رموزالاطباء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کا ذکر خیر
علاوہ طب کے اوربھی بہت سے علوم میں آپ کو تبحّر حاصل ہے اور فقہ اور حدیث میں تو ید طولےٰ رکھتے ہیں۔علم حساب۔ اقلیدس۔ الجبرا وغیرہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ غرضیکہ ہر فن میں کمال ہے
حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی سوانح حیات جماعت کے لٹریچر میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ خواہ مرقاۃالیقین فی حیات نورالدین ہو یا حیات نورالدین مرتبہ عبدالقادر صاحب، ان میں درج واقعات ایک ایسی مبارک زندگی کے واقعات ہیں جس کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی محبت میں بسر ہوا۔ یہ صرف کسی مقدس زندگی کے واقعات نہیں ہیں بلکہ پڑھنے والے کو یہ سبق دیتے ہیں کہ تنگی میں کس طرح صرف اللہ تعالیٰ پر توکّل کرنا ہے اور کسی انسان سے امید نہیں رکھنی اور آسائش میں کس استغنا کے ساتھ تمام اموال اور نعماء کو ہیچ سمجھنا ہے اور صرف اس منعم حقیقی کے در سے امید رکھنی ہے۔ قرآن مجید اور حدیث کا علم اس جدوجہد سے حاصل کرنا ہے کہ خواہ اپنی زندگی کو خطرہ ہو اس مقصد سے منہ نہیں موڑنا۔ یہ سوانح حیات لکھنے والے کا نہیں بلکہ زندگی گذارنے والے وجود کا کمال ہے کہ ان واقعات کی کشش پڑھنے والے کو بار بار ان کتب کو پڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔
حکیم الٰہ دین صاحب
ان کتب میں بہت سی شخصیات کا ذکر ہے جو کہ اپنے زمانہ کی نامور شخصیات تھیں لیکن اب ایک عرصہ گزرنے کے بعد پڑھنے والوں کو ان کے متعلق معلومات مہیا نہیں ہوتیں۔ ان کا تعارف، ان واقعات کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔حضور نے اس زمانے کے مشہور طبیبوں سے بھی طب کا علم حاصل کیا۔ ان میں سے ایک کا ذکر حیات نورالدین میں ان الفاظ میں ملتا ہے کہ ڈاکٹر عبید اللہ صاحب سے روایت ہے: ’’حضرت خلیفۃالمسیح الاول ؓ ایک مرتبہ لاہور تشریف لائے۔ ملک خدا بخش صاحب مرحوم نے اپنی کسی عزیزہ کی بیماری کا مجلس میں ذکر کیا۔ حضرت نے فرمایا۔ ہم خود جا کر دیکھتے ہیں۔ چنانچہ حضور نے ملک صاحب کے ساتھ جا کر مریضہ کو دیکھا۔بعد فراغت فرمایا کہ حکیم الٰہ دین صاحب مرحوم کا مکان یہاں سے قریب تھا۔ ملک صاحب نے عرض کیا ‘‘ حضور !حکیم صاحب کے صاحبزادہ حکیم فیروزالدین صاحب میرے دوست ہیں میں ابھی ان کو اطلاع بھجواتا ہوں وہ فوراًَ آ جائیں گے۔’’ فرمایا ملک صاحب ! فیروزالدین صاحب آپ کے دوست ہوں گے مگر میرے استاد کے بیٹے ہیں۔ اس لیے میں ان کے گھر جا کر ملوں گا۔‘‘
پھر اسی صفحہ پر لکھا ہے: ’’اس ضمن میں یہ ذکر بھی خالی از دلچسپی نہ ہو گا کہ حکیم صاحب موصوف نے ایک کتاب ’’رموزالاطباء ‘‘ لکھی تھی۔ اس کی تالیف کے دوران وہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ کے گھر تشریف لے گئے۔ اور حضور سے آپ کے کچھ حالات اور چند نسخہ جات وغیرہ کے لیے درخواست کی اور پھر اس کتاب میں معہ حضور کے ایک فوٹو کے شائع کیے۔‘‘(حیات نورالدین۔مصنفہ عبد القادر صاحب۔ صفحہ۴)
