نمازِ تہجد عشق الٰہی کا سب سے حسین مظہر
اللہ تعالیٰ ہماری پیدائش کا مقصد بیان کرتے ہوئے قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:اور میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری عبادت کریں۔ (الذاریات: ۵۷ )یہاں جنوں اور انسانوں سے مراد بڑے لوگ اور چھوٹے لوگ ہیں اور دونوں کی پیدائش کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔ نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے اور تمام سعادتوں کی کنجی ہے۔ انسان ہر وقت اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے دن میں پانچ نمازوں کے ذریعے اسے اپنے قریب لانے کا موقع دیا ہے۔ تاکہ وہ اپنے عجز و نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کر کے اس کی رضا کی راہوں پر چلنے اور اس کے فضلوں کو پانے کے لیے سجدہ ریز ہو جائے۔
انسان کے ذوق و شوق اور عشق الٰہی کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے تہجد کی نماز کا التزام کرنے کے بارے میں فرمایا :
اور رات کے ایک حصہ میں بھی اس قرآن کے ساتھ تہجد پڑھا کر۔ یہ تیرے لیے نفل کے طور پر ہوگا۔ قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر فائز کر دے۔ ( بنی اسرائیل : ۸۰ )دن کے اوقات میں گو نمازیں تو ادا کی جاتی ہیں لیکن بعض اوقات روزمرہ کے کاموں کی وجہ سے انسانی فطرت کے تحت دھیان ادھر ادھر ضرور بھٹک جاتا ہے اور کچھ لمحات کے لیے ہی سہی، نماز سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ پھر نمازی کوشش کر کے اپنی توجہ دوبارہ نماز کی طرف لے آتا ہے۔ تہجد کی نماز چونکہ رات کے اس حصے میں ادا کی جاتی ہے جب انسان اپنے سارے کاموں سے فارغ ہو کر آرام کر رہا ہوتا ہے۔ اُس وقت اٹھ کر نماز ادا کرنے والے کا دھیان رات کی تنہائی میں صرف اور صرف ربِ ذوالجلال کی عبادت کرنے کی طرف ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب رات کے اندھیرے میں انسان اپنے اللہ سے لَو لگاتا ہے، اپنے گناہوں اور غلطیوں پر پشیمان ہو کر اللہ تعالیٰ سے بخشش کا سوال کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے :اے اچھی طرح چادر میں لپٹنے والے !رات کو قیام کیا کر مگر تھوڑا۔ اس کا نصف یا اس سے کچھ تھوڑا سا کم کر دے۔ یا اس پر( کچھ) زیادہ کر دے۔ اور قرآن کو خوب نکھار کر پڑھا کر۔ یقیناً ہم تجھ پر ایک بھاری فرمان اتاریں گے۔ رات کا اٹھنا یقیناً (نفس کو) پاؤں تلے کچلنے کے لیے زیادہ شدید اور قول کے لحاظ سے زیادہ مضبوط ہے۔ یقیناً تیرے لیے دن کو بہت لمبا کام ہوتا ہے۔ پس اپنے رب کے نام کا ذکر کر۔ اور اس کی طرف پوری طرح منقطع ہوتا ہوا الگ ہو جا۔ ( المزمل: ۳-۹ )
ہمارے پیارے آقا و مولیٰ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم باقاعدگی سے نوافل اور نماز تہجد کا التزام فرمایا کرتے تھے۔ جب تمام دنیا سو رہی ہوتی تو آپؐ اپنے بستر کو چھوڑ کر بے قرار دل کے ساتھ اپنے خالق و مالک کے حضور حاضر ہو کر اپنی مناجات پیش کرتے اور اتنی دیر تک قیام فرماتے کہ آپ ﷺ کے پاؤں متورم ہو جاتے۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے ایک دفعہ حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ آپؓ مجھے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی بات بتائیں جو آپؓ کوبہت ہی عجیب معلوم ہوتی ہو۔ اس پر حضرت عائشہؓ رو پڑیں اور ایک لمبے عرصے تک روتی رہیں اور جواب نہ دے سکیں پھر فرمایا کہ آپﷺ کی تو ہر بات ہی عجیب تھی۔ کس کا ذکر کروں اور کس کا نہ کروں۔ ایک رات میرے ہاں باری تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ بستر میں داخل ہوئے اور فرمایا اے عائشہ ! کیا مجھے اس بات کی اجازت دیں گی کہ مَیں اپنے ربّ کی عبادت میں یہ رات گزار دوں۔ مَیں نے عرض کیا یا رسول اللہ یقیناً مجھے تو آپﷺ کا قُرب پسند ہے اور آپﷺ کی خوشنودی مقصود ہے۔ مَیں آپؐ کو خوشی سے اجازت دیتی ہوں۔ اس پر حضورﷺ اٹھے اور گھر میں لٹکے ہوئے ایک مشکیزہ کی طرف گئے اور وضو کیا۔ پھر آپ ﷺ نماز پڑھنے لگے اور قرآن کا کچھ حصہ تلاوت فرمایا۔ آپﷺ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔ پھر آپ ﷺ بیٹھ گئے اور خدا کی حمد اور تعریف کی اور پھر رونا شروع کر دیا۔ پھر آپﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور پھر رونے لگے۔ یہاں تک کہ مَیں نے دیکھا کہ آپﷺ کے آنسوؤں سے زمین تر ہو گئی اور اسی حال میں وہ رات گزر گئی۔ اور جب صبح کے وقت حضرت بلالؓ نماز کے لیے آپﷺ کو بلانے آئے تو اس وقت بھی آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! آپ ﷺ رو رہے ہیں۔ کیا آپﷺ کے متعلق اللہ نے یہ خوشخبری نہیں دی۔ وَقَدْ غَفَرَاللّٰہ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ۔ پھر آپﷺ کیوں روتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے بلال! کیا مَیں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ ( تفسیر کشاف زیرآیت، ان فی خلق السموت و الأرض … )( الاسلام لائبریری، نماز باجماعت شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم )
راتوں کو اپنے آرام کو پس پشت ڈال کر اٹھنا اور اپنے محبوبِ حقیقی کے سامنے حاضر ہونا ایک جہاد چاہتا ہے۔ اُس وقت وہی شخص اٹھ سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا ہو۔ اکثر اوقات بعض پریشانیاں انسان کو اس قدر بے چین کر دیتی ہیں کہ وہ سونے کی کوشش کرنے کے باوجود سو نہیں پاتا۔ ایسے میں اُس کا سہارا خدا تعالیٰ کی ذاتِ بابرکات ہوتی ہے۔ وہ اُس کے حضور گریہ وزاری کرتا ہے۔
ایک حدیث میں ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب رات کا آخری پہر ہوجائے۔ تو اللہ تعالیٰ سماء دنیا پر نزول فرماتا ہے۔ اور فرماتا ہے کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اُس کی دعا قبول کروں۔ کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں اُس کو بخش دوں۔ کوئی ہے جو مجھ سے رزق طلب کرے تو میں اسے رزق عطا کروں۔کوئی ہے جو مجھ سے اپنی تکلیف کے دور کرنے کے لیے دعا کرے تو میں اس کی تکلیف کو دور کروں۔اللہ تعالیٰ یوں ہی فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح صادق ہوجاتی ہے۔ ( مسند احمد بن حنبل، جلد نمبر۲،صفحہ ۵۲۱، مطبوعہ بیروت )
رات کے وقت نماز تہجد میں ادا کیے گئے نوافل عشق الٰہی کے حسین مظہر ہیں۔ ان نوافل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوتا ہے۔ وہ اپنے تہجد گزار بندوں کا دوست بن جاتا ہے۔ ان کا کارساز ہو جاتا ہے اور وہ جو اس سے مانگتے ہیں ان کو عطا کرتا ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ تہجد کو لازم کر لیں۔ جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لے۔ کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقع بہرحال مل جائے گا۔ اس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے کیونکہ وہ سچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں۔ جب تک ایک خاص سوز اور درد دل میں نہ ہو اس وقت تک ایک شخص خواب راحت سے بیدار کب ہو سکتا ہے۔ پس اس وقت کا اٹھنا ہی ایک دردِ دل پیدا کر دیتا ہے۔ جس سے دعا میں رقّت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور یہی اضطراب اور اضطرار قبولیت دعا کا موجب ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر اٹھنے میں سستی اور غفلت سے کام لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ درد اور سوز دل میں نہیں کیونکہ نیند تو غم کو دور کر دیتی ہے۔ لیکن جب کہ نیند سے بیدار ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی درد اور غم نیند سے بڑھ کر ہے جو بیدار کر رہا ہے۔“ ( ملفوظات ایڈیشن ۱۹۸۸ء، جلد دوم صفحہ ۱۸۲ )
نوافل میں نماز تہجد کو بے حد اہمیت حاصل ہے۔ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کے حسن اور طول کا یہ عالم تھا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ رکوع کے بعد اور قیام میں اور دونوں سجدوں کے درمیان اس قدر دیر لگاتے کہ لوگ سمجھتے کہ کچھ بھول گئے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے دل میں دن کے علاوہ راتوں کی عبادت میں ذکر الٰہیسے جو محبت تھی اس کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ پسندیدہ سے پسندیدہ اور قیمتی سے قیمتی چیز بھی اگر صحابہؓ کے ذکر الٰہی اور نماز میں حارج ہوتی تو وہ ان کی نظر سے گر جاتی تھی۔ وہ حضورﷺ کے نقش قدم پر چلتے۔ ان کے دلوں میں نرمی، طبیعتوں میں خشیت اور آنکھوں سے آنسو رواں رہتے تھے۔
قبولیت دعا کے لیے اضطراب شرط ہے اور قرب الٰہیپانے کے لیے مسلسل مجاہدہ اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور حق تو یہ ہے کہ خدا کو پانا خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ قرب الٰہی کی راہیں لا محدود ہیں۔ جب تک خدا تعالیٰ انسان کا ہاتھ نہ پکڑے منزل کا حصول ممکن نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
یہی تدبیر ہے پیارو کہ مانگو اس سے قربت کو
اسی کے ہاتھ کو ڈھونڈو جلاؤ سب کمندوں کو
قربِ الٰہی کا سفر کوئی ایک دو دن کی بات نہیں بلکہ ایک مسلسل مجاہدہ کا سفر ہے۔ جو راتوں کی تاریکی میں تہجد کے ذریعہ طے کیا جا سکتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں”:راتوں کو اٹھو اور دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی راہ دکھلائے… تم لوگ سچے دل سے توبہ کرو۔ تہجد میں اٹھو دعا کرو۔ دل کو درست کرو۔ کمزوریوں کو چھوڑ دو اورخدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق اپنے قول و فعل کو بناؤ۔“ (ملفوظات ایڈیشن ۱۹۸۸ء، جلد اول صفحہ ۲۸ )
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
محمود عمر میری کٹ جائے کاش یونہی
ہو روح میری سجدہ میں سامنے خدا ہو
(کلام محمود)
مزید پڑھیں: اجتماعی و انفرادی نمازِ تہجد حسبِ ارشاد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز




