بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط ۱۱۰)

(مرتبہ:ظہیر احمد خان۔انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

٭… حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مخالف کو جواب دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ روح کے بارہ میں انسان کو کم علم دیا گیا ہے۔ وضاحت کر دیں کہ انسان کو کم علم کیوں دیا گیا ہے اور کب روح کا مزید علم دیا جائے گا؟

٭… میں پیدائش کے وقت لڑکا تھا لیکن مجھے احساس ہوا کہ میں لڑکی ہوں۔ میرے والدین مجھے زبردستی کہتے ہیں کہ میں لڑکا ہوں۔ میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ میں واقعی لڑکا نہیں بلکہ لڑکی ہوں۔ میری ڈاکٹر کہتی ہیں کہ میں غلطی کر رہی ہوں مجھے دوبارہ لڑکا بن جانا چاہیے۔ میں حضور انور سے سننا چاہتی ہوں کہ میں واقعی ایک لڑکی ہوں ؟

٭…ایک مربی صاحب نے حضرت عامر بن فہیرہؓ کی شہادت کے بارہ میں دشمن اسلام عامر بن طفیل کے بیان کردہ واقعہ کہ وہ شہید کیے جانے کے بعد آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور پھر زمین پر اتارے گئے، کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ کیا یہ کشفی نظارہ تھا؟ نیز یہ کہ اس واقعہ کی کوئی سند نہیں ہے کہ کس نے یہ واقعہ عامر بن طفیل سے سنا تھا؟اس بارہ میں راہنمائی کی درخواست ہے۔

٭… میری اہلیہ کا ۱۸ ہفتے اور ۵ دن بعد Miscarriage ہو گیا تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک مجلس سوال و جواب میں فرمایا تھا کہ چار پانچ ماہ کے جنین میں روح پڑ جاتی ہے۔ میری اہلیہ کا بھی تقریباً اتنے عرصہ بعد اسقاط حمل ہواہے۔ کیا ایسے بچہ کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے اور کیا اس میں روح پڑ گئی تھی اور آخرت میں ہماری اس بچہ سے ملاقات ہو سکے گی؟

سوال: پاکستان سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مخالف کو جواب دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ روح کے بارے میں انسان کو کم علم دیا گیا ہے۔ وضاحت کر دیں کہ انسان کو کم علم کیوں دیا گیا ہے اور کب روح کا مزید علم دیا جائے گا؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۸؍دسمبر ۲۰۲۳ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضورانور نے فرمایا:

جواب: یوں لگتا ہے کہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کو غور سے پڑھا ہی نہیں۔ اگر آپ اسے غور سے پڑھتے تو آپ یہ سوال نہ کرتے۔ کیونکہ جو بات آپ حضور علیہ السلام کی طرف منسوب کر رہے ہیں وہ حضورعلیہ السلام کے الفاظ نہیں بلکہ آپؑ کے مخالف کا اعتراض ہے جس کا حضور علیہ السلام نے اپنی تصنیف سرمہ چشم آریہ میں بڑی تفصیل کے ساتھ جواب ارشاد فرمایا ہے۔

چنانچہ ایک آریہ لیڈرڈرائنگ ماسٹر لالہ مرلیدھر صاحب نے اعتراض کیا کہ مرزا صاحب اور سب اہل اسلام کا یہی اعتقاد ہے اور قرآن میں آیا ہے کہ جب آنحضرت (محمدؐ صاحب) سے لوگوں نے پوچھا کہ روح کیا چیز ہے تو آپ کچھ نہ بتلا سکے اور اس وقت آیت نازل ہوئی کہ اے محمدؐ!کہہ دے کہ روح ایک امر ربی ہے سو مسلمانوں نے تو روح کو کیا سمجھا ہوگا خدا نے ان کے ہادی پر بھی روح کی کیفیت ظاہر نہیں کی اور خدا کا بھی کیا جواب عمدہ ہے کہ روح امر ربی ہے۔ کیا اَور چیزیں امر ربی نہیں؟

