نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۴؍جنوری ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم چودھری نصیر احمد صاحب (آف گھٹیالیاں خورد۔ حال لندن۔ یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور سات مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرم چودھری نصیر احمد صاحب (آف گھٹیالیاں خورد۔ حال لندن۔ یوکے)

۲۲؍جنوری۲۰۲۶ء کو ۹۵ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے والد حضرت چودھری غلام محمد صاحب رضی اللہ عنہ اور دادا حضرت چودھری ہدایت اللہ صاحب رضی اللہ عنہ دونوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔ مرحوم بہت سادہ مزاج مخلص اور خدا ترس انسان تھے۔ خلافت کے ساتھ گہرا فدائیت کا تعلق تھا۔ اکتوبر ۲۰۰۰ء میں مرحوم گھٹیالیاں مسجد میں حملہ کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے جبکہ اس دہشت گرد حملے میں آپ کے کچھ عزیز واقارب شہید ہوئے تھے۔ اس کے بعد آپ یو کے آگئے۔ جب تک صحت رہی باقاعدگی کے ساتھ مسجد فضل میں جاکر نمازیں ادا کرتے رہے اور وہاں مہمانوں کی ضیافت کی ڈیوٹی بھی دیتے رہے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے بیٹے مکرم کلیم اللہ انجم صاحب( واقف زندگی) عملہ حفاظت خاص میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم فرید احمد امروہی صاحب ( واقف زندگی۔ ریٹائرڈ معلم سلسلہ وقف جدید۔قادیان )

۸؍نومبر ۲۰۲۵ءکو ۸۶ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم ۱۹۶۸ء میں امر وہہ صوبہ اتر پردیش سے قادیان شفٹ ہوئے تھے۔ مرحوم معلم سلسلہ تھے اور متعدد دیہاتی جماعتوں میں خدمت کا موقع ملا۔ بعد ازاں دفتر وقف جدید میں لمبا عرصہ بطورکارکن متعین رہے۔ محنتی ہونے کی وجہ سے کئی سال ری ایمپلائی بھی ہوتے رہے۔بطور انسپکٹر مجلس انصار اللہ بھارت کئی سال ہندوستان کی مجالس کے مالی دورے بھی کرتے رہے۔ خلافت سے گہرااخلاص ووفا کا تعلق تھا۔ مرحوم خوش اخلاق، کم گو، منکسر المزاج اور سادگی پسند انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔

۲۔مکرم اے پی وائی عبد القادر صاحب (آف جماعت میلا پالیم صوبہ تامل ناڈو۔انڈیا)

۱۱؍نومبر ۲۰۲۵ء کو ۷۹ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم ۱۹۷۴ء میں از خود بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے تھے۔ مرحوم ایک فدائی احمدی تھے، جماعت اور خلافت کے ساتھ مخلصانہ، مضبوط اور گہرا تعلق تھا۔بڑے خوش خلق،متواضع، منکسر المزاج، مہمان نواز اور غریب پرور انسان تھے۔ نماز تہجد اور دیگر عبادات کی طرف مرحوم کی بہت توجہ تھی۔ تلاوت قرآن مجید باقاعدگی سے کیا کرتے تھے۔ جماعتی جلسوں اور اجلاسات میں باقاعدگی سے شامل ہوتے۔ چندہ جات کی ادائیگی میں بھی بڑے باقاعدہ تھے۔آپ نے صدر جماعت میلا پالیم، امیر جماعت میلا پالیم،صوبائی امیر تامل ناڈو، زونل امیر ساؤتھ زون تامل ناڈو اورضلعی امیر تر ونلویلی کنیا کماری کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ پسماندگان میں چار بیٹے شامل ہیں۔آپ کے چھوٹے بیٹے مکرم اے پی اے طارق احمد صاحب مربی سلسلہ، نظارت نشر و اشاعت قادیان میں بطور انچارج تامل ڈیسک خدمت کی توفیق پار ہے ہیں۔

۳۔مکرمہ بشریٰ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم فضل احمد صاحب پیرکوٹی مرحوم (ربوہ )

۱۹؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو۸۵ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت میاں نور محمد صاحب رضی اللہ عنہ موضع پیر کوٹ ثانی ضلع حافظ آباد کی بیٹی اور مکرم سیٹھ محمد عبد اللہ صاحب پیر کوٹی مرحوم کی بہو تھیں۔ مرحومہ نماز اور روزہ کی پابند،بڑی خوش اخلاق ملنسار دعا گو بزرگ خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں تین بیٹےاور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ مرحومہ کے بڑے بیٹے مکرم ڈاکٹر مبشر احمد صاحب بطور سیکرٹری مال سنٹرل جرسی امریکہ خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔آپ مکرم ابتسام احمد مرزا صاحب(مربی سلسلہ جماعت Neuss۔جرمنی) کی نانی تھیں۔

