خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 06؍فروری 2026ء

’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز خواہش نہ تھی کہ لوگ آپ کو پیغمبر کہیں اور آپ کی اطاعت کریں اور اسی لیے ایک غار میں جو قبر سے زیادہ تنگ تھی جا کر آپ عبادت کیا کرتے تھے اور آپ کا ہرگز ارادہ نہ تھا کہ اس سے باہر آویں۔ آخر خدا نے اپنی مصلحت سے آپ کو خود باہر نکالا اور آپ کے ذریعے سے دنیا پر اپنے نور کو ظاہر کیا۔‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

عبادت محبت الٰہی کے بغیر نہیں ہے اور محبت الٰہی عبادت کے بغیر نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی محبت نہ ہو تو حقیقی عبادت ہو ہی نہیں سکتی

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب احکامات ہمیں دیے تو اس کی انتہا بھی اپنے عمل سے کر کے دکھائی اور پھر ہمیں توجہ دلائی کہ حقیقی اطاعت اور پیروی تو تب ہی پوری ہوگی جب تم اس معیار پر اپنے آپ کو لانے کی کوشش کرو گے۔ آپؐ کی وہ دعائیں جو آپؐ نے اپنی امّت کے لیے کیں تب ہی ہمیں اپنی لپیٹ میں لیں گی اور ہمارے لیے فائدہ مند ہوں گی جب ہم آپؐ کے اسوہ اور احکامات کو ہمیشہ پیش نظر رکھ کر عمل کی کوشش کریں گے۔ صرف دکھاوے اور کہنے سے فیض حاصل نہیں ہو سکتا

آپؐ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے بلکہ سوتے ہوئے بھی عبادت ہوتی تھی

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اپنے معیار قائم فرمائے بلکہ ان معیاروں کو حاصل کرنے کی نصیحت بھی فرمائی ہے کہ تم لوگ بھی اس طرح کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی محبت بھی حاصل کرو گے اور اللہ تعالیٰ کی سزا سے بھی بچ سکو گے

صحابہ کرامؓ کے جو نمونے ہمارے پاس پہنچے ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت ہی کی وجہ سے پہنچے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ ؓکی ایسی تربیت کی کہ ان کی عبادتوں کے معیار بھی بلند سے بلند تر ہوتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے محبت کا معیار بھی ان کا بلند ہوتا چلا گیا۔ یہی وہ اسوہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا جسے آپؐ کے صحابہؓ نے اپنایا اور ہمارے لیے بھی یہی حکم ہے

آج کل اگر کسی سے نمازوں کے بارے میں پوچھا جائے یا یہی کہہ دیا جائے کہ مسجد میں نمازیں پڑھنی چاہئیں۔ کتنی نمازوں میں مسجد میں آتے ہو؟ تو اس پہ لوگوں کا اعتراض شروع ہوجاتا ہے کہ یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے۔ تم کون ہوتے ہو ہم سے پوچھنے والے؟ جماعت کو اس کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ ہمارا اور اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے۔ لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تو خود تہجد کی نماز کا بھی جائزہ لیا کرتے تھے

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ آزاد اور آپؐ سے بڑھ کر زیادہ حُر کون ہوگا؟ مگر آپؐ کی نسبت آتا ہے کہ آپؐ جب دعا کرتے تھے تو بعض اوقات آپؐ کے سینے سے اس طرح آواز نکل رہی ہوتی تھی جس طرح کہ ہنڈیا ابل رہی ہے اور اس قدر روتے تھے کہ ریش مبارک تر ہو جاتی تھی

جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان بھی جو سب نیکوں کا سردار ہے اعمال سے مستغنی نہیں ہوتا تو اَور لوگ کس طرح مستغنی ہو سکتے ہیں ؟اَور لوگ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہم عمل سے مستغنی ہو گئے؟ ہمیں اعمال کی ضرورت نہیں ۔اللہ تعالیٰ بخش دے گا۔ یہ تو کافروں کے قول ہیں۔ مومن کے قول نہیں ہیں

چونکہ یہ ذکر بھی آپؐ ہمیشہ کیا کرتے تھے۔ یعنی رات کو آیت الکرسی پڑھنا اور تینوں قُل پڑھنا اس لیے اس سنت کی پابندی بھی ہر مسلمان کو کرنی چاہیے بلکہ اسے اپنی زندگی کا ضروری حصہ بنانا چاہیے

نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے جو معیار ہیں پہلے وہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔اس کے بعد نوافل ہیں ۔پھر ذکر الٰہی ہے۔ ذکر انسان کو مزید نیکیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے ۔لیکن اس کے ساتھ دوسرے اخلاق اور اعمال بجا لانا بھی ضروری ہیں۔ اعلیٰ اخلاق کا بھی انسان کو حامل ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے ،اپنے مسائل کے حل اور اپنی دعاؤں کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر عمل کیا جائے اور اس طرح کیا جائے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کر کے دکھایا۔ اس کی کوشش کی جائے اور اس مکمل سنت پر عمل کیا جائے

ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر چلتے ہوئے آپؐ کو جو مانا ہے تو آپؐ کو بشارتیں دینے والا مانا ہے ۔
اور ان بشارتوں کو ہم تبھی حاصل کر سکتے ہیں جب ہم اپنی عبادت کے بھی حق ادا کرنے والے ہوں گے اور آپؐ کے اسوہ پر چلنے کے لیے اس معیار کو بھی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں گے۔ یاد رہے کہ کوشش کے لیے قربانی کرنی پڑتی ہے جہاد کرنا پڑتا ہے

آنحضرتﷺ کی عبادت الٰہی کا دلنشیں اور دلآویز پیرایہ میں ذکر

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 06؍فروری 2026ء بمطابق 06؍تبلیغ 1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہیں اورہر معاملے میں اسوۂ حسنہ ہیں۔ گذشتہ خطبات میں اسی ضمن میں آپؐ کی محبت الٰہی کا ذکر ہو رہا تھا۔ محبت الٰہی کے ذکر میں آپؐ کی عبادت کے معیار کا بھی ذکر ہوا۔ میرا خیال تھا کہ محبت الٰہی کے بعد اگلا مضمون آپؐ کی عبادت کا لوں گا لیکن جب محبت الٰہی کا ذکر شروع ہوا تو عبادت کے بھی بہت سے واقعات اس میں آ گئے۔ باوجود چاہنے کے میں ان دو مضامین کو الگ نہیں کر سکا کیونکہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔

عبادت محبت الٰہی کے بغیر نہیں ہے اور محبت الٰہی عبادت کے بغیر نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی محبت نہ ہو تو حقیقی عبادت ہو ہی نہیں سکتی۔

بہرحال اس ضمن میں آج جو مزید بیان کروں گا اس کو گو میں نے عبادت کے حوالے سے لیا ہے لیکن اس کی انتہا جیسا کہ میں نے گذشتہ خطبے میں بھی بیان کیا تھا اللہ تعالیٰ کی محبت پر جا کر ہی ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے اس معیارِ محبت کو قرآن کریم میں جس طرح بیان فرمایا ہے اس کی وضاحت گذشتہ خطبات میں ایک آیت کے حوالے سے کر چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔(الانعام: 163) کہ تُو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا اس آیت کی وضاحت تو گذشتہ خطبات میں ہو چکی ہے اس لیے دوبارہ اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پھر آپؐ کو فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (آل عمران:32)کا اعلان کرنے کا کہہ کر ہمیں بھی ان معیاروں کو حاصل کرنے کی ہدایت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لوگوں کو بتا دے کہ اگر میری اتباع کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کر سکو گے۔ پس آپؐ کو یہ اعلان کرنے کا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی ان معیاروں کو حاصل کرنے کی ہدایت فرمائی ہے کہ اس کو حاصل کرنے کی حقیقی کوشش کرو۔

عبادت کے بارے میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے ذریعے سے ہمیں بے شمار احکامات دیے ہیں۔

ایک جگہ فرمایا :وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۔(الذاریات:57)اور میں نے جنّ و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری عبادت کریں۔ پس واضح فرمایا کہ

اگر تم میری پیروی کرنا چاہتے ہو تو سنو !کہ جس طرح میں نے انسان کی پیدائش کے مقصد کا ادراک حاصل کیا تم بھی یہ حاصل کرو اور اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کرو۔ تب ہی اپنے مقصد پیدائش کو پا سکو گے اور تب ہی اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کر سکو گے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے عبادت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک جگہ فرمایا :يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۔(البقرۃ:22)کہ اے لوگو !تم اپنے ربّ کی عبادت کروجس نے تمہیں پیدا کیا اور ان کو بھی جو تم سے پہلے تھے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔پس

اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے اور اس کی عبادت کے معیار کو بلند تر کیا جائے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَــيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ (الحج:78) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو !رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے ربّ کی عبادت کرو اور اچھے کام کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

