خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 30؍جنوری 2026ء

’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے آخروقت میں مخیّر کیاکہ اگر چاہو تو دنیا میں رہو اور اگر چاہو
تو میری طرف آ جاؤ۔ آپ نے عرض کیا کہ اے میرے ربّ! اب میں یہی چاہتا ہوں کہ تیری طرف آؤں اور
آخری کلمہ آپ کا جس پر آپ کی جان مطہّر رخصت ہو گئی یہی تھا کہ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی۔ یعنی
اب میں اس جگہ رہنا نہیں چاہتا۔ میں اپنے خدا کے پاس جانا چاہتا ہوں۔‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت الٰہی کے بےشمار واقعات ہیں بلکہ آپؐ کا ہر عمل اور ہر واقعہ اس بات پر منتج ہوتا ہے کہ آپؐ کے دل میں ہر وقت محبت الٰہی کا ایک سمندر موجزن تھا

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی موقع نہیں جانے دیتے تھے جس میں خدا تعالیٰ کی توحید کا ذکر نہ ہو اور آپؐ کے ہر لفظ سے اللہ تعالیٰ کی محبت ٹپکتی تھی۔
ہر موقع ایسا تھا کہ جب بھی آپؐ بولتے ہر لفظ سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت آپؐ کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے بلکہ آپؐ کا دل محبت سے پُر ہے اور اس کے علاوہ وہاں کچھ نہیں ہے

اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو فرمایا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !جس طرح تُو خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا پورا ادراک رکھتا ہے اپنے ایمان لانے والوں کو بھی بتا دے
کہ کس باریکی سے تمہیں خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی محبت کا ہر معاملے میں اقرار کرنا چاہیے ۔دل کی گہرائی سے اس پر یقین رکھنا چاہیے

اگلے جہان میں کوئی وسیلہ اس طرح کام نہیں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے جو کام آئے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل اور آپؐ کی اطاعت اور متابعت ہی اصل کام آنے والی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خود پسند فرمایا ہے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ(آل عمران:32)
یعنی آپؐ سے یہ اعلان کروایا کہ لوگوں سے کہہ دو کہ میری اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مثالیں قائم کر کے ہمیں ایک ایسا راستہ دکھا دیا کہ محبت الٰہی کی بھی انتہا ہے، اور اپنی خواہشات کے اظہار کی بھی انتہا ہے اور قربانی کی بھی انتہا ہے ۔لیکن ساتھ ہی عقل اور اوسط راستہ بھی ہے۔ وہ بھی اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ہی حکم ہے کہ اس کو اختیار کرو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں ذکر الٰہی کرتے تھے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی شے ،کوئی خوشی والی بات پیش آتی یا آپؐ کو کسی بات کی خوشخبری سنائی جاتی تو آپؐ فوراً اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑتے

صبح کی نماز سے لے کر سورج طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنا مجھے حضرت اسماعیل ؑکی اولاد سے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ اور عصر کی نماز سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنا مجھے چار غلاموں کے آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے(حدیث نبویﷺ)
اللہ اللہ !کیا شان ہے محبت الٰہی کی کہ جو آپؐ لوگوں میں بھی پیدا کر رہے ہیں اور خود اپنے اندر بھی یہ شان انتہا تک پہنچی ہوئی ہے

اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا ہر وقت ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ترین تھا

یہ محبت الٰہی کا جذبہ تھا کہ زندگی کے آخری لمحے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر اسی محبوب حقیقی کا نام تھا

آخری بات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی وہ یہ تھی اَللّٰھُمَّ الرَّفِیْقَ الْاَعْلَی

آنحضرتﷺ کی محبت الٰہی کا دلنشیں اور دلآویز پیرایہ میں ذکر

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 30؍جنوری 2026ء بمطابق 30؍صلح 1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت الٰہی کے بےشمار واقعات ہیں بلکہ آپؐ کا ہر عمل اور ہر واقعہ اس بات پر منتج ہوتا ہے کہ آپؐ کے دل میں ہر وقت محبت الٰہی کا ایک سمندر موجزن تھا۔

اس کا

ایک نظارہ ہمیں غزوۂ احد میں نظر آتا ہے جہاں آپؐ کی محبت الٰہی میں تڑپ کا ایک عجیب اور نرالا انداز ہے۔

روایت میں آتا ہے کہ حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ احد کے دن ہم نے مشرکوں کا سامنا کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کا ایک دستہ مقرر فرمایا اور حضرت عبداللہ ؓکو ان کا امیر مقرر فرمایا اور تاکید فرمائی کہ تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا۔ اگر تم دیکھو کہ ہم ان پر غالب آ گئے ہیں تب بھی نہ ہٹنا اور اگر دیکھو کہ وہ ہم پر غالب آ گئے ہیں تب بھی ہماری مدد کو نہ آنا۔ یعنی فتح اور شکست دونوں صورتوں میں تم نے اپنی جگہ نہیں چھوڑنی۔ یہاں واقعہ کی جو انتہا ہے اس میں نظر آتا ہے کہ آپؐ کے اندر محبت الٰہی کا کیسا جوش تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب ہمارا مقابلہ ہوا تو دشمن بھاگ گیا۔ یہاں تک کہ میں نے مشرک عورتوں کو دیکھا کہ وہ پہاڑوں کی طرف بھاگ رہی تھیں۔ انہوں نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھایا ہوا تھا اور ان کی پازیبیں ظاہر ہو رہی تھیں۔ مسلمانوں نے کہنا شروع کر دیا کہ مال غنیمت، مال غنیمت۔ حضرت عبداللہ ؓنے انہیں روکا۔ یعنی جو ان کی پارٹی تھی اسے روکا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تاکید فرمائی تھی کہ تم نہ ہٹنا لیکن وہ نہ مانے۔ جب وہ درّہ چھوڑ کر مال غنیمت کی طرف آئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان مسلمانوں سے منہ پھیر لیا۔ یعنی جب درّہ چھوڑ کے لوگ مال غنیمت اکٹھا کرنے کے لیے آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے منہ پھیر لیا۔ جنگ پلٹا کھا گئی اور دشمن نے دوبارہ حملہ کر دیا اور ستّر مسلمان شہید ہو گئے۔ کہتے ہیں اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہاڑی کے دامن میں پناہ لیے ہوئے تھے کہ ابو سفیان نے ایک اونچے مقام پر چڑھ کر آواز دی کہ کیا لوگوں میں محمد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اسے جواب نہ دو۔ پھر اس نے کہا :کیا ان لوگوں میں ابن ابی قحافہ ہے؟آپؐ نے فرمایا :جواب نہ دو۔ پھر اس نے کہا :کیا ان لوگوں میں ابن خطاب عمر ہے؟ جب کوئی جواب نہ آیا تو ابو سفیان نے کہا :یہ سب لوگ مارے گئے۔ اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور پکار کر کہا: اے اللہ کے دشمن !تُو نے جھوٹ کہا۔ اللہ نے تیرے مقابلے پر اس کو زندہ رکھا جو تجھے ذلیل کرے گا۔

