سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

حضرت فضل دین صاحبؓ ولد محمد بخش صاحب

’’ہماری برادری میں سے مولوی محمد چراغ صاحب جو ہمارے اُستاد بھی تھے اور وہ پکے اہل حدیث تھے۔جب میں ملازمت چھوڑ کر واپس گھر چلاآیا تو ان کو میں نے احمدی طریقہ پر پایا اور میرے ساتھ حضرت صاحب کے سلسلہ کی گفتگو شروع کردی لیکن میں نے کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی۔کیونکہ میں فقیروں کا معتقدتھا اورجانتا تھاکہ فقیر ہی اصل شریعت کے مالک ہیں۔اس واسطے میں نے مولوی صاحب کوکوئی جواب نہ دیااور یہ کہہ کرٹال دیاکہ ہاں آج کل ایسے لوگوں نے دوکانداریاں بنا رکھی ہیں اور خلقِ خدا کو دھوکہ دیتے ہیں۔لہٰذا میں نے ارادہ کیاکہ اپنے مُرشد سے تحقیقات کراؤں کہ کیا یہ دعویٰ حضرت صاحب کا من جانب اللہ ہے یا دھوکہ ہے۔جب میں اُن کے مکان پر گیا اور پیر صاحب کے لڑکے سے دریافت کیاکہ حضرت کہاں ہیں؟ تو اُس نے روکر جواب دیاکہ حضرت صاحب دو ماہ سے فوت ہوگئے ہیں اور ہم آپ کو اُن کی فوتیدگی کی اطلاع دینی بھول گئے۔معاف فرمائیں۔مجھے بڑا رنج اور صدمہ ہوا اور میں بادلِ گریاں گھر کو چلاآیا۔ایک دن پھر مولوی صاحب نے مجھ سے کہاکہ تم خواندہ آدمی ہو۔ حضرت صاحب کی تصنیفات دیکھنی چاہئے۔اُنہوں نے اُسی وقت مجھ کو ایک کتاب جس کا اِسم شریف جلسہ مذاہب مہوتسو ہے پڑھنے کودیا۔وہ میں نے سارا ختم کیااور پھر اُنہوں نے مجھ کو براہین احمدیہ ہرچہارجلد دیں۔جب میں نے ساری ختم کرلی تو معاً میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی ایسا لائق شخص ہوا ہے اور نہ کسی نے آپؐ کے بعد ایسی کتاب شائع کی ہے جو تمام غیر مذاہب کو اسلام کی حقانیت پر دعوت دے۔اِس کے بعد میرا دل تذبذب میں پڑ گیا۔دل میں یہ بات پیدا ہوگئی کہ اگر یہ شخص جس نے ایسی دُنیا کے سامنے پیش کی ہے سچا ہے تو اگر میں نے بیعت کرلی تو سچے کی بیعت کی اور اگر خدانخواستہ اگر اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہوا توایک کاذب کی بیعت میں داخل ہوں گا۔لہٰذا یہ خیال ایسا پکا دل میں گڑگیاکہ دو ماہ تک اسی پر اڑا رہا۔مولوی صاحب مجھ کو ہر چند سمجھاویں لیکن دل نہ مانے۔ایک دن ماہ رمضان المبارک پہلی تاریخ کو میں نے خداتعالیٰ سے بخشوع وخضوع یہ دُعا کی کہ اے زمین وآسمان کے پیدا کرنے والےبواسطہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ شخص یعنی مرزا صاحب اگر سچا ہے اور تُو نے ہی مأمور کرکے دنیا کی اصلاح کے لئے نازل فرمایا ہے تو تُو اپنی ستاری سے مجھ کو کوئی نشان ظاہری یا کسی خواب کے ذریعہ دکھادے۔اگر مجھ کو کوئی نشان نہ دکھایا گیاتو پھر مجھ پر قیامت کے دن تیری کوئی حجت نہ رہے گی۔کیونکہ مجھ میں اتنی قوت نہیں کہ سچّے اور جھوٹے میں امتیاز کرسکوں اور بس۔ جب پندرہ رمضان گزرے تو بعد تہجد میں جائے نماز پر لیٹ گیا تو خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ میں اور میرے ساتھ ایک اور آدمی کسی شہر کو چلے ہیں۔