جیسا کہ حوالہ درج کیا گیا ہے کہ حیات نورالدین میں درج اس اقتباس کے مطابق حکیم فیروزالدین صاحب کے والد کا نام حکیم الٰہ دین صاحب تھا اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ نے کچھ عرصہ حکیم الٰہ دین صاحب سے بھی حکمت کی تعلیم حاصل کی تھی۔ مرقاۃالیقین فی حیات نورالدین میں بھی حکیم الٰہ دین صاحب کا ذکر تین مرتبہ آیا ہے۔ یہ حوالے درج کیے جاتے ہیں۔
’’اسی زمانہ میں حکیم الٰہ دین لاہوری سے نیاز حاصل ہوا مگر فارسی اور خوش خطی کے شغل نے موقع نہ دیا کہ کوئی استفادہ کرتا۔‘‘ (مرقاۃ الیقین فی حیات نورالدین صفحہ۷۴)
’’تھوڑے دنوں کےبعد لاہور آگیا۔ عربی تو پڑھتا ہی تھا۔ حکیم الٰہ دین صاحب لاہوری مقیم گمٹی بازار میرے استاد مقرر ہوئے اور وہ مجھے موجز پڑھاتے تھے۔ عربی عبارت نہایت صحیح پڑھنا اور تلفظ میں بڑی احتیاط کرنا ان کو ہمیشہ مد نظر تھا۔چند روز کے بعد مجھ کو بھیرہ آنا پڑا اور اس دلچسپ علم کے درس سے محروم ہوا۔‘‘ (مرقاۃ الیقین فی حیات نورالدین صفحہ ۷۵)
اس کے بعد حضور لکھنؤ میں اپنے استاد حکیم علی حسین صاحب لکھنوی کے ساتھ اپنی ملاقات کے حوالے سے بیان کرتے ہیں : ’’حکیم الٰہ دین صاحب لاہوری مرحوم اور حکیم محمد بخش لاہوری مرحوم سے کسی قدر موجز تو میں پڑھ ہی چکا ہوں اور علمی مباحثات کے لیے میری پہلی تعلیم کافی سے بھی زیادہ تھی۔ میں نے عرض کیا قانون شروع کرادو۔‘‘ (مرقاۃ الیقین فی حیات نورالدین صفحہ۸۸)
حکیم فیروزالدین صاحب
جیسا کہ یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ حکیم الٰہ دین صاحب کے صاحبزادے حکیم فیروزالدین صاحب نے ایک کتاب رموز الاطباء لکھی تھی اور اس کتاب میں اس دور کے نامور طبیبوں کے حالات زندگی اور نسخے درج کیے تھے۔ حکیم فیروز الدین صاحب وکیل ہونے کے علاوہ مشہور طبیب بھی تھے۔ اور انہوں نے طب کے بارے میں کچھ کتب بھی تحریر کی تھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ۱۹۰۷ء میں ایک رسالہ ’حکمت‘ بھی جاری کیا۔اس کے علاوہ طب کا ایک اور رسالہ ’رفیق الاطباء‘ بھی آپ کی زیر ادارت نکلتا رہا۔حکیم فیروزالدین صاحب نے اس کتاب کے آغاز میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ کے حالات زندگی شائع کیے تھے۔ اس کتاب سے یہ حالات زندگی نیچے درج کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے واقعات مرقاۃالیقین فی حیات نورالدین اور حیات نورالدین میں بھی موجود ہیں لیکن اس لحاظ سے یہ حالات قابل توجہ ہیں کہ انہیں ایک ایسی معروف شخصیت نے تحریر کیا ہے جن کا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔اس نوٹ سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ جیسا کہ اوپر یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ حکیم فیروزالدین صاحب کے والد کا نام حکیم الٰہ دین صاحب تھا لیکن اس نوٹ میں ان کا نام حکیم علائوالدین درج ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا اصل نام علائوالدین ہی تھا لیکن اپنی زندگی میں ہی کسی وجہ سے وہ حکیم الٰہ دین کے نام سے مشہور ہو گئے تھے۔ ان کے ایک اور صاحبزادے حکیم احمدالدین صاحب نے ’’ کاشف الرموز شر موجز‘‘ تحریر کی تھی جو کہ پہلی مرتبہ ۱۹۰۵ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس سے قبل فارسی کے ایک نوٹ میں یہ وضاحت موجود ہے کہ حکیم علائوالدین صاحب حکیم الٰہ دین لاہوری کے نام سے معروف ہیں۔ اس کتاب کی تصحیح حکیم فیروزالدین صاحب نے کی تھی۔ حکیم احمدالدین صاحب کے زیر ادارت بھی طب کا ایک رسالہ ’’ تبصرۃ الاطباء‘‘ نکلتا رہا۔ یہ رسالہ انجمن خادم الحکمت کے زیر انتظام نکلتا تھا۔ اس انجمن کا دفتر شاہدرہ (لاہور) میں تھا۔ بہر حال رموز الاطباء میں شائع شدہ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کے حالات زندگی پر مضمون درج ذیل ہے۔
مولوی حکیم نورالدین صاحب بھیروی
آپ کی پیدائش ۱۲۵۸ھ کے قریب یا ۱۸۴۱ء کے قریب ہوئی ہے۔آپ نے بچپن میں معمولی تعلیم قرآن شریف وغیرہ اپنی والدہ ماجدہ سے حاصل کر لی تھی۔مگر بڑے ہونے پر آپ کو تعلیم میں اس قدر محویت کا موقع نہیں ہوا کہ آپ کی دماغی قوتیں کمزور ہو جائیں۔ جس قدر اساتذہ سے آپ کو پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ وہ مہربان رہے ہیں اور علاوہ اس کے قواعد تعلیم کے پورے ماہر تھے۔ اور آپ کو بے فائدہ کی دماغی محنتوں سے جو عموماََ بے سمجھ استادوں کے پلے پڑے طالب علموں کو اٹھانی پڑتی ہیں۔ ان لائق استادوں نے بچائے رکھا۔اس کے ظاہر کرنے سے میرا مطلب یہ ہے کہ پختگی کے زمانہ تک آپ کے قویٰ کو مضبوط ہونے کا کافی موقع ملتا رہا ہے۔ گو پندرہ سولہ سال کی عمر کے بعد جب کہ آپ کی دماغی قوتیں اپنی پوری طاقت حاصل کر چکی تھیں۔تحصیل علوم اور مشاغل علمی میں آپ کو سخت سے سخت محنتیں اٹھانی پڑیں اور دماغ سے زیادہ کام لیا گیا ہے مگر ابتدائی طاقت اور پختگی کی وجہ سے آپ کو زیادہ تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ آپ نے تحصیل علم کے واسطے ہندوستان کے مختلف شہروں کی سیر کی ہے۔ اور مختلف اساتذہ سے درس حاصل کیا ہے۔ فارسی لاہور میں منشی محمد قاسم صاحب سے پڑھی۔اور یہ پہلی تعلیم ہے۔بعد ازاں مختلف جگہوں کی سیر کرتے رہے۔ طب کا آغاز بھی پنجاب ہی سے ہوا ہے اور اصل طب کے استاد لکھنؤ کے ایک مشہور حکیم جناب مولوی علی حسین صاحب لکھنوی ہیں۔ دو تین سال برابر آپ نے حکیم صاحب سے صرف طب کی تحصیل کی اور آپ کے پاس رہے۔مطب دیکھا اس غرض کے واسطے آپ لکھنؤ تشریف لے گئے تھے۔ وہاں حکیم صاحب سے درس لینے کے علاوہ مختلف اساتذہ سے مختلف علوم پڑھتے رہے۔خدا کی شان جب آپ کی طبیعت لکھنؤ سے اچاٹ ہوئی اور لکھنؤ سے رام پور آنے کا ارادہ کیا۔ تو انہی دنوں میں آپ کے استاد حکیم علی حسین صاحب کو نواب کلب علی خان رامپور کا تار آیا کہ ایک مریض کے علاج کے واسطے آئو اور اگر منظور ہو تو ملازمت بھی دی جاوے گی۔اس قدر موقع پا کر آپ نے زور دے کر حکیم صاحب کو بھی رامپور آنے پر مجبور کر دیا۔