ابوسفیان نے نعرہ لگایا: ھُبَل کا بول بالا ہو۔ جب اس نے یہ کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیتاب ہو گئے اور فرمایا :تم اس کا جواب دو۔ صحابہؓ نے عرض کیا: ہم کیا جواب دیں؟ آپؐ نے فرمایا :کہو اللہ سب سے بلند ہے اور سب سے بزرگ ہے۔ ابوسفیان نے کہا ہمارے لیے عُزّیٰ ہے اور تمہارے لیے کوئی عُزّیٰ نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اس کا جواب دو۔ صحابہؓ نے پوچھا کیا کہیں؟ آپؐ نے فرمایا :کہو اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مدد گار نہیں۔

(صحیح بخاری کتاب المغازی بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ حدیث4043)

یعنی جہاں اللہ تعالیٰ کی غیرت کا سوال آیا اور اس کی محبت کا سوال آیا تو آپؐ نے اپنی جان کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ آپؐ نے فوراً صحابہ ؓکو حکم دیا کہ اس کا جواب دو۔

پہلے حکمت سے جواب دینا نہیں چاہتے تھے۔

اس کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے تاریخ کے حوالے سے مزیدتحریر فرمایا ہے۔ لکھتے ہیں کہ وہ صحابہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گر د تھے اور جو کفار کے ریلے کی وجہ سے پیچھے دھکیل دیے گئے تھے، کفار کے پیچھے ہٹتے ہی وہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے۔ یعنی صحابہ ؓ جمع ہو گئے اور آپؐ کے جسم مبارک کو انہوں نے اٹھایا ۔آپؐ کیونکہ بےہوش ہوکےگر پڑے تھے۔ ایک صحابی عبیدہ بن الجراحؓ نے اپنے دانتوں سے آپؐ کے سر میں گھسی ہوئی کیل کو زور سے نکالا جس سے ان کے دو دانت ٹوٹ گئے۔ تھوڑی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آ گیا۔ آپؐ زخموں کی وجہ سے بےہوش ہو گئے تھے جیساکہ میں نے بتایا۔ دشمن نے یہ مشہور کر دیا تھا کہ نعوذ باللہ آپؐ شہید ہوگئے ہیں تو آپؐ کے ہوش آنے کے بعد صحابہؓ نے چاروں طرف میدان میں آدمی دوڑا دیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں سب آجائیں۔ مسلمانوں کا بھاگا ہوا لشکر پھر جمع ہونا شروع ہو گیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں لے کر پہاڑ کے دامن میں چلے گئے۔ جب دامن کوہ میں بچا کچھا لشکر کھڑا تھا تو ابوسفیان نے بڑے زور سے آواز دی اور کہا ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مارد یا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کی بات کا جواب نہ دیا تا کہ ایسا نہ ہو کہ دشمن حقیقت حال سے واقف ہو کر دوبارہ حملہ کر دے۔ دشمن یہ سمجھے کہ مسلمان مرے نہیں بلکہ زخمی ہوئے ہیں اور چونکہ مسلمان زخمی حالت میں ہیں اس لیے وہ دوبارہ حملہ برداشت نہیں کر سکیں گے اور زخمی مسلمان پھر دشمن کے حملے کا شکار ہوجائیں گے۔ جب اسلامی لشکر سے اس بات کا کوئی جواب نہ ملا تو ابوسفیان کو یقین ہو گیا کہ اس کا خیال درست ہے۔ اس نے بہت زور سے آواز دے کر کہا ہم نے ابو بکر کو بھی مار دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکرکو بھی حکم دیا کہ کوئی جواب نہ دیں۔ پھر ابوسفیان نے آواز دی ہم نے عمر کو بھی مار دیا ۔تب حضرت عمر جو بہت جوشیلے آدمی تھے اس کے جواب میں انہوں نے کہنا چاہا کہ ہم لوگ خدا کے فضل سے زندہ ہیں اور تمہارے مقابلے کے لیے تیار ہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا کہ مسلمانوں کو تکلیف میں مت ڈالو اور خاموش رہو۔ اس وقت کمزوری کی حالت ہے۔ یونہی حملہ کر دے گا تو اور زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔اب کفار کو یقین ہو گیا کہ اسلام کے بانی کو بھی اور ان کے دائیں بائیں بازو کو بھی ہم نے مار دیا ہے۔ اس پر ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں نے خوشی سے نعرہ لگایا: اُعلُ ھُبَل، اُعلُ ھُبَل۔ ہمارے معزز بت ھُبَل کی شان بلند ہو کہ اس نے آج اسلام کا خاتمہ کر دیا ہے۔ وہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اپنی موت کے اعلان پر، ابوبکر ؓکی موت کے اعلان پر اور عمر ؓکی موت کے اعلان پر خاموشی کی نصیحت فرما رہے تھے تا ایسا نہ ہو کہ زخمی مسلمانوں پر پھر کفار کا لشکر ٹوٹ کر حملہ کر دے اور مٹھی بھر مسلمان ان کے ہاتھوں شہید ہو جائیں، اب جبکہ خدائے واحد کی عزت کا سوال پیدا ہوا اور شرک کا نعرہ میدان میں مارا گیا تو آپؐ کی روح بیتاب ہو گئی۔ آپؐ نے نہایت جوش سے صحابہ ؓکی طرف دیکھ کر فرمایا تم لوگ جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہؓ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم کیا کہیں؟ فرمایا کہ کہو :اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلّ۔ اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلّ۔ تم جھوٹ بولتے ہو کہ ھُبَل کی شان بلند ہوئی۔ اللہ وحدہٗ لاشریک ہی معزز ہے اور اس کی شان ہی بالا ہے نہ کہ ھُبَل کی۔ اور اس طرح آپ نے اپنے زندہ ہونے کی خبر دشمنوں تک پہنچا دی۔

