غرباء کے گروہ کو خدا کے فضل کا بہت بڑا حصہ ملتا ہے
غربا نے دین کا بہت بڑا حصہ لیا ہے بہت ساری باتیں ایسی ہوتی ہے جن سے امراء محروم رہ جاتے ہیں وہ پہلے تو فسق وفجوراور ظلم میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں صلاحیت تقویٰ اور نیاز مندی غربا کے حصہ میں ہوتی ہے پس غربا کے گروہ کو بدقسمت خیال نہیں کرنا چاہیے بلکہ سعادت اور خدا کے فضل کا بہت بڑا حصہ اس کو ملتا ہے۔
یادر کھو حقوق کی دو قسمیں ہیں ایک حق اللہ دوسرے حق العباد۔
حق اللہ میں بھی امراء کو دقت پیش آتی ہے اور تکبر اور خود پسندی ان کو محروم کر دیتی ہے مثلاً نماز کے وقت ایک غریب کے پاس کھڑا ہونا بُرا معلوم ہوتا ہے۔ان کو اپنے پاس بٹھانہیں سکتے اور اس طرح پر وہ حق اللہ سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ مساجد تو دراصل بیت المساکین ہوتی ہیں۔اور وہ ان میں جانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور اسی طرح وہ حق العباد میں خاص خاص خدمتوں میں حصہ نہیں لے سکتے۔غریب آدمی تو ہر ایک قسم کی خدمت کے لیے تیار رہتا ہے وہ پاؤں دبا سکتا ہے پانی لاسکتا ہے کپڑے دھوسکتا ہے یہاں تک کہ اس کو اگر نجاست پھینکنے کا موقع ملے تو اس میں بھی اسے دریغ نہیں ہوتا لیکن امراء ایسے کاموں میں ننگ وعار سمجھتے ہیں اور اس طرح پر اس سے بھی محروم رہتے ہیں غرض امارت بھی بہت سی نیکیوں کے حاصل کرنے سے روک دیتی ہے (الا ماشاءاللہ۔ایڈیٹر) یہی وجہ ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ مساکین پانچ سو برس اوّل جنّت میں جاویں گے۔
(ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۲۰۲، ۲۰۳، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)




