حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

نماز مومنوں پر موقّت فرض ہے

مَیں نے بعض دفعہ ملاقاتوں میں جائزہ لیاہے کہ نمازوں کی طرف باقاعدگی سے متعلق اگر پوچھو کہ توجہ ہے کہ نہیں تو اکثر یہ جواب ہوتا ہے کہ کوشش کرتے ہیں یا پھر کوئی گول مول سا جواب دے دیتے ہیں۔ حالانکہ نمازوں کے بارے میں تو خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ نماز کو قائم کرو۔ باجماعت ادا کرو۔ اور نماز کوو قت مقررہ پر ادا کرو۔ جیسا کہ فرمایا اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰبًا مَّوْقُوْتًا (النّساء:104) یقیناًنماز مومنوں پر وقت مقررہ کی پابندی کے ساتھ فرض ہے۔ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’مَیں طبعاً اور فطرتاً اس کو پسند کرتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے اور نماز مَوْقُوتَہ کے مسئلہ کو بہت ہی عزیز رکھتا ہوں ‘‘۔ (الحکم جلد نمبر6نمبر42مورخہ 24؍ نومبر1902ء صفحہ1 کالم 2)

ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو وقت مقررہ تو علیحدہ رہا، نمازوں میں اکثر سستی کر جاتے ہیں۔ کیا ایسا کرکے ہم اس حکم پر عمل کر رہے ہیں کہ حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی۔ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ (البقرۃ:239) تو نمازوں کااور خصوصاً درمیانی نماز کا پورا خیال رکھو۔ اور اللہ کے فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔

پس ہر احمدی کو اپنی نمازوں کی حفاظت کی طرف توجہ دینی چاہئے اور انہیں وقت مقررہ پر ادا کرنا چاہئے۔ اگر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں لے کر آنا ہے، اگر توحید کو قائم کرنے کا دعویٰ کرنے والا بننا ہے تو اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے ہوں گے۔ اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کرنی ہو گی، کاموں کے عذر کی وجہ سے دوپہر کی یا ظہر کی نماز اگر آپ چھوڑتے ہیں تو نمازوں کی حفاظت کرنے والے نہیں کہلا سکتے۔ بلکہ خدا کے مقابلے میں اپنے کاموں کو، اپنے کاروباروں کو اپنی حفاظت کرنے والا سمجھتے ہیں۔ اور اگر فجر کی نماز تم نیند کی وجہ سے وقت پر ادا نہیں کر رہے تو یہ دعویٰ غلط ہے کہ ہمارے دلوں میں خدا کا خوف ہے اور ہم اس کے آگے جھکنے والے ہیں۔ اسی طرح کوئی بھی دوسری نماز اگر عادتاً یا کسی جائز عذر کے بغیر وقت پر ادا نہیں ہو رہی تو وہی تمہارے خلاف گواہی دینے والی ہے کہ تمہارا دعویٰ تو یہ ہے کہ ہم خدا کا خوف رکھنے والے ہیں لیکن عمل اس کے برعکس ہے۔ اور جب یہ نمازوں میں بےتوجہگی اسی طرح قائم رہے گی اور نمازوں کی حفاظت کا خیال نہیں رکھا جائے گا تو پھر یہ رونا بھی نہیں رونا چاہئے کہ خداہماری دعائیں نہیں سنتا۔

نمازوں کی حفاظت اور نگرانی ہی اس بات کی ضامن ہو گی کہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو گناہوں اور غلط کاموں سے پاک رکھے۔ ہماری نمازوں میں باقاعدگی یقیناً ہمارے بچوں میں بھی یہ روح پیدا کرے گی کہ ہم نے بھی نمازوں میں باقاعدہ ہونا ہے۔ اس کی اسی طرح حفاظت کرنی ہے جس طرح ہمارے والدین کرتے ہیں۔ اور جب یہ بات ان بچوں کے ذہنوں میں راسخ ہو جائے گی، بیٹھ جائے گی کہ ہم نے نمازوں میں باقاعدگی اختیار کرنی ہے تو پھر والدین کو یہ چیز اس فکر سے بھی آزاد کر دے گی کہ اس مغربی معاشرے میں جہاں ہزار قسم کے کھلے گند اور برائیاں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، ہر وقت والدین کو یہ فکررہتی ہے کہ ان کے بچے اس گند میں کہیں گر نہ جائیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۴؍ جون۲۰۰۵ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۸؍جولائی۲۰۰۵ء)

مزید پڑھیں: خدا پر افتراء کرنے والا اُس کی پکڑ میں آ ئے گا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button