اللہ تعالیٰ پاکیزہ اذکار کی برکت سےشفا عطا فرماتا ہے
سوال: لاعلاج مریضوں پر پڑھ کر دم کرنے والی ایک دعا’’یا من اسمہ دوا و ذکرہ شفاء‘‘ہے اس دعا کا حوالہ اور اس کی حقیقت کیا ہے؟
جواب:میرے علم میں تو ایسی کوئی دعا نہیں ہے جو آپ نے اپنے خط میں تحریر کی ہے۔ البتہ احادیث میں یہ ذکر ملتا ہے کہ حضورﷺ خود بھی اور صحابہ رسولﷺ سورت فاتحہ،معوذتین(یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) اور بعض اَور دعاؤں کے ذریعہ بخار، مختلف بیماریوں اور سانپ اور بچھو وغیرہ کے کاٹنے پر دم کر لیا کرتے تھے۔
چنانچہ احادیث میں یہ واقعہ آتا ہے کہ صحابہؓ کی ایک جماعت کسی سفر پر روانہ ہوئی اور یہ لوگ ایک قبیلہ کے پاس آکر ٹھہرے اور ان سے کچھ کھانے کے لیے طلب کیا لیکن قبیلہ والوں نے ان کی مہمان نوازی سے انکار کردیا۔ پھر اس قبیلہ کے سردار کو سانپ یا بچھو نے کاٹ لیا اور قبیلہ والوں نے اس کے علاج کی پوری کوشش کی لیکن سردار کو کوئی افاقہ نہ ہوا۔ کسی نے مشورہ دیا کہ جو باہر سے لوگ ہمارے پاس آکر ٹھہرے ہیں ان سے بھی پوچھا جائے، شاید ان میں سے کسی کے پاس کوئی دوا ہو۔ صحابہؓ سے پوچھنے پر ایک صحابی نے کہا کہ ہاں میں ایک دم جانتا ہوں لیکن چونکہ تم لوگوں نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی، اس لیے اب میں تمہارے سردار پر دم نہیں کروں گا۔چنانچہ اس قبیلہ والوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ صحابہ کو دینے کا وعدہ کیا، جس پر اس صحابی نے سورت فاتحہ پڑھ کر قبیلہ کے سردار پر دم کیا تو وہ سورۃ الفاتحہ کی برکت سے ٹھیک ہو کر اس طرح چلنے پھرنے لگا کہ گویا اس کو کسی چیز نے کاٹا ہی نہ ہو۔صحابہ نے قبیلہ والوں سے بکریاں لے لیں۔ ایک شخص نے کہا کہ ان بکریوں کو آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں، لیکن جس صحابی نے دم کیا تھا انہوں نے مشورہ دیا کہ جب تک ہم حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ بیان نہ کرلیں اور معلوم نہ کرلیں کہ حضوؐر ہمیں کیا حکم دیتے ہیں، اس وقت تک ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ پھر یہ لوگ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیا تو حضورﷺ نے فرمایا تمہیں کس طرح علم ہوا کہ سورت فاتحہ دم کرنے والی سورت ہے۔ تم نے بالکل ٹھیک کیا ہے، ان بکریوں کو آپس میں تقسیم کرلو اور میرا بھی ایک حصہ مقرر کرو۔ اور یہ فرما کر حضورﷺ مسکرا دیے۔(بخاری کتاب الطب بَاب النَّفْثِ فِي الرُّقْيَةِ)
…اسی طرح احادیث سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ حضورﷺ دم کرتے وقت پھونک بھی مارا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الطب بَاب النَّفْثِ فِي الرُّقْيَةِ)
پس آنحضورﷺ ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے صحابہ کرام علیہم السلام سے دم کرنا ثابت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے، ان قرآنی سورتوں اور ان پاکیزہ اذکار کی برکت اور بزرگوں کی دعا کے نتیجہ میں مریض کو شفا عطا فرما دیتا ہے۔ (بنیادی مسائل کے جوابات قسط ۵۵، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۰ مئی ۲۰۲۳ء)
مزید پڑھیں: غلبۂ احمدیت کے بعد سیاست کی فضا کیسی ہوگی؟