اس اعتراض کے جواب میں حضور علیہ السلام نے فرمایا: لالہ صاحب میں آپ کی غلطیوں کی کہاں تک اصلاح کرتا جاؤں آپ نے یہ کس سے سن لیا کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرتﷺ کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے علم روح نہیں دیا گیا تھا اور آپ نےقرآن شریف میں کس جگہ اور کہاں دیکھ لیا کہ حضرت ممدوح روح کے علم سے بے خبر تھے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کو اپنی عقل ناتمام کی شامت سے اس آیت کے سمجھنے میں دھوکا لگا ہے جو قرآن شریف میں وارد ہے اور وہ یہ ہے وَيَسْــَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ‌ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّىْ وَمَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلاً(بنی اسرائیل:۸۶)الجزو ۱۵ سورہ بنی اسرائیل۔ اور کفار تجھ سے (اے محمد ؐ ) پوچھتے ہیں کہ روح کیا ہے اور کس چیز سے اور کیونکر پیدا ہوئی ہے۔ ان کو کہہ دے کہ روح میرے ربّ کے امر میں سے ہے اور تم کو اے کافرو علم روح اور علم اسرار الٰہی نہیں دیا گیا مگر کچھ تھوڑا سا۔ سو اس جگہ اے ماسٹر صاحب آپ کو اپنے نقصان فہم سے یہ غلطی لگی کہ آپ نے اس عبارت کا مخاطب (کہ تم کو علم روح نہیں دیا گیا) آنحضرتﷺ کو سمجھ لیا حالانکہ لفظ مَا اُوْتِیْتُمْ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم کو نہیں دیا گیا جمع کا صیغہ ہے جو صاف دلالت کررہا ہے جو اس آیت کے مخاطب کفار ہیں کیونکہ ان آیات میں جمع کے صیغہ سے کسی جگہ آنحضرت کو خطاب نہیں کیا گیا بلکہ جابجا واحد کے صیغہ سے خطاب کیا گیا ہے اور جمع کے صیغہ سے کفار کی جماعت کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایسا سوال کرتے ہیں سو اگر کوئی نرا اندھا نہ ہو تو سمجھ سکتا ہے کہ ان دونوں آیتوں میں دو جمع کے صیغے وارد ہیں۔ اوّل یَسْئَلُوْنَ یعنی سوال کرتے ہیں۔ دوم مَا اُوْتِیْتُمْ یعنی تم نہیں دیئے گئے اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ یَسْئَلُوْنَ کے صیغہ جمع سے مراد کافر ہیں جنہوں نے روح کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا تھا۔ ایسا ہی ظاہر ہے کہ مَا اُوْتِیْتُمْ کے صیغہ جمع سے بھی مراد کافر ہی ہیں مگر آنحضرتﷺ کو تو کسی جگہ جمع کے صیغہ سے خطاب نہیں کیا گیا بلکہ اوّل مجرد کاف سے جو واحد پر دلالت کرتا ہے خطاب کیا گیا یعنی یہ کہا گیا کہ تجھ سے کفار پوچھتے ہیں یہ نہیں کہا گیا کہ تم سے کفار پوچھتے ہیں۔ پھر بعد اس کے ایسا ہی لفظ واحد سے فرمایا کہ ان کو کہہ دے یہ نہیں فرمایا کہ ان کو کہہ دو برخلاف بیان حال کفار کے کہ ان کو دونوں موقعوں پر جمع کے صیغے سے بیان کیا ہے سو آیت کے سیدھے سیدھے معنے جو سیاق سباق کلام سے سمجھے جاتےہیں اور صاف صاف عبارت سے نکلتے ہیں یہی ہیں کہ اے محمدؐ! کفار تجھ سے روح کی کیفیت پوچھتے ہیں کہ روح کیا چیز ہے اور کس چیز سے پیدا ہوئی ہے سو ان کو کہہ دے کہ روح امر ربی ہے یعنی عالم امر میں سے ہے اور تم اے کافرو کیا جانو کہ روح کیا چیز ہے کیونکہ علم روح حاصل کرنے کے لیے ایماندار اور عارف باللہ ہونا ضروری ہے مگر ان باتوں میں سے تم میں کوئی بھی بات نہیں۔

