قرآن کریم –اللہ میاں کاخط
قرآں خدا نما ہے خدا کا کلام ہے بےاس کےمعرفت کاچمن ناتمام ہے (درثمین)
اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ۔خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ۔اِقۡرَاۡ وَرَبُّکَ الۡاَکۡرَمُ۔الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ۔عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ (العلق:۲-۵)پڑھ اپنے ربّ کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔ اُس نے انسان کو ایک چمٹ جانے والے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ، اور تیرا ربّ سب سے زیادہ معزز ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ ذراغورفرمائیے!جب فرشتوں کاسردارفرشتہ جبریل علیہ السلام نبیوں کےسردارنبی محمدرسول اللہ ﷺ پرالہامی کتابوں کی سردارکتاب قرآن کریم فرقان حمیدکی آیات مبارکہ لےکرنازل ہوتاہےتوآغازہی میں” پڑھنے“ کاحکم ہوتاہےاس سےطلب علم کی فضیلت کااندازہ لگائیے۔اورپھرایک یا دوسال نہیں بلکہ ۲۳سال کےطویل عرصہ میں یہ زندگی بخش کلام نبی کریمﷺپرنازل ہوتا ہےتاکہ آہستہ آہستہ صدیوں کے زنگ دور ہوں اوردلوں کی مردہ اور بنجر زمین میں روحانیت نشوونما پانے لگے۔اللہ تعالیٰ کا ایک لمبے عرصے تک اپنا کلام نازل کرتے رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کلام الٰہی اُس کا پسندیدہ کلام ہے۔جو حقائق ومعرفت کا خزانہ اور اصلاح نفس کا اہم ذریعہ ہے۔ اس میں ہمارے لیےایک عمیق سبق پنہاں ہےکہ ہم اللہ تعالیٰ کےاس آخری شرعی نبی پرنازل ہونےوالی آخری کامل ومکمل کتابِ ہدایت کوغورسےپڑھیں،نہ تھکیں اورنہ ہی اسےسیکھنے میں سستی برتیں۔
تلاوت قرآن کریم کےچندآداب :
1۔ قرآن کریم کی تلاوت سےقبل پاک صاف اورباوضوہوکرقرآن کریم کوپکڑنا۔ابتدااستعاذہ اور بسم اللہ سے کرنی چاہیے۔ 2۔تلاوت قرآن کریم کےدوران سرڈھانپنا، خاموش رہنا اورغورسےسننا۔
3۔قرآن کریم کی تلاوت،درست تلفظ اورخوش الحانی سے کرنا۔
4۔ایسی آیات پررُک کرٹھہرکر،غوروفکرکرتےہوئےگزرناجن کامفہوم ہم پرواضح نہیں ہوتا۔
5۔اوراگر اللہ تعالیٰ کےاحکامات میں سےکوئی حکم سمجھ میں نہ آئے توحضرت مسیح موعودعلیہ السلام یاپھرآپؑ کےخلفائےکرام کی روح پروراوربصیرت افروزتفاسیرمیں بیان فرمودہ نکات سے اُن آیات کوسمجھنااورروحانی پیاس بجھانےکی کوشش کرنا۔
6۔ دورانِ تلاوت رحمت کی آیات پڑھتےہوئے اللہ تعالیٰ سے رحم طلب کرنا،عذاب کی آیات پڑھتےوقت خداتعالیٰ سے اس کی پناہ مانگنا۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ حکیم پر غوروفکرکرنےکی اہمیت کی طرف توجہ دلاتےہوئے فرماتاہے:اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ(محمد:۲۵)پس کیا وہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے؟
کوئی بھی علم،فن یاہنر جدوجہداورمسلسل کوشش کےبغیرحاصل نہیں کیاجاسکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بارےمیں ہماری راہنمائی کرتےہوئےفرماتے ہیں: قرآن شریف پر تدبر کرو۔ اس میں سب کچھ ہے۔ نیکیوں اور بدیوں کی تفصیل ہے اور آئندہ زمانہ کی خبریں ہیں وغیرہ۔ بخوبی سمجھ لو کہ یہ وہ مذہب پیش کرتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے برکات اور ثمرات تازہ بہ تازہ ملتے ہیں۔ انجیل میں مذہب کو کامل طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ اس کی تعلیم اُس زمانے کے حسب حال ہو تو ہو لیکن وہ ہمیشہ اور ہر حالت کے موافق ہرگز نہیں۔ یہ فخر قرآن مجید ہی کو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہر مرض کا علاج بتا یا ہے۔ اور تمام قویٰ کی تربیت فرمائی ہے۔ اور جو بدی ظاہر کی ہے اس کے دُور کرنے کا طریق بھی بتایا ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور دعا کرتے رہو۔اوراپنےچال چلن کو اس کی تعلیم کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو۔(ملفوظات جلد ۵صفحہ۱۰۲، ایڈیشن۲۰۰۳ء)فرمایا:پرستش کی جڑ تلاوت کلام الٰہی ہے۔ کیونکہ محبوب کا کلام اگر پڑھا جائے یا سنا جائے تو ضرور سچے محب کے لئے محبت انگیز ہوتا ہے اور شورش عشق پیدا کرتا ہے۔ (سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ۲۸۳)
ہمیں جب اپنے کسی پیارےکاخط آتاہے یاای میل،ٹیکسٹ میسج پرکوئی پیغام ہویاواٹس ایپ پرکوئی سندیسہ،تواُسےایک دفعہ نہیں بلکہ بارہا بڑی محبت سےپڑھتےہیں اورکوشش کرتےہیں کہ اس میں بیان نصائح پرعمل کریں، تاکہ ہمارےوالدین،بزرگوں یابہن بھائیوں جن کی طرف سےہمیں یہ پیغام ملاہے ہمیں ان باتوں پرعمل کرتادیکھ کرخوش ہوں۔ قرآن کریم توخالق ارض وسماءکی طرف سےوہ پیغام ہےجس میں سب کچھ ہے۔نیکیوں پرقدم مارنےکےطریق اوربرائیوں سےبچنےکےاصول،قُربِالٰہیپانےکےذرائع سےلےکرانسان کےعبرت اورنصیحت حاصل کرنے کےلیےگذشتہ اقوام اوران کےمذاہب کےعروج وزوال کےواقعات۔ وحدانیت،شریعت،تاریخ،سائنس،انبیأ اوران پرنازل ہونےوالی تعلیمات۔الغرض ہروہ علم اورنکتہ جوانسان کی روحانی ترقی میں ممدومعاون ہوسکتاہے یااسےزندگی کےاسلوب سکھاکرکامیاب انسان بناسکتاہےاس بےنظیرکتاب میں مذکورہے۔اس لیےاللہ تعالیٰ سےہمیشہ سیدھےرستہ پرچلنےکی دعامانگتےرہناچاہیے۔ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕاِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙصِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ (الفاتحہ:۵-۷)تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے ہم مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھے راستہ پر چلا۔ ان لوگوں کے راستہ پر جن پر تُو نے انعام کیا۔ جن پر غضب نہیں کیا گیا اور جو گمراہ نہیں ہوئے۔ وَمَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ ۚ وَیُجَادِلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِالۡبَاطِلِ لِیُدۡحِضُوۡا بِہِ الۡحَقَّ وَاتَّخَذُوۡۤا اٰیٰتِیۡ وَمَاۤ اُنۡذِرُوۡا ہُزُوًا(الکھف:۵۷)اور ہم پیغمبر نہیں بھیجتے مگر اس حیثیت میں کہ وہ بشارت دینے والے اور انذار کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ باطل کا سہارا لے کر جھگڑتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ حق کو جھٹلا دیں۔ اور انہوں نے میرے نشانات کو اور ان باتوں کو جن سے وہ ڈرائے گئے مذاق کا نشانہ بنا لیا۔ صحابہ رسولﷺ کےدلوں میں ایمانی حلاوت،عشق خدااورعشق رسولؐ اسی کتاب کوپڑھنےاوراس پرعمل کرنےکےنتیجہ میں پیداہواتھااوران کی زندگیوں میں پاک اورروحانی تبدیلیاں بھی اس کتابِ ہدایت میں بیان تعلیمات کوحرزجان بنانےکی وجہ سےرونما ہوئی تھیں۔ امام الزماں مہدیٔ دوراں علیہ السلام نےکیاہی برحق فرمایاہے:
قرآں کتابِ رحماں سِکھلائے راہِ عرفاں
جو اس کے پڑھنے والے اُن پر خدا کے فیضاں
ان پرخدا کی رحمت جواس پہ لائے ایماں
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
ہے چشمۂ ہدایت جس کو ہو یہ عنایت
یہ ہیں خدا کی باتیں اِن سے ملے ولایت
یہ نوردل کو بخشےدل میں کرے سرایت
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
(محمودکی آمین۔ درثمین)
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں مومنوں کی صفات بیان کرتےہوئے فرماتاہے: وَالَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ وَبِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ)( البقرۃ:۵) اور وہ لوگ جو اس پر ایمان لاتے ہیں جو تیری طرف اُتارا گیا اور اس پر بھی جو تجھ سے پہلے اُتارا گیا اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَاِذَا تُلِیَتۡ عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُہٗ زَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا وَّعَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ( سورۃ الانفال:۳)
مومن صرف وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اُس کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ ان کو ایمان میں بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے ربّ پر ہی توکل کرتے ہیں۔
وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۘ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَیَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَیُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَیُطِیۡعُوۡنَ اللّٰہَ وَرَسُوۡلَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ سَیَرۡحَمُہُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ(التوبۃ:۷۱)
مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی ہیں جن پر اللہ ضرور رحم کرے گا۔ یقیناً اللہ کامل غلبہ والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔
اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَۃٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَ اَخَوَیۡکُمۡ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ(الحجرات:۱۱)مومن تو بھائی بھائی ہی ہوتے ہیں۔ پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروایا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَرَسُوۡلِہٖ ثُمَّ لَمۡ یَرۡتَابُوۡا وَجٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَاَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ(الحجرات:۱۶)مومن وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے کبھی شک نہیں کیا اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو سچے ہیں۔
قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙالَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ صَلَاتِہِمۡ خٰشِعُوۡنَ ۙوَالَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَۙ وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ لِفُرُوۡجِہِمۡ حٰفِظُوۡنَ ۙ( المومنون:۲-۶)یقیناً مومن کامیاب ہوگئے۔وہ جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔اور وہ جو لغو سے اِعراض کرنے والے ہیں۔اور وہ جو زکوٰۃ (کا حق) ادا کرنے والے ہیں۔اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والےہیں۔ حضورِانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزقرآن کریم کوسمجھ کرپڑھنےکی طرف توجہ دلاتےہوئےفرماتےہیں: ” تو یہ دعویٰ ہے جو اس کتاب کا ہے اگر تم پاک دل ہو کر اس کی طرف آؤ گے، ہر کانٹے سے ہر جھاڑی سے جو تمہیں الجھا سکتی ہے، تمہیں بچنے کی تمنا ہے اور نہ صرف تمہیں بچنے کی تمنا ہے بلکہ اس سے بچنے کی کوشش کرنے والے بھی ہو اور تمہارے دل میں اگر اس کے ساتھ خدا کا خوف بھی ہے، اس کے حکموں پر چلنے کی کوشش بھی اور خداتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی خواہش اور تڑپ بھی ہے پھر یہ کتاب ہے جو تمہیں ہدایت کی طرف لے جائے گی، اور جب انسان، ایک مومن انسان تقویٰ کے راستوں پر چلنے کا خواہشمند انسان قرآن کریم کو پڑھے گا، سمجھے گا اور غور کر ے گا اور اس پر عمل کرے گاتو اللہ تعالیٰ اس بات کی ضمانت دیتاہے کہ وہ اس ذریعے سے ہدایت کے راستے بھی پاتا چلا جائے گا اور تقویٰ پر بھی قائم ہوتا چلا جائے گا، تقویٰ میں ترقی کرتا چلا جائے گا۔ اور قرآن کریم کی ہدایت تمہیں دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب کرے گی۔ تم اللہ تعالیٰ کی رضا کو پانے والے بھی ہو گے۔ اللہ تعالیٰ کیونکہ انسانی فطرت کو بھی جانتا ہے اس لیے ہمیں قرآن کریم نے اس بات کی بھی تسلی دے دی کہ یہ کام تمہارے خیال میں بہت مشکل ہے۔ عام طور پر تمہیں یہ خیال نہ آئے کہ اس کتاب کے احکام ہر ایک کو سمجھ نہیں آ سکتے، ہر ایک کے لیے ان کو سمجھنا مشکل ہے۔ اگر کوئی سمجھ آ بھی جائیں تو اس پر عمل کرنا مشکل ہے۔ تو اس بارے میں بھی قرآن کریم نے کھول کر بتا دیا کہ یہ کوئی مشکل نہیں ہے۔ یہ بڑی آسان کتاب ہے، اور اس کی یہی خوبی ہے کہ یہ ہر طبقے اور مختلف استعدادوں کے لوگوں کے لیے راستہ دکھانے کا باعث بنتی ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر وہ شخص جو اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہے، ہدایت کے راستے تلاش کرنا چاہتا ہے، وہ نیک نیت ہو کر، پاک دل ہوکر اس کو پڑھےاور اپنی عقل کے مطابق اس پر غور کرے،اپنی زندگی کو اس کےحکموں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔“ (خطبہ جمعہ ۲۴؍ستمبر۲۰۰۴ء،الفضل انٹرنیشنل۸؍ اکتوبر۲۰۰۴ء،صفحہ۵)
ایک احمدی مسلمان کی حیثیت سےہماری یہ اوّلین ذمہ داری ہے کہ ہم کلام اللہ کومحبت،لگن اورذوق وشوق سےپڑھیں اوراللہ تعالیٰ سےمددمانگتےہوئےاپنی زندگیوں کوکتابِ رحمان میں بیان اصولوں کےمطابق گزارنےکی کوشش کریں۔اے اللہ تواس کارِخیرمیں ہماری مددفرما۔آمین۔




