آنحضرتﷺ کی محبت الٰہی کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۳؍جنوری ۲۰۲۶ء
٭… آپؐ نے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے ، اُس کی عبادت کرنے، اُس کی طرف جھکنے کی توجہ دلائی۔ اور فرمایا کہ اِسی میں تمہاری بقا ہے، اِسی میں تمہاری زندگی ہے۔ اور اگر تمہیں اِن باتوں کی گہرائی کا پتا ہو، جس طرح مجھے پتا ہے، تو تم لوگ ہنسنا ترک کر دیتے اور روتے زیادہ۔ اور الله تعالیٰ سے دعائیں کرتے۔ پس یہ توجہ دلائی کہ ہمیں بھی دعاؤں کی طرف بہت توجہ دینی چاہیے اور الله تعالیٰ سے خاص تعلق پیدا کرنا چاہیے
٭… آپؐ کوئی بڑا کام بغیر اِذنِ الٰہی کے نہیں کرتے تھے، جب الله کا حکم ہوتا تھا تو کرتے تھے
٭… آنحضرتؐ کے مقام و مرتبہ کا یہ وہ اعلیٰ قسم کا ادراک تھا، جو حضرت مسیح موعودؑ کو الله تعالیٰ نے عطا فرمایا اور آپؑ نے ہمارے لیے بھی بیان فرمایا۔ اِس کے باوجود ہمارے مخالفین ہمیں کہتے ہیں کہ ہم نعوذ بالله! آنحضرتؐ کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں اور حضرت مسیح موعودؑ کو زیادہ مقام دیتے ہیں۔ الله تعالیٰ اِن کے شرّ سے ہر احمدی کو بچائے
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۳؍جنوری ۲۰۲۶ء بمطابق ۲۳؍صلح ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۲۳؍جنوری ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت صہیب احمد صاحب (مربی سلسلہ)کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی سیرت کا بیان ہو رہا ہے۔
گذشتہ خطبوں میں محبّتِ الٰہی کا ذکر ہو رہا تھا اس ضمن میں آج مزیدکچھ بیان کروں گا۔
آپؐ کی عبادت کا طریق اور اُس کا حُسن کچھ پہلے بھی بیان ہوا تھا۔ آج بھی احادیث کے حوالے سے بھی اور اِسی طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ، جو آپؐ کے غلامِ صادق ہیں، آپؑ نے جس طرح آنحضرتؐ کے مقام و مرتبہ اور عشقِ الٰہی کا نقشہ کھینچا ہے، اُس کے بھی کچھ حوالے ہیں۔
حضرت حُذَیفہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے نبیؐ کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی۔ تو آپؐ نے سورۃ البقرہ سے آغاز فرمایا۔ مَیں نے سوچا کہ آپؐ سو (۱۰۰)آیتوں پر رکوع کریں گے، لیکن آپؐ آگے گزر گئے۔ پھر مَیں نے سوچا کہ اِس پر یعنی سورت پوری کرنے پر رکوع کر لیں گے، لیکن آپؐ آگے گزر گئے۔پھر مَیں نے سوچا کہ اِس پر آپؐ رکوع کر لیں گے، لیکن آپؐ پھر آگے گزر گئے۔ پھر آپؐ نے سورۃ النساء شروع فرما دی اور آپؐ نے اُسے پڑھا۔ پھر آپؐ نے آل عمران شروع فرما دی اور اُسے پڑھا۔
آپؐ بڑے دھیمے انداز میں اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے۔ جب آپؐ ایسی آیت سے گزرتے، جس میں تسبیح ہوتی ، تو تسبیح کرتے۔جب آپؐ کسی سوال کی آیت سے گزرتے، تو سوال کرتے ۔ اور جب ایسی آیت سے گزرتے، جہاں الله تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا ذکر ہوتا، تو پناہ طلب کرتے۔
پھر آپؐ نے رکوع کیا اور کہنے لگے: سُبْحَانَ رَِبِّیَ الْعَظِيْمِ، پاک ہے میرا ربّ بڑی عظمت والا۔ اور آپؐ کا رکوع آپؐ کے قیام جتنا ہی تھا، بہت لمبا رکوع تھا۔ پھر آپؐ نے سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُکہا ، یعنی الله نے سُن لی اُس کی ، جس نے اُس کی حمد کی۔ پھر آپؐ نے لمبا قیام کیا، جو آپؐ کے رکوع کے قریب قریب تھا، پھر آپؐ نے سجدہ کیا اور کہا: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰى، پاک ہے میرا ربّ بڑی بلند شان والا۔ اور آپؐ کا سجدہ آپؐ کے قیام کے قریب قریب تھا۔
اِسی طرح حضرت عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات نبیؐ نے قرآنِ مجید کی ایک ہی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے قیام فرمایا۔یعنی سورت فاتحہ کے بعد ایک ہی آیت کو بار بار قیام میں پڑھتے رہے، وہاں تو صحابیؓ کی روایت ہے کہ کئی لمبی لمبی سورتیں پڑھیں، یہاں یہ ہے کہ ایک ہی آیت پر لمبا قیام کیا۔
