کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

کلام اور الہام میں فرق

کلام اور الہام میں فرق یہ ہے کہ الہام کا چشمہ تو گویا ہر وقت مقرب لوگوں میں بہتا ہے اور وہ روح القدس کے بلائے بولتے اور روح القدس کے دکھائے دیکھتے اور روح القدس کے سنائے سنتے اور ان کے تمام ارادے روح القدس کے نفخ سے ہی پیدا ہوتے ہیں اور یہ بات سچ اور بالکل سچ ہے کہ وہ ظلی طور پر اس آیت کا مصداق ہوتے ہیں وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی (النجم : ۵،۴)لیکن مکالمہ الٰہیہ ایک الگ امر ہے اور وہ یہ ہے کہ وحی متلوّ کی طرح خدائے تعالیٰ کا کلام ان پر نازل ہوتا ہے اور وہ اپنے سوالات کا خدائے تعالیٰ سے ایسا جواب پاتے ہیں کہ جیسا ایک دوست دوست کو جواب دیتا ہے اور اس کلام کی اگر ہم تعریف کریں تو صرف اس قدر کر سکتے ہیں کہ وہ اللہ جلّ شانہٗ کی ایک تجلی خاص کا نام ہے جو بذریعہ اس کے مقرب فرشتہ کے ظہور میں آتی ہے اور اس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ تا دعا کے قبول ہونے سے اطلاع دی جائے یا کوئی نئی اور مخفی بات بتائی جائے یا آئندہ کی خبروں پر آگاہی دی جائے یا کسی امر میں خدائے تعالیٰ کی مرضی اور عدم مرضی پر مطلع کیا جائے یا کسی اَور قسم کے واقعات میں یقین اور معرفت کے مرتبہ تک پہنچایا جائے۔بہر حال یہ وحی ایک الٰہی آواز ہے جو معرفت اور اطمینان سے رنگین کرنے کے لئے منجانب اللہ پیرایہ مکالمہ ومخاطبہ میں ظہور پذیر ہوتی ہے اور اس سے بڑھ کر اس کی کیفیت بیان کرنا غیر ممکن ہے کہ وہ صرف الٰہی تحریک اور ربانی نفخ سے بغیر کسی قسم کے فکر اور تدبر اور خوض اور غور اور اپنے نفس کے دخل کے خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک قدرتی ندا ہے جو لذیذ اور پُربرکت الفاظ میں محسوس ہوتی ہے اور اپنے اندر ایک ربانی تجلی اور الٰہی صولت رکھتی ہے۔

( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۳۱ تا ۲۳۳)

جب سماع کے ذریعہ سے کوئی خبر دی جاتی ہے تو اسے وحی کہتے ہیں اور جب رویت کے ذریعہ سے کچھ بتلایا جاوے تو اسے کشف کہتے ہیں۔ اسی طرح میں نے دیکھا ہے کہ بعض وقت ایک ایسا امر ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تعلق صرف قوت شامہ سے ہوتا ہے مگر اس کا نام نہیں رکھ سکتے جیسے یوسفؑ کی نسبت حضرت یعقوبؑ کو خوشبو آئی تھی اِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوْسُفَ لَوْلَآ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ ( يوسف : ۹۵) اور کبھی ایک امرایسا ہوتا ہے کہ جسم اسے محسوس کرتا ہے گویا کہ حواس خمسہ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنی باتیں اظہار کرتا ہے۔

لفوظات جلد ۵ صفحہ ۷۵ و ۷۶، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

مزید پڑھیں: انسان کو چاہیے کہ اپنے معاش کے طریق میں کفایت شعاری مدّنظر رکھے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button