چشمِ اژدھا،لونگان: لیچی خاندان کا منفرد اور غذائیت سے بھرپور پھل
لونگان (Longan) لیچی خاندان کا ایک اہم مگر نسبتاً کم معروف پھلدار پودا ہے جس کا نباتاتی نام ڈائی موکارپس لونگان (Dimocarpus longan) ہے۔ یہ پودا سائنڈیسی (Sapindaceae) خاندان سے تعلق رکھتا ہے، جس میں لیچی، رمبوتان اور اکی جیسے پھل شامل ہیں۔

چَشمِ اَژدھا دراصل لونگان (Longan) کا معروف چینی نام ہے۔چینی زبان میں لونگان کو ’’Dragon’s Eye‘‘ کہا جاتا ہے، جس کا اردو ترجمہ چشمِ اژدھا بنتا ہے۔ اس نام کی وجہ یہ ہے کہ جب لونگان کے پھل کو چھیل کر دیکھا جائے تو اس کا گودا شفاف اور سفید ہوتا ہےبیج سیاہ، گول اور چمکدار۔ یہ منظر بالکل ایسے لگتا ہے جیسے کسی اژدھے کی آنکھ ہو۔
لونگان کا آبائی علاقہ میانمار اور جنوبی چین سمجھا جاتا ہے، جہاں یہ صدیوں سے کاشت اور استعمال میں ہے۔ تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ چینی تہذیب میں لونگان کو نہ صرف بطور خوراک بلکہ بطور دوا بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ چین میں اسے “اژدہے کی آنکھ” کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا گودا شفاف اور بیج سیاہ و چمکدار ہوتا ہے۔ اسے اور لیچی کو little brother یعنی چھوٹا بھائی بھی کہا جاتا ہے۔
کمرشل سطح پر آج لونگان چین، تھائی لینڈ، ویت نام اور تائیوان میں بڑے پیمانے پر کاشت کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ پھل غذائیت اور ذائقے کے لحاظ سے نہایت عمدہ ہے، مگر عالمی سطح پر لیچی جیسی شہرت حاصل نہیں کر سکا۔ اِس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لونگان کا ذائقہ زیادہ تر صرف میٹھا ہوتا ہے، جبکہ لیچی میں ہلکی ترشی بھی پائی جاتی ہے جو ذائقے کو مزید دلکش بناتی ہے۔ مزید یہ کہ لیچی کا سرخ رنگ اسے ظاہری طور پر زیادہ پرکشش بناتا ہے، جبکہ لونگان کا چھلکا ہلکا بھورا یا زردی مائل ہوتا ہے۔ قدرتی طور پر پائی جانے والی لونگان کی اقسام کا پھل عموماً چھوٹے سائز کا ہوتا ہے، تاہم تھائی لینڈ میں کاشت کی جانے والی قسم ’لیمائی کرالوکی‘ بڑے اور معیاری پھل کی وجہ سے کمرشل کاشت کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔
لونگان کی افزائش دو طریقوں سے کی جا سکتی ہے: بیج کے ذریعے اور داب (Air Layering) کے ذریعے۔ بیج سے اگائے گئے پودوں کا اگاؤ تو بہت اچھا ہوتا ہے، مگر ایسے پودے پھل دینے میں زیادہ وقت لیتے ہیں، بعض اوقات آٹھ سے دس سال بھی لگ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کمرشل باغبانی کے لیے بیج کے بجائے ہوائی داب کے ذریعے تیار کردہ پودے زیادہ موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ داب کے ذریعے تیار شدہ پودے نسبتاً کم وقت میں پھل دینا شروع کر دیتے ہیں اور ان کی پیداوار بھی یکساں ہوتی ہے۔
مناسب پیداوار کے لیے زرخیز اور پانی کے اچھے نکاس والی زمین کا انتخاب ضروری ہے۔ باقاعدہ آبپاشی، متوازن کھادوں کا استعمال اور بیماریوں و کیڑوں کا بروقت تدارک لونگان کے باغ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں ابھی اس کی کمرشل کاشت محدود ہے، مگر مستقبل میں یہ ایک منافع بخش متبادل فصل بن سکتی ہے، خاص طور پر ان کسانوں کے لیے جو لیچی کے ساتھ نئی فصل آزمانا چاہتے ہیں۔
لونگان نہ صرف ذائقے میں خوشگوار ہے بلکہ غذائیت کے اعتبار سے بھی ایک قیمتی پھل ہے۔ اس میں قدرتی شکر، وٹامن سی، آئرن اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ چینی طب کے مطابق لونگان کا استعمال جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے، خون کی کمی دُور کرنے میں مدد دیتا ہے اور اعصابی کمزوری کو کم کرتا ہے۔ اسے ذہنی دباؤ، تھکاوٹ اور بے چینی کے علاج کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔ بعض روایتی علاج میں لونگان کو خشک کر کے مختلف ادویاتی مرکبات میں شامل کیا جاتا ہے۔
معاشی لحاظ سے اگر پاکستان میں لونگان کی کمرشل کاشت کو فروغ دیا جائے تو یہ نہ صرف مقامی منڈی میں ایک نئی فصل کے طور پر متعارف ہو سکتا ہے بلکہ برآمدات کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر صحت بخش اور منفرد ذائقے والے پھلوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے، اور لونگان اس رجحان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ مناسب تحقیق، معیاری اقسام کے انتخاب اور کسانوں کی تربیت کے ذریعے لونگان کو ایک کامیاب باغبانی فصل بنایا جا سکتا ہے۔
لونگان اگرچہ ابھی لیچی جتنی شہرت حاصل نہیں کر سکا، مگر اس کی غذائی اہمیت، طبی فوائد اور کاشت کے امکانات اسے ایک قابلِ توجہ پھل بناتے ہیں۔ درست منصوبہ بندی اور جدید زرعی طریقوں کے استعمال سے لونگان زرعی منظرنامے میں ایک مثبت اضافہ ثابت ہو سکتا ہے۔ (ابو الفارس محمود)
مزید پڑھیں: دھوپ سینکنے والی تنہائی پسند اور پرسکون سن فِش (Sunfish) – مولا مولا