اب ہریک منصف سمجھ سکتا ہے کہ نادانی اور شتاب کاری کی آمیزش سے کیا کیا ندامتیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ غور کرنا چاہیے کہ ان آیات شریفہ متذکرہ بالا کا کیسا مطلب صاف صاف تھا کہ کفار کی ایک جماعت نے آنحضرت ﷺ سے روح کے بارے میں سوال کیا کہ روح کیا چیز ہے تب ایسی جماعت کو جیسا کہ صورت موجودہ تھی بصیغہ جمع مخاطب کرکے جواب دیا گیا کہ روح عالم امر میں سے ہے یعنی کلمۃ اللہ یا ظل کلمہ ہے جو بحکمت و قدرت الہٰی روح کی شکل پر وجود پذیر ہوگیا ہے اور اس کو خدائی سے کچھ حصہ نہیں بلکہ وہ درحقیقت حادث اور بندہ خدا ہے اور یہ قدرت ربانی کا ایک بھید دقیق ہے۔ جس کو تم اے کافرو سمجھ نہیں سکتے۔ مگر کچھ تھوڑا سا جس کی وجہ سے تم مکلف بایمان ہو۔ تمہاری عقلیں بھی دریافت کرسکتی ہیں۔ اس کھلے کھلے مطلب کے سمجھنے میں ماسٹر صاحب نے کتنی بڑی غلطی کھائی ہے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ گویا یہ خطاب لاعلمی کیفیت روح کا آنحضرتﷺ کی طرف ہے لاحول ولا قوۃ پتھر پڑیں ایسی سمجھ پرکاش ماسٹر صاحب نے کچھ تھوڑی سی عربی پڑھی ہوتی یا کچھ تھوڑا سا قاعدہ نحو صرف کا ہی دیکھا ہوتا اے صاحب ذرا آنکھ کھول کر دیکھو کہ روح کی کیفیت پوچھنے والے کون لوگ تھے۔ وہ تو آپ کے ہی بھائی بند یعنی منکرین دین اسلام تھے انہیں کو تو یہ جواب دیا گیا تھا کہ روح عالم امر میں سے ہے اور تم ان الٰہی بھیدوں کو اے کافرو کیا جانو ایمان لاؤ تا تمہیں روح کی کیفیت اور اس کے علوم معلوم ہوں اور یہ جو خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روح عالم امر میں سے ہے جس پر ماسٹر صاحب نے اپنی خوش فہمی سے جھٹ پٹ اعتراض بھی کردیا یہ ایک بڑی بھاری صداقت کا بیان ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ ربوبیتِ الٰہی دو طور سے ناپیدا چیزوں کو پیدا کرتی ہے اوردونوں طور کے پیدا کرنے میں پیدا شدہ چیزوں کے الگ الگ نام رکھے جاتے ہیں۔ جب خدائے تعالیٰ کسی چیز کو اس طور سے پیدا کرے کہ پہلے اس چیز کا کچھ بھی وجود نہ ہو تو ایسے پیدا کرنے کا نام اصطلاح قرآنی میں امر ہے اور اگر ایسے طور سے کسی چیز کو پیدا کرے کہ پہلے وہ چیز کسی اور صورت میں اپنا وجود رکھتی ہو تو اس طرز پیدائش کا نام خلق ہے خلاصہ کلام یہ کہ بسیط چیز کا عدم محض سے پیدا کرنا عالم امر میں سے ہے اور مرکب چیز کو کسی شکل یا ہیئت خاص سے متشکل کرنا عالم خلق سے ہے۔ (سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ۱۷۱ تا ۱۷۶)

