متفرق مضامین

ماضی کے دھاگے(قسط اول)

(اے۔ راضی)

بوتل میں بند جن کی طاقتیں بوتل کے اندر صفر ہوتی ہیں، لیکن جب جن باہر نکلتا ہے تو اس کی پوشیدہ طاقتیں بھی ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ انسان بھی اگر الگوریتھم میں بند ہو جائے تو اس کی عظیم طاقتیں ناپید ہونے لگتی ہیں

محل سے ملحقہ شاہی باغ میں باوردی خدمت گزاروں نے تمام انتظام مکمل کر رکھا تھا۔ شاہی خاندان اور مہمانوں کے لیے نشستیں قرینے سے سجی تھیں۔ شام کے دھندلکے میں باغ کے وسط میں حوض کے شفاف پانی اور ارد گرد ٹمٹماتے قمقموں کی ڈولتی روشنیاں آج کے تماشے کو مزید سحر انگیز بنانے کو تیار تھیں۔ اس وسیع باغ کے وسطی حصے (جو حوض اور اس کے اردگرد سرو کے درختوں سے گھرے سبزہ زار پر مشتمل تھا) کی طرف جانے والے راستے نفیس سرخ قالین اوڑھے اونگھ رہے تھے اور اونگھتے راستوں کے ارد گرد لالے کے پھول شوخیاں بکھیر رہے تھے۔ گلاب، چنبیلی اور ریحان (خوشبودار پودا) کی آپس میں الجھتی مہکاتی سانسوں نے فضا کو عطر خانہ بنا دیا تھا۔ مہکتی ہوائیں، پھلدار بیلوں کی قربت، قطار در قطار حسین پھولوں کے جلوے، سرو و صنوبر کے درختوں میں گھرے سبزے کی ٹھنڈک، باغ کے مستقل مکینوں یعنی پنچھیوں کے گیت، ان سب نے تماشا گاہ کو فطرت سرائی میں غرق کسی مصوّر کے تخیل کا حسین عجوبہ بنا دیا تھا۔ ویسے تو باغ میں آئے روز تفریح و عشرت و سرور بھری محفلیں جما کرتی تھیں۔ بازی گری، رقص و موسیقی، پہلوانی، جادوگری، پتلی تماشا، کرتب بازی… غرض انواع رنگوں کے تماشے یہاں منعقد ہوتے تھے۔ آج کی شام خاص ہونے والی تھی، کیونکہ آج کوئی بازیگر، ناٹک کار مدعو نہیں تھا۔ آج ترکیہ کے تماشاگر نے سایوں کے کھیل رچا کر شاہی خاندان کو محظوظ نہیں کرنا تھا۔ آج تاریک جنگلوں و بیابانوں کے مشتاق سپیروں کی طرف سے سانپوں کے کرتب نہیں دکھائے جانے تھے، آج کسی داستان گو نے لہو گرم نہیں کرنا تھا، آج شامی رقاصہ کی اداؤں میں کھو جانے کا لمحہ آنے والا نہیں تھا۔ آج شاہی بگھی پر سوار آسٹریائی فنکاروں کی آمد متوقع نہیں تھی۔ آج کی شام تو آمد (ترکیہ کا قدیم شہر) کے عالم و سائنس دان نے اپنے شاہکار کی پردہ کشائی کرنی تھی۔ آج پھیلتی سرمئی شام کے سایوں تلے باغ کے سامعین نے آٹھ صدیاں آگے کا نظارہ دیکھنا تھا۔ آج پھلوں پھولوں سے لدے مہکتے باغ میں آہستگی سے ڈھلتے وقت نے یک لخت سینکڑوں سالوں کی مسافت طے کرنی تھی، گویا کہ جادوئی تاریک آئینے میں آٹھ سو سال بعد کی دنیا دکھانی تھی۔ سفر زمانہ کا ایک نظارہ باغ کے حوض میں اب عیاں ہونے کو تھا۔ شاہی خاندان اور معزز مہمانوں نے نشستیں سنبھال لیں، خدمت گزار مشروبات و میوہ جات سے بھرے تھال لے کر ادھر ادھر گھومنے لگے۔ سب کی نظریں حوض پر ٹک گئیں، جہاں ترکیہ کے عظیم سائنس دان الجزری اپنے ماسٹر پیس کے ساتھ موجود تھے۔ الجزری نے کشتی کو حوض میں چھوڑ دیا۔ کشتی میں موجود سازندے موسیقی بکھیرنے لگے، ڈھولچی نے ڈھول پیٹنا شروع کیا، دوسرا سازندہ سریلی بانسری بجانے لگا اور تیسرا جھانجھے سے تماش بینوں کو محظوظ کرنے لگا۔ تماش بین کشتی میں سوار موسیقاروں کو ساز بجاتے دیکھ کر مبہوت رہ گئے۔ سرگوشیاں کرتی شہزادیوں پر سکتہ طاری ہو گیا، تھال لیے گھومتے خدمت گزاروں کے قدم جم گئے اور وزیروں، نوابوں، درباریوں کی آنکھیں پھٹی اور منہ کھلے کے کھلے رہ گئے، کیونکہ کشتی میں سوار موسیقار کوئی عام فنکار نہیں تھے۔ یہ خودکار موسیقار تھے۔ یہ دنیا کے سب سے پہلے پروگرام ایبل روبوٹس تھے، جنہیں الجزری نے اپنی چھوٹی سی ورکشاپ میں تخلیق کیا تھا۔ یہ بارھویں صدی کا قصہ ہے، جب نہ بجلی تھی نہ بیٹری۔ الجزری نے پانی کے پریشر، پہیوں، کیم شافٹ، لیور اور پنوں کی مدد سے یہ روبوٹک موسیقار بنائے۔ کشتی پانی کے دباؤ سے چلنے لگتی تو روبوٹک موسیقاروں میں حرکت پیدا ہوتی اور وہ کام پر لگ جاتے۔ یہ روبوٹس پروگرام ایبل تھے، یعنی ان کے اندر پنوں کی ترتیب کو بدل کر تال، رفتار اور دھن کو تبدیل کیا جا سکتا تھا۔ الجزری کا ایک اَور شاندار کارنامہ ہاتھی گھڑی تھا، پانی سے چلنے والی خودکار گھڑی جو ہر آدھے گھنٹے بعد وقت بتاتی تھی۔ الجزری نہ صرف فادر آف روبوٹس تھے بلکہ وہ الگوردھم (Algorithm)کو مکینکل و خودکار نظام میں ڈھالنے والے پہلے سائنس دان تھے۔ الگوردھم کا نظریہ نویں صدی کے مسلم ریاضی دان محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے پیش کیا تھا۔ کسی مسئلے کو حل کرنے یا کسی کام کو سرانجام دینے کے لیے ترتیب وار ہدایات کے طریقے کو اپنانا الگوردھم کہلاتا ہے، یعنی کسی کام کے کرنے کے لیے مرحلہ بمرحلہ ہدایات پر عمل کرنا الگوردھم ہے۔ مثلاً واٹس ایپ پر ٹیکسٹ میسج کرنے کے لیے ہم کیا کرتے ہیں؟ موبائل اٹھاتے ہیں، سکرین ان لاک کرتے ہیں، واٹس ایپ کھولتے ہیں اور پھر جسے میسج کرنا ہو اسے کر دیتے ہیں۔ واٹس ایپ پر میسج کرنے کا یہی ترتیب وار طریقہ و ہدایات ہیں جسے ہم فالو کرتے ہیں۔ ہم سب اپنی روزمرہ زندگی میں الگوردھمز کے مطابق چل رہے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ چائے پکانے کے لیے بھی ہم پہلے سے طے شدہ ترتیب وار ہدایات کو اپناتے ہیں۔ الجزری کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے الگوردھم کو خودکار مشینوں میں ڈھال دیا۔ ان کے روبوٹک موسیقار اور ہاتھی گھڑی role-based algorithm (بنیادی الگوردھم یعنی اگر A ہے تو B آئے گا اس کے بعد C آئے گا۔ قدم بہ قدم پہلے سے طے شدہ ہدایات پر چلنا) کے حیرت انگیز نمونے تھے۔ لکڑی و دھات سے بنے ہاتھی کے پیٹ میں پانی بھرا ایک برتن رکھا جاتا تھا، اس برتن میں ایک پیالہ (فلوٹنگ باؤل) پیندے میں انتہائی چھوٹے سوراخوں سے بھرنے لگتا تھا۔ جب تقریباً تیس منٹ میں پیالہ پانی سے بھر کر ڈوب جاتا تو اس کے ساتھ بندھی رسی کھنچتی، اس طرح رسی کے ساتھ بندھا وزن ہاتھی کے اوپر پرندے کو حرکت دیتا، پرندے کی چونچ میں گیند پیالے میں گرتی، اس سے آواز پیدا ہوتی اور ہاتھی پر بیٹھا مہاوت ہاتھ ہلا کر آدھا گھنٹہ پورا ہونے کا اشارہ دیتا۔ ایک گھنٹہ پورا ہونے پر سسٹم ری سیٹ ہو جاتا۔ ہاتھی گھڑی، روبوٹک موسیقار کے علاوہ الجزری نے وضو کے لیے خودکار مشین، پانی کھینچنے کی مشین بھی بنائی۔ یورپ کی درس گاہوں میں ان کی روبوٹ اور مشینوں کے ڈیزائن پر مشتمل کتاب مکینیکل انجینئرنگ کے نصاب کا حصہ رہی۔ تو اس طرح مشینی انقلاب کی داغ بیل الجزری کی چھوٹی سی ورکشاپ میں پڑی اور پھر انیسویں اور بیسویں صدی میں تو جیسے آٹومیٹک مشین کا طوفان ساآگیا۔ انیسویں صدی میں زاکارڈ کھڈی، ٹیلی گرام سوئچنگ سسٹم، مکینکل کیلکولیٹر وغیرہ اور بیسویں صدی میں اگر الگوردھم کی سادہ مکینکل صورت تلاش کی جائے تو وہ ٹریفک لائٹ سوئچنگ سسٹم ہے اور پیچیدہ مثالیں جی پی ایس سیٹلائٹ اور آپریٹنگ سسٹم (یونکس، سول) وغیرہ ہیں۔

