ارشادِ نبوی
آنحضورﷺ کے بعد شرک اور مخفی خواہشوں کا انذار
حضرت شدادبن اوسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میں اپنی امّت کے بارے میں شرک اور مخفی خواہشوں سے ڈرتا ہوں۔مَیں نے عرض کیا :یا رسول اللہؐ! کیا آپؐ کی امّت آپؐ کے بعد شرک میں مبتلا ہو جائے گی؟ اِس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہاں! البتہ میری امت شمس وقمر، بتوں اور پتھروں کی عبادت تو نہیں کریں گے۔ مگر اپنے اعمال میں ریا سے کام لیں گے اور مخفی خواہشات میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اگر اُن میں سے کوئی روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے گا پھر اس کو اس کی کوئی خواہش معارض ہو گئی تو وہ روزہ ترک کر کے اُس خواہش میں مبتلا ہو جائے گا۔
(مسند احمد بن حنبل، جلد۴صفحہ۱۲۴۔ مطبوعہ بیروت)
مزید پڑھیں: اللہ کے محبوب بندوں کی اہل آسمان و زمین میں قبولیت