روح کے بارہ میں اگر آپ مزید جاننا چاہتے ہیں تواس زمانہ کے حکم عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیفات سرمہ چشم آریہ، اسلامی اصول کی فلاسفی اور چشمۂ معرفت کا بغور مطالعہ کریں۔

سوال: کینیڈا سے ایک شخص نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ میں پیدائش کے وقت لڑکا تھا لیکن مجھے احساس ہوا کہ میں لڑکی ہوں۔ میرے والدین مجھے زبردستی کہتے ہیں کہ میں لڑکا ہوں۔ میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ میں واقعی لڑکا نہیں بلکہ لڑکی ہوں۔ میری ڈاکٹر کہتی ہیں کہ میں غلطی کر رہی ہوں مجھے دوبارہ لڑکا بن جانا چاہیے۔ میں حضور انور سے سننا چاہتی ہوں کہ میں واقعی ایک لڑکی ہوں ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۵؍جنوری ۲۰۲۴ء میں اس سوال کے جواب میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:۔

جواب: آپ کے جسمانی اعضاء اگر مردوں والے ہیں اور آپ کا Reproductive سسٹم مردوں والا ہے تو آپ لڑکا ہیں اور اگر آپ کے جسمانی اعضاء اور آپ کا Reproductive سسٹم عورتوں والا ہے تو آپ لڑکی ہیں۔ صرف کہنے سے کوئی لڑکا، لڑکی نہیں بن جاتا اور نہ ہی کوئی لڑکی، لڑکا بن جاتی ہے۔

یہاں کے مغربی ماحول کی وجہ سے بعض اوقات ایسے خیالات اور دماغ میں ایسی سوچیں پیدا ہو جاتی ہیں، جو ایک نفسیاتی بیماری ہے جس کا علاج ہونا چاہیے۔ اس لیے آپ ڈاکٹر سے اپنا علاج کروائیں۔

اصل بات یہ ہے کہ آدم کی پیدائش کے وقت سے قیامت تک کے لیے شیطان نے آدم کی اولاد کو بہکانے اور اسے خدا تعالیٰ کے راستے سے دور کرنے کا جو کام سنبھال رکھا ہے، اس کے تحت شیطان مختلف طریقوں سے انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس آخری زمانہ میں شیطان نے دجالی قوتوں کا روپ دھار کر انسانوں کومختلف راستوں سے گمراہ کرنے کا طریق اختیار کیا ہے اور یہی وہ زمانہ ہے جس سے ہر نبی نے اپنے متبعین کو ڈرایا اور آنحضورﷺ نے بھی اس کے بارے میں بہت زیادہ انذار فرمایا۔(صحیح بخاری کتاب الفتن بَاب ذِكْرِ الدَّجَّالِ) اور ان شیطانی اور دجالی طاقتوں کے مقابلہ کے لیے اپنے روحانی فرزند اور غلام صادق مسیح موعود و مہدی معہود کی بعثت کی خوشخبری عطا فرمائی۔ (صحیح بخاری کتاب تفسیر القرآن بَاب قَوْلُهُ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ)

پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شیطانی اوردجالی طاقتوں کے مقابلہ کے لیے ہمیں جو دعا اور قلمی جہاد کے ہتھیار عطا فرمائے ہیں اور جو اسلام کی حقیقی تعلیم سے ہمیں آگاہ فرمایاہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو ان ہتھیاروں سے لیس کر کے اور ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ان شیطانی اور دجالی قوتوں کا مقابلہ کر کے خود کو اور اپنی آئندہ نسل کو ان کے حملوں سے محفوظ کریں۔

