شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
چھٹی شرط بیعت
’’یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آجائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلّی اپنے سرپر قبول کرے گا اور قَالَ اللّٰہ اور قَالَ الرَّسُوْل کو اپنے ہر یک راہ میں دستورالعمل قرار دے گا‘‘۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ تم میرے سے اس بات پر بھی عہد بیعت کرو کہ رسم و رواج کے پیچھے نہیں چلوگے۔ ایسے رسم و رواج جو تم نے دین میں صرف اور صرف اس لئے شامل کرلئے ہیں کہ تم جس معاشرے میں رہ رہے ہو اس کا وہ حصہ ہیں۔ دوسرے مذاہب میں چونکہ وہ رسمیں تھیں اس لئے تم نے بھی اختیار کرلیں۔مثلاً شادی بیاہ کے موقع پر بعض فضول قسم کی رسمیں ہیں۔ جیسے بری کو دکھانا یا وہ سامان جو دولہا والے دو لہن کے لئے بھیجتے ہیں اس کا اظہار، پھر جہیز کا اظہار ۔باقاعدہ نمائش لگائی جاتی ہے ۔اسلام تو صرف حق مہر کے اظہار کے ساتھ نکاح کا اعلان کرتا ہے۔ باقی سب فضول رسمیں ہیں۔ ایک تو بری یا جہیز کی نمائش سے اُن لوگوں کا مقصدجو صاحبِ توفیق ہیں صرف بڑھائی کا اظہارکرنا ہوتا ہے کہ دیکھ لیا ہمارے شریکوں نے بھائی بہن یا بیٹا بیٹی کو شادی پرجو کچھ دیا تھا ہم نے دیکھو کس طرح اس سے بڑھ کر دیا ہے۔صرف مقابلہ اور نمود و نمائش ہے ۔آج کل آپ میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے یہاں آنے کے بعد بہت نوازا ہے۔ بہت کشائش عطا فرمائی ہے۔یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کی برکت ہے اور ان قربانیوں کا نتیجہ ہے جو آپ کے بزرگوں نے دیں اور ان کی دعائوں کی برکت ہے۔ تو بعض ایسے ہیں جو بجائے اس کے کہ ان فضلوں اور برکتوں کا اظہار اس کے حضور جھکتے ہوئے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے کریں اس کی بجائے شادی بیاہوں میں نام و نمود کی خاطر، خودنما ئی کی خاطر ان رسموں میں پڑکر یہ اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر شادیوں پر، ولیموں پر کھانوں کا ضیاع ہو رہا ہوتا ہے۔اور دکھاوے کی خاطر کئی کئی ڈشیں بنائی جارہی ہوتی ہیں تو جو غریب یا کم استطاعت والے لوگ ہوتے ہیں وہ بھی دیکھا دیکھی جہیز وغیرہ کی نمائش کی خاطر مقروض ہو رہے ہوتے ہیں پھر بعض دفعہ بچیوں والے لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کے مطالبہ کی وجہ سے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ بہو جہیز بھی نہیں لائی،مقروض ہوتے ہیں۔ تو لڑکے والوں کو بھی کچھ خوف خدا کرنا چاہئے۔ صرف رسموں کی وجہ سے، اپنا ناک اونچا رکھنے کی وجہ سے غریبوں کو مشکلات میں، قرضوں میں نہ گرفتار کر یں اور دعویٰ یہ ہے کہ ہم احمدی ہیں اور بیعت کی دس شرائط پر پوری طرح عمل کریں گے۔ تو یہ مختصراً میں نے ایک شادی کی رسم پر عرض کیا ہے۔ اگر اس کو مزید کھولوں تو اس شادی کی رسم پر ہی خوفناک بھیانک نتائج سامنے لانے والی اور بہت سی مثالیں مل سکتی ہیں۔ اور جب رسمیں بڑھتی ہیں تو پھر انسان بالکل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر اگلا قدم یہ ہوتا ہے کہ مکمل طور پر ہواو ہوس کے قبضہ میں چلا جاتا ہے جبکہ بیعت کرنے کے بعد تو وہ یہ عہد کر رہا ہے کہ ہواو ہوس سے باز آجائے گا اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت مکمل طور پر اپنے اوپر طاری کرلے گا۔ اللہ اور رسول ہم سے کیاچاہتے ہیں، یہی کہ رسم و رواج اور ہواو ہوس چھوڑ کر میرے احکامات پر عمل کرو۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ فَاِنۡ لَّمۡ یَسۡتَجِیۡبُوۡا لَکَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا یَتَّبِعُوۡنَ اَہۡوَآءَہُمۡ ؕ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰٮہُ بِغَیۡرِ ہُدًی مِّنَ اللّٰہِؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ۔ (القصص:آیت۵۱) پس اگروہ تیری اس دعوت کو قبول نہ کریں تو جان لے کہ وہ محض اپنی خواہشات ہی کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرے۔ اللہ ہرگز ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
