سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

براہین احمدیہ کے پڑھنے سے مجھے کامل یقین ہوگیاکہ اﷲ تعالیٰ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ غَالِبٌ عَلٰی اَمْرِہٖ ہے اور سید الرسل،فخرالرسل،خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم میں سب نبیوں کے کمالات ختم ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سِرَاجًا مُّنِیْرًا ہیں۔قرآن مجید خاتم الکتب اور نور ہے اور اسلام نُوْرٌ عَلٰی نُوْر ہے۔

حضرت جان محمد صاحبؓ

ولد عبدالغفار صاحب ڈسکوی

’’دسمبر۱۸۸۷ء میں انگلو ورنیکولر مڈل سکول پسرور ضلع سیالکوٹ اول مدرّس فارسی ہوا اور مولوی علی محمد صاحب فاضل ساکن کھیوامتصل کلاس والہ دوم مدرّس فارسی تھے۔ ابتدا ۱۸۹۰ء میں مولوی صاحب مکمل براہین احمدیہ کی ایک جلد مُستعار سیالکوٹ سے لائے اور مجھے فرمایاکہ مولوی صاحب آپ اَور کتابوں کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں اِس کتاب کو بھی غور سے پڑھیں۔میں رات کو پڑھتا تھااور مولوی صاحب دن کو۔ میں کتاب کا ٹائیٹل پیج ضرور پڑھتا ہوں۔ٹائیٹل پیج پڑھنے کے بعد جب کتاب شروع کی تو اِسلام کی حالتِ زار پڑھ کر رقّت طاری ہوئی اور میری ہچکی بندھ گئی۔خیر کتاب ختم ہوئی۔ مولوی صاحب نے پوچھا۔فرمائیں کتاب کیسی ہے۔میں نے عرض کی۔جس بزرگ نے یہ کتاب تصنیف کی ہے فنا فی اللہ کے درجے میں ہیں۔ ورنہ فنا فی الرسول ہونے میں کوئی شک نہیں۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ۔ایسے فخرِ اسلام وجود دنیا میں ہیںجن کو خداتعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہے۔مولوی صاحب نے کہاکہ آپ کو یقین ہوگیا ہے کہ مصنف صاحب ایسے بزرگ ہیں۔ مَیں نے کہاہاں۔ مولوی صاحب نے کتاب لے لی اور کچھ نہ کہا۔ اس سے پہلے نہ میں حضرت اقدس کے نام نامی سے واقف تھااور نہ قادیان کا نام سنا تھا۔

براہین احمدیہ کے پڑھنے سے مجھے کامل یقین ہوگیاکہ اﷲ تعالیٰ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ غَالِبٌ عَلٰی اَمْرِہٖ ہے اور سیدالرسل،فخرالرسل،خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم میں سب نبیوں کے کمالات ختم ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سِرَاجًا مُّنِیْرًا ہیں۔قرآن مجید خاتم الکتب اور نور ہے اور اسلام نُوْرٌ عَلٰی نُوْر ہے۔‘‘(رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلد۷ صفحہ۳۴-۳۵ روایت حضرت جان محمد صاحبؓ )

حضرت میاں محمدالدین صاحبؓ

’’حضرت منشی مرزا جلال الدین صاحب کا جب(جو رسالہ نمبر۱۲ اسپان میں میر منشی تھے)بوجہ تبادلہ رسالہ نمبر۱۲ ازچھاؤنی ملتان بہ چھاؤنی سیالکوٹ آنا ہوا تو انہوں نے شجرہ معرفت، فتح الاسلام، توضیح المرام ، براہین احمدیہ ہر چہارحصہ اپنے گھر موضع بلانی اپنی اولاد کے پڑھنے کے لئے بھیجیں۔آپ کے بڑے صاحبزادے مرزا محمد قسم صاحب نے مجھ سے ان کتابوں کا ذکر کیا اور کہا کہ تم جو قصہ خوانی کرتے رہتے ہویہ کتابیں بھی پڑھ لو۔ پہلے میں نے شجرہ معرفت پڑھا۔(جو مثنوی مولانا روم کا منظوم اردو ترجمہ ہے)مگر اس کا کچھ اثر مجھ پر نہ ہوا۔(اس لئے کہ میں تو نہ خدا مانتا نہ فرشتے نہ کتابیں۔اثر ہوتا تو کیونکر ہوتا)پھر فتح اسلام اور توضیح المرام دیکھی مگر کچھ سمجھ نہ آئی۔(اس لئے کہ فتح اسلام میں احیاء اسلام کا مضمون تھا اور توضیح المرام میں بالاختصار عقائد کی بحث تھی اور میں ان سب کا منکر تھا)پھر میں نے براہین احمدیہ پڑھنی شروع کی۔

