حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک جدید۔ نظام وصیت کی ارہاص
پانچ ہزار مجاہدین کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ کا ایک حیرت انگیز کشف اور سابقہ پیشگوئیاں
یقیناً میں سمجھتا ہوں جس وقت میں نے یہ تحریک کی وہ میری زندگی کے خاص مواقع میں سے ایک موقع تھا اور میری زندگی کی ان بہترین گھڑیوں میں سے ایک گھڑی تھی جبکہ مجھے اس عظیم الشان کام کی بنیاد رکھنے کی توفیق ملی(حضرت مصلح موعودؓ)
خلفائے احمدیت کی تحریکات میں تحریک جدید کو ایک نمایاں اہمیت اور امتیاز حاصل ہے۔ اپنی وسعت اور جامعیت کے اعتبار سے یہ قریباً تمام تربیتی تبلیغی اور مالی تحریکات کا بہترین نچوڑ ہے۔ خاص طور پر تحریک جدید سے قبل سرزمین احمدیت میں دعوت الی اللہ کے جتنے چشمے پھوٹے رواں ہوئے ان سب کو تحریک جدید کی جھیل میں اکٹھا کر کے دعوت حق کی بےشمار نہریں جاری کی گئیں جو آج شاخ در شاخ دنیا کے ہر خطے میں پھیل گئی ہیں۔ اس کی کوکھ سے سینکڑوں نئی تحریکات نے جنم لیا۔ جن میں سے بعض اس کے اثرات کو چار دانگ عالم میں پھیلانے کے لیے تھیں اور بعض اس کے ثمرات کو سمیٹنے کے لیے تھیں۔
تاریخ احمدیت میں تحریک جدید اس پھل کی حیثیت رکھتی ہے جو اپنے سینے میں طاقتور بیج جمع کیے ہوئے ہے۔ جن سے نئے رسیلے پھل پیدا ہوتے ہیں جگہ جگہ ہوتے ہیں مگر بسااوقات یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ پھل کسی بیج کا مرہون منت ہے۔
نظام وصیت کی ارہاص
تحریک جدید گو نظام وصیت کے ایک عرصے بعد ظہور پذیر ہوئی لیکن دراصل یہ حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے قائم کردہ عالمی ابدی نظام کی ارہاص ہے۔ کیونکہ تحریک جدید احمدیت میں داخل کرنے کا ایک دروازہ ہے جس کے ذریعہ نظام جماعت میں شامل ہونے والے نظام وصیت کا حصہ بنتے ہیں اور پھر تحریک جدید کے فیض سے دعوت الی اللہ میں حصہ لے کر نئے موصی پیدا کرتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: تحریک جدید کیا ہے وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عقیدت کی یہ نیاز پیش کرنے کے لیے ہے کہ وصیت کے ذریعہ تو جس نظام کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اس کے آنے میں ابھی دیر ہے اس لیے ہم تیرے حضور اس نظام کا ایک چھوٹا سا نقشہ تحریک جدید کے ذریعہ پیش کرتے ہیں تا کہ اس وقت تک کہ وصیت کا نظام مضبوط ہو اس ذریعہ سے جو مرکزی جائیداد پیدا ہو اس سے تبلیغ کو وسیع کیا جائے اور تبلیغ سےوصیت کو وسیع کیا جائے غرض تحریک جدید گو وصیت کے بعد آتی ہے مگر اس کے لیے پیشرو کی حیثیت میں ہے ہر وہ شخص جو تحریک جدید میں حصہ لیتا ہے وصیت کے نظام کو وسیع کرنے میں مدد دیتا ہے اور ہر شخص جو نظام وصیت کو وسیع کرتا ہے وہ نظام نو کی تعمیر میں مدد دیتا ہے۔(انوار العلوم جلد ۱۶ صفحہ۵۹۹)
آج تحریک جدید اپنی ضرورت بھی ثابت کر رہی ہے اور اپنا ارہاص ہونا بھی۔ تحریک جدید کے آغاز ۱۹۳۴ء کے وقت احمدیت قریباً ۱۴؍ملکوں میں تھی جو اب ۲۱۴؍ممالک میں پھیل چکی ہے۔ اور جتنے لوگ احمدیت میں شامل ہو رہے ہیں ان میں سے بہت سے مخلص لوگ وصیت کر کے تبلیغ کو مزید وسیع کر رہے ہیں اور موصیان کی تعداد اب لاکھوں میں ہے۔