اللہ تعالیٰ آپ کو عقل و سمجھ عطا فرمائے،ہر قسم کے دجالی حملوں سے بچائے،اسلامی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر چلنے کی توفیق بخشے اور آپ کو ہمیشہ اپنے فضلوں سے نوازتا رہے۔ آمین

سوال:کینیڈا سے ایک مربی صاحب نے حضرت عامر بن فہیرہؓ کی شہادت کے بارے میں دشمن اسلام عامر بن طفیل کے بیان کردہ واقعہ کہ وہ شہید کیے جانے کے بعد آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور پھر زمین پر اتارے گئے، کے بارے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ کیا یہ کشفی نظارہ تھا؟ نیز یہ کہ اس واقعہ کی کوئی سند نہیں ہے کہ کس نے یہ واقعہ عامر بن طفیل سے سنا تھا؟اس بارے میں راہنمائی کی درخواست ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۸؍جنوری ۲۰۲۴ء میں اس استفسار کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: آپ نے جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے اسے حضرت امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح بخاری میں اس طرح روایت کیا ہے کہ بئرمعونہ کے حادثہ میں حضرت عامر بن فہیرہ ؓ بھی شہید ہوگئے تھے۔ ابواسامہ سے روایت ہے کہ ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ انہیں ان کے والد( عروہ بن زبیرؓ) نے بتایا کہ جب بئرمعونہ کے حادثہ میں قاری صحابہ شہید کیے گئے اورحضرت عمرو بن امیہ ضمریؓ قید کیے گئے تو عامر بن طفیل نے ایک لاش کی طرف اشارہ کر کے ان سے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟حضرت عمرو بن امیہ ؓنے انہیں بتایا کہ یہ حضرت عامر بن فہیرہؓ ہیں۔ اس پر عامر بن طفیل نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ قتل کیے جانے کے بعد اس کی لاش آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔ یہاں تک کہ میں دیکھتا ہوں کہ اس کی لاش آسمان و زمین کے درمیان تھی۔ پھر وہ زمین پر رکھ دی گئی۔ (بخاری کتاب المغازی بَاب غَزْوَةِ الرَّجِيعِ وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبِئْرِ مَعُونَةَ)

اس واقعہ کے کشفی نظارہ ہونے کی حد تک تو آپ کی بات درست ہے۔ اور اس کشفی نظارہ سے اللہ تعالیٰ دشمن اسلام عامر بن طفیل کو جواسلام کے خلاف کیے جانے والے اس بئرمعونہ والے منصوبہ کا سرغنہ تھا، بتانا چاہتا تھا کہ جن لوگوں کو تم نے سازش کر کے ہلاک کیا ہے وہ کوئی عام لوگ نہیں تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرب اور روحانی لوگ تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان شہداء کی دعا کو فوری طور پر بہ پایۂ قبولیت جگہ دیتے ہوئے حضورﷺ کو ان کی شہادت کی خبر دی اور حضورﷺ نے صحابہ کو ان الفاظ میں اپنے ان پیاروں کی شہادت کے بارہ میں بتایا کہ تمہارے بھائی شہید کردیے گئے ہیں اور شہادت کے بعد انہوں نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ اے ہمارے رب ! ہمارے بھائیوں کو اس کی اطلاع دیدے کہ ہم تیرے پاس پہنچ کر کس طرح خوش ہیں اور تو بھی ہم سے راضی ہے۔(بخاری کتاب المغازی بَاب غَزْوَةِ الرَّجِيعِ وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبِئْرِ مَعُونَةَ)

