حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭… بنگلہ دیش میں عام انتخابات میں بی این پی نے ۲۹۹؍میں سے ۲۱۳؍نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ طارق رحمان نے ڈھاکہ اور بوگرہ کی نشستیں بھی جیتی ہیں۔ جماعت اسلامی ۷۶؍نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بنی جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی نے پانچ نشستیں جیتی ہیں۔ بی این پی نے شہریوں کو جشن میں احتیاط برتنے اور ملک کی بہتری کےلیے تعاون کی ہدایت کی۔ ووٹر ٹرن آؤٹ ۶۰؍فیصد سے زائد رہا۔

٭… امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک ماہ کے اندر معاہدہ ممکن ہے ورنہ صورتحال “بہت تکلیف دہ” ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر تنقید کی اور کہا کہ اسرائیلی عوام اپنے صدر کے خلاف آواز اٹھائیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ غزہ امن بورڈ میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

٭… ہیٹ یائے شہر میں ۱۸؍سالہ نوجوان نے اسکول میں فائرنگ کر دی جس سے خاتون پرنسپل شدید زخمی ہو گئیں اور بعد ازاں وہ ہسپتال میں جاں بحق ہو گئیں۔ اس حملے میں ایک طالبہ بھی زخمی ہوئی جس کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے تاہم حملے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں۔

٭… کینیا کے صدر ولیئم روٹو نے اعلان کیا ہے کہ صومالیہ کے ساتھ سرحد پندرہ سال بعد دوبارہ کھول دی جائے گی۔ اس سرحد کو ۲۰۱۱ء میں عسکریت پسندوں کے حملوں کے بعد بند کیا گیا تھا۔ توقع ہے کہ یہ سرحد اپریل ۲۰۲۶ء میں کھلے گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، معاشی اور انسانی رابطے میں اضافہ ہوگا۔ اس فیصلے سے علاقائی سیکیورٹی میں بہتری اور پُرامن تعلقات کے فروغ کے امکانات بڑھ گئے ہیں کیونکہ بندش کے دوران محدود رابطے نے معاشی مشکلات اور پابندیوں کو جنم دیا تھا۔

٭… لندن کے میئر صادق خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ چوتھی مرتبہ میئر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق انہوں نے ویسٹ منسٹر واپسی کے امکانات کو رد کیا ہے اور اپنے عزم کو دہرایا ہے۔ خان نے کہا کہ جرائم کی بڑھوتری شہروں میں سیاسی بحث کا اہم موضوع ہے جس میں شاپ لفٹنگ جیسے واقعات تین گنا بڑھ گئے ہیں، تاہم انہوں نے اسے مہنگائی اور شہری وسعت جیسے مسائل سے جوڑا ہے۔

٭… غزہ پر اسرائیل کی جاری جنگ میں مغربی ممالک کے ہزاروں شہریوں نے اسرائیلی فوج میں شامل ہو کر لڑائی میں حصہ لیا جس کی تفصیلات اسرائیلی این جی او “ہتزلخا” کے ذریعے حاصل شدہ ڈیٹا میں سامنے آئیں۔ ان میں بارہ ہزار امریکی، چھ ہزار فرانسیسی، پانچ ہزار روسی، تقریباً چار ہزار یوکرینی اور سولہ سو جرمن شہری شامل ہیں۔ برطانوی، کینیڈین، برازیلی اور جنوبی افریقی شہری بھی فہرست میں ہیں۔ غیر ملکیوں کی شرکت کے بعد ممکنہ جنگی جرائم پر قانونی کارروائی کے سوالات اٹھ رہے ہیں اور کچھ ممالک میں ان کے خلاف تحقیقات شروع ہو گئی ہیں۔

٭… برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ وہ آن لائن رسائی اور ڈیجیٹل مواد کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مزید اختیارات چاہتے ہیں تاکہ بچوں اور کمزور صارفین کو انٹرنیٹ کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہےاس لیے قوانین کو بھی اس کے مطابق مضبوط بنانا ضروری ہے۔ نئے اختیارات کے باعث وہ پابندیوں کے نفاذ اور جائزہ کے عمل میں تیزی لانے اور پارلیمانی نگرانی کو مؤثر بنانے کی کوشش کریں گے۔ اسٹارمر کی یہ باتیں اس وقت سامنے آئیں جب وہ چین کا دورہ کر رہے ہیں۔

٭… شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ اُن کی ۱۳؍سالہ بیٹی کم جو اے کو ممکنہ طور پر آئندہ راہنما کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے جس سے طاقت کی کشمکش بڑھ گئی ہے۔ جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی کے مطابق وہ جلد باقاعدہ طور پر وارث نامزد ہو سکتی ہیںکیونکہ وہ والد کے ساتھ فوجی پریڈز اور سرکاری تقاریب میں نظر آتی رہی ہیں۔ دوسری جانب کم یو جونگ ، جو ان کی طاقتور خالہ اور پارٹی کی اعلیٰ شخصیت ہیں، بھی قیادت کے لیے مضبوط امیدوار سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق خاندان کے اندر اقتدار کی دوڑ شروع ہو گئی ہے جس سے شمالی کوریا کے مستقبل کے سیاسی منظرنامے پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

٭… بھارتی ریاست کرناٹک کے وزیر اور کانگریس راہنما پریانک کھڑگے نے دعویٰ کیا ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) ایک بڑے منی لانڈرنگ ریکیٹ کے طور پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ آر ایس ایس ٹیکس ادا نہیں کرتی جبکہ اربوں روپے کے فنڈز بھارت، امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک سے آتے ہیں، مگر ان کا شفاف حساب و کتاب موجود نہیں ہے۔ کھڑگے نے مطالبہ کیا ہے کہ آر ایس ایس کو قانون کے تحت رجسٹر کیا جائے اور ٹیکس قوانین کے تابع بنایا جائے، کیونکہ دیگر تنظیمیں قانونی ذمہ داریوں کی پابند ہیں۔ اس بیان نے ملکی سیاسی بحث کو مزید گرم کر دیا ہے۔

٭… برطانیہ کے ویسٹ یارکشائر کے علاقے برِگ ہاؤس میں ایک شخص ہائی وولٹیج بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا جس کے باعث تقریباً بیس ہزارگھروں کی بجلی منقطع ہو گئی۔ پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں، اور چند گھنٹوں بعد وہ خود نیچے اتراجس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔ واقعے کی وجہ تاحال واضح نہیں تاہم عینی شاہدین نے بتایا کہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار معلوم ہوتا تھا۔ بجلی کی بحالی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button