پُر حکمت پس منظر
تحریک جدید کا آغاز ۱۹۳۴ء میں ہوا اور اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیروں کے تابع اس سے قبل شدید مخالفانہ ماحول پیدا ہوا تاکہ جماعت کے سینوں میں منہ زور جذبے ابلنے لگیں جن کا رخ تحریک جدید کی لگام کے ذریعہ خدمت دین کی طرف موڑ دیا جائے اور جماعت کے جسم وروح کا ذرّہ ذرّہ شجر احمدیت کی آبیاری میں کھاد کا کام دے۔یہ وہ زمانہ تھا جب تمام مذہبی جماعتیں مجلس احرار کی شکل میں اور تمام انتظامی طاقتیں انگریزی حکومت کی شکل میں اکٹھے ہو کر جماعت کے خلاف صف آرا ہو چکی تھیں اور چاروں سمتوں اور اوپر اور نیچے سے جماعت کو پیس دینے کا ارادہ کر چکی تھیں اور جماعت باز کے پنجوں میں ایک کمزور چڑیا کی طرح پھڑ پھڑا رہی تھی۔
ان لرزہ خیز حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعودؓ کے دل پر یہ تحریک نازل فرمائی جس نے دیکھتے دیکھتے طوفانوں کا رخ پھیر دیا اور کشتی احمدیت بھنور سے نکل کرنئی فتوحات کے سفر پر روانہ ہوگئی۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: تحریک جدید کے پیش کرنے کے موقع کا انتخاب ایسا اعلیٰ انتخاب تھا جس سے بڑھ کر اور کوئی اعلیٰ انتخاب نہیں ہو سکتا اور خدا تعالیٰ نے مجھے اپنی زندگی میں جو خاص کامیابیاں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں ان میں ایک اہم کامیابی تحریک جدید کو عین وقت پر پیش کر کے مجھے حاصل ہوئی اور یقیناً میں سمجھتا ہوں جس وقت میں نے یہ تحریک کی وہ میری زندگی کے خاص مواقع میں سے ایک موقع تھا اور میری زندگی کی ان بہترین گھڑیوں میں سے ایک گھڑی تھی جبکہ مجھے اس عظیم الشان کام کی بنیاد رکھنے کی توفیق ملی۔ ( انوار العلوم جلد ۱۴ صفحہ۱۱۶)
حضرت مسیح موعودؑ کا معنی خیز کشف
حضرت مسیح موعود ؑ کا ۱۸۹۱ء کا ایک بہت ہی معنی خیز کشف یوں ہے۔فرماتے ہیں: کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں۔ ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے۔ تب میں نے اس شخص کو جو زمین پر تھا۔ مخاطب کرکے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔ مگر وہ چپ رہا اور اس نے کچھ بھی جواب نہ دیا۔ تب میں نے اس دوسرے کی طرف رخ کیا جو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھا۔ اسے میں نے مخاطب کرکے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔ وہ میری اس بات کو سن کر بولا کہ ایک لاکھ نہیں ملے گی۔ مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا۔ تب میں نے دل میں کہا کہ اگرچہ پانچ ہزار تھوڑے آدمی ہیں۔ پر اگر خدائے تعالیٰ چاہے تو تھوڑے بہتوں پر فتح پاسکتے ہیں۔ اس وقت میں نے یہ آیت پڑھی كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللّٰهِ پھر وہ منصور مجھے کشف کی حالت میں دکھایا گیا اور کہا گیا کہ خوشحال ہے خوشحال ہے مگر خدائے تعالیٰ کی کسی حکمت مخفیہ نے میری نظر کو اس کے پہچاننے سے قاصر رکھا لیکن میں امید کرتا ہوں کہ کسی دوسرے وقت دکھایا جائے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد۳ صفحہ۱۴۹) آیت مذکورہ کا ترجمہ یہ ہے بہت سی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آچکی ہیں۔
اس رؤیا میں یہ بتایا گیا تھا کہ احمدیت کو دنیا میں قائم کرنے کے لیے ایک لاکھ روحانی سپاہیوں کی ضرورت ہے مگر ابتدائی طور پر تقدیر الٰہی کے تابع پانچ ہزار افراد مہیا کیے جائیں گے اور وہ تھوڑے ہو کر بہتوں پر غالب آئیں گے۔
حضرت مسیح موعود ؑکا یہ عظیم الشان رؤیا تحریک جدید کی شکل میں ظاہر ہوا جس کی بنیاد حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۳۴ء میں رکھی اور اس میں ابتدائی حصہ لینے والے پانچ ہزار کے قریب تھے اب تو خدا کے فضل سے شاملین کی تعداد ۱۸؍لاکھ ہے۔
سابقہ پیشگوئیاں
اس منصور اور اس کے ساتھی پانچ ہزار مجاہدین کا تذکرہ سابقہ پیشگوئیوں میں بھی موجود ہے۔ چنانچہ حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ وَرَاءِ النَّهْرِ يُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ بْنُ حَرَّاثٍ، عَلَى مُقَدِّمَتِهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَنْصُورٌ، يُوَطِّئُ أَوْ يُمَكِّنُ لِآلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا مَكَّنَتْ قُرَيْشٌ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَبَ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ نَصْرُهُ۔( سنن أبي داود۔ کتاب المہدی حدیث نمبر ۴۲۹۰۔ المؤلف: أبو داود سليمان بن الأشعث (المتوفى: ۲۷۵ھ)یعنی ماوراء النہر کے علاقہ سے ایک شخص مبعوث ہو گا جسے الحارث بن حراث کے لقب سے پکارا جائے گا اس کے ہراول دستے کے سردار کا نام منصور ہوگا۔ وہ آل محمدؐ کے لیے تمکنت حاصل کرنے کا ذریعہ ہوگا۔ جس طرح قریش کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمکنت حاصل ہوئی۔ ہر مومن پر اس کی مدد کرنا یا اس کی پکار کا جواب دینا فرض ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً اس حدیث کے درست ہونے کی اطلاع دی اور آپؑ نے فرمایا کہ ماوراءالنہرسے مراد سمرقند اور بخارا کا علاقہ ہے جہاں سے مسیح موعود کے آباءواجداد ہندوستان میں آئے تھے اور حارث زمیندار کو کہتے ہیں یعنی وہ خاندانی لحاظ سے زمیندار ہو گا۔ پھر فرماتے ہیں کہ یہ کوئی ظاہری جنگ نہیں بلکہ روحانی فوج ہے اس کے بعد آپ نے وہ کشف درج کیا ہے جو اوپر لکھا جا چکا ہے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۱۴۱۔۱۴۸)
ایک اَور روایت میں شعیب بن صالح کا ذکر ہے اور پانچ ہزار افراد کا بھی۔
عَلَى مُقَدِّمَتِهِ رَجُلٌ…اسْمُهُ شُعَيْبُ بْنُ صَالِحٍ التَّمِيمِيُّ يَخْرُجُ إِلَيْهِ فِي خَمْسَةِ آلَافٍ فَإِذَا بَلَغَهُ خُرُوجُهُ صَيَّرَهُ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ لَوِ اسْتَقْبَلَتْهُ الْجِبَالُ الرَّوَاسِيُّ لَهَدَّهَا يُمَهِّدُ الْأَرْضَ لِلْمَهْدِيِّ (لوامع الأنوار البهية۔ المؤلف: شمس الدين، السفاريني الحنبلي (المتوفى: ۱۱۸۸ھ)فصل فی اشراط الساعۃ۔ الرابعة بعض ما يسبق المهدي من الفتن (جلد ۲ صفحہ ۸۰)