اس دلیرانہ اور بہادرانہ جواب کا اثر کفار کے لشکر پر اتنا گہرا پڑا کہ باوجود اس کے کہ ان کی امیدیں اس جواب سے خاک میں مل گئیں اور باوجود اس کے کہ ان کے سامنے مٹھی بھر زخمی مسلمان کھڑے تھے جن پر حملہ کر کے ان کو مار دینا مادی قوانین کے لحاظ سے بالکل ممکن تھا وہ دوبارہ حملہ کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔جس قدر فتح ان کو نصیب ہوئی تھی اسی کی خوشیاں مناتے ہوئے مکہ کو واپس چلے گئے۔

(ماخوذازدیباچہ تفسیر القرآن انوارالعلوم جلد 20 صفحہ 252-253)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی محبت میں شرک کا شائبہ بھی نہ آنے دیتے تھے۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے یہ کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔ جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کیا تم نے مجھے اللہ کے برابر ٹھہرا دیا ہے؟ بلکہ یوں کہو کہ جو خداتعالیٰ اکیلا چاہے۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الکفارات باب:النَّهْيُ أَنْ يُقَالَ مَا شَاءَ اللّٰهُ وَشِئْتَ حدیث2117)

شرک کا ہلکا سا پہلو بھی نہیں آنا چاہیے۔ بعض لوگ اس طرح کی باتیں کر جاتے ہیں کہ اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔ ہاں !یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے اور اللہ کا فضل ہے اور دعا بھی شامل ہو تو پھربرکت پڑ جائے گی۔ دعا کی حد تک تو ٹھیک ہے ۔لیکن ’’آپ چاہیں‘‘ والی بات غلط ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سختی سے ناپسند فرمایا ہے۔

پھر

آپؐ کو یہ فکر رہتی تھی کہ کہیں لوگ قبروں کو پوجنے کی جگہ نہ بنا لیں

لیکن بدقسمتی سے آج اسی کے خلاف عمل ہو رہا ہے۔ پہلے بھی میں نے ذکر کیا تھا۔ مسلمان پیروں فقیروں کی قبروں پر جا کےپوجتے ہیں ،سجدے کرتے ہیں حالانکہ آپؐ نے قبروں کو مسجد بنانے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض میں جس میں آپؐ کا وصال ہوا یعنی آخری وقت میں فرمایا: اللہ لعنت کرے یہود اور نصاریٰ پر انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: اگر آپؐ نے یہ نہ فرمایا ہوتاتو آپؐ کی قبر کھلی رکھی جاتی مگر میں ڈرتی ہوں کہ کہیں وہ مسجد نہ بنا لی جائے ۔اس لیے کھلی جگہ نہیں رکھی گئی تا کہ عبادت کی جگہ نہ بنا لی جائے۔

(صحیح البخاری کتاب الجنائز بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنِ اتِّخَاذِ المَسْاجِدِ عَلَى القُبُورِ حدیث1330)

آجکل تو وہاں حکومت نے اس کے ارد گرد باقاعدہ انتظام کیا ہوا ہے۔ جنگلے ہیں، دیواریں ہیں تاکہ کسی قسم کا شرک ظاہر نہ ہو۔ یہ کام کم از کم انہوں نے اچھا کیا ہے کیونکہ اس شرک سے آپؐ کو سخت نفرت تھی۔

خدا تعالیٰ کی یگانگت کے بیان میں ایک روایت اس طرح آتی ہے۔

حضرت اُبی بن کعب سے روایت ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ اپنے ربّ کا نسب ہمیں بتائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔کہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے ۔وہ واحد و یگانہ ہے جس نے نہ کچھ جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا کیونکہ کوئی چیز نہیں جو پیدا ہو مگر وہ مرے گی اور کوئی چیز نہیں جو مرتی ہے مگر اس کا وارث ہوتا ہے۔ اور اللہ عزّ وجلّ نہ مرے گا ،نہ اس کا کوئی وارث ہو گا اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے۔ راوی کہتے ہیں اس کا کوئی مشابہ نہیں، نہ کوئی برابر ہے اور نہ اس جیسا کوئی ہے۔

(سنن الترمذی أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بابٌ: وَمِنْ سُورَةِ الإِخْلَاصِ حدیث3364)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی موقع نہیں جانے دیتے تھے جس میں خدا تعالیٰ کی توحید کا ذکر نہ ہو اور آپؐ کے ہر لفظ سے اللہ تعالیٰ کی محبت ٹپکتی تھی۔ ہر موقع ایسا تھا کہ جب بھی آپؐ بولتے تو ہر لفظ سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت آپؐ کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے بلکہ آپؐ کا دل محبت سے پُر ہے اور اس کے علاوہ وہاں کچھ نہیں ہے۔

حضرت زید بن خالد جُہَنِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں رات کو ہونے والی بارش کے بعدصبح کی نماز پڑھائی۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے ربّ عزّ وجلّ نے کیا فرمایا ہے؟ اللہ تعالیٰ دلوں کا حال جانتا ہے۔ بارش کو دیکھ کے لوگوں کا جو خیال ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندوں میں سے کچھ نے اس حال میں صبح کی کہ وہ مجھ پر ایمان لانے والے تھے اور کچھ انکار کرنے والے تھے۔ یعنی لوگوں میں بعض ایسے تھے جنہوں نے رات کی بارش دیکھ کر اس طرح صبح کی کہ ان میں سے بعض ایمان لانے والے تھے اور بعض انکار کرنے والے تھے۔ جس نے تو یہ کہا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بارش ہوئی تو وہ ایمان لانے والے ہیں جیسا کہ میں نے کہا اور ستاروں کا انکار کرنے والے ہیں۔اس زمانے میں ستاروں کی پرستش بھی ہوتی تھی ۔تربیت کا پہلو بھی کم تھا۔ بہت سارے مشرک لوگ پرستش کرنے والے اس طرح اسلام میں شامل ہوئے تھے۔تو بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں ستارے کی وجہ سے آج بارش ہو گئی۔ پس جس نے کہا آج ستاروں کی وجہ سے بارش ہوئی ہے وہ میرا انکار کرنے والے ہیں اور ستارے پر ایمان لانے والے ہیں۔

(صحیح البخاری کتاب الاذان بَابٌ يَّسْتَقْبِلُ الْإِمَامُ النَّاسَ إِذَا سَلَّمَ حدیث846)

پس

اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو فرمایا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !جس طرح تُو خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا پورا ادراک رکھتا ہے اپنے ایمان لانے والوں کو بھی بتا دے کہ کس باریکی سے تمہیں خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی محبت کا ہر معاملے میں اقرار کرنا چاہیے ۔دل کی گہرائی سے اس پر یقین رکھنا چاہیے۔

