیں بلکہ آہستہ اور مستحکم حرکت کے لیے بنا ہوتا ہے۔ اس کا جسم بھاری اور چپٹا ہوتا ہے ،دم نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور یہ صرف بڑے پَروں کی مدد سے آہستہ حرکت کرتی ہے، جس کے باعث حملے کے وقت شکاریوں سے بچ نہیں پاتی۔ شارک بعض اوقات اس کا جسم نوچ لیتی ہیں، جس سے اسے شدید تکلیف ہوتی ہے، اس کی حرکت سست ہو جاتی ہے اور یہ عمل اکثر آہستہ اور اذیت ناک موت پر منتج ہوتا ہے۔

سن فِش سمندری ماحولیاتی نظام میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ بڑی مقدار میں جیلی فِش کھاتی ہے، اس لیے یہ جیلی فِش کی آبادی کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

آج کل سن فِش کو سمندری آلودگی، پلاسٹک کے کچرے اور بےجا ماہی گیری جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے، کیونکہ یہ پلاسٹک کو جیلی فِش سمجھ کر نگل لیتی ہے جس سے اس کی موت ہوسکتی ہے۔ کئی ممالک اور عالمی تنظیمیں سن فِش کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ سن فِش ایک انوکھی مخلوق ہے جو سمندری ماحولیاتی توازن میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے اس کا تحفظ ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسے دیکھ سکیں۔

(ابو الفارس محمود)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: سردیوں کی سوغات: خشک میوہ جات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button