راستہ میں ہم کو ایک باغ نظر آیا جو چاردیواری اس کی قریباً تین فٹ اونچی ہے۔اس دیوار کے پاس جاکر کیا دیکھتے ہیں کہ باغ گویا بہشت کا نمونہ ہے اور نہریں جاری ہیں لیکن پانی خشک تھوڑا تھوڑا چلتا نظر آرہا ہے اور عالی شان محل دکھائی دیئے۔ہم نے ارادہ کیا کہ باغ کے اندر جا کے سیر کریں۔لہٰذا ہم دونوں چاردیواری پھاند کر اندر جانا چاہتے تھے لیکن ہم نے بہت زور کیالیکن چاردیواری کو پھاند کر اندر نہ پہنچے۔ پھر ہم نے پختہ ارادہ کرلیاکہ ضرور اندر جانا ہے۔چلو اب اس کا دروازہ معلوم کریں۔پھر ہم تین طرف باغ کے پھرے۔یعنی جنوب ومغرب وشمال اور ان تینوں طرفوں سے ہم کو کوئی دروازہ نہ ملا۔ پھر ہم نے کہاکہ چلو مشرق کی طرف چلیں۔شاید اُس طرف سے ہم کو دروازہ مل جائے۔جب باغ کے مشرقی جانب روانہ ہوئے تو ہم کو ایک بزرگ ایک درخت کے سایہ میں بیٹھا نظر آیا اور وہ بزرگ اپنے ہاتھ کے اِشارہ سے ہم کو پکار رہا ہے کہ ادھر آؤ ہم تم کو اس کا دروازہ بتلادیں اور اگر ہماری طرف نہ آؤ گے تو تم کو تمام عمر دروازہ باغ کا نہ ملے گا۔جب ہم اس بزرگ کے پاس پہنچے تو معاً مجھ کو وہ خواب جو عرصہ سے امرتسر آئی تھی خواب میں ہی یاد آگئی اور میں نے دل میں کہا کہ اس بزرگ کو میں نے تخت پر رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خواب میں دیکھا تھا۔چنانچہ میں نے پوچھا کہ حضرت آپ کون بزرگ ہیں تو آپ نے اپنی زبان مبارک سے یہ فرمایاکہ میں ابن مریمؑ ہوں اور وہ دیکھو باغ کا دروازہ ہے۔جاؤسیر کرو۔چنانچہ ہم دونوں باغ کے اندر چلے گئے اور خوب سیر کی۔اتفاقاً مجھ کو پیاس لگی اور میں نے اپنے ساتھی کو کہاکہ ہم کو پیاس لگی ہے اور پانی نہروں کا بہت ہی نیچے ہے ہاتھ نہیں پہنچتا کیا کریں۔ہم ماندہ ہو کر ایک درخت تلے بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر کے بعد ایک لڑکا کو ئی دس بارہ سال کی عمر کا ایک محل سے برآمد ہوااور اُس کے ہاتھ میں ایک پیالہ بشکل بیضوی اور اس میں کوئی چیز ہے میرے ہاتھ پر لا کر رکھ دیااور کہا کہ لو تم اس کو پی لو۔چنانچہ مجھ کو پیاس توتھی۔میں نے اس سے پیالہ لے کر کوئی نصف کے قریب پی گیااور باقی ماندہ اپنے ساتھی کو دیا۔اس لڑکے نے اس کے ہاتھ سے پیالہ چھین کر مجھ کو دے دیااور کہاکہ یہ تمہارا حصہ ہے۔اس کا اس میں حصہ نہیں۔چنانچہ اس بات سے میرا ساتھی شرمندہ سا ہو کر کہنے لگاکہ چلو بہت دیر ہوگئی ہے ہم نے ابھی دُور جانا ہے۔پس ہم جلدی دروازہ کی طرف آئے۔ میرا ساتھی جلدی سے دروازے کے باہر چلا گیا اور میں ابھی اندر ہی تھا کہ ہمارے مولوی صاحب کا لڑکا آیااور مجھ کو جگا کرکہنے لگاکہ کیا باعث ہے آپ تہجد کے بعد منزل قرآن شریف کے پڑھنے سے آج سو گئے۔میں نے اس کو خفا ہوکر کہا۔کہ میں ایک عمدہ خواب دیکھ رہا تھا۔تم نے بُرا کیا جو جگا دیا۔اس نے جواب دیا۔ بندے خدا صبح کی اذان ہوگئی ہے اور مولوی صاحب مسجد میں جماعت کا انتظار کررہے ہوں گے۔