براہین کیا تھی؟ آبِ حیات کا بحرِزخّار تھا۔براہین کیا تھی؟ایک تریاق کوہ لانی تھا یا تریاق اربعہ دافع صرع و مقوہ تھا۔براہین کیا تھی؟ ایک عین روح القدس یا روح مکرم یا روح اعظم تھا۔براہین کیا تھی؟ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖتھی۔ ایک نورخداتھا جس کے ظہورسے ظلمت کافورہو گئی۔

میں پہلے ذکر کرچکا ہوں کہ آریہ، برہمو،دہریہ لیکچراروں کے بد اثر نے مجھے اور مجھ جیسے اور اکثر وں کو ہلاک کردیا تھا اور ان اثرات کے ما تحت لایعنی زندگی بسر کررہا تھا۔کہ براہین پڑھتے پڑھتے جب میں ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت کو پڑھتا ہوں۔صفحہ۹۰ کے حاشیہ نمبر۲ پر اور صفحہ نمبر۱۴۹ کے حاشیہ نمبر۱۱ پر پہنچا تو معاً میری دہریت کافور ہوگئی اور میری آنکھ ایسے کھلی جس طرح کوئی سویا ہوا یامرا ہوا جاگ کر زندہ ہوجاتا ہے۔سردی کا موسم جنوری۱۸۹۳ء کی۱۹تاریخ تھی۔آدھی رات کا وقت تھا کہ جب میں (ہونا چاہئے) اور (ہے)کے مقام پر پہنچا۔ پڑھتے ہی معاً توبہ کی۔ کورا(نیا)گھڑا پانی کا بھرا ہوا باہر صحن میں پڑا تھا۔ تختہ سہ پائی پیمائش کی میرے پاس رکھے ہوئے تھے۔سرد پانی سے (لاچہ)تہ بند پاک کیا۔(میرا ملازم مسمی منگتوسو رہا تھا۔وہ جاگ پڑا۔وہ مجھ سے پوچھتا تھا کیا ہوا، کیا ہوا۔لاچہ مجھ کودو میں دھوتا ہوں۔مگر میں اس وقت ایسی شراب پی چکا تھا کہ جس کا نشہ مجھے کسی سے کلام کرنے کی اجازت نہ دیتا تھا۔آخر منگتواپنا سارا زور لگا کر خاموش ہوگیا)اور گیلا لاچہ پہن کر نماز پڑھنی شروع کی اور منگتو دیکھتا گیا۔ محویت کے عالم میں نماز اس قدر لمبی ہوئی کہ منگتوتھک کر سو گیا اور میں نماز میں مشغول رہا۔پس یہ نماز براہین نے پڑھائی کہ بعدازاں اب تک میں نے نماز نہیں چھوڑی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ معجزہ بیان کرنے کے لئے مذکورہ بالاطوطیا تمہید میں نے باندھا تھا۔عین جوانی میں بحالت ناکتخدا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ ایمان جو ثریا سے شاید اوپر ہی گیا ہوا تھا۔اُتار کر میرے دل میں داخل کیا۔ (اور مسلمان رامسلمان باز کردند)کا مصداق بنایا۔ جس رات میں میں بحالت کفر داخل ہوا تھا۔اس کی صبح مجھ پر بحالتِ اسلام ہوئی۔‘‘(رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلد ۷صفحہ۴۶ – ۴۷ روایت حضرت میاں محمد الدین صاحبؓ )