انسان اور الگوردھم کی پریم کہانی کو ۱۹۸۳ء میں دھچکا لگا۔ ہوا کچھ یوں کہ روسی فوجی اہلکار نے سیٹلائٹ کی طرف سے وصول وارننگ کو مانیٹر پر دیکھا تو اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، کیونکہ امریکہ نے پانچ میزائل روس کی طرف داغ دیے تھے اور چند ہی منٹوں میں میزائل روسی علاقوں میں تباہی مچانے والے تھے۔ سکرین پر حرکت کرتے نشان (میزائل) تیزی سے سرزمین روس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس ہنگامی صورت حال میں فوجی اہلکار کا فرض تھا کہ وہ سینئر فوجی جرنیلوں کو فوری اطلاع دے تاکہ دشمن کے خلاف کاؤنٹر سٹرائیک کا آغاز کیا جا سکے۔ اہلکار نے حملے کی اطلاع دینے کے لیے ریسیور اٹھایا، لیکن ایک خیال بجلی کی مانند اس کے ذہن میں کوند گیا۔ اس نے سوچا کہ امریکہ صرف پانچ میزائل روس کی طرف داغ کر اسے جگانے کی فاش غلطی نہیں کر سکتا کہ سویا ہوا شیر جاگ کر سینکڑوں میزائل امریکہ پر برسا دے۔ اس نے ریسیور کریڈل پر دھر دیا۔ کچھ لمحوں بعد تصدیق ہو گئی کہ امریکہ نے کوئی میزائل نہیں چلایا تھا، جی پی ایس سیٹلائٹ نے غلط اندازہ لگایا تھا۔ اس لمحے الگوردھم کے ایرر نے طبل جنگ عظیم گویا بجا ہی دیا تھا۔ الگوردھم کی اس شرارت کا تجزیہ ہم آگے کریں گے، سرِدست الگوردھم کے ارتقا پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ ۱۹۹۶ء میں دنیا نے انسان اور مشین کے درمیان سب سے پہلا معرکہ دیکھا جس کا فاتح انسان تھا۔ دنیائے شطرنج کے بےتاج بادشاہ گیری کاسپاروف نے آئی بی ایم کی ایجاد ڈیپ بلو، شطرنج کے کھیل میں ماہر ایک سپر کمپیوٹر کو چت کر دیا۔ بعد ازاں آئی بی ایم نے ڈیپ بلو الگوردھم کو مزید بہتر بنایا اور پھر مئی ۱۹۹۷ء میں نیویارک میں الگوردھم نے شطرنج کے کھیل کا تاج کاسپاروف سے چھین لیا۔ اگرچہ ڈیپ بلو پری پروگرامڈ انسٹرکشنز پر مبنی الگوردھم تھا، لیکن یہ مشین لرننگ الگوردھم (ایم ایل) کا نقطہ آغاز بنا۔ جیسے انسانی زندگی کے لیے آکسیجن لازمی ہے، اسی طرح ایم ایل الگوردھم کے لیے ڈیٹا کی فراہمی ضروری ہے۔ ایم ایل پہلے سے طے شدہ ہدایات کے نظام پر نہیں چلتا بلکہ ڈیٹا سے سیکھتا ہے۔ ای میل اسپام ڈیٹیکٹر مشین لرننگ کی سادہ مثال ہے۔ ای میل اسپام تلاش کرنے والے الگوردھم کو پہلے سے طے شدہ ہدایات نہیں دی گئی تھیں، الگوردھم نے صارف سے سیکھا کہ اسپام اور ناٹ اسپام میں کیا فرق ہے۔ صارف اسپام یا ناٹ اسپام پر کلک کرتا ہے، اس طرح الگوردھم صارف سے سیکھتا ہے کہ ایسے الفاظ، سبجیکٹ، بھیجنے والے اور ایسے سٹرکچر کے حامل ای میلز اسپام ہوتے ہیں۔ پھر الگوردھم آٹومیٹکلی اسپام فلٹر کرنے لگتے ہیں۔ مشین لرننگ کی ایک اور سادہ مثال اکیسویں صدی کے شروع میں کریڈٹ کارڈ فراڈ ڈیٹیکشن ہے۔ اس میں بھی الگوردھم کریڈٹ کارڈ صارفین سے سیکھتا ہے۔ اگر ایک صارف مہینے میں پانچ ہزار روپے تک کی شاپنگ کرتا ہے تو الگوردھم اس صارف کی ماہانہ نارمل ٹرانزیکشن کو پانچ ہزار روپے تک مارک کر دے گا۔ پھر اچانک اسی کریڈٹ کارڈ سے الگوردھم کو یہ ڈیٹا وصول ہو کہ صارف نے پانچ لاکھ روپے شاپنگ پر اڑا دیے ہیں۔ اب یہاں الگوردھم کے کان کھڑے ہو جائیں گے اور وہ اسے غیرمعمولی ٹرانزیکشن، فراڈ کے کھاتے میں ڈال دے گا (لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ پہلے صارف بے چارا کنوارہ ہو، پھر اس نے شادی رچالی ہو…)۔ ایک اور مثال یوٹیوب کا ریکومنڈیشن سسٹم ہے۔ صارف کب، کتنی دیر تک کون سی ویڈیوز دیکھتا ہے، یہ سب یوٹیوب کا الگوردھم صارف سے سیکھتا ہے اور اس بنا پر ویڈیوز تجویز کرتا ہے۔ ایم ایل کو چلانے والے تیل کے بغور معائنہ سے قبل اصل تیل کا قصہ چھیڑتے ہیں۔

