مولانا بشیر احمد صاحب خادم درویش قادیان
مولانا بشیر احمد صاحب خادم درویش ۳۱۳؍ درویشان میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہندوستان کے مختلف صوبہ جات میں بطور کامیاب مبلغ ، دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔ الحمد للہ۔ خاکسار صرف اپنے علاقہ یعنی ضلع فتح پور (یوپی) کی کچھ باتیں مولانا صاحب مرحوم کے تعلق سے پیش کرے گا، ان شاء اللہ۔

۱۹۷۰ء کی بات ہے، ضلع فتح پور یوپی کے مضافات میں سمور، دھن سنگھ پور اور بہوا میں کچھ افراد بیعت کر کے جماعت احمد یہ میں شامل ہوئے۔ سب سے پہلے خاکسار کے والد محترم محمد سیف خان صاحب مرحوم کو محترم اسلم خان صاحب درویش فتح پور کے ذریعہ احمدیت کا پیغام ملا اور والد صاحب نے بیعت کرلی۔ محترم صاحبزادہ مرزا و سیم احمد صاحب نے قادیان دارالامان سے مولانا بشیر احمد صاحب خادم درویش کو ہمارے ضلع فتح پور یوپی میں مبلغ تعلیم و تربیت کی غرض سے بھجوایا۔ اس وقت اس علاقے میں رہائش کا کوئی مناسب انتظام نہیں تھا اور نہ ہی بجلی ہوا کرتی تھی۔ آپ بڑے صبر اور شکر کے ساتھ خدمت دین بجالاتے رہے۔ میرے والد صاحب اور محترم عیدوبخش صاحب مرحوم بہوا نے آپس میں مشورہ کیا کہ تبلیغ کی غرض سے آپ کو لے کر ضلع باندہ میں ہتھوڑا مقام پرایک مدرسہ ہے، وہاں چلتے ہیں۔ مدرسہ کے ناظم مولانا صدیق صاحب باندوی ایک مشہور عالم اور شریف آدمی تھے۔ میرے والد صاحب احمدی ہونے سے قبل دیو بندی فرقے سے تعلق رکھتے تھے، جس کی وجہ سے مولانا صدیق صاحب باندوی جب بھی ہمارے گاؤں سمور آتے تو ہمارے گھر بھی آیا کرتے تھے۔ والد صاحب کے احمدی ہونے کے بعد بھی ایک دو بار آئے۔ مولانا بشیر احمد خادم صاحب کو لے کرجب اس مدرسہ میں پہنچے تو وہاں کے ناظم صاحب بہت عزت سے پیش آئے اور دوپہر کے کھانے کا انتظام بھی کیا۔ مدرسہ کے تمام طلبہ کے سامنے گفتگو کا آغاز ناظم صاحب نے کیا۔ ہمارے مولانا صاحب کو پان کھانے کی عادت تھی۔ دوران گفتگو ہال سے باہر تھوکنے کے لیے جاہی رہے تھے کہ ایک طالب علم نے اچانک پاؤں پھنسا دیا جس کی وجہ سے آپ گرتے گرتے بچے۔ میرے والد صاحب کھڑے ہو گئے اور بلند آوازسے کہا کہ آپ لوگ اس قدر بداخلاق ہیں؟ اس پر مدرسہ کے ناظم صاحب نے طلبہ کو بہت ڈانٹا اور وہیں پر بات چیت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ ناظم صاحب مولانا صاحب سے اتنے متاثر ہو گئے کہ خود گیٹ تک چھوڑنے آئے تا کہ پھر کوئی طالب علم دوبارہ شرارت نہ کر سکے۔ اور طالب علم کی غلطی پر معافی چاہی۔ بہوا چونکہ ایک قصبہ کی طرح ہے، ضرورت کی اشیاء کچھ حد تک مل جایا کرتی تھیں، اس لیے آپ نے بہوا مقام پر رہائش اختیار کی اور وہیں سے دوسری جماعتوں کا دورہ کیا کرتے تھے۔ بہوا کے احمدی اس وقت مالی اعتبار سے کمزور ہوتے تھے۔ بہوا میں ایک امیر کبیر ہندو دوست ہوا کرتے تھے جن کا نام بڑے لال تھا۔ انہوں نے اپنی کوٹھی کا نام ’بڑی کو ٹھی‘ اور اپنے باغ کا نام’بڑا باغ‘ رکھا ہوا تھا۔ ان کو اپنی دولت مندی کا فخر بھی تھا۔ وہ آپ کے اس قدر گرویدہ ہو گئے کہ اپنی کوٹھی میں اکثر آپ کو بلاتے اور جماعت کی باتیں سنا کرتے۔ ایک دن محترم عید و بخش صاحب مرحوم نے دیکھا کہ آپ چار پائی پر تشریف فرما ہیں اور وہ ہندو زمیندار آپ کی قمیض جو ایک جگہ سے اُدھڑی ہوئی تھی خود اپنے ہاتھوں سے سوئی کے ذریعہ سی رہے ہیں۔ وہ زمیندار صاحب اپنی کوٹھی کے گیٹ کے سامنے چار پائی پر بیٹھتے تھے اور کئی لوگ ان کے آس پاس اکثر بیٹھے رہتے تھے۔ جب کبھی آپ ان کی کوٹھی کی طرف جاتے اور زمیندار صاحب کی نظر آپ پر پڑ جاتی تو ننگے پاؤں ہی دوڑ کر آپ کے استقبال کے لیے آجاتے اور چار پائی کے سر کی طرف آپ کو بٹھاتے اور خود پائنتی کی طرف بیٹھ جاتے۔