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہؐ! جنت اور جہنم کو واجب کرنے والی دو چیزیں کون سی ہیں؟ آپؐ نے فرمایا :جو اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔اور جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کا شریک بناتا تھا وہ آگ میں داخل ہو گا۔

(صحیح المسلم کتاب الإيمان باب: الدلیل علیٰ من مات لا يشرك باللّٰه شيئًا دخل الجنة…حدیث نمبر: 93)

پس آج بھی ہر پوچھنے والے کو یہی جواب کافی ہے کہ شرک کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ اسباب پر بھروسہ ،نفس پر بھروسہ ،اپنی لیاقت پر بھروسہ ،اپنی دولت پر بھروسہ، اپنے خاندان اور قبیلے پر بھروسہ ،اپنی اولاد پر بھروسہ غرضیکہ کوئی بھی چیز جس میں انسان خدا تعالیٰ کو مقدّم رکھے بغیر بھروسہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا نام لیے بغیر بھروسہ کرتا ہے وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔

(ماخوذ از ملفو ظات جلد 2 صفحہ 420 ایڈیشن 2022ء)

پس

اس باریکی سے ہمیں اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ ہم شرک سے بچے رہیں۔ اس پر عمل کریں اور اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا کرتے جائیں۔

پھر مزید باریکی سے ایک جگہ آپؐ نے اس طرح بیان فرمایا: محمود بن لبید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ شرک اصغر ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ !شرک اصغر کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ریاء۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جن لوگوں کے لیے تم دنیا میں دکھاوا کرتے تھے، ریاء کرتے تھے انہی کے پاس جاؤ اور دیکھو کہ کیا تمہیں ان کے پاس کوئی بدلہ ملتا ہے؟ تم ان کو دکھانے کے لیے کرتے تھے بعض کام تو پھر ان سے ہی بدلہ لے لو۔

(مسند الامام احمدبن حنبل جلد 7 صفحہ 799حدیث محمود بن لبید حدیث:24030مکتبہ عالم الکتب بیروت)

پس دکھاوا اور ریاء یعنی لوگوں کو دکھانے کے لیے بناوٹی اصول اور تصنّع یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہیں کیونکہ وہ اعمال تم اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے نہیں کر رہے بلکہ دکھاوے کے لیے، ان لوگوں کو خوش کرنے کے لیے کر رہے ہوتے ہو۔

اس گہرائی سے ہمیں بھی اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ ہمارے کیا عمل ہیں کیونکہ

اگلے جہان میں کوئی وسیلہ اس طرح کام نہیں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے جو کام آئے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل اور آپؐ کی اطاعت اور متابعت ہی اصل کام آنے والی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خود پسند فرمایا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (آل عمران:32)۔ یعنی آپؐ سے یہ اعلان کروایا کہ لوگوں سے کہہ دو کہ میری اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔

پھر ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ عزّوجلّ نے اس شخص کے لیے جو اس کی راہ میں نکلتا ہے یہ اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ میں یا تو اسے مع اس اجر یا مال غنیمت کے جو اس نے حاصل کیا ہے اسے واپس لوٹا دوں گا یا اسے جنت میں داخل کروں گا۔ یعنی یا فتح ہو گی یا اگر شہادت ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا بشرطیکہ مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق نے ہی اسے جہاد کے لیے نکالا ہو۔ یہ شرط ہے کہ ایمان مضبوط ہو۔ اللہ تعالیٰ کے رسول ؐکی اتباع اور بیعت کا حق ادا کرتے ہوئے جہاد کے لیے نکلے۔ اور اگر مجھے اس بات کا خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی امّت کو مشقّت میں ڈال دوں گا تو میں ہر دستہ فوج کے ساتھ جاتا۔ میری تو خواہش ہے کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں ،پھر زندہ کیا جاؤں ،پھر مارا جاؤں ،پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر مارا جاؤں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

(صحیح البخاری کتاب الایمان باب الجھاد من الایمان حدیث 36)

اس حدیث کی شرح میں حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحبؓ لکھتے ہیں بخاری کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ یہ جو فرمایا : لَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلٰی اُمَّتِیْ۔ یعنی اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میری امّت مشقّت میں پڑ جائے گی تو میں ایسا کرتا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی طرح تجربہ ہو چکا تھا کہ صحابہؓ  کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کی کمال حرص تھی۔‘‘ اکثریت تھی جن کو حرص تھی آپؐ کی اتباع کرنا چاہتے تھے اور کرتے تھے ’’آپؐ کے اسوہ ٔحسنہ میں اس قدر قوّت جاذبیت اور تاثیر تھی کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اعمال بجا لانے میں اپنی امّت کا خیال رہتا تھا کہ کہیں آپؐ کا عمل درآمد ان کے لیے ایسا رنگ نہ اختیار کر لے جو ان کو زیادہ مشقّت میں ڈال دینے والا ہو‘‘یعنی اگر آپؐ نے ہر چیز فرض کر دی تو امّت مشقّت میں پڑ جائے گی ۔اس لیے آپؐ نے فرمایا کہ میں بعض دفعہ اس لیے نہیں جاتا کہ تم مشقّت میں نہ پڑو۔ سید ولی اللہ شاہ صاحب ؓمزید لکھتے ہیں کہ’’اللہ تعالیٰ سے آپؐ کو عشق تھا۔ جیسا کہ مخالفین بھی عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّہٗ۔کے الفاظ میں اسی عشق کا ذکر کرتے تھے۔ مگر اس عشق کے ساتھ اپنے نفس پر ضبط بھی تھا اور عقل نے ایک لمحہ بھی آپؐ کاساتھ نہیں چھوڑا۔ جو لوگ اپنے اعمال میں افراط سے کام لیتے ہیں، ان کے لیے اس میں ایک سبق ہے۔ اندھا دھند اپنے جذبات کے پیچھے پڑ جانا یہ نہ کما ل ایمان کی علامت ہے اور نہ کوئی اعلیٰ نیکی ہے۔‘‘ بعض لوگ کہتے ہیں ہمیں غیرت ہے۔ ہمیں یہ کرنا چاہیے وہ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اعتدال پسند ہے۔ ’’حد اوسط پر ہی قائم رہنا نیکی کا کمال ہے، کیونکہ اس میں نفس کے ساتھ جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔‘‘

