اللہ تعالیٰ کے سوا اَور کو معبود و کارساز جاننا ایک ناقابلِ عفو گناہ ہے
شرک تین قسم کا ہے اوّل یہ کہ عام طور پر بُت پرستی، درخت پرستی وغیرہ کی جاوےیہ سب سے عام اور موٹی قسم کا شرک ہے۔ دوسری قسم شرک کی یہ ہے کہ اسباب پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا جاوے کہ فلاں کام نہ ہوتا تو میں ہلاک ہوجاتا یہ بھی شرک ہے ۔تیسری قسم شرک کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود کے سامنے اپنے وجود کو بھی کوئی شے سمجھا جاوے۔موٹے شرک میں تو آج کل اس روشنی اور عقل کے زمانہ میں کوئی گرفتار نہیں ہوتا۔ البتہ اس مادی ترقی کے زمانہ میں شرک فی الاسباب بہت بڑھ گیا ہے۔
(ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۸۶، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
اللہ تعالیٰ کے سوا اور کو معبود و کارساز جاننا ایک ناقابلِ عفو گناہ ہے۔ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ۔ (لقمان: ۱۴) لَا يَغْفِرُ أَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ۔(النساء: ۴۹) یہاں شرک سے یہی مراد نہیں کہ پتھروں وغیرہ کی پرستش کی جاوے بلکہ یہ ایک شرک ہے کہ اسباب کی پرستش کی جاوے اور محبوباتِ دنیا پر زور دیا جاوے اسی کا نام ہی شرک ہےاور معاصی کی مثال تو حقہ کی سی ہے کہ اس کے چھوڑ دینے سے کوئی دقت ومشکل کی بات نظر نہیں آتی مگر شرک کی مثال افیم کی ہے کہ وہ عادت ہو جاتی ہے جس کا چھوڑ نا محال ہے۔
(ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۱۷۴، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
یاد رکھو شرک کی کئی قسمیں ہوتی ہیں ان میں سے ایک شرک جلی کہلاتا ہے دوسرا شرک خفی۔شرک جلی کی مثال تو عام طور پر یہی ہے جیسے یہ بُت پرست لوگ بتوں، درختوں یا اور اشیاء کو معبود سمجھتے ہیں۔ اور شرک خفی یہ ہے کہ انسان کسی شے کی تعظیم اسی طرح کرے جس طرح اللہ تعالیٰ کی کرتا ہے یا کرنی چاہیے یا کسی شے سے اللہ تعالیٰ کی طرح محبت کرے۔ یا اس سے خوف کرے یا اس پر توکل کرے۔
(ملفوظات جلد ۷ صفحہ ۳۲۴، ۳۲۵، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
مزید پڑھیں: دَم میں …تقاضائے محبت کا بھی دخل ہے