۴۔مکرمہ نادرہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم ظاہر احمد خان صاحب شہید(کینیڈا)

۱۷؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو ۷۸ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ مکرم ظاہر احمد خان صاحب شہید کی بیوہ تھیں جنہوں نے ۱۹۸۰ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے قافلہ کے ساتھ لاہور سے ربوہ آتے ہوئے دیگر دو خدام کے ساتھ کار کے حادثہ میں جام شہادت نوش فرمایا۔ مرحومہ نے ساری زندگی بیوگی کی حالت میں صبر و شکر کے ساتھ گزاری۔ اپنی پوری توجہ استقامت کے ساتھ بچوں کی تربیت اور انہیں جماعت سے جُڑے رہنے پر مرکوز رکھی۔ میرپور ماتھیلو سندھ کی ایک فرٹلائزر کمپنی میں بطور اُستانی کام کرتی رہیں اور اِس دوران انہیں مختلف جماعتی عہدوں پر کام کرنے کی سعادت بھی ملتی رہی۔ لمبے عرصے تک صدر لجنہ سکھر کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔

۵۔مکرمہ راشدہ منیر صاحبہ اہلیہ مکرم منیر احمد عابد صاحب مرحوم (آسٹریلیا)

۷؍اکتوبر ۲۰۲۵ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ آسٹریلیا میں آباد ہونے والے پہلے احمدیوں میں سے تھیں۔ آپ نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر بہت سے لوگوں کے آسٹریلیا میں آباد ہونے میں معاونت کی اور بعض اوقات اپنے گھر میں بھی ان کے لیے جگہ فراہم کی۔مرحومہ دوسروں کی مدد کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی تھیں۔ آپ ہر کسی کے کام آنے والی ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ۲ بیٹے شامل ہیں۔

۶۔مکرمہ بشریٰ نزہت صاحبہ (آف Bergisch Gladbach۔جرمنی)

یکم ستمبر ۲۰۲۵ء کو ۷۸ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ کا نظام جماعت اور خلافت کے ساتھ بڑا گہراتعلق تھا۔ اپنی اولاد اور پوتوں پوتیوں کو بھی ہمیشہ جماعت کی اطاعت اور خلیفہ وقت سے محبت کا درس دیا کرتی تھیں۔ کافی عرصے سے علیل تھیں لیکن اس کے باوجود جماعتی پروگراموں میں شامل ہو تی رہیں۔ مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتیں اور اپنے چندے باقاعدگی سے بر وقت ادا کر تی تھیں۔ وفات سے ایک ماہ قبل سو مساجد میں چھ ہزار یورو کی رقم ادا کی جبکہ اس سے پہلے اپنا پورا زیور بھی مالی قربانی میں پیش کر چکی تھیں۔۹۳-۱۹۹۴ء میں آپ نے کولون کی مجلس میں سیکرٹری ضیافت کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحومہ تہجد گزار اور پنجوقتہ نمازوں کی پابند، بڑی مہمان نواز اور غریبوں کی ہمدرد خاتون تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ چار بیٹے اور بہت سے پوتے پوتیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم احسن فہیم بھٹی صاحب (مربی سلسلہ و نیشنل سیکرٹری سمعی و بصری۔جرمنی) کی والدہ تھیں۔

۷۔مکرم حمید احمد ملک صاحب ابن مکرم قاضی رشید احمد صاحب مرحوم (لاہور)

۶؍اگست ۲۰۲۵ء کو ۸۲ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ پاکستان بننے کے بعد گورداسپور سے ساہیوال آکر آباد ہو ئے۔ مرحوم نے بی اے اور ایل ایل بی کرنے کے بعد ۱۹۶۸ء میں پولیس سب انسپکٹر کے طور پر کام کیا۔ بعد میں پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا اور مختلف شہروں میں اسسٹنٹ کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور دیگر اہم پوسٹوں پر تعینات رہے۔ ۲۰۰۴ء میں لاہور شفٹ ہو گئے اور ۲۰۰۸ء میں ریٹائر ہو گئے۔ ۱۹۸۴ء میں ساہیوال کیس کے اسیران کی بھی مدد کرتے رہے۔ آپ ایک دیانت دار افسر کے طور پر مشہور تھے۔ بڑےخاموش طبع، وضع دار اور ہمدردانہ طبیعت کے مالک تھے۔ چندوں کی ادائیگی کا خاص اہتمام کرتے تھے۔پسماندگان میں ایک بیٹا اور ۳ بیٹیاں شامل ہیں۔آپ مکرم صہیب احمد خان صاحب (مربی سلسلہ ایم ٹی اے۔ اسلام آباد ) کے نانا تھے۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button