(صحیح البخاری مترجم اردو جلد 1صفحہ 84، کتاب الایمان باب الجھاد من الایمان حدیث 36۔ نظارت اشاعت ربوہ)

پس یہاں نفس کے ساتھ جدوجہد بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت بھی ہے۔ دونوں کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرنا ہے۔ یہ نہیں کہ اندھا دھند چل پڑے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مثالیں قائم کر کے ہمیں ایک ایسا راستہ دکھا دیا کہ محبت الٰہی کی بھی انتہا ہے، اور اپنی خواہشات کے اظہار کی بھی انتہا ہے ،اور قربانی کی بھی انتہا ہے ۔لیکن ساتھ ہی عقل اور اوسط راستہ بھی ہے۔ وہ بھی اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ہی حکم ہے کہ اس کو اختیار کرو۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ

آپؐ نے مشرکوں سے مدد لینے کو سخت ناپسند فرمایا۔

آپؐ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے جب آپؐ حَرَّةُ الْوَبَرةپہنچے جو مدینہ کے مغرب میں تین میل کے فاصلے پر ہے تو آپؐ کو ایک شخص ملا جس کی جرأت اور بہادری کا ذکر کیا جاتا تھا ۔وہ بہت بہادر انسان تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے جب اسے دیکھا تو بہت خوش ہوئے کہ وہ آگیا ہے اور ہمارے ساتھ جنگ میں شامل ہوگا۔ جب وہ آپؐ سے ملا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ مَیں آپ کے ساتھ جانے ،آپ کے ساتھ حصہ پانے اور آپ کی مدد کرنے کے لیے آیا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا :کیا تم اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لاتے ہو؟ اس نے کہا :نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر واپس چلے جاؤ کیونکہ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔ حضرت عائشہؓ  فرماتی ہیں کہ وہ چلا گیا یہاں تک کہ جب ہم شَجَرَہ پہنچے جو مدینے سے سات میل پر ذوالحلیفہ میں ایک درخت تھا جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے وہاں یہ شخص پھر آپؐ کے پاس آیا۔ اس شخص نے آپؐ کو پایا اور ویسا ہی کہا جیسا پہلی مرتبہ کہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ویسا ہی فرمایا جیسا پہلے فرمایا تھا۔ آپؐ نے فرمایا :لوٹ جاؤ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔ پھر وہ لوٹا اور آپؐ کو بیداءمیں ملا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ذوالحلیفہ سے آگے ہے۔ بہرحال وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پھر فرمایا جیسے پہلے فرمایا تھا کہ کیا تم اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لاتے ہو؟ اس نے اب کہا کہ جی ہاں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسےفرمایا :اب چلو۔اب تم ہمارے ساتھ چل سکتے ہو۔ پس

جیسے بھی حالات ہوں اللہ تعالیٰ سے محبت اور غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ کسی مشرک سے مدد لی جائے، خاص طور پر اس کام کے لیے جو خالصتاً خدا تعالیٰ کی رضا اور دین کی خاطر کیا جا رہا ہے۔

(صحیح المسلم كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَابُ كَرَاهَةِ الِاسْتِعَانَةِ فِي الْغَزْوِ بِكَافِرٍ …حدیث1817)

(فرہنگ سیرت صفحہ71، صفحہ102،صفحہ 105،صفحہ 162)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کیسی معرفت تھی، کیسی احتیاط تھی، کس طرح خدا تعالیٰ سے خائف رہتے تھے اور باوجود اس کے کہ تمام انسانوں سے زیادہ آپؐ کامل تھے اور ہر قسم کے گناہوں سے آپؐ پاک تھے، خوداللہ تعالیٰ آپؐ کا محافظ و نگہبان تھا مگر باوجود اس تقدیس اور پاکیزگی کے یہ حال تھا کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے خائف رہتے، نیکی پر نیکی کرتے، اعلیٰ سے اعلیٰ اعمال بجا لاتے،’’ایک نیکی کے بعد دوسری نیکی کرتے چلے جاتے اور کبھی برائی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ شائبہ بھی نہیں تھا اس کا۔ اعلیٰ سے اعلیٰ اعمال بجا لاتے تھے‘‘ہر وقت عبادت الٰہیہ میں مشغول رہتےمگر باوجود اس کےڈرتے اور بہت ڈرتے۔ اپنی طرف سے جس قدر ممکن ہے احتیاط کرتے مگر خدا تعالیٰ کے غناکی طرف نظر فرماتے اور اس کے جلال کو دیکھتے تواس کی بارگاہ صمدیت میں اپنے سب اعمال سے دستبردار ہو جاتے اور استغفار کرتے اور جب موقع ہوتا توبہ کرتے۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَاَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ فِی الْیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً۔‘‘

بخاری کی یہ حدیث ہے کہ ’’میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ خدا کی قسم !مَیں دن میں ستّر دفعہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کے حضورمیں اپنی کمزوریوں سے عفو کی درخواست کرتا ہوں اور اس کی طرف جھک جاتا ہوں۔‘‘

(سیرۃ النبیﷺ از حضرت مصلح موعودؓجلد 1 صفحہ 82)

یہ ستّر کا لفظ بھی عربی میں لا تعداد کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بے شمار دفعہ یہ کرتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ہر موقع پر زبان مبارک ذکر الٰہی سے تر رہتی تھی۔

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں ذکر الٰہی کرتے تھے۔

(سنن الترمذی ابواب الدعوات باب ما جاء ان دعوۃ المسلم مستجابۃ حدیث 3384)

جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے بھی بیان کیا ہے اور حدیثوں سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر وقت آپؐ کی زبان ذکر الٰہی سے تر ہوتی تھی۔

حضرت سمرہ بن جندبؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:چار باتیں تمام کلاموں سے افضل ہیں ۔جس سے بھی تُو شروع کرے اس میں تجھے کچھ نقصان نہیں۔ یہ باتیں اگر ان سے شروع کرو تو سب سے افضل ہے۔ افضل اور بڑی برکت والی باتیں ہیں۔ وہ کیا ہیں ؟نمبر ایک یہ ہے سبحان اللّٰہ ۔نمبر دو الحمدللّٰہ۔ نمبر تین لا الہ الا اللّٰہ۔ نمبر چار اللّٰہ اکبر۔ یعنی پاک ہے اللہ ۔ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے ۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔اور اللہ سب سے بڑا ہے۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب فضل التسبیح حدیث 3811)