چلو نماز پڑھیں۔لہٰذا ہم دونوں مسجد کو چلے گئے اور وضو کرکے مولوی صاحب کے ساتھ نماز باجماعت پڑھی۔ بعد فراغت فریضۂ  نماز کے میں نے تمام حالات خواب کے اور جس طرح سے خدا تعالیٰ سے دعا مانگی تھی اور جس طرح سے خدا نے مجھ کو خواب میں تمام حالات بتائے سب میں نے مولوی صاحب سے بیان کردیئے اور یہ بھی میں بیان کردیتا ہوں کہ ان دونوں خوابوں کے سوائے میں نے حضرت مرزا صاحب کو اپنی پہلی تمام عمر میں کبھی نہ دیکھا تھا اور نہ ہی میں نے قادیان شریف کو۔ لہٰذاس خواب کے بیان کرنے سے مولوی صاحب نے تعبیر میں یہ فرمایا کہ جو آپ نے باغ اور خشک نہریں اور محل وغیرہ دیکھے ہیں۔اس سے مراد باغِ شریعت ہے اور نہریں علمائے زمانہ ہیں جو خشک ہیں۔اصل شریعت ان کے پاس نہیں ہے اور محل ومکان یہ عمل ہیں اور پیالہ سے مراد بھی عمل ہیں جن میں کچھ قصُور ہیں جو بیضوی ہیں یعنی سیدھے نہیں ہیں اور خواب میں جو مشرق کی طرف اشارہ ہے۔وہ یہ ہے کہ ہمارے گاؤں سے قادیان خاص مشرق میں ہے اور خواہ حدیث مشرق والی سمجھ لیجئے اور وہ بزرگ جس کا آپ نے حلیہ بیان کیا ہے۔وہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود مہدی مسعودؑ ہیں اور ہاتھ کے اشارے سے یہ پتہ ہے کہ جب تک ہمارے سلسلہ میں داخل نہ ہوگے تب تک شریعت اسلام اور بہشت کے دروازے کا آپ کو راستہ نہ ملے گا۔آپ نے جو نشان مانگا تھا۔یہ نشان خداوندکریم نے آپ کو دکھادیا ہے۔اچھا ہم نے اس جمعہ کو قادیان جانا ہے۔آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں۔اگر آپ کی خواب کے مطابق وہ بزرگ حضرت صاحب ہوئے تو مان لینا ورنہ جبر نہیں ہے۔ الغرض ہم بروز جمعرات قادیان کی طرف روانہ ہوگئے۔جس وقت ہم قادیان میں پہنچے مجھ کو سخت بخار ہوگیااور مولوی صاحب نے حضرت صاحب سے عرض کیا۔ہمارا لڑکا جو حق کی جستجو میں یہاں آیا ہے وہ روزے کے ساتھ تھا اس کو بخار ہوگیا۔حضرت صاحب نے مجھ کو دیکھااور فرمایا۔مولوی صاحب آپ نے اس کو روزے کے ساتھ سفر کیوں کرنے دیا۔اگر راستے میں بخار یا اور کوئی مرض ہوجاتی تو آپ کیا کرتے۔یہ قرآن کریم کی منشاء کے خلاف ہے ۔خیرہم دوائی بھیج دیتے ہیں انشاء اللہ آرام ہوجائے گا۔دوائی آگئی۔معلوم نہیں کہ شاید حامد علی صاحب لے کر آئے۔ دوائی میں نے پی لی اور مجھ کو بخار سے بالکل آرام ہوگیا۔اِس وقت میں نے بُخار کی بے ہوشی میں حضرت صاحب کو اچھی طرح سے نہ پہچانا تھا۔اگلے روز جمعہ تھا۔ہم وضو کرکے جلدی سے واسطے جگہ کے پہلے ہی چلے گئے اور اوّل صف میں جگہ مل گئی۔اوّل مولوی عبدالکریم صاحبؓ اور بعدہٗ مولوی صاحب خلیفہ اوّل تشریف لائے اور ان کے بعد حضرت مرزا صاحب تشریف فرما ہوئے اور میں نے دیکھتے ہی آپ کو پہچان لیاکہ یہی میری خواب والا بزرگ ہے اور میں نے اپنے مولوی صاحب کو بھی کہہ دیاکہ یہی بزرگ ابن مریم ہیں جو دودفعہ خواب میں دیکھے ہیں۔اب مولوی صاحب کی تسلی ہوگئی اور اُنہوں نے سمجھاکہ یہ اب خودہی بیعت کر لے گا۔