غریب احمدی کی مالی قربانی کا ایک واقعہ
البانیہ سے مبلغ صاحب لکھتے ہیں کہ ایک البانین دوست بلال یوسف صاحب ہیں بہت سادہ مزاج آدمی ہیں۔ غریب بھی ہیں۔ وہاں جلسہ ہو رہا تھا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر بغیر کسی معاوضے کے ایک ہفتہ تک ہر روز صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک جلسہ کا کام کیا۔اور ہمارے بہت سارے والنٹیئر جلسوں پہ دنیا میں یہ کام کرتے ہیں لیکن بعضوں کو ضرورت ہوتی ہے تو اس کے باوجود والنٹیئر وقت دیتے ہیں رضاکارانہ طور پر۔ بعضوں کو ضرورت ہوتی بھی نہیں ان کا گزارہ ہو رہا ہوتا ہے۔ بہرحال کہتے ہیں یہ شام کو کام کرتے تھے چار بجے تک اور پھر چار بجے شام کو اپنی جاب پہ چلے جاتے تھے۔ ایک روز لفافے میں پچہتر (75)یورو تحریک جدید کا چندہ لے کر آئے۔ البانیہ مشرقی یورپ کا غریب ملک ہے۔ مربی صاحب کو کہنے لگے کہ کئی دنوں سے یہ رقم چندے میں دینے کے لیے جمع کی تھی اور لفافے کے اوپر البانین زبان میں یہ لکھا ہوا تھا کہ بہت خوش دلی سے جماعت کی خدمت میں پیش ہے۔ شاید یہ رقم دوسروں کو کم لگتی ہو پچہتر (75) یورو صرف لیکن مربی صاحب لکھتے ہیں کہ یہ ان کی پندرہ فیصد تنخواہ تھی جبکہ ان کو گھر کا کرایہ وغیرہ بھی دینا تھا۔
دنیا دار تو کہہ سکتے ہیں کہ پچہتر (75) یورو سے یہ اسلام کو پھیلانے کی باتیں کرتے ہیں یا چند یورو سے اسلام کو پھیلانے کی باتیں کرتے ہیں جبکہ اسلام مخالف جو تنظیمیںہیں اور حکومتیں ہیں ان کے پاس بلینز، بلینز پاؤنڈ ہیں۔ وہ اپنے پیسے اسلام کے خلاف خرچ کر رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی اس چھوٹی سی قربانی میں بھی اتنا فضل فرمایا ہے کہ اس قربانی سے جماعت احمدیہ مشن بھی قائم کر رہی ہےصرف یہ ایک نہیں ہیں پچہتر (75) یورو دینے والے۔ بہت سارے ایسے لوگ ہیں بلکہ اس سے بھی کم دینے والے لوگ ہیں اور جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہی چھوٹی چھوٹی رقموں سے دنیا میں اپنے کام سرانجام دے رہی ہے۔ اشاعت اسلام کا کام کر رہی ہے اور دنیا میں جو ترقی ہو رہی ہے وہ بلینز ڈالر خرچ کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔
اسی طرح اس سے بھی زیادہ غریب ممالک میں بعض قربانی کے نظارے نظر آتے ہیں جو ابتدائے اسلام یا اس وقت جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مالی قربانیوں کی تحریک فرمائی تھی اس وقت پیش آتے تھے۔یا اس وقت پیش آئے جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک جدید کا اعلان فرمایا کہ آج دشمن پوری طرح تیار ہو کر ہم پر حملہ آور ہے اس لیے خرچ کرو۔ اور اس پر لوگوں نے قربانیاں کیں۔ غریب عورتوں نے اپنی مرغیاں اور مرغیوں کے انڈے بیچ کر چندے دے دیے۔ معمولی معمولی قربانی تھی۔ اس وقت دو تین سال میں حضرت مصلح موعودؓ نے یہ کہا تھا کہ تین سال میں ہندوستان میں ستائیس ہزار روپیہ جمع کرو لیکن جماعت نے قربانی کی اور ایک سال میں ہی ایک لاکھ روپیہ جمع کر لیا۔ آج بھی قربانیوں کے نظارے ہمیں غریب ممالک کی طرف سے نظر آتے ہیں۔ (ماخوذاز الحکم جلد25 نمبر8 مورخہ21فروری1923ء صفحہ 7)(ماخوذ ازتاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ35)
(خطبہ جمعہ ۷؍نومبر ۲۰۲۵ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۸؍نومبر ۲۰۲۵ء)