اِسی طرح حضرت ابو ذرؓ نے بیان کیا کہ نبیؐ عبادت کے لیے کھڑے ہوئے اور ایک آیت کو صبح تک بار بار پڑھتے رہے اور آیت یہ تھی : اِنۡ تُعَذِّبۡھُمۡ فَاِنَّھُمۡ عِبَادُكَ ۚ وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَھُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُکہ اگر تُو انہیں عذاب دے، تو آخر یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تُو انہیں معاف کر دے ،تو یقیناً تُو کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔
پھر حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللهؐ کے عہد میں سورج گرہن ہوا، رسول اللهؐ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپؐ بہت لمبے قیام، رکوع اور سجود کرنے کے بعد نماز سے فارغ ہوئے اور سورج روشن ہو چکا تھا۔ پھر آپؐ نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؐ نے الله کی حمد اور اِس کی ثنا بیان کی۔پھر فرمایا: سورج اور چاند الله تعالیٰ کے نشانوں میں سے ہیں اور یہ دونوں کسی شخص کی موت اور کسی کی زندگی کے لیے نہیں گہنائے جاتے، پس جب تم اِن دونوں کو دیکھو، تو الله تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو۔ الله تعالیٰ سے دعا کرو، نماز پڑھو اور صدقہ دو۔ پھر فرمایا: اے محمد (صلی الله علیہ وسلم) کی اُمّت! الله تعالیٰ سے زیادہ کوئی بھی شخص غیرت والا نہیں ہے کہ اُس کا بندہ زنا کرے یا اُس کی بندی زنا کرے۔پھر آپؐ نے فرمایا کہ اے محمد(صلی الله علیہ وسلم) کی اُمّت! خدا کی قسم! اگر تم وہ جانتے ، جو مَیں جانتا ہوں، تو تم بہت زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے۔پھر آپؐ نے فرمایا: سنو! کیا مَیں نے پہنچا دیا؟
حضورِ انور نے فرمایا کہ پس
آپؐ نے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے ، اُس کی عبادت کرنے، اُس کی طرف جھکنے کی توجہ دلائی۔ اور فرمایا کہ اِسی میں تمہاری بقا ہے، اِسی میں تمہاری زندگی ہے۔ اور اگر تمہیں اِن باتوں کی گہرائی کا پتا ہو، جس طرح مجھے پتا ہے، تو تم لوگ ہنسنا ترک کر دیتے اور روتے زیادہ۔ اور الله تعالیٰ سے دعائیں کرتے۔ پس یہ توجہ دلائی کہ ہمیں بھی دعاؤں کی طرف بہت توجہ دینی چاہیے اور الله تعالیٰ سے خاص تعلق پیدا کرنا چاہیے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ اِسی طرح
آپؐ کوئی بڑا کام بغیر اِذنِ الٰہی کے نہیں کرتے تھے، جب الله کا حکم ہوتا تھا تو کرتے تھے۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود مکّے کے لوگوں کے شدید ظلموں کےآپؐ نے مکّہ اُس وقت تک نہ چھوڑا، جب تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپؐ پر وحی نازل نہ ہوئی اور وحی کے ذریعے سے آپؐ کو مکّہ چھوڑنے کا حکم نہ دیا گیا۔ اہلِ مکّہ کے ظلموں کی شدّت کو دیکھ کر ، آپؐ نے جب صحابہؓ کو حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دی اور اُنہوں نے آپؐ سے خواہش ظاہر کی کہ آپؐ بھی اِن کے ساتھ چلیں تو آپؐ نے فرمایا کہ مجھے ابھی خدا تعالیٰ کی طرف سے اِذن نہیں ملا۔
محبّتِ الٰہی کے ضمن میں سفرِ طائف میں آپؐ کے زخمی ہونے کا واقعہ تاریخ میں بیان ہوا ہے۔ ۱۰؍نبوی میں ابوطالب کی وفات کے بعد جب قریش نے رسول اللهؐ پر دوبارہ مظالم شروع کیے تو آپؐ طائف تشریف لے گئے، آپؐ دس دن تک طائف میں رہے اور اسلام کی دعوت دیتے رہے، لیکن کسی نے بھی آپؐ کی دعوت قبول نہ کی۔صحیح بخاری میں اِس واقعے کے بارے میں روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے نبیؐ سے عرض کیا کہ کیا آپؐ پر اُحد کے دن سے زیادہ بھی سخت کوئی دن آیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ وہ دن زیادہ سخت تھا، جو مجھے اُن کی طرف سے عقبہ کے دن پہنچا، یعنی طائف میں جب مَیں نے اپنا نفس ابنِ ابی عبدِ یالیل بن عبدِ کُلال کے سامنے پیش کیا۔ جو مَیں چاہتا تھا اُس نے وہ جواب نہ دیا۔ پس مَیں وہاں سے چلا اور مَیں فکر مند تھا ۔ اپنے دھیان میں جا رہا تھا۔ جب مَیں قرن الثعالب پہنچا تو یہ کیفیت دُور ہوئی اور مَیں نے اپنا سر اُٹھایا تو دیکھا کہ ایک بادل نے مجھ پر سایہ کیا ہوا ہے۔مَیں نے دیکھا کہ اِس میں جبرائیلؑ ہیں، اُنہوں نے مجھے پُکار کر کہا کہ الله نے تمہارے بارے میں تمہاری قوم کی بات سُن لی ہے اور تمہاری طرف پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے کہ تم اُن کے بارے میں جو چاہو حکم کرو۔