پس

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ احکامات ہمیں دیے تو اس کی انتہا بھی اپنے عمل سے کر کے دکھائی اور پھر ہمیں توجہ دلائی کہ حقیقی اطاعت اور پیروی تو تب ہی پوری ہوگی جب تم اس معیار پر اپنے آپ کو لانے کی کوشش کرو گے۔ آپؐ کی وہ دعائیں جو آپؐ نے اپنی امّت کے لیے کیں تب ہی ہمیں اپنی لپیٹ میں لیں گی اور ہمارے لیے فائدہ مند ہوں گی جب ہم آپؐ کے اسوہ اور احکامات کو ہمیشہ پیش نظر رکھ کر عمل کی کوشش کریں گے۔ صرف دکھاوے اور کہنے سے فیض حاصل نہیں ہو سکتا۔

بہرحال یہ نمونے جو آپؐ نے قائم فرمائے ان میں بہت سی مثالیں تو مَیں پیش کر چکا ہوں۔ بعض اَور ہیں جو پیش کرتا ہوں۔

آپؐ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے بلکہ سوتے ہوئے بھی عبادت ہوتی تھی

جیسا کہ آپؐ نے خود فرمایا ہے: میری آنکھ تو سوتی ہے لیکن میرا دل اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت سے غافل نہیں ہوتا۔

(صحیح البخاری كِتَابُ المَنَاقِبِ بَابُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ،حدیث:3569)

آپؐ نے اپنے ماننے والوں کو بھی اس کی تلقین فرمائی کہ تمہارا معیار یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہمیشہ پیش نظر رہے۔ اپنی عبادت کے معاملے میں کس باریکی سے آپؐ اپنا محاسبہ کیا کرتے تھے اس کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہابیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چادر میںنماز پڑھی جس میں نقش تھے۔ آپؐ نے اس کے نقشوں کو ایک نظر دیکھا ۔جب آپؐ فارغ ہوئے تو فرمایا:میری اس چادر کو اَبُو جَہْمکے پاس لے جاؤ اوراَبُو جَہْمکی اَنْبِجَانِی لوئی یعنی بغیر نقش کے سادہ چادر لے آؤ کیونکہ اس نے ابھی مجھے میری نماز سے بے توجہ کر دیا ہے۔ یعنی ہلکی سی نظر بھی اس پر پڑی تو آپؐ کو یہ برداشت نہ ہوا کہ میں اس چادر کی طرف دیکھوں اور میری نظر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھر جائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَیں اس کے نقش دیکھتا تھا اور میں نماز میں تھا تو میں ڈرا کہ وہ مجھے آزمائش میں نہ ڈال دے۔

(صحیح البخاری کتاب الصلاۃ باب إذا صلى فی ثوب لہ أعلام ونظر إلى علمها روایت 373)

اس کی شرح میں سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ نے لکھا ہے کہ اس باب کامضمون یہ ہے کہ کپڑے سادہ ہوں۔ ان میں ایسی چمک دمک نہ ہو جو توجہ ہٹائے۔ ذہنی ارتقاء کے ساتھ انسان بالطبع سادگی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں کہ آج کل بھی ہم دیکھتے ہیں کہ سلیم الذوق لوگ کپڑے کے انتخاب میں سادہ رنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن بعض آج کل ایسے بھی ہیں جو اپنے کپڑوں کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور ان کی استری درست کرنے کی طرف توجہ ہوتی ہے۔ تو نماز میں تو پوری توجہ اس طرف ہونی چاہیے نہ کہ کسی کپڑے کی طرف۔ پھر لکھتے ہیں کہ نماز میں استغراق کُلّی کی ضرورت ہے۔ یعنی نماز تبھی حقیقی نماز ہو سکتی ہے جب انسان اس میں پوری طرح غرق ہو اور ڈوب کر نماز پڑھے۔ اس لیے شعائر اسلام نے نمازی کے ماحول میں ہر ایسی چیز کے وجود کو ناپسند کیا ہے جو اس کی توجہ کو اپنی طرف کھینچے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپؐ کس قدر کس توجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہتے تھے کہ ہلکی سی نظر بھی کسی ایسی چیز پر نہ پڑے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے توجہ ہٹانے والی ہو۔ اور اس بارے میں مختلف احادیث میں ذکر ہوا ہے کہ تصویریں نہیں ہونی چاہئیں، سامنے تصویروں والا کپڑا نہیں ہونا چاہیے اور سامنے ایسا پردہ نہیں ہونا چاہیے جس پر تصویریں بنی ہوں کیونکہ یہ ساری چیزیں نماز سے توجہ ہٹانے کی وجہ بن سکتی ہیں۔اس لیے ان سے روکا گیا ہے۔ نماز پڑھتے وقت ایسے پردے یا ایسی تصویریں سامنے نہ ہوں کہ جن کی طرف منہ کرنے سے توجہ ہٹ جائے۔ ایسی چیزیںقبلہ رخ نہ ہوں۔

