مکتوب شمالی امریکہ (جنوری ۲۰۲۶ء)
براعظم شمالی امریکہ کےچند اہم واقعات و تازہ حالات کا خلاصہ
امریکہ کی وینیزویلا میں مداخلت اور صدر مادورو کی گرفتاری
جنوری ۲۰۲۶ء میں شمالی اور جنوبی امریکہ کی سیاست ایک غیر معمولی موڑ پر پہنچی، جب امریکہ نے وینیزویلا میں براہِ راست عسکری مداخلت کرتے ہوئے صدر Nicolás Maduroکو گرفتار کر لیا اور انہیں امریکہ منتقل کر دیا۔ اس اقدام نے عالمی نظامِ قانون و سفارت کاری کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے۔
یہ کارروائی کئی برسوں پر محیط امریکہ اور وینیزویلا کے ما بین کشیدگی کا نتیجہ تھا۔ امریکہ بہت عرصے سے وینیزویلا پر اقتصادی پابندیاں عائد کیے ہوئے تھا اور صدر مادورو سمیت سربراہانِ حکومت پر منشیات کی اسمگلنگ اور منظّم جرائم کے الزامات عائد کیے جا چکے تھے۔ انہی الزامات کی بنیاد پر امریکہ نے اس کارروائی کو قانون نافذ کرنے کے عمل (law enforcement action) کے طور پر پیش کیا۔
گرفتاری کے بعد صدر مادورو کو نیویارک منتقل کیا گیا، جہاں وہ وفاقی عدالت میں پیش ہوئے اور الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنے آپ کو بے قصور قرار دیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کر دی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک کے برسرِ اقتدار صدر کو اس انداز میں گرفتار کر کے امریکہ میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔
اس واقعہ پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل رہا۔ متعدد ممالک اور قانون کے ماہرین نے اسے ریاستی خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی روح کے منافی قرار دیا، جبکہ بعض حلقوں نے اسے وینیزویلا میں سیاسی تبدیلی کا موقع بھی کہا۔ جنوبی امریکہ میں اس اقدام کو خاص طور پر تشویش کی نگاہ سے دیکھا گیا، کیونکہ یہ اس خطے میں بیرونی مداخلت کی ایک نئی مثال بن گیا۔
امریکہ کی یہ کارروائی محض ایک ملک کی سیاست تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات عالمی سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور طاقت کے استعمال کے اصولوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو گا کہ آیا یہ اقدام خطے میں استحکام لاتا ہے یا مزید بے یقینی اور کشیدگی کو جنم دیتا ہے۔
امریکہ کی گرین لینڈ میں مداخلت
اسی ماہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے بارے میں اپنے متنازعہ موقف کو ایک مرتبہ پھر شدت کے ساتھ عالمی منظرنامے پر رکھ دیا۔ گرین لینڈ، جو ڈنمارک کے تحت ایک خودمختار علاقہ ہے، اپنے جغرافیائی محلِ وقوع اور قدرتی وسائل کے باعث عالمی طاقتوں کی نگاہ میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس پس منظر میں امریکی صدر کے بیانات نے نہ صرف ڈنمارک اور یورپی ممالک میں تشویش پیدا کی بلکہ نیٹو کے اندر بھی کشیدگی کے آثار نمایاں ہوئے۔
گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور آرکٹک خطے میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کی حیثیت محض ایک جغرافیائی خطے کی نہیں رہی، بلکہ یہ اب عالمی سلامتی اور طاقت کے توازن کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
گرین لینڈ میں rare earth elements سمیت متعدد اہم معدنی ذخائر موجود ہیں، جن کی جدید ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور قابلِ تجدید توانائی (renewable energy) کے لحاظ سے غیر معمولی اہمیت ہے۔
علاوہ ازیں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں برف پگھلنے سے آرکٹک کے سمندری راستے زیادہ قابلِ استعمال ہو رہے ہیں، جس نے گرین لینڈ جیسے بڑے جزیرے کے بارے میں بڑے ممالک کی دلچسپی بڑھا دی ہے۔
صدر ٹرمپ کے بیانات پر یورپی راہنماؤں نے کھلے الفاظ میں ردِّعمل دیا اور اسے خودمختاری اور بین الاقوامی اصولوں کے خلاف قرار دیا۔اس کے بعد معاملہ مزید سنگین ہوا جب رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے تناظر میں یورپی ممالک کے خلاف ٹیرف (tariffs) کی دھمکی کا پہلو بھی شامل کیا، جس سے یہ تنازعہ سفارتی سطح سے نکل کر تجارتی اور معاشی دباؤ کی شکل اختیار کرنے لگا۔