حضرت رحمت علی صاحبؓ

’’میں خاکسار سیّد رحمت علی شاہ سٹروعہ تحصیل گڑھ شنکر ضلع ہوشیار پور کا رہنے والا ہوں۔ سٹروعہ میں ایک بزرگ جناب چوہدری صاحب غلام قادر خان صاحب مرحوم تھے اور ان کے پاس حضرت صاحب مسیح موعودعلیہ السلام کی کتاب براہین احمدیہ تھی۔ وہ ہمیں پڑھ کر سُنایا کرتے تھے اور ہم دوست سن کر محظوظ ہوتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ مرزا صاحب تو بڑے ہی باکمال بزرگ ہیں۔ سیّد احمد خاں صاحب کی تہذیب الاخلاق کو بہت مرتبہ پڑھا ہے۔ لیکن جو لطف مرزا صاحب کی کتاب سے آتا ہے اس میں تو اُس لُطف کا نام ونشان نہیں۔ میرے ایک دوست جناب چوہدری صاحب بشارت علی خان کرتارپور میں تار بابو تھا۔ انہوں نے حضرت صاحب کے حالات کا وہاں پر نور و ظہور دیکھ کر قادیان شریف میں حضور علیہ السلام کی بیعت سے شرف حاصل کر کے سٹروعہ میں آیا اور کہنے لگا میں نے تو حضرت صاحب کی بیعت کر لی ہے۔ میں آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا۔ میں نے عرض کی میں تو حضرت صاحب کی صداقت کو دل سے مانتا ہوں۔ ایک ذرّہ بھی میرے دل میں انکار کی جگہ نہیں ہے۔ قادیان شریف میں جاکر بیعت حضورؑ سے مشرف ہوں گا بفضل خدا۔ اُس نے جواب دیا، میاں بیعت تو کارڈ کے ذریعہ بھی ہو سکتی ہے۔ میں نے جواب دیا کہ تحریر کردو۔ اسی وقت میرے ساتھ چار اَور دوستوں نے بیعت تحریر کر دی۔ جن کے یہ نام ہیں۔ (۱) بزرگوارم جناب چوہدری صاحب غلام قادر مرحوم (۲) اُن کے بیٹے محمد علی خان(۳) چوہدری صاحب نبی خان (۴) چوہدری صاحب برکت علی خاں۔‘‘(رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلد۷صفحہ۳۶۸ روایت حضرت رحمت علی صاحبؓ )

حضرت ڈاکٹر قاضی لعل دین صاحبؓ پنشنر

’’۱۸۸۶ء میں جب کہ میں میڈیکل سکول لاہور میں طالب علم تھا۔ موسم گرما کے ایام تعطیلات میں مَیں اپنے گھر شہر ہوشیار پور میں موجود تھا اور ان ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام شیخ مہر علی صاحب مرحوم کی ایک حویلی میں جو ان دنوں شہاب الدین صاحب مرحوم کے باغ میں تھی، رونق افروز تھے۔ نیز ان ایام میں ماسٹر مرلی دھر آریہ کے ساتھ شیخ مہر علی صاحب مرحوم کی سکنی حویلی میں مباحثہ قرار پایا تھا یہ عاجز بھی اس بزم مباحثہ میں حاضر تھا اور شہر کے ہر مذہب و ملت کے اصحاب اس مباحثہ کے سننے کے لئے جوق در جوق جارہے تھے۔ عوام الناس کا یہ نظارہ دیکھ کر میرے دل میں بھی یہ خواہش ہوئی کہ یہ مباحثہ ضرور سننا چاہئے۔