گو ان کا ارادہ نہیں تھا مگر آپ لے ہی آئے اور اس طرح آپ کو حکیم صاحب سے فیض حاصل کرنے کا پوری طرح موقع ملتا رہا۔آپ نے علاوہ اور بہت سے حکیموں کے نیازمند کے والد ماجد جناب حکیم علائوالدین لاہوری سے بھی کسی قدر طب پڑھی ہے۔جن کی آپ بہت تعریف فرماتے ہیں۔آپ کی عالی دماغی کا ثبوت بچپن سے ہی مل رہا ہے اور ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت بھی آپ کے خیالات بہت اعلیٰ تھے۔جس وقت آپ پہلے پہل سید حکیم علی حسین صاحب لکھنوی کے پاس پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے اور انہوں نے دریافت کیا کہاں تک تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہوتوآپ نے جواب دیا کہ میں اس قدر پڑھنا چاہتا ہوں کہ افلاطون کے برابر ہو جائوں اور فی الحقیقت وہ لوگ جن کے ارادے بہت بڑے ہوتے ہیں۔وہ کچھ نہ کچھ بن ہی جاتے ہیں اور اس کے واسطے ہمارے حکیم صاحب زندہ مثال ہیں خدا آپ کو مدت تک سلامت رکھے (اب سال ڈیڑھ سے انتقال فرماگئے ہیں) اس وقت ہی نہیں بچپن ہی سے آپ کی رائے ہے کہ استاد سے مجرّبات کی نسبت دریافت کرنا کوئی ضروری نہیں۔علاج کرنے میں سب سے ضروری امر تشخیص ہے۔تشخیص درست ہوجانے پر علاج کرنا بہت آسان ہے۔ چنانچہ آپ نے آج تک کسی استاد سے مجرّب نسخہ کی خواہش ظاہر نہیں کی۔آپ کو حکیم صاحب موصوف نے ایک موقع پر اپنی قلمی بیاض دی کہ آپ اسے نقل کر لیں۔اور اپنے پاس رکھیں۔مگر آپ نے اس بات کی کچھ پرواہ نہیں کی۔اور حکیم صاحب کے اسراری نسخہ جات کو آپ مطب میں بے حفاظت چھوڑ کر چلے آئے۔حکیم صاحب نے دوبارہ بیاض آپ کو دی۔تو آپ نے فرمایا میں اسے کیا کروں۔نسخہ لکھنا تو تشخیص پر منحصر ہے اور اس میں کوئی تشخیص نہیں۔حکیم صاحب متبسم ہوکر خاموش ہو رہے۔اور فی الواقعہ جس قدر نسخہ جات کتب میں لکھے ہوئے پائے جاتے ہیں۔سب کے سب صحیح درست اور مجرب ہیں۔اور ایک بھی اکسیر سے کم مرتبہ نہیں رکھتا۔مگر شرط یہ ہے کہ ان کو ان کی مناسب جگہ پر برتا جاوے اور اس غرض کے واسطے تشخیص میں کمال پیدا کر لینا ضروری ہے۔چنانچہ میں حکیم صاحب کو ہی مثالاََ پیش کرتا ہوں۔
جب آپ رامپور میں حکیم علی حسین صاحب کے پاس تھے تو اس وقت ایک ماشرا کا مریض آیا جس کا سر بہت بڑا ہو گیا تھا۔حتٰی کہ ہاتھی کے سر سے مشابہت رکھتا تھا حکیم صاحب نے آپ کو اس کا نسخہ لکھنے کو کہا۔آپ نے مختلف کتابیں نکالیں اور سب ماشرا کی بحث دیکھ کر دو چار نسخے تجویز کر دیے۔حکیم صاحب نے دیکھے اور خود بھی کتابوں سے مقابلہ کر کے اس کی تصدیق کی اور بیمار کو دے دیے۔جن سے اس کو آرام ہو گیا۔ اسی موقع پر حکیم صاحب نے اپنی بیاض نقل کرنے کو آپ کودی تھی جس کا میں پیچھے ذکر کر آیا ہوں، خلاصہ یہ کہ تشخیص مرض میں حد سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔
علاوہ طب کے اوربھی بہت سے علوم میں آپ کو تبحّر حاصل ہے اور فقہ اور حدیث میں تو ید طولےٰ رکھتے ہیں۔علم حساب۔ اقلیدس۔ الجبرا وغیرہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ غرضیکہ ہر فن میں کمال ہے۔
