حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭… پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کے روز بتایا کہ اسلام آباد میں دہشت گردانہ حملے سے تعلق کے شبے میں چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے نواح میں ایک شیعہ مسجد میں نماز جمعہ کے وقت ہوئے خود کش حملے میں تیس سے زائد افراد ہلاک اور ایک سو ساٹھ سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔محسن نقوی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ گرفتار ہونے والوں میں مبینہ ماسٹر مائنڈ بھی شامل ہے، جنہیں پشاور اور نوشہرہ میں چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا۔تکنیکی اور انسانی انٹیلی جنس کی بنیاد پر خیبر پختونخوا کے اضلاع پشاور اور نوشہرہ میں مشترکہ چھاپے مارے گئے، جن کے نتیجے میں چار سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ کراچی سے خود کش بمبار کے بہنوئی کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔دہشت گرد تنظیم داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔اس حملے کو سنہ ۲۰۰۸ء میں میریٹ ہوٹل بم دھماکے کے بعد اسلام آباد کا سب سے خونریز واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

٭… سیکرٹری جنرل اقوامِ متحدہ انتونیو گوتریس نے اسلام آباد کی مسجد پر دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عبادت گاہوں اور شہریوں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں۔سیکرٹری جنرل اقوامِ متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ حملے کےذمے داروں کی نشاندہی کر کے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے دہشت گرد حملے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کی ہے اور کہا ہے کہ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔

٭… غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی میٹنگ ۱۹؍فروری کو امریکہ میں منعقد کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں اراکین کو دعوت نامے بھیج دیے گئے ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بورڈ ممبران اور غزہ ایگزیکٹو کمیٹی اراکین کی واشنگٹن میں یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں میزبانی کریں گے۔پچیس ممالک نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ برطانیہ، فرانس اور ناروے سمیت اہم یورپی ممالک نے بورڈ کو اقوام متحدہ کی حیثیت چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیتےہوئے اس میں شمولیت سے انکار کردیا ہے۔ابتدا میں تنقید کرنے والے اسرائیلی وزیراعظم نے بھی بورڈ آف پیس کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کردی تھی۔ میٹنگ کا ایجنڈ ابھی سامنے نہیں لایا گیا تاہم امریکی میڈیا کے مطابق غزہ بورڈ کا قیام صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ غزہ ڈیل کے دوسرے حصے پر عمل قرار دیا گیا ہے جس میں حماس کو غیرمسلح کرنا اور غزہ کی تعمیر نو ہے۔

٭… ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جوہری افزودگی ایران کا ناقابل تنسیخ حق ہے، اسے جاری رہنا چاہیے۔عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ مسقط میں امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے دوران امریکی وفد سے مصافحہ بھی ہوا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ایران خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، جواباً امریکی سرزمین پر حملے کا امکان نہیں ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جوہری افزودگی ایران کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے، اسے جاری رہنا چاہیے، بمباری سے بھی وہ ہماری جوہری صلاحیتوں کو ختم نہیں کر سکتے۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم افزودگی کے حوالے سے ایک یقین دہانی کے معاہدے تک پہنچنے کےلیے تیار ہیں، ایران کا میزائل پروگرام کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا، یہ قومی دفاع کا معاملہ ہے۔عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ بات چیت جلد ہونی چاہیے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button