یہ ساری کشیدگی اس وقت اپنے عروج پر پہنچی جب عالمی راہنماؤں کی توجہ سوئٹزرلینڈ کے قصبہ Davos میں منعقد ہونے والے World Economic Forum کی طرف تھی۔ اس اجلاس میں دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت، وزرائے اعظم، وزرائے خزانہ، کاروباری راہنما، ماہرینِ معیشت اور دانشور شریک ہوتے ہیں۔ اس کا مقصد عالمی معیشت، سیاست، سلامتی اور مستقبل کے چیلنجز پر تبادلۂ خیال کرنا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہاں کوئی باضابطہ فیصلے یا معاہدے طے نہیں پاتے، تاہم WEF میں ہونے والی تقاریر اور ملاقاتیں عالمی پالیسیوں کے رخ اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔
چنانچہ اس اجلاس میں صدر ٹرمپ کے موقف نے نیٹو کے رکن ممالک کو تشویش میں مبتلا کیا اور یورپی حلقوں میں یہ سوال اٹھا کہ آیا امریکہ یورپ کے ساتھ کس حد تک قابلِ اعتماد رہ سکتا ہے۔
اسی دوران رپورٹس میں یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے صورتِ حال کو ٹھنڈا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور ایک بڑے تصادم کو بڑھنے سے روکنے کے لیے سفارتی تدبّر کا مظاہرہ کیا۔
کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے بھی اس بحران میں واضح اور اصولی موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا گرین لینڈ کے معاملے سے جڑے کسی بھی امریکی ٹیرف یا دباؤ کی پالیسی کی سخت مخالفت کرتا ہے۔
یہ موقف کینیڈا کی خارجہ پالیسی کے مطابق ہے جو عمومی طور پر بین الاقوامی قانون، خودمختاری کے احترام، اور کثیرالجہتی تعاون پر زور دیتی ہے،بالخصوص آرکٹک کے معاملات میں جہاں کینیڈا خود براہِ راست فریق ہے۔
جنوری کے آواخر میں رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے سخت موقف میں کچھ نرمی کی اور ٹیرف دھمکی واپس لینے اور زورِ بازو سے قبضے کے امکان کو رد کرنے کے اشارے دیے، جبکہ ساتھ ہی ایک مبہم سے معاہدہ کی بات بھی کی۔ تاہم اس معاہدے کی تفصیلات واضح نہ تھیں اور ڈنمارک و گرین لینڈ کے حلقوں میں یہ بات شدت سے دہرائی گئی کہ “Nothing about us, without us”—یعنی گرین لینڈ سے متعلق کوئی بھی فیصلہ گرین لینڈ کی شمولیت کے بغیر قبول نہیں۔
یہ معاملہ ختم نہیں ہوا۔ صدر ٹرمپ کے مبہم بیانات اور آرکٹک میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی بتاتی ہے کہ گرین لینڈ اور آرکٹک کی سیاست آنے والے مہینوں میں بھی عالمی بحث کا موضوع بنی رہے گی۔
کینیڈا اور چین کے درمیان الیکٹرک گاڑیوں کا معاہدہ
جنوری ۲۰۲۶ء میں کینیڈا اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات میں ایک نمایاں پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب دونوں ممالک میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے حوالے سے ایک اہم معاہدہ طے ہوا۔ یہ پیش رفت کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی کے دورۂ چین کے دوران عمل میں آئی اور اسے دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تجارتی تعلقات میں نرمی کی ایک کوشش قرار دیا گیا۔
اس معاہدے کے تحت کینیڈا نے محدود تعداد میں چین میں بنائی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں کو کم محصولات (tariffs) کے ساتھ اپنی مارکیٹ میں داخلے کی اجازت دی۔ اس فیصلے کو کینیڈا کی طرف سے ماحولیاتی اہداف (climate goals) کے حصول اور عوام کے لیے کم قیمت الیکٹرک گاڑیوں کی دستیابی میں ایک عملی قدم قرار دیا گیا۔
معاہدے کے بدلے چین نے کینیڈین زرعی مصنوعات خصوصاً کینولا(canola) ، گوشت اور بعض ماہیاتی مصنوعات کے لیے اپنی مارکیٹ تک رسائی میں نرمی پر آمادگی ظاہر کی۔ اس سے کینیڈین کسانوں اور برآمد کنندگان (exporters) کو فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی۔