۱۸۵۹ء میں تیل کی دریافت نے ایک بدلی ہوئی جدید دنیا کی بنیاد رکھی۔ کارخانے نت نئی مشینوں سے بھر گئے، ذرائع آمد و رفت کا ماحول و کلچر بدل گیا۔ مشرق وسطیٰ و عرب کے صحرا و بیابان ماڈرن شہروں میں تبدیل ہونے لگے۔ تیل کی دریافت ترقی کے ساتھ اندھی طاقت، غیر منصفانہ دولت، قومی خودغرضی، بے انصافی، جنگوں اور بے رحم سیاست کے عذاب بھی لے کر آئی۔ سال ۲۰۰۷ء کی ہالی ووڈ فلم There Will Be Blood تیل کے کاروبار اور اس کے ارد گرد گھومتے حرص، استحصال، سماجی انتشار و خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور طاقت و اختیار کی بھوک دکھاتی ہے۔ آج بھی ہمیں تیل کے اس طاقتور لابی کی ملی بھگت اور طاقت و دولت اور سیاست کا گٹھ جوڑ نظر آتا ہے۔ ہم مشین لرننگ کو سمجھتے ہوئے تیل کی طرف کہاں نکل گئے؟ دراصل مشین لرننگ الگوردھم کا تعلق تیل کے ساتھ بڑا مضبوط و گہرا ہے، لیکن یہ تعلق ڈیجیٹل آئل کے ساتھ ہے جسے حرف عام میں ڈیٹا کہتے ہیں۔ تیل کے بعد انسان جس شے سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے وہ ڈیٹا ہے۔ انسان ڈیٹا کو ہزاروں سال سے استعمال کر رہا ہے۔ میڈیکل سائنس کا بانی بقراط کو مانا جاتا ہے اور بقراط نے تقریباً چوبیس سو سال پہلے ڈیٹا کی بنیاد پر بیماریوں و اسباب کو مربوط کیا۔ ۱۹۲۸ء میں امریکی ماہر سماجیات برگس نے تین ہزار ایسے قیدیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جنہیں عدالتوں نے پیرول پر چھوڑا تھا۔ برگس نے ڈیٹا میں پیٹرنز تلاش کیے اور پھر ان کی بنیاد پر اکیس ایسے عوامل کا تعین کیا جس کو مد نظر رکھ کر جج قیدی کو ضمانت یا پیرول پر رہائی دے سکتے ہیں۔ بیسویں صدی میں فلورنس نامی ہیلتھ ورکر نے ہسپتالوں سے ڈیٹا جمع کیا اور نتیجہ نکال کر دنیا کو حیران کر دیا کہ جنگی محاذ پر جانے والے فوجیوں کی اموات میدانِ جنگ میں کھائے زخموں سے زیادہ بیماریوں سے ہوتی ہیں۔ ۱۹۶۶ء میں امریکی سکولوں کے ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کر کے اندازہ لگایا گیا کہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کا تعلق خاندانی پس منظر سے ہوتا ہے اور سکول فنڈنگ کارکردگی بڑھانے میں کم اثر رکھتی ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل سے انشورنس کمپنیاں ڈیٹا کو استعمال کر رہی ہیں کہ کون کس بیماری سے مر سکتا ہے، کس کی طرز زندگی اسے جان لیوا حادثے سے دوچار کر سکتی ہے۔ بینکنگ سیکٹر قرضہ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ڈیٹا کی بنیاد پر کرتا رہا ہے۔ اب ڈیٹا کی افادیت و کرشمہ سازی کی انتہائی دلچسپ مثال ملاحظہ فرمائیں۔ دنیائے سائنس میں ’’Nuns Study‘‘ نے کافی شہرت پائی۔ ساٹھ و ستر کی دہائی میں یہ تحقیق ڈاکٹر سنوڈن کی سربراہی میں شروع کی گئی، جس کا مقصد یادداشت کی دماغی بیماری الزائمرز کے اسباب معلوم کرنا تھا۔ تحقیق کی خاطر nuns کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ وہ سب ایک ہی طرز کی سادہ زندگی گزارتی ہیں، خوراک، رہائش وغیرہ میں کوئی فرق نہیں ہوتا اور سگریٹ، شراب، ڈرگ سے دور رہتی ہیں۔ ان کے روزمرہ معاملات، میڈیکل و نفسیات کی سطح پر ہر چھوٹے بڑے تغیرات کا ریکارڈ رکھا جانے لگا اور nuns نے اپنا دماغ وقف کر دیا تاکہ مرنے کے بعد تحقیق میں کام آ سکے۔ تقریباً بیس سال کی عمر میں جب انہوں نے کیتھولک سکول جوائن کیا تو ہر نن نے اپنی بائیوگرافی مضمون کی صورت میں لکھ کر جمع کروائی۔ تحقیق دانوں نے ان تمام مضامین کو پڑھا اور اسّی، نوّے کی دہائی میں وہ ایک پیٹرن دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے کہ ایسی nunsجنہوں نے بہت سادہ و محدود الفاظ اور مختصر فقروں کے ساتھ مضمون لکھا، بڑھاپے میں الزائمر کا شکار ہو گئیں اور جن کی مضمون نویسی و تحریری قابلیت اعلیٰ تھی، یعنی جنہوں نے تفصیل و جزئیات کے ساتھ وسیع الفاظ و درست گرامر استعمال کرتے ہوئے مضمون لکھا تو ان کے بڑھاپے میں بیماری کی علامات پیدا نہیں ہوئیں۔ ڈیٹا کی مدد سے حیران کن بات معلوم ہوئی کہ کسی جوان کی تحریر دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بڑھاپے میں الزائمر کا شکار ہونے کے کتنے امکانات ہیں۔ غرض کہ ڈیجیٹل عہد سے پہلے بھی ڈیٹا کی طاقت سماجیات، نفسیات، میڈیکل سائنس، بزنس، فنانس، تعلیم، سیاست وغیرہ کے شعبوں کو سیراب کر رہی تھی۔ ڈیجیٹل عہد میں مشین لرننگ الگوردھم اور ڈیٹا کے ملاپ نے اس کی طاقت ہزار گنا بڑھا دی۔ جس طرح تیل ۱۸۵۹ء میں دریافت ہو چکا تھا لیکن اس کی افادیت و طاقت میں اضافہ ذرائع آمد و رفت اور ریفائنری کی ترقی کے ساتھ ہوتا گیا، اور تیل کی طرح ڈیٹا کے ساتھ بھی دولت و طاقت اور دوسروں کو کنٹرول کرنے کی بھوک لگ گئی۔ ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اس تک رسائی کی دوڑ شروع ہو گئی۔ ڈیٹا بروکر اربوں کمانے لگے۔ مینوفیکچررز، ایڈورٹائزرز ایپس و ویب سائٹس کے ذریعے لوگوں کی نجی لائف میں گھس گئے۔ دنیا میں سب سے زیادہ چوری ہونے والی شے ڈیٹا بن گیا۔ طاقتور طبقہ یہ سمجھ گیا کہ جس کی ڈیٹا تک رسائی ہے وہ لوگوں کو manipulate کر سکتا ہے، استحصال کر سکتا ہے، لوگوں کی سوچ و عمل کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھال سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال ۲۰۱۶ء کے امریکی صدارتی الیکشن ہیں، امریکیوں کا ذاتی ڈیٹا چوری کر کے اسے صدارتی امیدوار کے حق میں استعمال کیا گیا۔ بہرحال تیل کی طرح ڈیٹا کے فوائد کے ساتھ ساتھ خطرات بھی بے شمار ہیں۔

مشین لرننگ الگوردھم (ایم ایل) کی طرف واپس آتے ہیں۔ ڈیٹا اور ایم ایل کا تعلق انسان اور آکسیجن کے بندھن کی مانند ہے۔ ایم ایل کا ایندھن ڈیٹا ہے۔ ایم ایل پری پروگرامڈ ہدایات کی بجائے ڈیٹا میں پیٹرن تلاش کرتا ہے اور ان پیٹرنز کی بنیاد پر اندازہ و امکان ظاہر کرتا ہے۔ جسے ایم ایل ای میلز کے ڈیٹا میں یہ پیٹرن پکڑتا ہے کہ جن ای میلز کے سبجیکٹ میں ’’FREE‘‘ کا لفظ آئے گا تو قوی امکان ہے کہ یہ اسپام ہے۔ ایم ایل کی جدید صورتیں نیورل نیٹ ورک اور ڈیپ نیورل نیٹ ورک الگوردھم ہیں (این این اور ڈی این این)۔ گھوڑے کی شناخت کے لیے بچے کو پہلے گھوڑے کی تصویر دکھائی جاتی ہے، پھر کئی جانوروں کی تصویریں سامنے رکھ کر پوچھا جاتا ہے کہ اس میں گھوڑے کی تصویر کون سی ہے؟ بچہ غلط بتاتا ہے تو پھر پوچھا جاتا ہے، اس طرح ٹرائل اینڈ ایرر کے ذریعے بچے کو گھوڑے کی پہچان ہوجاتی ہے، بچے کے دماغ میں گھوڑے کی پہچان کا نیورل تاثر جم جاتا ہے۔ این این کی تربیت بھی بچے کی طرح کی جاتی ہے۔ این این میں بہت سارے سانچے، نمونے، examples فیڈ کیے جاتے ہیں، ان سانچوں، نمونوں کو سامنے رکھ کر این این اندازہ لگاتا ہے اگر اندازہ غلط ہو تو درستگی کرتا ہے اور جتنا زیادہ دہرا کر درست اندازہ لگاتا ہے اتنے ہی نیورنز بنتے جاتے ہیں اور زیادہ نیورنز الگوردھم کی ایکوریسی بڑھاتے ہیں۔ لکھائی، آواز، فیس، تصویر وغیرہ شناخت کرنے والے الگوردھمز، میڈیکل میں کینسر اور دیگر بیماریوں کی تشخیص والے الگوردھم، عدالتی کارروائیوں اور مجرم کا کھوج لگانے والے الگوردھم اور ایل ایل ایم ایس کے حامل الگوردھم، غرض ان سب میں ایک چیز مشترک، سانجھی ہے اور وہ ہے ڈیٹا (سوائے rule based algorithm کے، اس میں پہلے سے طے شدہ ہدایات ہوتی ہیں)۔ ڈیٹا ان میں گویا جان ڈالتا ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں پہلے درجے میں یہ ڈیٹا حاصل کرتے ہیں، پھر پیٹرن تلاش کرتے ہیں اور آخر میں predictکرتے ہیں، اندازہ لگاتے ہیں، امکان ظاہر کرتے ہیں، کسی شے کی شناخت بتاتے ہیں یا فیصلہ سناتے ہیں کہ یہ اس طرح ہے، اس طرح نہیں ہے۔ ڈیٹا کے متعلق یاد رکھیں کہ ہر قسم کا ڈیٹا ماضی کی کہانیاں ہوتے ہیں۔ ڈیٹا ماضی کی بازگشت ہیں، ڈیٹا ماضی کی بوندیں، ماضی کی پھوار ہیں، ڈیٹا بیک مررز ہیں۔ ہر قسم کا ڈیٹا ماضی کا ترجمان ہوتا ہے۔ ڈیٹا ماضی کی زبان، ماضی کے گیت ہیں۔ انسان الگوردھم کو ماضی سے لبالب بھرے پیالے پلاتا ہے اور یہی مشروب گذشتہ الگوردھم کو سانچوں، نمونوں، اندازوں، امکانوں کا پتا دیتا ہے۔ انسان جب الگوردھم میں جھانکتا ہے تو دراصل ماضی کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ real time ڈیٹا بھی ماضی کی جھلک ہے، مثلاً موسمیاتی سیٹلائٹ جو ڈیٹا ۱۰۰.۰۰.۰۰.۰۱ پر زمین کی طرف بھیجتا ہے وہ زمین ۱۰۰.۰۰.۰۰.۰۲ پر وصول کرتی ہے۔ اب اتنا باریک فرق بھی حال کو ماضی میں ڈھال دیتا ہے۔ جو بھی ڈیٹا ریت کے ایک ذرہ سے بھی کم مقدار میں وقت استعمال کرتا ہے تو وہ ماضی بن جاتا ہے۔ ہم جب سمارٹ فون کیمرے سے منظر دیکھتے ہیں تو یہ بھی ریئل ٹائم ڈیٹا نہیں ہے، کیونکہ روشنی کیمرے کے سینسر سے ٹکراتی ہے، ایک پروسیس شروع ہوتا ہے جو ملی سیکنڈز میں مکمل ہوتا ہے اور پھر ہم موبائل سکرین پر منظر دیکھتے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ انسان کو بھی ریئل ٹائم ڈیٹا کی سہولت میسر نہیں ہے۔ ہم اپنی آنکھوں سے جو دیکھتے ہیں وہ لمحہ موجودہ نہیں ہوتا، ہم immediate past کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں لمحہ موجودہ کا ذائقہ چکھنا ہی نصیب نہیں ہوتا۔ فرض کریں ایک آدمی دور کھڑا ایسے جھرنے کو دیکھ رہا ہے جس کا زمین کی طرف گرتا پانی مسلسل پلک جھپکنے سے قبل برف کے ٹکڑوں میں تبدیل ہو رہا ہے، دور کھڑے شخص کو پانی کی ہلکی مدھم سی جھلک انتہائی کم وقت کے لیے دیکھنا نصیب ہو گی۔ لمحہ موجودہ ہر آن، ہر ساعت ماضی کی ٹکڑیوں میں بدل رہا ہے۔ ماضی قطعی ہے، برف کے ٹکڑوں کی طرح یعنی ماضی میں جو ہو گیا وہ تبدیل نہیں ہو سکتا، ماضی اپنی جگہ مستحکم ہے، قائم ہے۔ مستقبل بھی قطعی ہے، لازمی آتا ہے۔ مستقبل کو مستحکم، قطعی بنانے والی حقیقت موت ہے۔ موت اٹل حقیقت ہے جس کا ہر جان دار نے سامنا کرنا ہے۔ موت کی اٹل حقیقت ہی مستقبل کو قطعی و یقینی بناتی ہے۔ جو جان دار مرا نہیں اس کا کوئی نہ کوئی مستقبل ضرور ہے جو آنا باقی ہے۔ جب موت آ گئی تو پھر دنیا میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔ موت مستقبل کی ضمانتی بن کر اس کے آنے کو یقینی بنا دیتی ہے۔ اب قطعی ماضی اور یقینی مستقبل کے بیچ لمحہ موجودہ کی سوغات کا ذرہ سا ذائقہ چکھنا انسان کی بھاگ دوڑ ہے۔ اور اگر باریک بینی سے لمحہ موجودہ کے ذائقے پر غور کیا جائے تو یہ بھی ماضی کی پرچھائی ہے۔ دراصل شے سے منعکس ہو کر روشنی آنکھ میں داخل ہوتی ہے، پھر آنکھ میں موجود ریٹینا روشنی کو الیکٹریکل سگنل میں تبدیل کر دیتا ہے، دماغ ان الیکٹریکل سگنلز کو پروسیس کرتا ہے اور پھر ہم وہ شے دیکھتے ہیں۔ یہ سارا عمل پورا ہونے میں سو سے ایک سو پچاس ملی سیکنڈز لگتے ہیں، یعنی ایک سیکنڈ کا ۱۰/۱ حصہ لگتا ہے۔ یہ انتہائی باریک ملی سیکنڈز کی تاخیر انسانی ارتقا کے لیے ناگزیر تھی، کیونکہ اگر شے اور آنکھ و دماغ کے پروسیس کے درمیان صفر ہوتا مطلب کہ ایک ملی سیکنڈ کی بھی تاخیر نہ ہوتی تو انسانی ویژن کبھی مستحکم نہ رہتا، انتشار کا شکار رہتا۔ غرض کہ لمحہ موجودہ کا ذائقہ بھی ماضی ہے۔ ہمیں ملی سیکنڈ کی تاخیر اس وجہ سے محسوس نہیں ہوتی کہ دماغ ایک باریک واردات ڈالتا ہے، دماغ predict کر لیتا ہے کہ سامنے کیا ہے۔ دماغ ایسا لمحہ موجودہ کا احساس قائم رکھنے کے لیے کرتا ہے۔ الگوردھم مستقبل سے ڈیٹا نہیں لے سکتا، اس میں لمحہ موجودہ کا ذائقہ اور احساس بھی پیدا نہیں کر سکتا۔