حدیث آپ نے زیادہ تر مکہ شریف و مدینہ شریف میں دیکھی ہے۔ہندوستان میں بہت اصحاب ایسے ملیں گے جنہوں نے عرب اور مصر کی سیر صرف اس واسطے کی ہو کہ وہاں جاکر تحصیل علم کریں۔ اس واسطے ہم کو ناز کرنا چاہیے کہ آپ ہندوستان کے ان بزرگوں میں سے ہیں جنہوں نے عرب میں تحصیل علم کی۔طب کے متعلق آپ نے طب یونانی میں ہی کمال حاصل نہیں کیا بلکہ ڈاکٹری اور ویدک میں بھی پوری طرح ماہر ہیں۔ اور خصوصیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈاکٹری کی کتابوں کو عربی میں پڑھنے کے علاوہ مصر کی مطبوعہ کتب سے آپ نے بہت مدد لی۔ مصر میں ڈاکٹری کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ موجود ہے اور وہ لوگ جنہیں انگریزی کا محاورہ نہیں ہے۔ نئی تحقیقات سے واقفیت حاصل کرنے کے واسطے وہاں کی مطبوعہ کتب کا مطالعہ فرماتے ہیں۔اور اس طرح پورے ڈاکٹر بن جاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے مولوی صاحب موصوف نے عربی کی ہی مدد سے ڈاکٹری پر پوری طرح عبور حاصل کر لیا ہے اور اکثر ڈاکٹری طریق سے علاج فرماتے ہیں۔ویدک آپ نے ایک پنڈت صاحب سے جموں میں سبقاََ پڑھی تھی (وہی لوگ اصل کمال حاصل کرتے ہیں جو کسی چیز کے حاصل کرنے میں اپنی ذلت نہ سمجھیں اور ایک اعلیٰ درجہ کا شخص ہونے کی حیثیت میں بھی تحصیل کے واسطے چھوٹوں کو اپنا استاد بنا لیں ) جناب مولوی صاحب موصوف نے ویدک اس وقت پڑھی ہے۔ جب کہ آپ ریاست جموں میں خاص مہاراج کے طبیب تھے۔ اگرچہ آپ کے ویدک کے استاد جناب پنڈت ہرنام داس صاحب جموں میں ایک معمولی وید تھے۔ مگر آپ نے اپنے اعزاز کا کچھ خیال نہ کیا اور لوگوں کے کہنے سننے پر مطلق توجہ نہیں فرمائی۔ اپنے شوق کو پورا کرتے رہے حتٰی کہ ایک دفعہ خاص دربار میں آپ پر اس کی نسبت حملہ ہوا کہ آپ ایک پنڈت صاحب سے حکمت پڑھتے ہیں جو دربار کے ایک معمولی ملازم ہیں۔ گو لوگوں نے اس بات کو اس واسطے ظاہر کیا تھا کہ خدانخواستہ آپ کو شرمندہ کیا جائے۔مگر جب مہاراجہ صاحب نے آپ سے دریافت کیا کہ آپ پنڈت ہرنام داس کی دربار میں اتنی عزت کیوں کرتے ہیں۔ توآپ نے جواب دیا وہ میرے استاد ہیں تو مہاراجہ صاحب کے نزدیک آپ کی وقعت اور زیادہ ہو گئی۔
ان لوگوں کو جو اپنے زعم میں اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں۔ اور چھوٹوں سے تحصیل پر شرماتے ہیں۔ اور اس واسطے کورے کے کورے رہ جاتے ہیں۔اس بات سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ مولوی صاحب نے اس طریق پر عمل کیا۔اور آج پورے وید بھی ہیں۔ویدک کے پڑھنے کی طرف آپ کا میلان ہونے کے واسطے ایک عجیب واقعہ ہوا ہے کہ آپ نے مرض ذو سنطاریا کے علاج میں سبوس۔ اسبغول۔ انجبار اور شیرہ بکن سے کامیابی حاصل کی۔جو ایک ویدک نسخہ ہے۔آپ اس کے فوا ئد کو دیکھ کر اس پر فریفتہ ہو گئے۔اور ویدک پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ یہ ہوتے ہیں طریقے کسی چیز کا علم حاصل کرنے کے۔ اور اسی طرح کے لوگ ہمیشہ کامیاب ہوا کرتے ہیں۔ہونہار لوگوں کی خدا بھی مدد کرتا ہے اور ایسے ہی غیرمعمولی طریقوں سے آپ تحصیل علم کے واسطے بھوپال تشریف لے گئے۔