آنحضرتؐ فرماتے ہیں کہ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے پُکارا اور سلام کیا۔ پھر کہا کہ اے محمد(صلی الله علیہ وسلم) آپؐ اِس بارے میں جو چاہیں حکم دیں، اگر آپؐ چاہیں تو مَیں اِن دو پہاڑوں کو اِن پر مِلا دُوں!تو نبیؐ نے فرمایا کہ نہیں! مَیں اُمیدکرتا ہوں کہ الله ان کی اولاد سے ایسے لوگ پیدا کرے گا، جو ایک الله کی عبادت کریں گے اور اِس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔حضورِ انور نے فرمایا کہ پس
آپؐ کی ہمدردی یہاں بھی غالب آئی اور آپؐ نے اِس قوم کو بچا لیا اور پھر فتح مکّہ کے کچھ عرصے بعد ان کی اولادوں نے اسلام بھی قبول کر لیا۔
حضرت مسیح موعودؑ آنحضرتؐ کے مقام و مرتبہ کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ اعلیٰ درجہ کا نُور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسانِ کامل کو، وہ ملائک میں نہیں تھا، نجوم میں نہیں تھا، قمر میں نہیں تھا، آفتاب میں بھی نہیں تھا، وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا، وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا، غرض وہ کسی چیز اَرضی اور سماوی میں نہیں تھا۔ صرف انسان میں تھا، یعنی انسانِ کامل میں، جس کا اَتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سیّدو مولیٰ، سیّد الانبیاء ، سیّد الاحیاء ، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ سو! وہ نُور اِس انسان کو دیا گیا اور حسبِ مراتب اِس کے تمام ہم رنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں۔
حضور انور نے اِس ضمن میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے مزید بصیرت افروزاقتباسات پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ
آنحضرتؐ کے مقام و مرتبہ کا یہ وہ اعلیٰ قسم کا ادراک تھا، جو حضرت مسیح موعودؑ کو الله تعالیٰ نے عطا فرمایا اور آپؑ نے ہمارے لیے بھی بیان فرمایا۔ اِس کے باوجود ہمارے مخالفین ہمیں کہتے ہیں کہ ہم نعوذ بالله! آنحضرتؐ کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں اور حضرت مسیح موعودؑ کو زیادہ مقام دیتے ہیں۔ الله تعالیٰ اِن کے شرّ سے ہر احمدی کو بچائے۔
حضورِ انور نے بیان کیا کہ پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مُردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہوگئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے اِلٰہی رنگ پکڑ گئے۔ او رآنکھوں کے اندھے بینا ہوئے۔ اور گونگوں کی زبان پر اِلٰہی معارف جاری ہوئے۔ اور دنیا میں یکدفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اِس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔ کچھ جانتے ہو کہ وہ کیاتھا ؟وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دُعائیں ہی تھیں جنہوں نے اِس دنیا میں شور مچا دیا۔ اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اُس اُمّی بیکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ وَ بَارِکْ عَلَیْہِ وَآلِہٖ بِعَدَدِ ھَمِّہٖ وَ غَمِّہٖ وَحُزْنِہٖ لِھٰذِہِ الْاُ مَّۃِ وَ اَنْزِلْ عَلَیْہِ اَنْوَارَ رَحْمَتِكَ اِلَی الْاَبَدِ۔اے الله! تُو محمدؐ اور آپؐ کی آل پر رحمت اور سلامتی اور برکت نازل فرما، اِن تمام فکروں، غموں اور رنج و اَلَم کے بقدر ، جو آپؐ نے اِس اُمّت کے لیے برداشت کیے۔ اور اپنی رحمت کے انوار آپؐ پر ہمیشہ ہمیش کے لیے نازل فرما۔
پھر حضورِ انور نے بیان کیا کہ آپؑ فرماتے ہیں کہ اور اپنے ذاتی تجربے سے یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ دعاؤں کی تاثیر آب وآتش کی تاثیر سے بڑھ کر ہے، بلکہ اسباب طبعیہ کے سلسلے میں کوئی چیز ایسی عظیم التاثیر نہیں جیسی کہ دعا ہے۔آخر میں حضورِ انور نے اِس ضمن میں دعا کی کہ
الله تعالیٰ ہمیں اِس راستے پر چلتے ہوئے مقبول دعاؤں کی توفیق دے اور حقیقی رنگ میں دعائیں کرنے کی توفیق دے اور حقیقت میں وہ حقیقی مومن بنائے، جو دعاؤں کا بھی حق ادا کرنے والاہو اور آنحضرتؐ کے اُسوہ پر چلنے کی کوشش کرنے والا بھی ہو۔
٭…٭…٭




