اولاد کے لیے ہمیشہ اس کی نیکی کی خواہش کرو
اولاد کے لیے ہمیشہ اس کی نیکی کی خواہش کرو۔اگر وہ دین اور دیانت سے باہر چلے جاویں۔پھر کیا؟ اس قسم کے امور اکثر لوگوں کو پیش آجاتے ہیں۔بد دیانتی خواہ تجارت کے ذریعہ ہو یا رشوت کے ذریعہ یا زراعت کے ذریعہ جس میں حقوقِ شرکاء کو تلف کیا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہی میری سمجھ میں آتی ہے کہ اولاد کے لیے خواہش ہوتی ہے کیونکہ بعض اوقات صاحب جائیداد لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ کوئی اولاد ہوجاوے جو اس جائیداد کی وارث ہو تاکہ غیروں کے ہاتھ میں نہ چلی جاوے مگر وہ نہیں جانتے کہ جب مر گئے تو شرکاء کون اور اولاد کون۔سب ہی تیرے لیے تو غیر ہیں۔اولاد کے لیے اگر خواہش ہو تو اس غرض سے ہو کہ وہ خادم دین ہو۔ (ملفوظات جلد ۷ صفحہ ۳۲۱، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لیے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤاور اُس کو متقی اور دیندار بنانے کے لیے سعی اور دعا کرو۔ جس قدر کوشش تم اُن کے لیے مال جمع کرنے کی کرتے ہواُسی قدر کوشش اِس امر میں کرو۔(ملفوظات جلد ۴صفحہ ۴۴۴، ایڈیشن۱۹۸۸ء)
جب تک اولاد کی خواہش محض اِس غرض کے لیے نہ ہو کہ وہ دیندار اور متقی ہو اور خدا تعالیٰ کی فرماں بردار ہو کراُس کے دین کی خادم بنے بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیّت اور گناہ ہے اور باقیات صالحات کی بجائے اس کا نام باقیات سیّئات رکھنا جائز ہو گا۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مَیں صالح اور خد اترس اور خادمِ دین اولاد کی خواہش کرتا ہوں، تو اُس کا یہ کہنا بھی نرا ایک دعویٰ ہی دعویٰ ہو گا جب تک کہ وہ اپنی حالت میں ایک اصلاح نہ کرے۔
(ملفوظات جلد اوّل، صفحہ۵۶۰۔۵۶۱، ایڈیشن۱۹۸۸ء)
مزید پڑھیں: غرباء کے گروہ کو خدا کے فضل کا بہت بڑا حصہ ملتا ہے



