حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

تہجد کے وقت کی برکات

یہ آیت [البقرۃ: ۱۸۷]جو مَیں نے تلاوت کی ہے، اس میں خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنے پیار کے حصول کا طریق بتایا ہے۔ اس مقام کی طرف نشاندہی فرمائی ہے جس پر پہنچ کر ایک انسان حقیقی مومن بنتا ہے اور خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے والا بنتا ہے۔ … اس آیت پر غور کریں تو اس میں جہاں اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے لئے پیار جھلکتا ہے اور اُس حدیث کا مزید فہم حاصل ہوتا ہے جس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص مجھ سے بالشت بھر قریب ہوتا ہے میں اُس سے گز بھر قریب ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو مَیں اُس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں۔ اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو مَیں اُس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔ (صحیح بخاری کتاب التوحید باب قول اللّٰہ تعالیٰ: و یحذرکم اللّٰہ نفسہٗ۔ حدیث 7405)

تو خدا تعالیٰ اس طرح پیار کرتا ہے اپنے بندے سے، اپنے اُن بندوں سے جو حقیقت میں بندگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اُن لوگوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندے کہلانے والے ہیں۔ پس جیسا کہ مَیں نے کہا جہاں اس آیت سے اور خاص طور پر عِبَادِیْ یعنی ’’میرے بندے‘‘ کے لفظ سے اللہ تعالیٰ کے جس پیار کا اظہار ہو رہا ہے، وہاں اس بات کا بھی پتہ چل رہاہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کے سوال پر یہ جواب نہیں دے رہا کہ مَیں قریب ہوں۔

خدا تعالیٰ کی طرف چل کر جانا تو دور کی بات ہے جو ایک بالشت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنا نہیں چاہتا، وہ لوگ عِبَادِیْ کے زمرہ میں نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مخاطب کر کے یہ نہیں کہا یا بشر کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ اُس عبد کو مخاطب کیاہے جو عبد بننے کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ رکھتا ہے اور اس کے لئے کوشش کررہا ہے۔ اور عبد بننے کا حق کس طرح ادا ہوتا ہے؟ اُس کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی طرف توجہ کرنی ہو گی جس میں ہمیں اپنے مقصدِ پیدائش کو سامنے رکھنے کی اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے وہ ہیں جو اپنے مقصدِ پیدائش کو پہچاننے والے ہیں اور پھر صرف پہچاننے والے ہی نہیں بلکہ اُس کے حصول کے لئے دن رات کوشش کرنے والے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے وہ ہیں جو اس طرف توجہ کریں جس کے بارے میں ارشاد ہے کہ وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذاریات: 57) اور مَیں نے جنّوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ پس اللہ تعالیٰ کا عباد بننے کا معیار اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرتے چلے جانے کو رکھا ہے۔ اور یہ نہیں فرمایا کہ اب سے مقصدِ پیدائش کو صرف رمضان میں یاد رکھنا اور عام دنوں میں بیشک اس طرف توجہ نہ ہو۔ فرمایا یہ مقصدِ پیدائش تو اللہ تعالیٰ کے حقیقی عبد کو ہر وقت سامنے رکھنا چاہئے یا اُس شخص کو سامنے رکھنا چاہئے جو حقیقی عبد بننا چاہتا ہے۔ …

پس اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں کے قریب ہے بلکہ ہمیشہ ہی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، عام دنوں میں بھی حق بندگی ادا کرنے کی کوشش کرنے والوں کیلئے اُن کے لئے جو رات کو تہجد کی نمازوں کے لئے جاگتے ہیں، اللہ تعالیٰ نچلے آسمان پر آ جاتا ہے۔ (صحیح بخاری کتاب التجھد باب الدعاء و الصلاۃ من اٰخر اللیل حدیث 1145)

(خطبہ جمعہ۱۰؍اگست ۲۰۱۲ء ، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۳۱؍اگست۲۰۱۲ء)

مزید پڑھیں: آدم اور حوا کی کہانی میں بعض فطرتی کمزوریوں کی طرف اشارہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button