اس کا نام شعیب بن صالح ہوگا، اور اس کے ساتھ پانچ ہزار آدمی نکلیں گے۔ وہ مہدی کے خروج کو پائیں گے، ان کی مشایعت کریں گے، اور مہدی اسے اپنے لشکر کے اگلے حصے پر مقرر کریں گے۔ اگر مضبوط پہاڑوں جیسے مخالف بھی سامنے آئیں گے تو وہ انہیں پاش پاش کر دے گا، اور مہدی کے لیے معاملہ ہموار کرے گا، جس طرح قریش نے آنحضرت ﷺ کے لیے کیا تھا۔
اس پیشگوئی میں صالح سے مراد تو خود مسیح موعود ہیں۔ بن صالح سے مراد اس کا موعود بیٹا ہے۔ شعیب کا لفظ بھی معنی خیز ہے شعب وادی کے اس حصہ کو کہتے ہیں جہاں ایک کنارہ مل رہا ہو اور دوسرا جدا ہو رہا ہو۔ اس سے مراد وہ پسر موعود ہے جو اپنی ذات میں جدا بھی ہے اور مسیح موعود سے ملا ہوا بھی ہے۔اللہ نے آپ کی زبان پر جاری کیا انا المسیح الموعود مثیلہ و خلیفتہ۔میں مسیح موعود ہوں یعنی اس کا مثیل اور خلیفہ ہوں
شعب اس قبیلہ کو بھی کہتے ہیں جو ایک قوم سے پھیلا ہو۔ اس میں مصلح موعودؓ کے ذریعہ اسلام کے پھیلاؤ کی پیشگوئی ہے۔
مشہور اہل حدیث عالم نواب صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب حجج الکرامہ میں امام مہدی کے متعلق پیشگوئیاں بیان کرتے ہوئےمندرجہ بالا دونوں پیشگوئیاں لکھی ہیں۔(حجج الکرامہ صفحہ۳۶۹)
پس منصور کا نام تو حدیث نبویؐ اور کشف مسیح موعودؑ میں مشترک ہے اور یقیناً یہ وہی ہے۔ جسے پیشگوئی مصلح موعود میں فتح و ظفر کی کلید کہہ کر بیان کیا گیا ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا۔
کشف کیسے پورا ہوا؟
پانچ ہزاری مجاہدین والی پیشگوئی کو تحریک جدید پر چسپاں کرنے کا سلسلہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ اس پیشگوئی کوحجج الکرامہ کے حوالے سے حضرت مولوی کرم داد صاحبؓ دوالمیال صحابی حضرت مسیح موعود ؑنے تحریک جدید پر چسپاں کرتے ہوئے۔ الفضل ۷ دسمبر ۱۹۳۸ء میں شائع کروایا۔
حضرت مصلح موعوؓد کو تحریک جدید کے اجرا کے چند سال بعد خیال آیا کہ شاید حضرت مسیح موعودؑ کا یہ کشف تحریک جدید سے متعلق ہے۔ آپؓ خطبہ جمعہ ۱۸؍نومبر۱۹۳۸ء میں فرماتے ہیں: مجھے خود بھی دو تین سال ہوئے یہی خیال آیا کہ حضرت مسیح موعودؑ کی یہ پیشگوئی تحریک جدید میں حصہ لینے والوں پر ہی چسپاں ہوتی ہے اور ان دنوں میں نے چودھری برکت علی صاحب کو ایک دفعہ بلا کر پوچھا بھی کہ اس تحریک میں حصہ لینے والوں کی کتنی تعداد ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ میں زبانی نہیں بتاسکتا۔ دیکھ کر بتا دوں گا۔ میں نے کہا اندازاً آپ بتائیں کہ کس قدر لوگ ہوں گے۔ انہوں نے اس وقت بتلایا کہ شاید سات ہزار کے قریب ہیں۔ ان کے اس جواب سے میرے ذہن میں جو یہ خیال تھا کہ شاید تحریک جدید میں حصہ لینے والے پانچ ہزار ہوں اور اس طرح حضرت مسیح موعودؑ کا یہ کشف اسی کے متعلق ہو جاتا رہا اور گو ایک حصہ نادہندوں کا بھی ہوتا ہے اور ایک حصہ ایسے لوگوں کا بھی ہوتا ہے۔ جنہیں جس قدر حصہ لینا چاہئے اس قدر حصہ وہ نہیں لیتے اور ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے سپاہیوں میں شامل نہیں کرتا۔ مگر چونکہ انہوں نے جو ظنّی تخمینہ بتایا۔ وہ بہت زیادہ تھا۔ اس لیے میرے ذہن سے اتر گیا۔(الفضل ۲۴؍نومبر ۱۹۳۸ء)
اس کے بعد حضرت قاضی محمد ظہورالدین اکمل صاحبؓ صحابی حضرت مسیح موعودؑ کی توجہ اس طرف پھیری گئی۔ آپؓ الفضل میں تحریر کرتے ہیں: ’’آج رات کوئی دو بجے کے قریب جب میری روح گداز ہو کر آستانہ الوہیت پر بہہ رہی تھی۔ یک دم یہ بات میخ آہنی کی طرح میرے قلب میں گڑ گئی کہ حضور کا یہ کشف تحریک جدید میں قربانیاں کرنے والوں کے ذریعہ پورا ہو رہا ہے۔ اس خیال کے آتے ہی مجھ پر ایک عجب کیفیت طاری ہوئی اور میں اس میں محو رہا۔ جب آفتاب طلوع ہوا۔ تو مجھے اس بات کی فکر ہوئی کہ میں ان پاکیزہ روحوں کی تعداد معلوم کروں جو اس پاک جہاد میں حصہ لے رہے ہیں‘‘۔ چنانچہ انہوں نے منشی برکت علی خان صاحب فنانشل سیکرٹری تحریک جدید سے معین تعداد معلوم کی تو وہ ۵۴۲۲؍تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو مسلسل چار سال سے چندہ میں شامل تھے اور عجیب بات یہ تھی کہ ہر سال ان کی تعداد پانچ ہزار کے لگ بھگ ہی تھی۔ (الفضل ۱۶؍نومبر ۱۹۳۸ء )
حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت قاضی صاحبؓ کے مضمون کو پڑھ کر اس پر صاد کیا اور پانچ ہزار سے زائد تعداد کے متعلق فرمایا۔چونکہ ہر جماعت میں کچھ نہ کچھ نادہند ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر ان کو نکال دیا جائے تو پانچ ہزار ہی تعداد بنتی ہے۔ علاوہ ازیں کسوربالعموم اعداد میں شمار نہیں کیے جاتے۔ پس پانچ ہزار چارسو۔ دراصل پانچ ہزار ہی ہے۔ نیز فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ درحقیقت انہی لوگوں کے متعلق یہ کشف ہے اور حقیقت یہ ہے کہ کئی سال سے میرا یہ خیال ہے کہ یہی وہ فوج ہےجس کے ملنے کی حضرت مسیح موعودؑ کو خبر دی گئی تھی۔ اور اسی فوج کے ذریعہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اسلام کی فتح کے لیے ایک مستقل اور پائیدار بنیاد قائم کرے اور یہ فوج اپنا ایک ایسا نشان چھوڑ جائے جس کے ذریعہ ہمیشہ دنیا میں تبلیغ ہوتی رہے۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ ادھر الفضل میں یہ مضمون شائع ہوا ادھر چند دن پہلے میں یہ سوچ رہا تھا کہ تحریک جدید میں آخر تک قربانی کرنے والوں کو آئندہ نسلوں کے لیے بطور یادگار بنانے کے لیے کوئی تجویز کروں۔جب یہ کشف میرے سامنے آیا تو اس نے میرے خیال کو اور زیادہ مضبوط کر دیا اور میں نے چاہا کہ وہ لوگ جو اس تحریک میں آخر تک استقلال کے ساتھ حصہ لیں گے ان کے ناموں کو محفوظ رکھنے کے لیے اور اس غرض کے لیے کہ آئندہ آنے والی نسلیں ان کے لیے دعائیں کرتی رہیں کوئی یادگار قائم کروں۔ (الفضل ۲۴؍نومبر ۱۹۳۸ء)
ابدی نشان
حضورؓ کی یہ خواہش اس طرح پوری ہوئی کہ تحریک جدید کے پہلے ۱۹؍سالہ دَور (۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء) میں حصہ لینے والے پانچ ہزار احباب کے نام اور قربانیوں کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے ۱۹۵۹ء میں پانچ ہزاری مجاہدین کی فہرست شائع کردی گئی۔سیدنا حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے خطبہ جمعہ ۵؍ نومبر ۱۹۸۲ء میں تحریک فرمائی کہ ان خوش نصیبوں کی قربانیوں کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے اور ان کی اولادیں ان کی طرف سے چندہ ادا کرتی رہیں۔ (خطبات طاہر جلد۱ صفحہ ۲۵۵) سیدنا حضرت خلیفةالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۳؍نومبر ۲۰۰۶ء کو یہ خوشخبری دی کہ یہ تمام کھاتے جاری ہوچکے ہیں۔ (الفضل ۱۲؍دسمبر۲۰۰۶ء)
