چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۶)
۴۴۔وہ رو دیتا کہہ کر کہ سب خیر ہے
مگر دل میں اک خواہش سیر ہے
خیر khair: خیریت All is well
وہ اپنے والد صاحب کو بھی دل کا حال نہیں بتا سکتاتھا وہ ہندو تھے انہیں کیسے بتاتا کہ مجھے ہندو مت سچا دین نہیں لگتا ۔ یہی جواب دیتا کہ ٹھیک ہوں سب خیریت ہے بس سیر کرنے کی خواہش ہے مگر ساتھ ہی دل کی بے قراری کی وجہ سے آنکھوں میں آنسو آجاتے ۔
۴۵۔پھر آخر کو نکلا وہ دیوانہ وار
نہ دیکھے بیاباں نہ دیکھا پہاڑ
دیوانہ deewaana: باؤلا، بے عقل، پگلا، Mad, insane,
بیاباں bayaa baaN, beyaabaaN: ریگستان، صحرا، جنگل، ویرانہ Desert, wilderness
جب حق کی تلاش کی بے چینی حد سے بڑھ گئی تو ہوش و حواس باقی نہ رہے پاگلوں کی طرح گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ اسے یہ خوف نہیں تھا کہ راستے میں جنگل، بیاباں، ویرانے اور پہاڑ بھی آئیں گے۔
۴۶۔ اتار اپنے مونڈھوں سے دنیا کا بار
طلب میں سفر کر لیا اختیار
مونڈھوں moNdhoN: کندھوں، شانوں Shoulders
طلب talab: تلاش In search of
اختیار ikhteyaar: پسند کرنا To choose ,to elect , to adopt
اپنے کندھوں سے دنیا اور اس کے تعلقات کا بوجھ اتار پھینکا ۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنی محبت کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔
۴۷۔خدا کے لئے ہوگیا دردمند
تنعم کی راہیں نہ آئیں پسند
دردمند dard maNd: دکھی ، غمگین painful, afflicted, pained, sickly,
تنعُّم tana’um: نازونعمت Luxury
وہ بڑی خوش حالی میں نازو نعم میں پلا تھا ۔ مگر اس کا سکون دنیاوی آسائش میں نہیں تھا۔ اس لیے وہ ان سے الگ ہو گیا ۔اپنے خدا کے لیے درد مندی کی سادہ فقیرانہ زندگی پسند کرلی ۔
۴۸۔طلب میں چلا بےخود و بےحواس
خدا کی عنایات کی کر کے آس
بےخود be khud: بے ہوش، خود فراموشی، اپنا آپ بھلا دینا Lost in search of God, oblivious of one’s own self
بے حواس be hawaas: (حس کی جمع) محسوس کرنے کی قوت نہ ہونا۔ Unaware of his environment
عنایات enaayaat: (عنایت کی جمع)مہربانیاں، التفات Favours, kindnesses
ایک ہی طلب تھی ایک ہی عشق تھا اس کے سوا کسی چیز کا ہوش نہیں تھا عاجزی اور انکساری سے خود کو بھی بھلا دیا ایک امید تھی کہ اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے بہت دیالو ہے وہ اپنی طلب میں نکلنے والوں کو مایوس نہیں کرتا وہ ضرور اپنی ہستی کی خبر دے گا۔
۴۹۔جو پوچھا کسی نے چلے ہو کدھر
غرض کیا ہے جس سے کیا یہ سفر؟
اگر کوئی راستے میں پوچھ لیتا کہ کہاں کے ارادے ہیں ؟ سفر پر جا نے کا مقصد کیا ہے ؟
۵۰۔کہا رو کے حق کا طلب گار ہوں
نثار رہ پاک کرتار ہوں
طلب گار talabgaar: تلاش کرنے والا A searcher
نثار nisaar: قربان کرنا، فدا کرنا To sacrifice
کرتار kartar: پیدا کرنےوالا، خالق The Creator, God
تو وہ رو کے جواب دیتا کہ سچائی کی تلاش میں ہوں۔ اپنے اللہ کی راہ میں قربان ہو گیا ہوں۔
۵۱۔سفر میں وہ رو رو کے کرتا دعا
کہ اے میرے کرتار مشکل کشا
کرتار kartar: پیدا کرنے والا، خالق The Creator, God
مشکل کشا mushkil kushaa: مشکل دور کرنے والا One who removes difficulties
سفر کے دوران وہ رو رو کے ایک ہی دعا کرتا کہ اے میرے خالق میرے پروردگار!
۵۲۔میں عاجز ہوں کچھ بھی نہیں خاک ہوں
مگر بندۂ درگہ پاک ہوں
عاجز aajiz: مسکین ، خاکسار Humble person
بندۂ درگہ پاک bandah-e-dargah-paak: پاک خدا کے دربار کا بندہ، عاجز بندہ A servant of the holy shrine of God
میں ایک عاجز بندہ ہوں ۔ بالکل کمتر اور حقیر خاکسار انسان ہوں مگر جو کچھ بھی ہوں تیری پاکیزہ درگاہ کا فقیر ہوں ۔
٭…٭…٭