پس میں گیا۔ میں اس وقت سترہ یا اٹھارہ سال کی عمر کا تھا اور اس زمانہ کی جو مذہبی یعنی لامذہبی کی فضاء تھی مجھے کچھ مذہب سے واسطہ ہی نہیں تھا۔ ابھی طالب علمی سے بھی فارغ نہیں ہوا تھا کہ ایسے جید عالم فاضل کی تقریر سے کماحقہٗ فیض حاصل کر سکتا یا سمجھ سکتا۔ کیونکہ مباحثہ میں جو مضامین بحث طلب تھے (ان سے) کچھ واقفیت نہیں تھی۔ مگر ہر روز مباحثہ میں جاتا رہا اور حسب استعداد کچھ نہ کچھ استفادہ کرتا رہا اور اس مباحثہ میں شہر کے نامی علماء اور وکلاء اور اچھے اچھے تعلیم یافتہ اشخاص بھی موجود ہوتے تھے اور مباحثہ جناب مرزا صاحب(علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی بڑی معقول اور مدلل تقریر کے بڑے مداح اور ثنا خوان تھے کہ یہ مقرر بڑی اعلیٰ معلومات مذہب اسلام بلکہ دیگر مذاہب کی بھی رکھتا ہے۔ مگر ان ایام میں جناب مرزا صاحب (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کا دعویٰ فقط الہام ہونے کا تھا اور نبوت کا کچھ ذکر نہ تھا۔ اس مباحثہ میں میرے والد صاحب مرحوم مسمیؔ قاضی ملک الدین بھی موجود تھے اور وہ بھی بڑی تعریف و توصیف علمی معلومات حضرت مرزا صاحب (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ بعد میں انہوں نے آنجناب کی کتاب براہین احمدیہ اور ایک اور تصنیف جو ان کی اس زمانہ میں شائع ہوئی تھی جب کہ دعویٰ نبوت و مسیح موعود کا ہو چکا تھا، مطالعہ کرتے ہوئے میں نے دیکھا تھا۔ آخرش میں میڈیکل سکول ۱۸۹۰ء میں پاس کر کے برسر ملازمت ۱۸۹۸ء ضلع رہتک بمقام قصبہ کہر کہوو تعینات تھا۔ تو میں نے بھی ایک مسلمان ہیڈ ماسٹر کی ملازمت کتاب براہین احمدیہ حاصل کی اور مطالعہ کیا اور جس کے پڑھنے سے مجھے بھی واقفیت ہوئی کہ اسلام کیا چیز ہے اور حضرت اقدس کی عظمت و علمیت کا دل پر اثر ہوا۔ چونکہ اس زمانہ میں احمدیت کا چرچا باہر کے قصبات وغیرہ میں تقریباً تقریباً کالعدم ہی تھا اور میں نے دہلی کے قرب و جوار میں کسی احمدی کو نہیں دیکھا جس سے کچھ زیادہ واقفیت احمدیت کی حاصل کرتا۔ مختلف شفاخانہ جات میں تبدیل ہو کر آخر میں شفا خانہ کاہنواں ضلع گورداسپور ۱۹۱۶ء میں آیا تو وہاں پر خان صاحب غلام محی الدین خاں پولیس سب انسپکٹر کی صحبت نصیب ہوئی۔ جنہوں نے مجھے احمدیہ تصانیف و لٹریچر مطالعہ کرنے کو دیا اور میں نے خوب مطالعہ کیا بلکہ جلسہ سالانہ پر بھی ان کے ہمراہ قادیان میں آتا رہا۔ مگر میں ۱۹۱۷ء میں بمقام کاہنواں حقیقۃ الوحی کا مطالعہ کرتا تھا تو جب کتاب کے اس موقع پر پہنچا جہاں حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تحریر دربارہ اگر میں مفتری ہوں تو جو جو آنجناب نے اپنی ذات کے لئے جن الفاظ میں اپنے لئے نہایت بد ترین الفاظ میں بددعا کی ہوئی ہے۔ اس کے مطالعہ سے بدن کانپ گیا اور میرے دل نے کامل یقین کر لیا کہ مفتری شخص ہر گز ہر گز ایسی بددعا نہیں کرسکتا۔ واقعی یہ شخص صادق ہے اور دعویٰ نبوت بالکل درست ہے… میں نے۱۹۲۳ء میں ڈاکٹر منظور احمد جو آج کل قادیان میں مقیم ہیں ان کی تبلیغ و تحریک سے بذریعہ تحریر حضور انور کی بیعت میں داخل ہوا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہ حضور انور نے مجھے شرف قبولیت فرمائی اور ۱۹۳۱ء سے یہاں قادیان شریف میں مقیم ہوں۔‘‘ (رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلد۷صفحہ۴۰۵تا ۴۰۷روایت حضرت قاضی لعل دین صاحبؓ )

حضرت میاں محمد الدین صاحبؓ

ولد میاں نورالدین صاحب

’’میں براہین احمدیہ پڑھ کرحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت پر ایمان لا چکا تھا اور بیعت کے لئے ابھی خط نہیں لکھا تھا شام کے وقت میں (محمد دین) اور میاں (مرزا) محمد قیّم صاحب بلانی کی مسجد میں اس کے صحن کی مشرقی دیوار پر بیٹھے تھے کہ (اس وقت بلانی میں مسجد ایک ہی تھی۔ جو آبادی کے جانب غرب واڑہ اور پٹوار خانہ اور مرزا صاحبان مرزا محمد قیّم۔ منشی جلال الدین اور کشمیریوں کے گھروں سے محدود تھی۔ اور درمیان میں گلیاں بھی تھیں) ۱۲۔ رمضان جو شب تیرھویں تھی۔ چہار شنبہ (بدھ کے روز )چاند گرہن لگا۔ میرے پاس گھڑی نہ تھی۔ مگر بعد میں معلوم ہوا ساڑھے چھ بجے دو گھنٹہ خسوف رہا۔ اور ۲۸۔ رمضان بروز جمعہ ساڑھے سات بجے دن کے کسوف یعنی سورج گرہن رہا۔ جس کی بابت محمد قیّم صاحب نے احوال الاخرہ کا یہ شعر سنایا۔