پس تحریک جدید جس کے ذریعہ کل عالم میں اسلام کا بول بالا ہورہا ہے اس کی عمارت پانچ ہزار موعود ستونوں پر کھڑی ہے جس پر لاکھوں پرندے بسیرا کر رہے ہیں بلکہ اپنی قربانیوں سے اس عمارت کومزید دلآویز اور دلکش بنا رہے ہیں۔خداتعالیٰ کی ہزاروں رحمتیں ان پاک روحوں پر ہوں جنہوں نے احمدیت کو شاداب بنانے کے لیے اپنا تن من دھن قربان کر دیا۔ وہ ہمیشہ کے لیے خدا کی نظر میں زندہ ہیں اور ان کے بعد آنے والے ان سے زندگی کشید کرتے رہیں گے۔
وقف سائیکل کی تحریک
حضرت مصلح موعود ؓنے جن حالات میں تحریک جدید کی بنیاد رکھی وہ جماعت کے لیے نہایت مالی تنگی کا زمانہ تھا مگر جماعت نے حضور ؓکی تحریک پر لبیک کہا اور اسے کامیاب کر دکھایا۔ ان حالات اور والہانہ اطاعت کا نظارہ وقف سائیکل کی تحریک سے کیا جا سکتا ہے۔
۱۹۳۵ء کے آغاز میں تبلیغ کے لیے قصبات اور دیہات کا جائزہ لینے کے لیے فارم چھپوائے گئے اور یہ جائزہ سائیکل سواروں کے ذریعہ لیا جاتا تھا۔ابتدا میں چار سائیکل سوار بھجوائے گئے ایک کے پاس اپنی ذاتی سائیکل تھی دوسائیکلیں ہدیہ آئی تھیں اور ایک سائیکل دفتر تحریک جدید نے خریدی تھی۔ ۱۱؍جنوری۱۹۳۵ء کے خطبے میں حضورؓ نے سولہ سا ئیکلوں کی تحریک فرمائی۔اس پر جماعت نے اس کثرت سے سائیکلیں بھیج دیں کہ آئندہ سائیکل نہ بھجوانے کی ہدایت کرنا پڑی۔
اس ضمن میں حضورؓ کا ارشاد درج کیا جاتا ہے جس سے اس دَور کے حالات پر بھی روشنی پڑتی ہے۔حضورؓ کے جذبہ دعوت الیٰ اللہ پر بھی اور جماعت کی کس مپرسی پر بھی۔ حضورؓ فرماتے ہیں: چارسائیکلسٹ بھی روانہ ہو چکے ہیں۔لیکن ساری سکیم پر دوبارہ غور کرنے اور عملی پہلوؤں کو اپنے ذہن میں مستحضر کرنے کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں پانچ نہیں بلکہ سولہ سائیکل سواروں کی ضرورت ہے۔ اور اب تجویز یہی ہے کہ سولہ سائیکلسٹ مقرر کیے جائیں اور چونکہ تجویز کی وسعت کے ساتھ زیادہ سائیکلوں کی ضرورت ہے۔ اس لیے میں دوستوں سے یہ کہنا چاہتا ہوںکہ بعض دوست ایسے ہوتے ہیں جو پہلے سائیکل پر سوار ہو ا کرتے تھے مگر اس کے بعد انہوں نے موٹر خرید لیا۔یاپہلے سائیکل پر سوار ہوا کرتے تھے مگر اس کے بعد انہوں نے گھوڑا خرید لیا یا اب سائیکل پر چڑھنا ہی انہوں نے چھوڑ دیا اور اس طرح سائیکل ان کے پاس بے کار پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ پس اگر ایسے دوست ہماری جماعت میں ہوں خواہ وہ قادیان کے ہوں۔یا باہر کے تو وہ اس طرح بھی ثواب کما سکتے ہیں کہ اپنے اپنے سائیکل یہاں بھجوا دیں اگر ہم خریدنے لگیں تو آٹھ نو سو روپیہ ہما را خرچ ہو جائے گا۔ لیکن اگر اس طرح سائیکل آجائیں تو ایک ایک سائیکل پر خواہ دس پندرہ روپے بطور مرمت خرچ ہو جائیںتو پھر بھی سوڈیڑھ سو روپیہ میں کئی سائیکل تیار ہو سکتے ہیںاور اس طرح بہت سی بچت ہو سکتی ہے۔ اب جو چار سائیکلسٹ گئے ہیں ان میں سے ایک کے پاس اپنا بائیسکل تھاجسے مرمت کرادیا گیا۔ دو سائیکل بعض دوستوں کی طرف سے ہدیةً ملے تھے۔ اور ایک سائیکل خرید لیا گیا۔ چونکہ یہ تمام سائیکل سوار پندرہ بیس دن کے اندر اندر روانہ ہونے والے ہیں۔اس لیے قادیان یا باہر کی جماعت میں سے اگر کوئی دوست سائیکل دے سکتے ہوں تو بہت جلد بھجوادیں۔ (الفضل۲۴؍جنوری۱۹۳۵ءصفحہ۵)
