آنحضرتﷺ کے غلام صادق حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی عبادت الٰہی کا دلنشین اور ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۳؍فروری ۲۰۲۶ء
٭… آنحضرتﷺ کے اسوے پر سب سے زیادہ چلنے کے نظارے ہمیں اس زمانےمیں آپؐ کے غلامِ صادق حضرت مسیح موعودؑ میں نظر آتے ہیں
٭… مَیں نے کبھی ریاضتِ شاقہ بھی نہیں کی اور نہ کبھی زمانہ حال کےبعض صوفیوں کی طرح مجاہداتِ شدیدہ میں اپنے نفس کو ڈالا۔ نہ گوشہ نشینی کے التزام سے کبھی چلّہ کشی کی۔ نہ کبھی خلافِ سنّت کوئی ایسا عملِ رہبانیت کیا جس پر خدا تعالیٰ کے کلام کو اعتراض ہو(حضرت مسیح موعودؑ)
٭… حضرت مسیح موعودؑ کی آواز میں بہت سوز اور درد تھا۔ آپؑ کی قراءت لہردار ہوتی تھی۔ آپؑ کو قرآن کریم اور سنتِ رسولؐ سے عشق تھا، آپؑ کی عبادات کبھی اتباعِ رسولؐ سے متجاوز نہ ہوتیں۔ نماز کے علاوہ آپؑ کا وظیفہ قرآن کریم کی تلاوت، درود شریف اور استغفار تھا۔ قرآن سے تو آپؑ کو عشق تھا۔ دن رات ، اٹھتے بیٹھتے اور ٹہلتے ہوئے قرآن پڑھا کرتے، اور زار زار روتے جاتے
٭… اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس سوچ کے ساتھ نمازیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہم نے تو حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی بیعت ہی اس شرط کے ساتھ کی ہے کہ نمازیں خدا اور اس کے رسولؐ کے حکم کے موافق ادا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کرکے اس کی حمد کرتے ہوئے نمازیں ادا کریں گے
٭… مکرمہ امة الشریف صاحبہ اہلیہ محمود احمد بٹ صاحب آف نارووال اور مکرم شیخ بشیر احمد صاحب آف لاہور کی وفات پر ان کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۳؍فروری ۲۰۲۶ء بمطابق ۱۳؍تبلیغ ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۱۳؍فروری ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
آنحضرتﷺ کے اسوے پر سب سے زیادہ چلنے کے نظارے ہمیں اس زمانےمیں آپؐ کے غلامِ صادق حضرت مسیح موعودؑ میں نظر آتے ہیں۔
آنحضرتﷺ کی عبادت اور اس حوالے سے نصائح وغیرہ گذشتہ خطبات میں بیان کیے گئے۔
آج مَیں حضرت مسیح موعودؑ کی عبادات کے وہ واقعات پیش کروں گا جو آنحضورﷺکی اتباع میں ہمیں نظر آتے ہیں ۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت مرزا محمد دین صاحب ؓنے انہیں لکھ کر بھیجا کہ مَیں اپنے بچپن سے حضرت مسیح موعودؑ کو دیکھتا آیا ہوں اور سب سے پہلے مَیں نے آپؑ کو حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کی زندگی میں دیکھا تھا جبکہ مَیں بالکل بچہ تھا۔ آپؑ کی عادت تھی کہ رات عشاء کے بعد جلدی سو جاتے اور رات ایک بجے کے قریب تہجد کے لیے اٹھ جاتے۔ تہجد پڑھ کر تلاوت کرتے رہتے، جب صبح کی اذان ہوتی تو نماز کے لیے مسجد میں جاتے اور باجماعت نماز پڑھتے۔ کبھی نماز خود پڑھاتے، کبھی میاں جان محمد امام مسجد جماعت کرواتے۔ مَیں نے آپؑ کومسجد میں سنّت نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ
مَیں نے کبھی ریاضتِ شاقہ بھی نہیں کی اور نہ کبھی زمانہ حال کےبعض صوفیوں کی طرح مجاہداتِ شدیدہ میں اپنے نفس کو ڈالا۔ نہ گوشہ نشینی کے التزام سے کبھی چلّہ کشی کی۔ نہ کبھی خلافِ سنّت کوئی ایسا عملِ رہبانیت کیا جس پر خدا تعالیٰ کے کلام کو اعتراض ہو۔
حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے والد صاحب محترم کے زمانۂ وفات کے نزدیک اپنی ریاضت کا ایک واقعہ تفصیل سے بیان فرمایا ہے جس میں آپؑ نے ایک بزرگ کو خواب میں دیکھا جنہوں نے یہ ذکر کیا کہ کسی قدر روزے انوارِ سماوی کی پیشوائی کے لیے رکھنا سنّتِ خاندانِ نبوّت ہے۔ حضورؑ فرماتے ہیں کہ سو مَیں نےکچھ مدّت تک التزامِ صوم کو مناسب سمجھا اور ساتھ ہی اس خیال سے کہ اس امر کو مخفی طور پر بجا لانا بہتر ہے آپؑ نے یہ طریق اختیار فرمایا کہ گھر سے مردانہ نشست گاہ میں کھانا منگواتے اور بعض یتیم بچوں میں تقسیم فرمادیتے۔ حضورؑ فرماتے ہیں کہ بجز خدا تعالیٰ کے کسی کو ان روزوں کی خبر نہ تھی۔ پھر دو تین ہفتوں کے بعد آپؑ نے اپنی غذا مزید کم کی اور تمام دن میں صرف ایک روٹی تک غذا کو لے آئے۔ پھر غذا کومزید کم کرتے کرتے یہاں تک لے آئے کہ دو تین ماہ کا بچہ بھی اُس پر صبر نہیں کرسکتا، آپؑ نے آٹھ نَو ماہ تک اس طرح روزے رکھے۔
اس وقت روزے کے عجائبات میں سے آپؑ کے تجربے میں بہت سی باتیں آئیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ بہت سے انبیاء اور اولیاء کی ملاقاتیں ان روزوں کے نتیجے میں ہوئیں۔ فرمایا کہ ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میں رسول اللہﷺ کو مع حسنینؓ و علیؓ اور فاطمہؓ کے دیکھا اور یہ خواب نہ تھی بلکہ بیداری کی ایک قسم تھی۔
ایک روایت میں مذکور ہے کہ حضورؑ ایک مرتبہ کوٹھے پر سے گر پڑے جب ہوش آیا تو پوچھا کہ نماز کا وقت ہوا کہ نہیں۔ یعنی اس قدر نماز سے محبت تھی۔ ۱۸۹۵ء میں حضرت میر محمد اسماعیل صاحبؓ کو ماہِ رمضان قادیان میں گزارنے کا اتفاق ہوا تو انہوں نے تمام مہینہ نمازِ تہجد یعنی تراویح کی نماز حضورؑ کے پیچھے ادا کی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ حضورؑ نمازِ وتر اوّل شب میں پڑھ لیتے اور نمازِ تراویح دو دو رکعت آخری شب میں ادا کرتے۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ حضرت اماں جانؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورؑ نماز پنجگانہ کے علاوہ دو طرح کے نوافل پڑھا کرتے تھے۔ ایک اشراق جو آپ کبھی کبھی پڑھا کرتے دو سری نمازِ تہجد آٹھ رکعت جو آپؑ ہمیشہ پڑھا کرتےسوائے اس کے کہ آپؑ زیادہ بیمار ہوں۔ مگر ایسے میں بھی آپؑ بستر پر لیٹے لیٹے ہی دعا مانگ لیتے۔ آخری عمر میں بوجہ کمزوری بیٹھ کر دعا کیا کرتے۔
حضرت مولوی یعقوب علی صاحبؓ لکھتے ہیں کہ آپؑ مقدمات کی پیروی میں جاتے تو صرف والد صاحب کے ارشاد کی پیروی میں۔ وہاں آپؑ اس بات کا خیال رکھتے کہ کوئی نمازقضا نہ ہو۔
حضرت مسیح موعودؑ کی آواز میں بہت سوز اور درد تھا۔ آپؑ کی قراءت لہردار ہوتی تھی۔ آپؑ کو قرآن کریم اور سنتِ رسولؐ سے عشق تھا، آپؑ کی عبادات کبھی اتباعِ رسولؐ سے متجاوز نہ ہوتیں۔ نماز کے علاوہ آپؑ کا وظیفہ قرآن کریم کی تلاوت، درود شریف اور استغفار تھا۔ قرآن سے تو آپؑ کو عشق تھا۔ دن رات ، اٹھتے بیٹھتے اور ٹہلتے ہوئے قرآن پڑھا کرتے، اور زار زار روتے جاتے۔
حضرت مسیح موعودؑ جب نماز کے لیے مسجد نہ جاسکتے تو گھر میں ہی جماعت کروالیا کرتے اور ایسے موقعے پر اکثر ہماری والدہ کو ساتھ ملالیتے۔
حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ آپؑ کے بچپن کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ حضورؑ اپنی ہم سن بچی جس سے آپ کی بعد میں شادی بھی ہوگئی اسے دعا کے لیے کہتے کہ نامرادے دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے۔ اس فقرے سے پتا چلتا ہے کہ بہت بچپن سے آپؑ کے جذبات نہایت پاک تھے۔
حضورؑ فرماتے ہیں کہ مَیں بچپن سے روزے رکھنے کا عادی ہوں… مَیں نے (بچپن میں) انتیس روزے پورے رکھے تو اُس دن میری خوشی کی عید تھی۔ روزے کی خاص برکات ہوتی ہیں۔ جیسے ہر میوے کا جدا ذائقہ ہے اسی طرح ہر عبادت میں جدا لذّت ہے ان عبادات میں روحانیت ہے جسے انسان بیان نہیں کرسکتا۔ چاہیے کہ عبادت میں انسان کی روح نہایت درجہ رقیق ہوکر پانی کی طرح بہ کر خدا سے جاملے۔
حضورؑ نماز کے فرض ادا کرنے کے بعد فوراً گھر تشریف لے جاتے اور تصنیف کے کام میں مصروف ہوجاتے۔ نمازِ مغرب کے بعد آپؑ مسجد میں بیٹھے رہتے اور کھانا بھی وہیں دوستوں کے ساتھ کھاتے اور پھر عشاء کی نماز پڑھ کر اندر جاتے۔
حضرت پیر سراج الحق نعمانی صاحبؓ میاں جان محمد مرحوم ؓکی نمازِ جنازہ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ حضورؑ کو مرحوم سے بے انتہا محبت تھی۔ حضورؑ نے خود نمازِ جنازہ پڑھائی اور نماز میں اتنی دیر لگی کہ مقتدیوں کے کھڑے کھڑے پیر دُکھنے لگے۔ میرا تو کھڑے کھڑے حال بگڑ گیا۔ جب جنازے کی ادائیگی سے واپس آئے تو کسی نے عرض کیا کہ حضور! اتنی دیر آج نماز میں لگی کہ ہم تو تھک گئے۔ آپؑ کا بھی کیا حال ہوا ہوگا۔ حضورؑ نے فرمایا ہمیں تھکنے سے کیا تعلق ہم تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے تھے، اُس سے اِ س مرحوم کے لیے مغفرت مانگتے تھے۔ مانگنے والا بھی کبھی تھکا کرتا ہے؟ جو تھک جاتا ہے وہ رہ جاتا ہے۔ ہم مانگنے والے ہیں اور وہ دینے والا پھر تھکنا کیسا؟ جس سے ذرا سی بھی امید ہوتی ہے وہاں سائل ڈٹ جاتا ہے۔
حضورانور نے فرمایا
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس سوچ کے ساتھ نمازیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہم نے تو حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی بیعت ہی اس شرط کے ساتھ کی ہے کہ نمازیں خدا اور اس کے رسولؐ کے حکم کے موافق ادا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کرکے اس کی حمد کرتے ہوئے نمازیں ادا کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس عہد کو بھی نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
خطبے کے آخر میں حضورانور نے
دو مرحومین کا ذکرِ خیر فرمایا اور ان کی نمازِ جنازہ غائب
پڑھانے کا ارشاد فرمایا:
٭…مکرمہ امة الشریف صاحبہ اہلیہ محمود احمد بٹ صاحب آف نارووال۔ مرحومہ گذشتہ دنوں ۸۴؍سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ صوم و صلوٰة کی پابند، قرآن کریم کی بکثرت تلاوت کرنے والی، جماعتی لٹریچر کا مطالعہ کرنے والی نیک خاتون تھیں۔
٭…مکرم شیخ بشیر احمد صاحب آف لاہور جو گذشتہ دنوں ۹۷؍سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم تہجد گزار، پابندِ صوم و صلوٰة، ملنسار،اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ جماعت لاہور کے سرگرم رکن تھے۔ حضورانور نے فرمایا کہ مَیں نے بھی دیکھا ہے بہت عاجزی والے انسان تھے۔
حضورانور نے مرحومین کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: آنحضرتﷺ کی عبادت الٰہی کا دلنشین اور ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۶؍فروری ۲۰۲۶ء