تو دیکھیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ صادر فرما دیا ہے جو ہمارے لئے بڑے خوف کا مقام ہے کہ جو لوگ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں تو پھر وہ کبھی ہدایت نہیں پائیں گے۔ اب ہم ایک طرف تو یہ دعوی ٰکر رہے ہیں کہ ہم نے زمانے کے امام کو پہچان لیا ،مان لیا۔ دوسری طرف جو معاشرے کی برائیاں ہیں باوجود امام کے ساتھ عہد کرنے کے کہ ان برائیوں کو چھوڑنا ہے، ہم نہیں چھوڑ رہے تو کہیں ہم پھر پیچھے کی طرف تو نہیں جارہے۔ ہر ایک کو یہ محاسبہ کرنا چاہئے ۔ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہئے ۔اگر ہم اس عہد بیعت پر قائم ہیں، اپنے خدا سے ڈرتے ہوئے ہواو ہوس سے رکے ہوئے ہیں اور ہم اس پیارے خدا کی تعریف کرتے ہوئے حمد کرتے ہوئے پھر اس کی طرف جھکتے ہیں تو وہ ہمیں اس کے عوض اپنی جنت کی بشارت دے رہا ہے۔ جیسا کہ فرمایا وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی۔ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰی (النازعات:آیات۴۱-۴۲) اوروہ جو اپنے ربّ کے مرتبہ سے خائف ہوا اور اس نے اپنے نفس کو ہوس سے روکا تو یقیناً جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہوگی۔
رسم و رواج کے بارہ میں چند احادیث پیش کرتا ہوں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضرتؐ نے فرمایا: جو شخص دین کے معاملہ میں کوئی ایسی نئی رسم پیدا کرتا ہے جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں تو وہ رسم مردود اور غیر مقبول ہے۔(صحیح بخاری۔ کتاب الصلح۔ باب اذا اصطلحواعلی صلح جَورٍ)
حضرت جابررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا۔ آپؐ کی آنکھیں سرخ ہوگئیں ۔آواز بلند ہوگئی۔ جوش بڑھ گیا گویا یوں لگتا تھا کہ آپ کسی حملہ آور لشکر سے ہمیں ڈرا رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ لشکر تم پر صبح کو حملہ کرنے والا ہے یاشام کو۔ آپ نے یہ بھی فرمایا: میں اور وہ گھڑی یوں اکٹھے بھیجے گئے ہیں۔ آپ نے یہ کہتے ہوئے انگشت ِشہادت اور درمیانی انگلی کو ملاکر دکھایا کہ ایسے جیسے یہ دو انگلیاں اکٹھی ہیں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا: اب میں تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریق محمدﷺکا طریق ہے۔ بدترین فعل دین میں نئی نئی بدعات کو پیدا کرنا ہے ہر بدعت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔(صحیح مسلم۔ کتاب الجمعۃ۔ باب تخفیف الصلوٰۃ و الخطبۃ)
حضرت عمرو بن عوفؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ؐ نے فرمایا: جو شخص میری سنتوں میں سے کسی سنت کو اس طورپر زندہ کرے گا کہ لوگ اس پر عمل کرنے لگیںتو سنت کے زندہ کرنے والے شخص کو بھی عمل کرنے والوں کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس شخص نے کوئی بدعت ایجاد کی اور لوگوں نے اسے اپنا لیا تو اس شخص کو بھی ان پر عمل کرنے والوں کے گناہوں سے حصہ ملے گا اور ان بدعتی لوگوں کے گناہوں میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی۔(سنن ابن ماجہ۔ کتاب المقدّمۃ۔ باب من احیا سنۃ قد امیتت)
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۹۳ تا ۹۳)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں




