خدا نے اپنی کتاب میں آدمؑ کی بریّت ظاہر کی
یادر ہے کہ یہ حوا کا گناہ تھا کہ براہ راست شیطان کی بات کو مانا اور خدا کے حکم کو توڑا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ حوّا کا نہ ایک گناہ بلکہ چار گناہ تھے (۱) ایک یہ کہ خدا کے حکم کی بے عزّتی کی اور اُس کو جھوٹا سمجھا (۲) دوسرا یہ کہ خدا کے دشمن اور ابدی لعنت کے مستحق اور جھوٹ کے پتلے شیطان کو سچا سمجھ لیا (۳) تیسرا یہ کہ اُس نافرمانی کوصرف عقیدہ تک محدود نہ رکھا بلکہ خدا کے حکم کو توڑ کر عملی طور پر ارتکاب معصیت کیا (۴) چوتھا یہ کہ حوّا نے نہ صرف آپ ہی خدا کا حکم تو ڑا بلکہ شیطان کا قائم مقام بن کر آدم کو بھی دھوکا دیا تب آدم نے محض حوا کی دھوکا دہی سے وہ پھل کھایا جس کی ممانعت تھی اسی وجہ سے حوا خدا کے نزدیک سخت گنہگار ٹھہری مگر آدم معذور سمجھا گیا محض ایک خفیف خطا جیسا کہ آیت کریمہ وَلَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا (طٰہٰ:۱۱۶) سے ظاہر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آدم نے عمداً میرے حکم کو نہیں تو ڑا بلکہ اس کو یہ خیال گذرا کہ حوّا نے جو یہ پھل کھایا اور مجھے دیا شاید اُس کو خدا کی اجازت ہوگئی جو اس نے ایسا کیا۔یہی وجہ ہے کہ خدا نے اپنی کتاب میں حوا کی بریّت ظاہر نہیں فرمائی مگر آدم کی بریّت ظاہر کی یعنی اُس کی نسبت لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا فرمایا اور حوّا کو سز اسخت دی۔ مرد کا محکوم بنایا اور اس کا دستِ نگر کردیا اور حمل کی مصیبت اور بچے جننے کا دکھ اس کو لگا دیا اور آدم چونکہ خدا کی صورت پر بنایا گیا تھااس لئے شیطان اس کے سامنے نہ آسکا۔اسی جگہ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس شخص کی پیدائش میں نر کا حصّہ نہیں وہ کمزور ہے اور توریت کے رو سے اس کی نسبت کہنا مشکل ہے کہ وہ خدا کی صورت پر یا خدا کی مانند پیدا کیا گیا۔ہاں آدم بھی ضرور مرگیا لیکن یہ موت گناہ سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ مرنا ابتدا سے انسانی بناوٹ کا خاصہ تھا اگر گناہ نہ کرتا تب بھی مرتا۔
(تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۷۳ حاشیه در حاشیه)