وہاں پڑھا کرتے تھے۔ وہاں ایک رئیس کے لڑکے کو سوزاک ہو گیا۔اس نے اپنے ایک بزرگ شیخ کو کہا کوئی ایسا طبیب علاج کے واسطے بلا دو۔ جسے عام لوگ نہ جانتے ہوں تاکہ میرا راز ظاہر نہ ہو ان بزرگ کا نام پیر ابو احمد مجددی تھا وہ آپ کو وہاں لے گئے۔ آپ نے نہایت غور سے علاج فرمایا اور آب بیخ کیلا میں شورہ قلمی ملا کر پلایا۔ خدا کی مہربانی سے اسے آرام ہو گیا۔ اس نے آپ کو خلعت اور اس قدر روپیہ دیا کہ آپ پر حج فرض ہو گیا۔ اس بات پر آپ کو مناسب معلوم ہوا کہ حج بھی کر آویں اور وہاں ہی حدیث میں کامل بن آویں۔ پس اسی تحریک پر آپ مکہ تشریف لے گئے۔اور پورے مولوی بن کر آئے۔ یعنی ایسے کامل بنے کہ مولوی کا لفظ جن معنوں کے واسطے وضع کیا گیا ہے وہ آپ پر پوری طرح صادق آ سکتا ہے نہ کہ آج کل کے سے مولوی اور یہ آپ کا ہی حصہ ہے۔ طب میں آپ نے پوری طرح شہرت حاصل کی ہے اور ہندوستان میں مختلف جگہوں پر آپ نے مطب کر کے اپنے کمال کا سکہ بٹھا دیا ہے۔ آپ ریاست جموں میں ایک معقول تنخواہ پر خاص طبیب رہے ہیں اور معرکہ کے علاج کیے ہیں اور بیسیوں دفعہ خلعتیں حاصل کی ہیں۔ اور خاص معزز اور کامل مانے گئے ہیں ہندوستان میں آپ کی طبابت کا بھی ڈنکہ بج رہا ہے۔ مہاراجہ صاحب پونچھ کو زلزلہ میں ایک قسم کا اختلاج قلب ہو گیا۔آپ بلائے گئے۔ آپ نے علاج کیا اور آپ کامیاب ہوئے۔
آپ کا مقولہ ہے کہ خدا تعالیٰ جب چاہتا ہے آدمی کو مالامال کر دیتا ہے اور اس کی مرضی پر منحصر ہے کہ ناکامی میں کامیابی عطا کرے اور کامیابی کی صورت میں ناکامی۔آپ ایسے متحمل مزاج آدمی ہیں کہ معمولی آدمیوں نے آپ پر حملے کیے مگر آپ نے پرواہ نہیں کی۔ عوام نے آپ کی تضحیک کی مگر آپ نے التفات ہی نہیں کیا۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ کے پاس بھیرہ میں ایک مریض آیا۔جس کو ناک کا کوئی مرض تھا۔آپ نے فرمایا کہ خچر کی تازہ لید کا پانی ناک میں ٹپکانا بہت مفید ہے۔ اس نے تمسخر سمجھا۔ اور کہا آخر موتر سینگھئے ہی تو ہیں (یعنی پیشاب سونگھنے والے) مگر آپ نے کچھ جواب نہیں دیا۔اسی طرح جموں میں ایک دفعہ اتوار کے روز ایک شخص کو مربہ آملہ کھانے کو آپ نے بتایا۔ اس نے جواب دیا کہ آپ کو اتنی بھی خبر نہیں کہ آج اتوار ہے۔ اس سے آپ نتیجہ نکالتے ہیں کہ طبیب کو عوام کے رسوم و رواج سے واقفیت رکھنی بھی ضروری ہے۔اب آپ قادیان ضلع گورداسپور میں مقیم ہیں اور احمدی فرقہ کے ممتاز اور سربرآوردہ ممبر ہیں۔ اگرچہ آپ کی فضیلت اور طبی کمال کی کل ہندوستان عزت کرتا ہے(افسوس کہ پچھلے دنوں خدا مغفرت کرے آپ کا انتقال ہو گیا۔انا للہ و انا الیہ رٰجعون)
ویسے تو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی بہت سی کتب اور رسائل میں شائع ہوئے ہیں لیکن اس مضمون کی اس لیے ایک اہمیت ہے کہ کیونکہ یہ ایک شخص کا لکھا ہوا ہے جس کا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اور اس کا مرکز آپ کے زمانہ طالب علمی کے حالات اور آپ کی طبی زندگی ہے۔