باقی جہاں تک اس واقعہ کی سند کا تعلق ہے تو جیسا کہ صحیح بخاری میں ہی ہے کہ ان ستّر صحابہ میں سے ایک صحابی حضرت عمرو بن امیہ ضمریؓ کو قید کر لیا گیا اور بعد میں عامر بن طفیل نے اپنی ماں کی نذر پورا کرنے کے لیے اس زمانہ کے دستور کے مطابق حضرت عمرو بن امیہ ضمریؓ کے سر کے سامنے کے بال کاٹ کر انہیں بطور غلام آزاد کر دیا۔ اور اس طرح یہ واقعہ حضرت عمرو بن امیہ ضمریؓ کے ذریعہ صحابہ تک پہنچا اور انہوں نے اسے آگے بیان کیا۔ چنانچہ جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ بخاری میں اس واقعہ کی یہ سند درج ہے کہ ابواسامہ نے اس واقعہ کو ہشام بن عروہ سے سنا اور ہشام نے اسے اپنے والد( عروہ بن زبیرؓ) سے سنا۔

پس یہ کہنا کہ اس واقعہ کی کوئی Chain(سند) نہیں ہے، درست نہیں ہے۔

سوال: انڈیا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ میری اہلیہ کا ۱۸ ہفتے اور ۵ دن بعد Miscarriage ہو گیا تھا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک مجلس سوال و جواب میں فرمایا تھا کہ چار پانچ ماہ کے جنین میں روح پڑ جاتی ہے۔ میری اہلیہ کا بھی تقریباً اتنے عرصہ بعد اسقاط حمل ہواہے۔ کیا ایسے بچہ کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے اور کیا اس میں روح پڑ گئی تھی اور آخرت میں ہماری اس بچہ سے ملاقات ہو سکے گی؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۲؍جنوری ۲۰۲۴ء میں اس سوال کے بارے میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: احادیث میں آتا ہے کہ ۱۲۰ دن بعد جو تقریباً چار ماہ بنتے ہیں، جنین میں روح پھونکی جاتی ہے۔ (بخاری کتاب احادیث الانبیاء بَابُ وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الأَرْضِ خَلِيفَةً)روح کے پھونکنے سے ہر گز یہ مراد نہیں کہ پہلے اس جنین کا روح سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا اور چار ماہ بعد اچانک کہیں باہر سے اس میں روح ڈال دی جاتی ہے۔ بلکہ روح تو شروع سے ہی اس جنین کا ایک پوشیدہ جوہر ہوتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ ایک وقت پر اپنے اذن سے اس جنین میں نمودار فرما دیتا ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس نکتہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: روح ایک لطیف نور ہے جو اس جسم کے اندر ہی سے پیدا ہو جاتا ہے جو رحم میں پرورش پاتا ہے۔ پیدا ہونے سے مراد یہ ہے کہ اوّل مخفی اور غیر محسوس ہوتا ہے پھر نمایاں ہو جاتاہے اور ابتداءً اس کا خمیر نطفہ میں موجود ہوتا ہے۔ بے شک وہ آسمانی خدا کے ارادہ سے اور اس کے اذن اور اس کی مشیت سے ایک مجہول الکنہ علاقہ کے ساتھ نطفہ سے تعلق رکھتا ہے اور نطفہ کا وہ ایک روشن اور نوارنی جوہر ہے۔ نہیں کہہ سکتے کہ وہ نطفہ کی ایسی جز ہے جیسا کہ جسم جسم کی جز ہوتا ہے مگر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ باہر سے آتا ہے یا زمین پر گر کر نطفہ کے مادہ سے آمیزش پاتا ہے بلکہ وہ ایسا نطفہ میں مخفی ہوتا ہے جیسا کہ آگ پتھر کے اندر ہوتی ہے۔ خدا کی کتاب کا یہ منشا نہیں ہے کہ روح الگ طور پر آسمان سے نازل ہوتی ہے یا فضا سے زمین پر گرتی ہے اور پھر کسی اتفاق سے نطفہ کے ساتھ مل کر رحم کے اندر چلی جاتی ہےبلکہ یہ خیال کسی طرح صحیح نہیں ٹھہر سکتا۔ اگر ہم ایسا خیال کریں تو قانون قدرت ہمیں باطل پر ٹھہراتا ہے۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد۱۰ صفحہ ۳۲۲ تا ۳۲۳)