دھن سنگھ کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس کا نام’’بر دھواں‘‘ ہے، وہاں دھن سنگھ پور مقام کے ایک احمدی بزرگ جناب کریم بخش صاحب مرحوم آپ کو لے کر ایک ہندو دوست کے پاس گئے جن کا نام تھا ’’لالی‘‘، وہ بنیاء قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ اور کاروباری تھے۔ وہ اس قدر آپ کی شخصیت سے متاثر ہوئے کہ بالآخر اسلام لے آئے۔ ان کو اردو بھی آتی تھی۔ اخبار بدر کا مطالعہ بھی کیا کرتے تھے۔ اس وقت اس گاؤں میں ایک دو گھر اور بھی احمدی ہوئے تھے۔ ایک بار ایک غیر احمدی مولوی صاحب آپ سے بحث کرنے کے لیے آگئے اور چار پائی پر آ کر بیٹھ گئے،اور زور زور سے چیخ چیخ کر بحث کرتے جا رہے تھے اور بار بار چار پائی پر کھڑے ہو جاتے تھے۔ آپ نے ان مولوی صاحب کو دوران گفتگو کئی بار آرام سے بات کرنے کو کہا مگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہے تھے۔ آپ نے ان کی کلائی زور سے پکڑی اور ان کو کہا کہ اگر آپ مجھ سے اپنی کلائی چھڑا لیں تو میں ہار گیا۔ اس کے بعد وہ مولوی صاحب چپ ہو گئے۔
اس زمانے میں گاؤں میں بڑی مشکل سے ضرورت کی اشیا ملا کرتی تھیں۔ ایک گاؤں میں والد صاحب آپ کو لے کر گئے۔ وہاں آپ نے والد صاحب سے کہا کہ چائے کا انتظام ہو جائے تو بہتر ہے۔ والد صاحب نے کسی شخص سے کہا کہ چائے کا انتظام کر لیجیے۔باتیں شروع ہوئیں۔ درمیان میں اس آدمی سے والد صاحب نے دریافت کیا کہ چائے کا انتظام ہے؟ انہوں نے کہا جی ہے۔ مجلس برخاست ہونے پر اس آدمی سے والد صاحب نے پوچھا کہ چائے کا انتظام کہاں ہے؟ اس نے ایک کپڑا دکھایا جس کے کونے میں تھوڑی سی چائے کی پتی اس نے باندھ رکھی تھی۔ ایسی جگہ بھی آپ کو احمدیت کا پیغام پہنچانے کی توفیق ملی۔ الحمد للہ
۱۹۸۲ء کی بات ہے، بہوا مقام پر ایک آل اتر پردیش کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں فتح پور ضلع کے علاوہ دوسرے اضلاع سے بھی احباب جماعت نے شرکت کی۔ عید و بخش صاحب جو اس وقت صدر جماعت بہوا تھے، نے بڑے لال صاحب زمیندار کی کوٹھی کے سامنے کا نفرنس کا انعقاد کروایا۔ مرکزی نمائندگان بھی شامل ہوئے ، جن کی رہائش کا انتظام بڑے لال صاحب مرحوم کی کوٹھی میں کیا گیا۔ کانفرنس کے دوسرے دن فتح پور سے کچھ غیر از جماعت علماء آپہنچے اور بحث کرنے لگے، جس پر ان لوگوں کو بھری محفل میں شکست کھانی پڑی۔ پھر کیا تھا، ہنگامہ کر کے واپس چلے گئے۔ کانفرنس کے بعد آپ بہوا مقام پر ایک ہفتے کے لیے رک گئے تا کہ اگر کوئی مخالف مولوی آئے تو ان سے بات کی جاسکے، جس کاایک اچھا اثر وہاں کے نئے احمدیوں پر پڑا۔ اور کچھ لوگوں کو بیعت کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔
آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے ضلع فتح پور میں چار جماعتیں قائم ہیں۔ بہوا میں ایک مشن بھی ہے جہاں امیر ضلع اور مبلغ انچارج موجود ہیں۔ ایک معلم خدمت بجالارہے ہیں۔ کئی خاندان قادیان میں آباد ہو چکے ہیں۔ اور فتح پور ضلع کے کئی افراد کو مولوی فاضل کرنے اور خدمات بجالانے کی توفیق مل رہی ہے۔ مولوی محمد نسیم خان صاحب وکیل التبشیر قادیان، اور مولوی حافظ شریف الحسن صاحب ناظم ارشاد وقف جدید کا وطن ضلع فتح پور ہے۔ قادیان میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ الحمد للہ
اللہ تعالیٰ محترم مولانا بشیر احمد خادم صاحب درویش کو اپنے قرب خاص میں مقام عطا فرمائے۔ آمین
(محمد کلیم خان ۔ مبلغ انچارج ڈیکری کرنا ٹک)
مزید پڑھیں: میرےشفیق والد بزرگوارمحترم گیانی عبداللطیف صاحب درویش قادیان دارالامان




