کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

جس کا دل مُردہ ہو وہ خوشی کا مدار صرف دنیا کو رکھتا ہے

جس کا دل مُردہ ہو وہ خوشی کا مدار صرف دنیا کو رکھتا ہے مگر مومن کو خدا سے بڑھ کر اَور کوئی شَے پیاری نہیں ہوتی۔جس نے یہ نہیں پہچاناکہ ایمان کیا ہے اور خدا کیا ہے وہ دنیا سے کبھی آگے نکلتے ہی نہیں ہیں۔جب تک دنیا ان کے ساتھ ہے تب تک تو سب سے خوشی سے بولتے ہیں بیوی سے بھی خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں مگر جس دن دنیا گئی تو سب سے ناراض ہیں۔منہ سوجا ہوا ہے ہر ایک سے لڑائی ہے گلہ ہے شکو ہ ہے حتّی کہ خدا سے بھی ناراض ہیں تو پھر خدا ان سے کیسے راضی رہے وہ بھی پھر ناراض ہو جاتا ہے۔

مگر بڑی بشارت مومن کو ہے۔يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً (الفجر:۲۸، ۲۹) اے نفس جو کہ خدا سے آرام یافتہ ہے تُو اپنے ربّ کی طرف راضی خوشی واپس آ۔اس خوشی میں ایک کافر ہرگز شریک نہیں ہے۔رَاضِيَةً کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنی مُرادات کوئی نہیںرکھتا کیونکہ اگر وہ دنیا سے خلافِ مُرادات جاوے تو پھر راضی تو نہ گیا اسی لیے اس کی تمام مُراد خدا ہی خدا ہوتا ہے اس کے مصداق صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں کہ آپ کو یہ بشارت ملی۔اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ (النصر:۲)اور اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ(المائدۃ:۴)بلکہ مومن کی خلافِ مرضی تو اس کی نزع (جان کنی ) بھی نہیں ہو اکرتی ایک شخص کا قصہ لکھا ہے کہ وہ دعا کیا کرتا تھا کہ میں طوس میں مَروں لیکن ایک دفعہ وہ ایک اَور مقام پر تھا کہ سخت بیمار ہوااور کوئی امیدزیست کی نہ رہی تواس نے وصیت کی کہ اگر میں یہاں مَر جاؤں تو مجھے یہودیوںکے قبرستان میں دفن کرنا اسی وقت سے وہ روبصحت ہو ناشروع ہو گیا حتی کہ بالکل تندرست ہو گیا۔لوگوں نے اس کی وصیت کی وجہ پوچھی تو کہا کہ مومن کی علامت ایک یہ بھی ہے کہ اس کی دعا قبول ہو۔

اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ(المؤمن:۶۱) خدا کا وعدہ ہے میری دعا تھی کہ طوس میں مَروں جب دیکھا کہ موت تو یہاں آتی ہے تو اپنے مومن ہونے پر مجھ کو شک ہوا اس لیے میں نے یہ وصیت کی کہ اہل اسلام کو دھوکا نہ دوں غرضیکہ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً صرف مومنوں کے لیے ہے۔ دنیا میں بڑے بڑے مالداروں کی موت سخت نامُرادی سے ہوتی ہے۔ دنیا دار کی موت کے وقت ایک خواہش پیدا ہوتی ہے اور اسی وقت اسے نزع ہوتی ہے یہ اس لیے ہوتا ہے کہ خدا کا ارادہ ہوتا ہے کہ اس وقت بھی اسے عذاب دیوے اور اس کی حسرت کے اسباب پیداہو جاتے ہیں تاکہ انبیاء کی موت جو کہ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً کی مصداق ہوتی ہے اس میں اور دنیا دار کی موت میں ایک بیّن فرق ہو۔دنیا دار کتنی ہی کوشش کرے گا مگر اس کی موت کے وقت حسرت کے اسباب ضرور پیش ہوجاتے ہیں غرضیکہ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً کی موت مقبولین کی دولت ہے اس وقت ہر ایک قسم کی حسرت دور ہو کر ان کی جان نکلتی ہے۔راضی کا لفظ بہت عمدہ ہے اور ایک مومن کی مُرادیں اصل میں دین کے لیے ہواکرتی ہیں خدا کی کامیابی اور اس کے دین کی کامیابی اس کااصل مدّعا ہوا کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بہت ہی اعلیٰ ہے کہ جن کو اس قسم کی موت نصیب ہوئی۔

(ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۲۱۳، ۲۱۴، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

مزید پڑھیں: خدا نے اپنی کتاب میں آدمؑ کی بریّت ظاہر کی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button