انسانی جسم میں روح کے پیدا ہونے کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: انسانی رُوح کے پیدا ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کا قانون قدرت یہ ہے کہ دو نطفوں کے ملنے کے بعد جب آہستہ آہستہ قالب تیار ہو جاتا ہے تو جیسے چند ادویہ کے ملنے سے اُس مجموعہ میں ایک خاص مزاج پیدا ہو جاتی ہے کہ جو ان دواؤں میں فرد فرد کے طور پر پیدا نہیں ہوتی اسی طرح اُس قالب میں جو خون اور دو نطفوں کامجموعہ ہے ایک خاص جوہر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ایک فاسفرس کے رنگ میں ہوتا ہے اور جب تجلّی الٰہی کی ہوا کُنْ کے امر کے ساتھ اس پر چلتی ہے تو یکدفعہ وہ افروختہ ہوکر اپنی تاثیر اس قالب کے تمام حصوں میں پھیلا دیتا ہے تب وہ جنین زندہ ہو جاتا ہے پس یہی افروختہ چیز جو جنین کے اندر تجلّی ربّی سے پیدا ہو جاتی ہے اسی کا نام رُوح ہے۔(چشمۂ معرفت،روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ۱۵۹)

پس روح تو شروع سے ہی جنین کا حصہ ہوتی ہے، جو اپنے وقت پر اللہ تعالیٰ کے اذن سے اس جنین میں نمودار ہوجاتی ہے۔ اور روح کے نمودار ہونے کے بعد جب اس جنین کی تکمیل ہو جاتی ہے تو وہ جنین بچہ کی صورت میں ماں کے پیٹ سے باہر آ جاتا ہے۔

جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہی فوت ہو جائے اور زندہ ہونے کی حالت میں پیدا نہ ہولیکن اس کے تمام اعضاء بن چکے ہوں تو اس کی نماز جنازہ کے بارہ میں اکثر علماء و فقہاء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ اس کی باقاعدہ نماز جنازہ ادا نہیں کی جائے گی، جس کی دلیل حضورﷺکا یہ ارشاد ہے کہ الطِّفْلُ لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ، وَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ حَتَّى يَسْتَهِلَّ۔ (سنن ترمذی کتاب الجنائز باب فِي تَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنِينِ حَتَّى يَسْتَهِلَّ)یعنی بچہ کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی نہ وہ کسی کا وارث ہو گا اور نہ کوئی اس کا وارث ہو گا جب تک کہ وہ پیدائش کے وقت روئے نہیں۔

البتہ بعض اہل علم مردہ پیدا ہونے والے بچہ کی نماز جنازہ پڑھنے کے بھی قائل ہیں۔ اور ان کی دلیل حضورﷺکا یہ ارشاد ہے کہ ناتمام پیدا ہونے والے بچہ کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور اس کے والدین کے لیے دعائے مغفرت و رحمت کی جائے۔ (سنن ابی داؤد کتاب الجنائزبَاب الْمَشْيِ أَمَامَ الْجَنَازَةِ)

اس لیے اگر کوئی والدین اپنے دل کی تسلی اور اطمینان کے لیے کسی ایسے بچہ کی نماز جنازہ پڑھ لیں تو اس میں حرج کی بات نہیں۔

باقی اخروی زندگی میں ایسے بچوں سے والدین کی ملاقات ہو گی یا نہیں، اس بارے میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ ان بچوں سے والدین کی ملاقات کروائے گا یا نہیں۔ لیکن چھوٹی عمر میں وفات پا جانے والے بچوں کے بارہ میں حضورﷺکا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بچوں پر رحم کرتے ہوئے ان کے والدین کو بھی ان کے ساتھ جنت میں داخل کر دے گا۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز بَاب فَضْلِ مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدٌ فَاحْتَسَبَ)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط ۱۰۹)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button