پس

یہ باتیں ایسی ہیں اگر ہمیشہ انسان کے ذہن میں رہیں اور ہر وقت ان کا خیال رہے بات کرتے وقت یا کام کرتے ہوئے بھی ان چیزوں کو سامنے رکھے تو ان میں برکت ہی برکت ہے۔

اسی طرح حضرت عبداللہ بن بِسرؓ  فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ اسلام کے قاعدے اور اعمال خیر میرے لیے بہت زیادہ ہو گئے۔ یعنی اتنے قانون،قاعدے، احکامات ہیں اور نیکی کی باتیں ہو گئی ہیں کہ میرے جیسے آدمی کے لیے بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ دیہاتی تھے اس طرح کے سوال کر دیا کرتے تھے تو اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کوئی ایسی چیز بتا دیں کہ میں ان کا اہتمام اور انتظام کر لوں اور اسی کو زیادہ تر کیا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تمہاری زبان مسلسل یاد الٰہی سے تر رہے۔ اپنی زبان کو یاد الٰہی سے تر رکھو ۔

فرمایا: لَایَزَالُ لِسَانُکَ رَطْبًامِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلّ۔

تمہاری زبان ہمیشہ مسلسل یاد الٰہی سے تر رہے۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب فضل الذکر حدیث 3793)

پھر ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

سب سے افضل ذکر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ہے اور سب سے افضل دعا اَلْحَمْدُلِلّٰہِ ہے۔

(سنن الترمذی ابواب الدعوات باب ما جاء ان دعوۃ المسلم مستجابۃ حدیث 3383)

ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو اُمَامہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیشکش کی گئی کہ وہ میرے لیے وادی بطحا یعنی مکہ کو سونے کا بنا دے۔ میں نے عرض کی اے میرے ربّ! بلکہ ایسا ہو کہ میں ایک دن پیٹ بھر کر کھانا کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں۔ پس جب میں بھوکا رہوں گا تو تیرے حضور آہ وزاری کروں گا اور تجھے یاد کروں گا اور جب میں سیر ہو کر کھانا کھاؤں گا تو تیری حمد اور تیرا شکر کروں گا۔ (مسند الامام احمد بن حنبل جلد 7 صفحہ402 حدیث ابی امامۃ الباہلی حدیث نمبر:22543مکتبہ عالم الکتب بیروت) مجھے یہ نہیں چاہیے۔ مجھے تو یہ چاہیے کہ جہاں تُو ہمیشہ یاد رہے۔ سونا اور دولت زیادہ ہوگئی تو کہیں تیری یاد نہ ختم ہو جائے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر جو یہ تنگی یا مشقّت برداشت کی تھی یا یہ کہنا چاہیے کہ اگر آپؐ کے حالات مالی لحاظ سے کمزور تھے تو اس لیے نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو دیا نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بے شمار دیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی محبت اور یاد میں آپؐ نے یہ اختیار کیا کہ فقر کی زندگی گزاریں ۔لیکن یہ بھی نہیں ہے کہ آپؐ نعمتوں کا انکار کرتے تھے۔ اچھے پکے ہوئے کھانے اور نعمتیں بھی کھایا کرتے تھے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے تھے۔

(ماخوذاز تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 8صفحہ 42-43)

اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابوبکرہؓ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی شے ،کوئی خوشی والی بات پیش آتی یا آپؐ کو کسی بات کی خوشخبری سنائی جاتی تو آپؐ فوراً اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑتے۔

(سنن ابی داؤد کتاب الجھاد باب فی سجود الشکر حدیث نمبر2774)

اللہ تعالیٰ کے آگے ہی سب شکر گزاری ہے اور اسی کی محبت اور حمد کا یہ تقاضا ہے، اس کی بندگی کا یہ تقاضا ہے کہ اس کے سامنے فوراً جھکا جائے اور اس کا شکریہ ادا کیا جائے۔

حضرت براء بن عازبؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب تم اپنے بستر پر آؤ تو نماز کے لیے اپنے وضو کی طرح وضو کرو۔یعنی سونے سے پہلے وضو کر لینا اچھی بات ہے۔ پھر اپنے دائیں کروٹ پر لیٹو اور دعائیں پڑھو۔ ان دعاؤں کا ترجمہ میں پڑھتا ہوں یہ ہیں کہ اے اللہ!میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کیا۔ میں نے اپنے کام تجھے سونپ دیے اور تجھے اپنا سہارا بنایا تجھ سے ڈرتے ہوئے اور محبت رکھتے ہوئے۔ تیرے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں اور نہ ہی کوئی نجات کی جگہ ہے۔ نجات صرف تیرے پاس ہی ہے۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تُو نے اتاری اور تیرے اس نبیؐ پر ایمان لایا جو تُو نے بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دعا کیا کرو اگر تم اس رات فوت ہو گئے تو فطرت پر فوت ہو گے۔پس ان کلمات کو اپنا آخری کلام بناؤ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا میں ان کلمات کو یاد کر لوں گا اور میں نے دہراتے ہوئے کہا کہ وَبِرَسُوْلِکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ۔ یہ بھی کہوں گا کہ اور تیرے رسولؐ پر جو تُو نے بھیجا ہے۔ان الفاظ کو بھی شامل کر لوں گا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :نہیں تم یہ کہووَبِنَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ۔ اور تیرے نبیؐ پر جو تُو نے بھیجا ہے میں اس پر ایمان لاتا ہوں۔

(صحیح مسلم مترجم (اردو) جلد 14 صفحہ 82-83کتاب الذکر و الدعاء… باب ما یقول عند النوم و اخذ المضجع۔ حدیث نمبر 4870، نور فاؤنڈیشن)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ

’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم موت سے کسی وقت غافل نہ رہتے تھے اور خشیت الٰہی آپؐ پر اس قدر غالب تھی کہ ہر روز یہ یقین کر کے سوتے کہ شاید آج ہی موت آجاوے اور آج ہی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا پڑے۔ اس لیے آپؐ ایک ایسے مسافر کی طرح رہتے تھے جسے خیال ہوتا ہے کہ ریل اب چلی کہ چلی۔ وہ کبھی اپنے آپ کو ایسے کام میں نہیں پھنساتاکہ جسے چھوڑنا مشکل ہو ‘‘۔ ٹرین پہ چڑھنا ہے تو یہ نہ ہو ادھر لیٹ ہو جائے یا نکل جائے اس لیے وہ گاڑی کے انتظار میں رہتا ہے۔ تو ’’آپؐ بھی ہر وقت اپنے محبوب کے پاس جانے کے لیے تیار رہتے اور جو دم گزرتا اسے اس کے فضل کا نتیجہ سمجھتے اور موت کو یاد رکھتے۔ حذیفہ بن الیمان ؓبیان فرماتے ہیں …رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب آپ اپنے بستر پر لیٹتے اپنے رخسار کے نیچے اپنا ہاتھ رکھتے اور فرماتے :اے میرے مولا! میرا مرنا اور جینا تیرے ہی نام پر ہو اور جب سو کر اٹھتے تو فرماتے :شکر ہے میرے ربّ کا جس نے ہمیں زندہ کیا مارنے کے بعد اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ ہر رات جب بستر پر جاتے تو اپنی طرف سے حساب ختم کر جاتے اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگتے کہ اگر میں فوت ہو جاؤں تو تب بھی تیرے ہی نام پر میری زندگی ہو۔ اور جب اٹھتے تو خدا تعالیٰ کے احسان پر حمد کرتے کہ میں تو اپنی طرف سے دنیا سے علیحدہ ہو چکا تھا تیرا ہی فضل ہوا کہ تُو نے پھر مجھے زندہ کیا اور میری عمر میں برکت دی۔ جس طرح مذکورہ بالادعا سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت موت کو یاد رکھتے تھے اسی طرح مذکورہ ذیل دعا بھی اس بات پر شاہد ہے ’’ ایک اَور دعا بھی ہے ‘‘کہ آپؐ اپنی زندگی کی ہر گھڑی کو آخری گھڑی جانتے تھے اور جب آپؐ سونے لگتے تو اپنے ربّ سے اپنے معاملہ کا فیصلہ کر لیتے۔اور گویا ہر ایک تغیر کے لیے تیار ہو جاتے ۔چنانچہ براء بن عازب ؓکی روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر جا کر لیٹتے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹتے۔ پھر فرماتے اے میرے ربّ! مَیں اپنی جان تیرے سپرد کرتا ہوں۔ اپنی سب توجہ تیری ہی طرف پھیرتا ہوں۔ میں اپنا معاملہ تیرے ہاتھ میں دیتا ہوں اور اپنے آپ کو تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ تجھ سے نفع کا امیدوار ہوں۔ تیری بڑائی اور استغناء سے خائف بھی ہوں۔ تیرے غضب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ کی جگہ نہیں اور نہ کوئی نجات کا مقام ہے مگر یہی کہ تجھ ہی سے نجات و پناہ طلب کی جائے۔ مَیں اس کتاب پر جو تُو نے نازل کی ہے اور اس رسول پر جو تُو نے بھیجا ہے ایمان لاتا ہوں۔’’یہ دعا سکھائی ہمیں تو خود بھی اس کی بہت پابندی کرتے تھے۔ حضرت مصلح موعود ؓلکھتے ہیں کہ‘‘لوگ اپنی دکان کو بند کرتے وقت اس کا حساب کر لیتے ہیں ۔‘‘ رات کو کاروباری لوگ اپنا حساب کتاب بند کر کے سوتے ہیں ’’مگر خدا سے جو حساب ہے اسے صاف نہیں کرتے۔‘‘ اور اس کی پروا نہیں ہوتی لوگوں کو ’’مگر کیسا برگزیدہ وہ انسان تھا جو صبح سے شام تک خدا کے فرائض کےادا کرنے میں لگا رہتا اور خود ہی انہیں ادا نہ کرتا بلکہ ہزاروں کی نگرانی بھی ساتھ ہی کرتا تھا کہ وہ بھی اپنے فرائض کو ادا کرتے ہیں یا نہیں مگر رات کو سونے سے پہلے اپنی تمام کوششوں اور عبادتوں سے آنکھ بند کر کے عاجزانہ اپنے مولیٰ کے حضور میں اس طرح حساب صاف کرنے کے لیے کھڑا ہو جاتا کہ گویا اس نے کوئی خدمت کی ہی نہیں اور اس وقت تک نہ سوتا جب تک اپنی جان کو پورے طور سے خدا کے سپرد کر کے دنیا و ما فیہا سے براءت نہ ظاہر کر لیتا اور خدا کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہ دے لیتا۔‘‘

(سیرۃ النبیﷺ از حضرت مصلح موعودؓجلد 1 صفحہ 83تا85)

روایت میں آتا ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صبح کی نماز سے لے کر سورج طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنا مجھے حضرت اسماعیل ؑکی اولاد سے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ اور عصر کی نماز سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنا مجھے چار غلاموں کے آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔

(سنن ابی داؤد کتاب العلم باب فی القصص حدیث 3667)

اللہ تعالیٰ سے محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں اور اس کا ذکر کرنے والوں کو حضرت اسماعیل ؑکی اولاد ،اپنے رشتہ داروں ،اپنے قریبیوں پر فوقیت دی ہے اور ان سب کی غلامی تو برداشت ہو سکتی ہے لیکن یہ جدائی برداشت نہیں ہو سکتی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو رہا ہو ،اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذکر ہو رہا ہو اور مَیں اس مجلس سے دُور ہو جاؤں۔

اللہ اللہ !کیا شان ہے محبت الٰہی کی کہ جو آپؐ لوگوں میں بھی پیدا کر رہے ہیں اور خود اپنے اندر بھی یہ شان انتہا تک پہنچی ہوئی ہے۔

پھر اپنے ماننے والوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہ تم اللہ تعالیٰ کی محبت اور ذکر میں ہر وقت ڈوبے رہو۔ آپؐ نے فرمایا :

اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ تیری موت اس حالت میں آئے کہ تیری زبان اس کے ذکر سے تر ہو۔

(الجامع الصغیر للسیوطی جزء 1 صفحہ 19 حرف الھمزۃ حدیث 198، دار الکتب العلمیۃ بیروت 2004ء)

روایت میں آتا ہے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو سب سے زیادہ بہتر ہے۔ تمہارے مالک کے نزدیک سب سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ تمہارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے اور تمہارے لیے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے زیادہ بہتر ہے اور اس بات سے بھی بہتر ہے کہ تم دشمن کا سامنا کرو۔ پس تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں ماریں ۔یعنی دشمن سے لڑائی ہو، دشمن کا سامنا ہو ،قتل وغارت ہو ،جنگ ہو جس کو تم جہاد کا نام بےشک دے لو۔ اس سے بھی بہتر بات یہ ہے جو مَیں تمہیں بتاتا ہوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ کیوں نہیں۔ آج کل مسلمان تو یہ کہتے ہیں کہ جہاد سب سے افضل ہے،گردنیں کاٹو ۔اور دشمن کی تو گردنیں نہیں کاٹتے ،اپنے لوگوں کی گردنیں کاٹ رہے ہیں جوسب سے بڑا گناہ ہے۔ بہرحال تو یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ اس سے بہتر ہے جو میں بات تمہیں بتا رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اللہ کا ذکر ہے