تین ہفتوں کے بعد روزنامہ الفضل لکھتا ہے: احباب کرام نے اس قدر سائیکل بھیج دیئے ہیں کہ حضور نے یہ اعلان کرنے کا ارشاد فرمایا ہے کہ اب دوست سائیکل روانہ نہ کریں فی الحال اور سا ئیکلوں کی ضرورت نہیں۔ (الفضل۱۴فروری۱۹۳۵ء صفحہ۲)
یہ اعلان جماعت کے عظیم الشان اخلاص کا مظہر ہے۔پھر دیکھیں کہ خدا نے اس تحریک میں کتنی برکت ڈالی اور اس تحریک میں حصہ لینے والوں کو خدا نے جن برکات سے نوازا اس کا کون احاطہ کر سکتا ہے۔
پانچ ہزار مربیان کی خواہش
تحریک جدید کے پانچ ہزار مجاہدین کا ایک اَور پہلو پانچ ہزار مربیان کی شکل میں بھی ہے۔۲۷؍دسمبر ۱۹۳۹ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے جلسہ سالانہ کی تقریر میں فرمایا: میری یہ خواہش ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کا یہ رؤیا کہ آپ کو ۵ہزار سپاہی دیا جائے گا ایک تو تحریک جدید میں چندہ دینے والوں کے ذریعہ پورا ہوا دوسرا اس رنگ میں پورا ہو کہ ہم ۵ ہزار تحریک جدید کے ماتحت مبلغ تیار کر دیں جو اپنی زندگی اعلائے کلمہ اسلام کے لیے وقف کیے ہوئے ہوں۔ (الفضل ۳؍جنوری ۱۹۴۰ء)
خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت مصلح موعودؓ کی اس خواہش کی تکمیل میں ہزاروں مبلغین اس وقت خدمت دین سرانجام دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں دنیا بھر میں قائم جامعہ احمدیہ کی شاخیں اور وقف نو کی بابرکت تحریک کے ذریعہ ہزاروں زیرتربیت افراد اس خواہش کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں اورحضرت مسیح موعودؑ کی صداقت پر گواہی دے رہے ہیں۔
تحریک جدید۔ ایک جادو کی چھڑی ہے
تحریک جدید محض وقتی یا محدود تقاضے پورے نہیں کرتی بلکہ دعوت الیٰ اللہ کی اس عالمگیر سکیم کا نام ہے جس نے جماعت احمدیہ کو تمام مذہبی جماعتوں میں ممتاز کردیا ہے۔ اہل حق نے بڑے بڑے معابد بھی بنائے، مدارس بھی قائم کیے، علماء کو بھی جنم دیا، کتب کی اشاعت بھی کی، الٰہی صحیفوں کے تراجم بھی کیے۔ مگر تحریک جدید کے ذریعہ دعوت الیٰ اللہ کے جس نظام کو جنم دیا گیا ہے وہ ایک لامتناہی جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے وہ آنے والی تمام نسلوں، قوموں اور زبانوں تک پھیلا ہوا ہے جو وقت کے تازہ تقاضوں اور زبانوں کی تمام ضرورتوں سے ہم آہنگ ہے۔