الگوردھم ماضی سے بھری فائلوں کے ریکارڈ رومز ہیں اور ان ریکارڈ رومز سے الگوردھم کبھی باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ انسان ریکارڈ روم سے باہر نکل سکتا ہے، کیونکہ اس کے پاس پرواز تخیل کی اہلیت ہے۔ انسان کلی طور پر تو لمحہ موجودہ سے نہیں گزرتا، لیکن اس کے پاس انتہائی مضبوط لمحہ موجودہ (present) کا احساس اور ذائقہ رہتا ہے۔ انسان کی دو قابلیتیں یعنی لمحہ موجودہ کا احساس اور پرواز تخیل اسے کسی بھی جدید ترین الگوردھم سے ممتاز بناتی ہیں۔ امریکی پائلٹ سلی کا کارنامہ یاد رہے گا۔ سال ۲۰۰۹ء میں پائلٹ نے نیویارک سے پرواز بھری تو ٹیک آف کے دو منٹ بعد ہی جہاز کے دونوں انجن مکمل فیل ہو گئے۔ جہاز تین ہزار فیٹ کی بلندی پر نیویارک شہر کے اوپر بے جان ہو رہا تھا، جہاز کے اطراف شہر کی بلند و بالا عمارتیں کھڑی تھیں۔ پائلٹ کے پاس ۱۵۵؍مسافروں کی جان بچانے کے لیے تین منٹ سے بھی کم وقت تھا، جہاز ایئرپورٹ لوٹنے کے قابل بھی نہیں تھا۔ تب پائلٹ نے وہ کیا جو تاریخ ہوابازی میں آج تک کسی نے نہ کیا تھا۔ پائلٹ نے دم توڑتے جہاز کا رخ برفیلے دریائے ہڈسن کی طرف موڑ دیا اور پھر تاریخ رقم ہو گئی۔ پائلٹ نے جہاز دریائے ہڈسن کے برفیلے پانی پر انتہائی مہارت سے اتار دیا، تمام مسافر محفوظ رہے۔

اسی سال ۲۰۰۹ء کا دوسرا واقعہ ہے، فرانس کا جدید ترین ایئر بس 447 پیرس کی طرف محو پرواز تھا۔ جہاز مکمل طور پر آٹو پائلٹ کے کنٹرول میں تھا۔ انسانی پائلٹ اکثر و بیشتر جہاز آٹو پائلٹ کے حوالے کر دیتا تھا، اس لیے اس کا ایئر بس اڑانے کا انسانی تجربہ گھٹتا چلا گیا۔ جب جہاز بحر الکاہل کے اوپر تھا تو آٹو پائلٹ نے الارم بجا دیا، اس کا مطلب تھا کہ جہاز میں کوئی ایسی خرابی، کوئی ایسا مسئلہ ہو گیا ہے جس کا حل آٹوپائلٹ کے پاس نہیں ہے، اب جہاز کو انسانی پائلٹ چلائے، اللہ حافظ۔ پائلٹ نے چونک کر جب کنٹرول سنبھالا تو اصل مسئلے اور اس کے حل تک پہنچنے میں اسے دیر لگ گئی اور جہاز بحر الکاہل کی گہرائیوں میں غرق ہو گیا۔ تحقیقات سے معلوم پڑا کہ مسئلہ چھوٹا تھا، پائلٹ آسانی سے جہاز کریش ہونے سے بچا سکتا تھا، لیکن آٹو پائلٹ پر زیادہ انحصار کرنے اور تجربے کے کم ہو جانے کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ اب ذرا تصوّر کریں کہ اگر سلی کا جہاز بھی آٹو پائلٹ پر ہوتا تو کیا ہوتا، جہاز نیویارک کی کسی بلند و بالا عمارت سے ٹکرا جاتا، کیونکہ الگوردھم (آٹو پائلٹ) کے ریکارڈ روم سے کوئی ایسی فائل نہ ملتی جس میں درج ہوتا کہ بالکل ایسی ہی ہنگامی صورت حال میں پائلٹ نے اس اس طرح کی مہارتیں استعمال کرتے ہوئے جہاز کو دریائے ہڈسن کے برفیلے پانی پر بحفاظت اتار دیا۔ انسان کا خاصہ ہے کہ وہ آؤٹ آف باکس حل تلاش کر سکتا ہے، انسان ریکارڈ روم سے باہر گھوم پھر کر اچھوتا خیال لا سکتا ہے۔ الگوردھم کو مائی باپ ماننے سے اچھوتی، ان چھوئی سرزمینوں کی طرف جانے والے راستے بند ہو جاتے ہیں اور انسان بوتل کے جن کی طرح الگوردھم کے ریکارڈ روم کا قیدی بن جاتا ہے۔ بوتل میں بند جن کی طاقتیں بوتل کے اندر صفر ہوتی ہیں، لیکن جب جن باہر نکلتا ہے تو اس کی پوشیدہ طاقتیں بھی ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ انسان بھی اگر الگوردھم میں بند ہو جائے تو اس کی عظیم طاقتیں ناپید ہونے لگتی ہیں۔ انسان کا جن کس طرح الگوردھم میں بند ہوکر نقصان اٹھا سکتا ہے، ایک اور واقعہ ہمیں بتاتا ہے۔

امریکی نیوی سیل دنیا کی بہترین انتہائی ماہر پروفیشنل ایلیٹ، سپیشل فورس ہے، یہ فورس زمین، آسمان، سمندر ہر جگہ لڑنے میں ماہر ہوتی ہے۔ سال ۲۰۱۶ء میں نیوی سیل جوشوا براؤن ہائی وے پر سفر کر رہا تھا، ٹیسلا کی جدید ڈرائیور لیس کار آٹو پائلٹ پر تھی کہ سفید ٹرک مڑ کر اس کے سامنے آ گیا، ٹیسلا کار کا کیمرہ اور سینسرز ٹرک کے سفید رنگ اور آسمان کے رنگ میں فرق نہیں کر سکے، اس لیے آٹو بریکیں بھی نہیں لگیں اور کار سیدھی سفید ٹرک سے جا ٹکرائی، حادثہ اتنا شدید تھا کہ کار میں بیٹھے جن (نیوی سیل) کی فوری موت ہو گئی۔ فاش غلطیاں انسانی ڈرائیور سے بھی سرزد ہوتی ہیں، لیکن انسان کی خطا کار طبیعت اور الگوردھم کی غلطی میں فرق ہے۔ انسان کو اپنی غلطی کا فوری، instantly ادراک ہو سکتا ہے اور بعض اوقات چند لمحوں میں وہ غلطی سدھار بھی سکتا ہے۔ غلط موڑ لیتے ہی جب ڈرائیور کو غلطی کا احساس ہوتا ہے تو وہ کار درست راستے پر لے آتا ہے۔ ۱۹۸۳ء میں روسی فوجی اہلکار نے سیٹلائٹ ڈیٹا کو دیکھا کہ امریکہ نے پانچ میزائل چلا دیے ہیں، اس نے سینئرز کو اطلاع دینے کے لیے ریسیور اٹھایا، ایک لمحے میں خیال اس کے ذہن میں آیا کہ امریکہ پانچ میزائل داغ کر روس کو بڑے پیمانے پر زور دار حملہ کرنے کی سہولت نہیں دے سکتا۔ وہ رک گیا اور تیسری عالمی جنگ ہمارے کانوں کو چھوتی گزر گئی۔ انسان غلطی کرنے سے پہلے بھی روک سکتا ہے، کیونکہ اس کے پاس پرواز تخیل، احساس ذمہ داری اور نتائج کی فکر ہے۔ امریکی پائلٹ سلی کو احساس ذمہ داری اور نتائج کی فکر نے حوصلہ دیا کہ وہ جہاز دریائے ہڈسن پر اتار دے۔ یہ احساس ذمہ داری اور نتائج کی فکر الگوردھم میں پیدا نہیں کی جا سکتی۔ آٹو پائلٹ جب انجان مسئلے میں پھنستا ہے تو الارم بجا کر غائب ہو جاتا ہے اور یوں بھی کر سکتا ہے کہ سرے سے کوئی مسئلہ درپیش ہو ہی نہ لیکن الگوردھم بہادر فیک مسئلہ سامنے رکھ دے۔ انسانی خلیوں میں کینسر کی علامات نہ پائی جاتی ہوں لیکن الگوردھم کو لگے کہ خلیہ کینسر کی طرف مائل ہے، انسانی پیتھالوجسٹ بھی الگوردھم کی ہاں میں ہاں ملا کر اچھے بھلے صحت مند شخص کو کینسر کا مریض ڈیکلیئر کر دے تو کیا ہو گا؟ کیا یہ ممکن ہے کہ دو دن بعد الگوردھم کو خیال گزرے کہ جس شخص میں کینسر بن رہا ہے اس کے ایکس رے تصاویر دوبارہ دیکھ لوں۔ وہ دوبارہ تصاویر دیکھتا ہے تو اسے معلوم پڑتا ہے کہ جس خلیے کی گروتھ کو وہ ایب نارمل سمجھ رہا تھا وہ تو بالکل نارمل ہے، اس کی تشخیص غلط تھی۔ الگوردھم جلدی سے انسانی پیتھالوجسٹ کو ٹیکسٹ میسج کرتا ہے: ’’السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ! ڈاکٹر صاحب! الگوردھم ناچیز، سر تا پا خاک انتہائی شرمندگی، ندامت و تاسف کی کیفیت میں ڈوبا یہ تسلیم کرتا ہے کہ دو دن پہلے جس شخص کو خاکسار کینسر کا مریض سمجھ بیٹھا تھا وہ دراصل صحت مند، چنگا بھلا ہے۔ اس مورکھ بد بخت کی خطا پر صرف نظر فرمائیں اور برائے کرم اس شخص کو فوری اطلاع پہنچا دیں کہ کیمو تھراپی کروانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ رپورٹ غلط تھی وہ بالکل صحت مند ہے۔(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: لائر برڈ: فطرت کا بے مثال نقال اور آواز کا جادوگر

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button