بعض حلقوں کے نزدیک اس پیش رفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا اپنی خارجہ اور تجارتی پالیسی میں نسبتاً آزاد راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ اس سے پہلے چین کی الیکٹرک گاڑیوں کے معاملے میں وہ زیادہ تر امریکی پالیسیوں کے مطابق چلتا رہا تھا۔ تاہم کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں کینیڈا کی مقامی آٹو انڈسٹری اور سپلائی چین کو دباؤ کا سامنا ہو گا۔
مجموعی طور پر اس معاہدے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا ماحول اور صارفین کے فائدے کو مدِنظر رکھتے ہوئے چین کے ساتھ معاشی تعلقات کو متوازن انداز میں آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
کینیڈا میں TikTok سے متعلق عدالتی فیصلہ
کینیڈا میں ڈیجیٹل پالیسی اور قومی سلامتی سے متعلق ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب کینیڈا کی وفاقی عدالت نے حکومت کے اُس فیصلے کو معطل کر دیا جس کے تحت TikTok کی کینیڈا میں کاروباری سرگرمیوں کو ختم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالتی فیصلے کے بعد TikTok کو فی الحال کینیڈا میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت مل گئی، جبکہ حکومت کو معاملے پر دوبارہ غور کرنے کا کہا گیا۔
TikTok ایک نہایت مقبول چینی سوشل میڈیا ایپ ہے جس کے ذریعے لوگ مختصر ویڈیوز بنا کر اور دیکھ کر ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے ہیں۔ اس ایپ پر عام طور پر ۱۵؍سیکنڈ سے چند منٹ تک کی ویڈیوز شیئر کی جاتی ہیں، جن میں تفریح، تعلیم، تبصرے، ہنر، موسیقی اور روزمرہ زندگی سے متعلق مواد شامل ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ اس عدالت کے اس فیصلے کا پس منظر نومبر۲۰۲۴ء میں کیے گئے حکومتی اقدام سے جڑا ہے، جب حکومتِ کینیڈا نے قومی سلامتی کے جائزے کے بعد TikTok کے کینیڈا میں قائم کاروباری ڈھانچے کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ حکومت کا موقف تھا کہ چونکہ TikTok کی ملکیت چینی کمپنی ByteDance کے پاس ہے، اس لیے ڈیٹا کے تحفظ اور ممکنہ غیر ملکی اثر و نفوذ سے متعلق خدشات موجود ہیں۔ تاہم اُس وقت حکومت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ عام استعمال کرنے والوں کے لیے ایپ تک رسائی بند نہیں کی جا رہی، بلکہ کارروائی صرف کمپنی کے کاروباری وجود تک محدود ہے۔
TikTok نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ اقدام غیر متناسب ہے اور اس سے کینیڈا میں مقامی ملازمتوں، سرمایہ کاری اور لاکھوں صارفین سے وابستہ ڈیجیٹل سرگرمیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ عدالت نے حکومتی حکم کو وقتی طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ متعلقہ وزیر کو واپس بھیج دیا تاکہ ازسرِنو جائزہ لیا جا سکے۔
یہ عدالتی فیصلہ کینیڈا میں ایک بار پھر اس بحث کو نمایاں کرتا ہے کہ قومی سلامتی کے خدشات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بارے میں حکومتی فیصلوں میں کس حد تک توازن رکھا جانا چاہیے۔ حکومت غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے معاملے میں احتیاط برتنا چاہتی ہے، جبکہ عدالت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے فیصلے واضح اور مناسب بنیادوں پر کیے جانے چاہئیں۔
اس فیصلے کے نتیجے میں TikTok کو فوری بندش سے کچھ مہلت مل گئی ہے، تاہم آئندہ مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ حکومت دوبارہ جائزہ مکمل کرنے کے بعد کیا فیصلہ کرتی ہے اور کینیڈا میں غیر ملکی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بارے میں کس سمت پالیسی اختیار کرتی ہے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: دھوپ سینکنے والی تنہائی پسند اور پرسکون سن فِش (Sunfish) – مولا مولا