اللہ کا ذکر کرو یہ سب جہادوں سے بڑھ کر جہاد ہے۔

مسلمانوں پر بھی الزام لگایا جاتا ہے ۔تعلیم تو یہ ہے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا :

ذکر اللہ سے بڑھ کر کوئی شے اللہ کے عذاب سے نجات دینے والی نہیں ہے۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب فضل الذکر حدیث 3790)

اللہ کا ذکر ہوگا تو اس سے اللہ تعالیٰ بہت ساری باتوں اور سزاؤں سے تمہیں نجات دے گا۔

اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا ہر وقت ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ترین تھا ۔

چنانچہ روایت میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اگر میں کہوں سبحان اللّٰہ۔ اللہ پاک ہے والحمد للّٰہ سب حمد اللہ ہی کے لیے ہے ولا الہ الا اللّٰہ اور اللہ کے سوا کوئی معبود عبادت کے لائق نہیں ہے اور اللّٰہ اکبر۔ اللہ سب سے بڑا ہے تو یہ مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔

(صحیح مسلم مترجم جلد 14 صفحہ 66 کتاب الذکر و الدعاء… باب فضل التھلیل و التسبیح وا لدعاء۔ حدیث نمبر 4847، نور فاؤنڈیشن)

یہ محبت الٰہی کا جذبہ تھا کہ زندگی کے آخری لمحے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر اسی محبوب حقیقی کا نام تھا۔

اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہابیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اور آپؐ اس وقت تندرست حالت میں تھے۔فرماتے تھے کہ کوئی نبی فوت ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے ۔کوئی نبی فوت نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے۔ پھر اس کو اختیار دیا جاتا ہے ۔حضرت عائشہ ؓکہتی ہیں جب یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحت کے وقت میں فرمایا کہ اس کوجنت دکھا دی جاتی ہے اور پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا اور آپؐ کا سر مبارک میری ران پر تھا۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں آپؐ پر غشی طاری ہوئی ،پھر آپؐ کو افاقہ ہوا اور گھر کی چھت کی طرف آپؐ نے نظر بلند کی۔ پھر فرمایا اَللّٰھُمَّ الرَّفِیْقَ الْاَعْلٰی۔ اے اللہ رفیق اعلیٰ !میں نے کہا اس بات سے تو لگتا ہے کہ اب آپؐ ہمیں اختیار نہیں دیں گے۔ اب تو اللہ کے پاس جا رہے ہیں ۔ میں سمجھ گئی کہ یہ وہی بات ہے جو آپؐ ہم سے صحت میں بیان کیا کرتے تھے کہ یہ اختیار مل رہا ہے تو اب تو میں اللہ کے پاس جا رہا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ

آخری بات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی وہ یہ تھی اَللّٰھُمَّ الرَّفِیْقَ الْاَعْلٰی۔

(صحیح البخاری جلد9 صفحہ351کتاب المغازی باب آخر ما تکلم بہ النبی ﷺ حدیث 4463،نظارت اشاعت)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک اَور جگہ بیان کرتی ہیں کہ مجھ پر اللہ کی نعمتوں میں سے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے۔ میرے گھر میں، میری باری کے دن اور میرے سینے اور میری ہنسلی کے درمیان اور یہ کہ اللہ نے آپؐ کی وفات کے وقت میرے لعاب اور آپؐ کے لعاب کو جمع کیا۔ اس کے جمع ہونے کی وضاحت وہ اس طرح کرتی ہیں کہ عبدالرحمٰن میرے پاس آئے ۔ان کے ہاتھ میں مسواک تھی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دیے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپؐ اس کی طرف دیکھ رہے ہیں اور مَیں جانتی تھی کہ آپؐ مسواک پسند کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ کیا میں اسے آپؐ کے لیے لوں؟ آپؐ نے سر سے ہاں کا اشارہ فرمایا۔ مَیں نے وہ آپؐ کو دی تو آپؐ کو سخت لگی۔ میں نے عرض کیا :مَیں آپؐ کے لیے اسے نرم کر دوں؟ آپؐ نے اپنے سر سے ہاں کا اشارہ فرمایا۔ میں نے اسے نرم کیا ۔آپؐ کے سامنے چھوٹا برتن تھا یعنی پھر منہ میں ڈال کر اس مسواک کو نرم کیا۔ آپؐ کے سامنے چھوٹا برتن تھا یا کہا بڑا برتن تھا۔ راوی کو برتن کے سائز کے بارے میں شک ہے۔بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانی کابرتن تھا ۔آپؐ اپنے ہاتھ پانی میں ڈالتے اور ان کو اپنے چہرہ مبارک پر پھیرتے اور فرماتے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اِنَّ لِلْمَوْتِ سَکَرَاتٌ۔کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بے شک موت کی سختیاں ہوتی ہیں۔ پھر آپؐ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور کہنے لگے فِی الرَّفِیْقِ الْاعلیٰ۔ رفیق اعلیٰ کی طرف۔ یہاں تک کہ آپؐ فوت ہو گئے اور آپؐ کا ہاتھ جھک گیا۔

(صحیح البخاری کتاب المغازی باب مرض النبی ﷺ و وفاتہ حدیث 4449)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:

’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے آخروقت میں مخیر کیا‘‘ یعنی اختیار دیا تھا ’’کہ اگر چاہو تو دنیا میں رہو اور اگر چاہو تو میری طرف آ جاؤ۔ آپ نے عرض کیا کہ اے میرے ربّ اب میں یہی چاہتا ہوں کہ تیری طرف آؤں اور آخری کلمہ آپ کا جس پر آپ کی جان مطہر رخصت ہو گئی یہی تھا کہ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی۔ یعنی اب میں اس جگہ رہنا نہیں چاہتا۔ میں اپنے خدا کے پاس جانا چاہتا ہوں۔‘‘

(نور القرآن نمبر2، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 411)

اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو مختار کیا کہ اگر زندگی کی خواہش ہے تو یہی ہوگا مگر آپؐ نے فرمایا کہ اب میں اس دنیا میں رہنا نہیں چاہتا ۔چنانچہ آپؐ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

٭٭٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 23؍جنوری 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button