مسعود کھدر پوش ہندوستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ممتاز نام ہے۔۱۹۳۴ء میں وہ مجلس احرار کے سرگرم ممبر تھے اور اس جلسہ میں بھی شامل تھے جو قادیان کے قریب ایک گاؤں میں جماعت کی آخری ہچکی سننے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ بعد میں انہوں نے اس دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ایک احمدی کو بتایا کہ اس جلسہ کے بعد جب آپ کے حضرت صاحب نے یہ اعلان کیا کہ مَیں احرار کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلتی دیکھ رہا ہوں تو ہم اپنی پارٹی کی میٹنگز میں بہت ہنسے کیونکہ اُن کی یہ بات دُور از قیاس لگتی تھی۔ مجلس احرار ایک بے حد مضبوط اور مقبول پارٹی تھی اور ہمیں یقین تھا کہ آئندہ پنجاب کے الیکشن میں ہم واضح اکثریت حاصل کرلیں گے اور حکومت بناکر مرزائیت کا خاتمہ کردیں گے۔ لیکن اچانک ہم سے ایک شدید سیاسی غلطی ہوگئی اور زمین سچ مچ ہمارے پیروں کے نیچے سے نکل گئی۔ یہ ایسے ہوا کہ مسجد شہید گنج والے معاملے میں ہماری پالیسی کو پنجاب کے مسلمانوں نے قبول نہ کیا اور تقریباً سارا مسلمان معاشرہ ہمارے خلاف ہوگیا اور ہم الیکشن میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کرسکے۔
وہ مزید کہنے لگے کہ پھر آپ کے حضرت صاحب نے ایک جادو کی چھڑی نکالی اور اس سے مجلس احرار کو سخت زک پہنچائی۔ یہ چھڑی تحریک جدید تھی۔ اس کے ذریعہ انہوں نے ایک طرف غریب جماعت کو سادہ زندگی گزار کر مالی قربانی کی طرف مائل کیا اور ایک دو سال کے عرصہ میں اسی غریب جماعت میں سے ایک تربیت یافتہ مضبوط لشکر پیدا کردیا۔ پھر اس چھڑی کو اَور لمبا کیا اور دنیا کے کئی ملکوں میں اپنے مشن قائم کرکے اس کمزور سی جماعت کو انٹرنیشنل جماعت بنادیا۔(الفضل انٹرنیشنل ۲۹؍اگست ۲۰۱۴ء)
یہ واقعی جادو کی چھڑی تھی جس کو دائیں ہلایا تو کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ بائیں لہرایا تو ۲۱۴؍ممالک میں احمدیت کی کونپلیں لمحوں میں جوان ہونے لگیں۔ اس کے ۲۷؍مطالبے دیکھیں تو آج کی دنیا کے لیے قرآن و حدیث کے بہترین سنگ میل معلوم ہوتے ہیں۔ اس لیے حضرت مصلح موعودؓ نے اس تحریک کو احمدیت کا میگنا کارٹا قرار دیا ہے۔ فرمایا: تحریک جدید جماعت احمدیہ کے لیے اسی طرح ہے جس طرح انگریزوں کے لیے میگنا کارٹا ہے۔ اس میں جماعت کی ترقی کے وہ اصول بتائے گئے ہیں جن کی اس وقت ضرورت ہے۔ اگر احباب ان کے بین السطور کو پڑھیں تو ایسا مصالحہ مل سکتا ہے جو صدیوں تک کام آئے۔ (خطابات شوریٰ جلد ۲ صفحہ ۱۲۶)
چنانچہ مطالبہ وقفِ زندگی ہو کہ سادہ زندگی، امانت فنڈ ہو کہ دارالقضا٫، بے کاری کا خاتمہ ہو کہ گلیوں کی صفائی، مالی قربانی ہو کہ دعا کی تلقین الغرض یہ ساری باتیں ایک قوم کو مہذب، با خدااور سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنانے کے لیے کافی ہیں۔ اس تحریک نے ایک طرف تو احمدیت کے مالی نظام کو استحکام بخشا اور دوسری طرف جاں نثاروں کی ایک وسیع جماعت فراہم کردی۔ وہ جامعہ جس کا آغاز چند خوش نصیبوں سے ہوا تھا اب ان سے جامعہ چھلک رہا ہے اور دنیا میں اس کی شاخیں مربیان کی فیکٹریاں بن چکی ہیں۔
وہ چند جزائر، وہ خطے، وہ بے آباد علاقے جو احمدیت کی روشنی سے ابھی تک محروم ہیں کوئی وقت آتا ہے کہ وہ بھی تحریک جدید کے نتیجہ میں اپنے رب کے نور سے منور ہوجائیں گے۔ ان شاء اللہ
(روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۸؍اگست۲۰۱۴ء)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا بچپن