ہاں جس وقت ہم قادیان کو چلے تھے اس وقت ہم چار آدمی تھے۔ایک ہم اور دُوسرے مولوی صاحب تیسرے وہی جو خواب میں ہمارے ساتھ تھا۔چوتھا ایک شخص کمہار تھا جو بغرض بیعت آیا تھا۔ الغرض خطبہ مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے پڑھااور اغلب ہے کہ جمعہ بھی انہوں نے پڑھایا۔لہٰذا بعد نماز جمعہ آوازہ ہواکہ جس نے بیعت کرنی ہے وہ آکر بیعت کرلیں۔چنانچہ بہت سے لوگ اُس دن بیعت کے لئے آگے ہوئے۔جن میں سے ہمارا ساتھی وہ چوتھا کمہار بھی تھا۔جس وقت ہم بھی بیعت کرنے کے واسطے چلے تو ہمارے ساتھی نے جو خواب میں بھی ہمارے ساتھ تھا بیعت کرنے سے مجھ کو روکا اور یہ وسوسہ ڈال دیاکہ تم مرزا صاحب کی کتابیں دیکھتے رہے ہو۔چونکہ وہی خیالات مجسم ہوکر تم کو خواب میں نظر آئے ہیں اور کچھ نہیں۔یہ سب کچھ دھوکہ ہے اور میں دماغ کاکمزور تھا اس واسطے اس نے مجھ کو بیعت کرنے سے روکا۔لہٰذا اگلے روز علیٰ الصباح ہی ہم چہار آدمی قادیان سے اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوگئے۔جس وقت ہم لوگ بٹالہ سے آگے جو سڑک علیوال کو جاتی ہے اس پرایک گاؤں مولے وال کے برابر پہنچے تو پھر مولوی صاحب نے مجھ سے پوچھاکہ تم نے بیعت کرلی ہے تو میں نے جواب دیا۔ نہیں۔ اُنہوں نے کہا۔کیوں نہیں کی۔ جب تم کو تمہاری خواب کے مطابق سب کچھ پورا ہوگیا پھر تم نے بیعت کیوں نہ کی۔میں نے جواب میں کہا کہ اس شخص نے مجھ کو روک دیا ہے اور کہا کہ تم کتابیں مرزاصاحب کی دیکھتے رہے ہو وہی خیالات مجسم ہو کرتمہارے روبرو خواب میں آگئے ہیں۔بس اور کچھ نہیں۔پس یہ سنتے ہی مولوی صاحب ہم سے اور اس شخص سے جو ان کا چچا زاد بھائی تھا سخت ناراض ہوگئے اور مجھ سے کہنے لگے۔بس اب ہمارا تمہارا کوئی تعلق اُستادی شاگردی یا رشتہ داری کا نہیں رہا۔لہٰذا ہم عصر کی نماز کے وقت اپنے گاؤں میں پہنچے۔ اس کے بعد میں چار پانچ دن گاؤں میں رہالیکن مولوی صاحب ہم سے ناراض ہی رہے۔اتفاقاً موضع بھانبری سے مجھ کو بابوجان محمد کا خط آیا کہ میں تبدیل ہوکر کوٹھی نہر ہرچووال میں آگیا ہوں اور میرے پاس کام بہت ہے اور میں نے سُنا ہے کہ آپ نوکری چھوڑ کر آگئے ہیں۔لہٰذا خط دیکھتے ہی موضع بھانبری یا کوٹھی ہرچو وال میں ضروربالضرور آجاؤ۔خیر میرا بھی دل اُداس تھا۔میں خط کے اگلے دن بمقام کوٹھی ہرچو وال براستہ قادیان پہنچ گیااور بابو صاحب بخندہ پیشانی خاطر تواضع سے پیش آئے۔اگلے روز میرے سپرد کا م کیا گیااور میں مصروف ہوگیا۔جب تیسرا دن ہوا تو مجھ کو پھر تیسرا خواب آیااور وہ یہ تھاکہ خواب میں حضرت مرزا صاحب مسیح موعود علیہ السلام میرے پاس آکر بیٹھ گئے اور میں اٹھ کر واسطے تعظیم کے جو گدی نشینوں میں دستور ہے پاؤں چُومنے کے لئے اپنے سر کو جُھکایالیکن حضرت صاحب نے مجھ کو اپنے دست مبارک سے روک دیااور فرمایا یہ شرک ہے اور پھر آپ نے فرمایا کہ دیکھو میاں فضل دین تم نے خدا سے بذریعہ دعا نشان مانگا تھا کہ اگر مجھ کو ظاہری یا خواب کے ذریعہ سے نشان نہ دیا گیاتو قیامت کو مجھ پر خداوندا تیری حجت نہیں ہوگی کہ تم نے مسیح موعودؑ کو کیوں نہیں مانا۔پس اب تم کو نشان مل گیااور تم پر حجت قائم ہوگئی۔اتنی ہی بات کہہ کر آپ چل دیئے اور میں خواب سے بیدارہوکر رونے لگا اور اتنا رویا کہ آنسوؤں سے میرا گریبان تربتر ہوگیااور اسی وقت میں بغیر اطلاع بابو صاحب قادیان کو برہنہ پا اٹھ بھاگا۔ ایک شخص جو مجھ کو بھاگتا دیکھ رہا تھا اُس نے بابو صاحب کو جاکر کہہ دیاکہ مستری صاحب اپنے گاؤں کو بھاگا جاتا ہے۔اسی وقت بابو صاحب گھوڑی پر سوار ہوکر میرے پیچھے بھاگے اور مجھ کو ہرچووال نہر کے پل پر پکڑ لیا اور کہنے لگے کہ آپ کوکیا ہوگیاکہ بغیر اجازت اپنے گاؤں کو بھاگے جارہے ہو۔خیر ہے۔میں نے کہاکہ مجھ کو چھوڑدو۔میں قادیان جا رہا ہوں۔گاؤں کو نہیں۔بس قادیان کا نام سن کر وہ آگ بگولا ہوگیا کیونکہ وہ بھی مخالف تھا اور اب تک بھی مخالف ہی ہے۔غرض وہ چھوڑتا نہیں تھا اور میں اصرار کررہا تھا اور میں نے عاجزی سے کہا۔بابو صاحب مجھ کو جانے دو ورنہ میں یہاں ہی دم دے دوں گا کیونکہ یہ میرے بس کی بات نہیں۔ایک زور آور ہستی مجھ کو جبراً لے جارہی ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ تیسرے دن کے بعد حاضر خدمت ہوجاؤں گا۔خیر اُس نے مجھ کو چھوڑ دیا اور میں دل میں کہتا تھا کہ مرزا صاحب سچے ہیں۔کیونکہ میرے دل کی بات انہوں نے بتادی کہ تم پر حجت قائم ہوگئی۔پس میں قادیان میں آگیا اور اب جہاں بک ڈپو کا دفتر ہے اس کے پیچھے پریس ہوتاتھا۔کنویں کے پاس یعنی چاہ کے پاس وہاں مرزا اسماعیل پریس میں کام کرتا تھا۔اس سے کہاکہ میں نے مرزا صاحب کو ملنا ہے۔ اُس نے کہاکہ نماز ظہر کے وقت مسجد مبارک میں آپ تشریف لاتے ہیں وہاں پرآپ ملاقات کریں۔ اس دن آپ ظہر کے وقت تشریف نہ لائے اور مغرب کے وقت آپ تشریف فرما ہوئے اور میں دیدار سے مشرف ہوااور عرض کی۔حضور میں نے بیعت کرنی ہے۔حضور نے فرمایاکہ تیسرے دن کے بعد بیعت لی جائے گی۔القصہ میں تین دن تک رہااور تیسرے دن میں نے اور میر قاسم علی ایڈیٹر فاروق اور تیسرا اور آدمی تھا جس کا مجھے نام معلوم نہیں۔شاید مولوی سرور شاہ ہوں گے تینوں نے بیعت کی اور سلسلہ عالیہ میں داخل ہوئے۔الحمدللہ ۔یہ میرا واقع ہے جو خداتعالیٰ نے جبراً مجھے سلسلہ عالیہ میں داخل کیااور پھر مجھ گنہگار پر اتنا فضل رَبّی ہواکہ اوّل اینٹ یعنی بنیادی پتھر حضرت صاحب نے عاجز کے ہاتھ سے لگوائے۔جس کا مجھ کو تمام معماروں پر فوق حاصل ہے اور تواریخ احمدیہ میں قیامت تک میرا نام باقی رہے گا۔پس با اجازت حضرت صاحب چوتھے روز میں اپنے کام پر چلاگیا۔‘‘ (رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلد۷صفحہ۱۷تا ۲۲روایت حضرت فضل دین صاحبؓ )

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: حضرت مصلح موعودؓ اور تربیت اولاد کے چند بنیادی اصول

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button