تیرھویں چن ستیھویں سورج گرہن ہوسی اُوس سالے

اندر ماہ رمضانے لکھیا اک روایت والے

بعداس کے تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ستیہویں رات کاتب کی غلطی ہے بموجب حدیث دارقطنی اٹھیہویں رات چاہئے تھی۔‘‘(رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلد۱۱صفحہ ۱۲۳ روایت حضرت میاں محمد الدین صاحبؓ )

حضرت ماسٹر محمد حسن صاحبؓ  آسان

’’ میری عمر۱۲ سال کی تھی جب والد صاحب کا انتقال ہوا تھا۔ اور اپنے ماموں امداد حسین صاحب کی کفالت میں پرورش پائی۔ وہ چونکہ پٹیالہ میں ملازم تھے اس لئے میں بھی پٹیالہ میں ہی رہا۔ اور وہیں مڈل پاس کیا۔ اور پاس کر کے ریاست میں دیہاتی مدرس مقرر ہو گیا۔ ملازمت کے دوران میں مجھے سر سید احمد خان سے عقیدت قائم ہو گئی۔ اور علماء سے متنفّر ہو گیا۔ میری شادی چونکہ دہلی کے ایک خاندان مرزا احمد بیگ صاحب کے ہاں ہو گئی تھی اور وہ اس وقت ریاست میں معزز عہدہ دار تھے۔ وہ ایک دن فرمانے لگے کہ تمہارے سر سید کا سر کچلنے کے لئے ہمارے ہاں ایک مجدّد پیدا ہوئے ہیں اور یہ اُن کی کتاب ہے۔ آپ کے ہاتھ دُھلے ہوئے ہوں تو اِسے ہاتھ لگائیں۔ میں نے نفرت سے اُس کتاب کو لیا۔ یہ کتاب براہین احمدیہ تھی۔ اور کہا کہ آپ مجھے دے دیں میں اسے پڑھوں گا۔ جب میں نے جلی قلم میں حضور کا انعامی اشتہار دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ میرا دم سینہ میں گھٹ رہا ہے۔ ساری کتاب ختم کرنے کے بعد دل سے آواز نکلی کہ دراصل یہ شخص دنیاوی انسان نہیں۔ بلکہ رسول اللہﷺ کا کوئی صحابی پیدا ہوا ہے۔

چند ماہ کے بعد جب میں اپنے سسرال واپس آیا۔ تو وہ کتاب میں نے اپنے خسر احمد بیگ صاحب کو دینی چاہی۔ مگر انہوں نے لینے سے انکار کر دیا۔ اور کہا کہ یہ شخص کافر ہوگیا ہے۔ تم ہی رکھو۔ میں یہ سن کر بڑا خوش ہوا۔ اور دل میں کہنے لگا کہ مجھے سخت انقباض تھا کہ جس کو یہ سارے دنیادار مجدّد مان رہے ہیں۔ مَیں اُسے کیوں کر قبول کر سکتا ہوں۔ اب میرے قبول کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے انشراح کا موقع عطا کیا۔

اُن کی زبانی یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ ایک اور کتاب ہے جس میں اس شخص نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ مَیں اُس کتاب کی تلاش میں نکلا۔ اور بہت بڑی جستجو اور تلاش کے بعد وہ کتاب ازالہ اوہام حاصل کی۔ اور اس کو پڑھا۔ اب میری تبدیلی پٹیالہ کے پاس ایک قصبہ منصور پور میں ہو گئی تھی۔ اس کتاب کو پڑھ کر مجھے اللہ تعالیٰ نے آپ پر ایمان لانے کی توفیق بخشی۔‘‘(رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلد۱۵ صفحہ۱۲-۱۳، روایت حضرت ماسٹر محمد حسن صاحبؓ آسان )

حضرت حکیم محمد انوارحسین خان صاحبؓ

شاہ آباد، ہردوئی

۳۱۳صحابہ میں سے،براہین احمدیہ کے مطالعہ کے ساتھ ہی بیعت کرلی۔ (شعرائے احمدیت،سوانح حیات ومنتخبہ کلام،مرتبہ سلیم شاہجہانپوری،طبع اول،مطبع شریف سنزکراچی۔صفحہ۳۲۸ ،۳۲۹)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button