(ماخوذ از صحیح بخاری مترجم (اردو)جلد 1 صفحہ 479۔ نظارت اشاعت)

اسی طرح آپؐ کے اعلیٰ ترین معیار کا ایک اَور ذکر ملتا ہے۔ حضرت جعفر بن محمدؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا گیا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر کیسا ہوتا تھا ؟تو انہوں نے فرمایا :چمڑے کا تھا ۔اس میں کھجور کے ریشے بھرے ہوتے تھے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا گیا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر کیسا تھا ؟تو آپؓ نے فرمایا: وہ پشم کا تھا۔ یعنی نرم اون جانور کے جو بال تھے ان کا بنایا ہوا تھا۔ میں اس کی دو تہیں لگا دیتی تھی وہ ذرا نرم ہو جاتا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوتے تھے۔ ایک رات مَیں نے سوچا کہ کیوں نہ اس کی چار تہیں لگا دوں تاکہ یہ اَور زیادہ نرم اور آرام دہ ہو جائے تو آپؐ کے لیے زیادہ راحت کا باعث ہوگا۔ چنانچہ ہم نے اس کی چار تہیں لگا دیں ۔جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم نے رات میرے لیے کیا بچھایا تھا؟ حضرت حفصہ ؓکہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا وہ آپؐ کاہی بستر تھا ۔صرف ہم نے اس کی چار تہیں لگا دی تھیں تاکہ وہ آپؐ کے لیے زیادہ آرام دہ ہوجائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اسے پہلے جیسا ہی رہنے دو کیونکہ اس کی زیادہ نرمی میرے لیے رات کی نماز میں روک بن رہی تھی۔

(شمائل النبیﷺ صفحہ 134 باب ما جاء فی فراش رسول اللہ ﷺ، روایت 314، نور فاؤنڈیشن)

اگرچہ بستر کی نرمی آپؐ کی عبادت میں رکاوٹ نہیں بن سکتی تھی لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ احساس بھی گوارا نہ ہوا کہ بستر نرم ہے تو تھوڑا سا لیٹ جاؤں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے نہ اٹھوں اور اس میں مجھے نرمی نظر آئے۔ تو یہ تھا آپؐ کا اعلیٰ ترین معیار۔

آپؐ کی عبادت کی حالت کا نقشہ

ام المومنین حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے یوں بیان کیا ہے ۔فرماتی ہیں کہ میں نے ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور آپؐ نے رکوع کیا یہاں تک کہ میں نے اپنی ناک پکڑ لی ۔یعنی

اتنا لمبا رکوع تھا کہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں ناک سے خون نہ بہنے لگ جائے۔

(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ۔ کتاب النساء، حرف السین – سودہؓ بنت زمعۃ جلد 8 صفحہ196-197 دارالکتب العلمیۃ 1995ء)

بہرحال

یہ حالت اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب ایسی محبت ہو کہ انسان کا محبوب کا دَر چھوڑنے کو دل نہ چاہے۔ جس پوسچر (posture) میں بھی جائے ،جس حالت میں بھی جائے، اسی میں ڈوب جائے۔

اسی طرح

معیارِ عبادت کے بارے میں

ایک اور روایت مُطَرَّف اپنے والد سے بیان کرتے ہیں۔انہوں نے کہا :میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ رونے کی وجہ سے آپؐ کے سینے سے چکّی چلنے کی آواز آرہی تھی۔ (سنن ابی داؤد کتاب الصلوٰۃ باب البکاء فی الصلوٰۃ حدیث 904) یعنی جس طرح چکّی چلتی ہے ،گرائنڈر چلتا ہے ویسے ہی آواز تھی۔

ایک اَور جگہ ہنڈیا ابلنے کی مثال بھی دی گئی ہے۔

(سنن النسائی کتاب السھو باب البکاء فی الصلوٰۃ حدیث 1214)

پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں سواری پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ۔میرے اور آپؐ کے درمیان کجاوے کا پچھلا حصہ تھا ۔آپؐ نے فرمایا :اے معاذ بن جبل! مَیں نے کہا :مَیں حاضر ہوں یا رسول اللہؐ !اور یہ میری سعادت ہے ۔پھر آپؐ تھوڑی دیر چلے اور فرمایا :اے معاذ بن جبل! مَیں نے پھر عرض کیا :لبیک یا رسول اللہؐ !یہ میری سعادت ہے ۔پھر آپؐ کچھ دیر چلے اور فرمایا :اے معاذ بن جبل! مَیں نے عرض کیا :لبیک یا رسول اللہؐ !یہ میری سعادت ہے۔ آپؐ نے فرمایا :کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے؟ میں نے کہا اللہ اور اس کارسولؐ بہتر جانتے ہیں ۔تو آپؐ نے فرمایا:اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں ۔پھر آپؐ کچھ دیر چلے اور فرمایا :اے معاذ بن جبل! مَیں نے کہا :لبیک یا رسول اللہؐ !یہ میری سعادت ہے۔ آپؐ نے فرمایا :کیا تم جانتے ہو کہ بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ پہلے تو اللہ کا حق تھا۔ اب بندوں کا کیا حق ہے جب وہ ایسا کریں یعنی عبادت کرنے والے بندے ہوں۔ مَیں نے کہا :اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔تو آپؐ نے فرمایا:یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بندوں کو عذاب نہ دے۔

(صحیح مسلم كتاب الایمان باب الدلیل علی ان من مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعًا، حدیث:35)

پس

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اپنے معیار قائم فرمائے بلکہ ان معیاروں کو حاصل کرنے کی نصیحت بھی فرمائی ہے کہ تم لوگ بھی اس طرح کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی محبت بھی حاصل کرو گے اور اللہ تعالیٰ کی سزا سے بھی بچ سکو گے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں ایک جگہ فرماتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف کی اشاعت کے لیے مامور تھے ایسا ہی سنت کی اقامت کے لیے بھی مامور تھے۔ پس جیسا کہ قرآن شریف یقینی ہے ایسا ہی سنت معمولہ متواترہ بھی یقینی ہے ۔یعنی ایسی سنت جس کا تعلق آپؐ تک پہنچتا ہو ۔آپؐ کے عمل سے ثابت ہوتا ہو اور متواتر اس میں راوی اس بات کو بیان کرتے چلے جائیں۔ ایک chain ہو روایات کی۔ یہ دونوں خدمات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے بجا لائے اور دونوں کو اپنا فرض سمجھا۔ جب نماز کے لیے حکم ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے اس قول کو اپنے فعل سے کھول کر دکھلا دیا اور عملی رنگ میں ظاہر کر دیا کہ فجر کی نماز کی یہ رکعات ہیں اور مغرب کی یہ اور باقی نمازوں کے لیے یہ یہ رکعات ہیں۔ایسا ہی حج کر کے دکھلا دیااور پھر اپنے ہاتھ سے ہزار ہا صحابہ ؓکو اس فعل کا پابند کر کے سلسلہ تعامل بڑے زور سے قائم کر دیا۔ خوددکھایا اور پھر ان کو قائم بھی کیا اس بات پر۔ پس عملی نمونہ جو اب تک امّت میں تعامل کے رنگ میں مشہود و محسوس ہے اسی کا نام سنت ہے۔ آپؑ لکھتے ہیں کہ لیکن حدیث کو آنحضرت کے روبرو نہیں لکھا گیا اور اس کوجمع کرنے کے لیے کوئی اہتمام نہیں کیا گیا۔

تو بہرحال یہ آپؑ سنت اور حدیث کا موازنہ کر رہے تھے کہ کیا فرق ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ سنت پہلے ہے اور حدیث کا مقام بعد میں آتا ہے اور جو حدیث قرآن شریف اور آپؐ کی سنت سے نہیں ٹکراتی وہ حدیث صحیح ہے۔

(ماخوذ از ریویو بر مباحثہ بٹالوی وچکڑالوی، روحانی خزائن جلد19صفحہ210-212)

پس جہاں آپؑ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں یہ فرما رہے ہیں کہ آپؐ کے عبادت کے معیار کیا تھے وہاں یہ بھی فرما دیا کہ آپؐ نے یہ سب کچھ کر کے دکھلایا اور اپنے ماننے والوں کو ان پر عمل کرنے کی نصیحت فرمائی اور ان سے عمل بھی کروایا۔ پس یہ وہ سنت ہے جو آج تک ہم تک پہنچ رہی ہے ۔

صحابہ کرامؓ کے جو نمونے ہمارے پاس پہنچے ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت ہی کی وجہ سے پہنچے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ ؓکی ایسی تربیت کی کہ ان کی عبادتوں کے معیار بھی بلند سے بلند تر ہوتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے محبت کا معیار بھی ان کا بلند ہوتا چلا گیا۔ یہی وہ اسوہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا جسے آپؐ کے صحابہؓ نے اپنایا اور ہمارے لیے بھی یہی حکم ہے۔

آپؐ نے تہجد کے بارے میں بہت تلقین فرمائی ہے کہ تہجد پڑھنی چاہیے۔

حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی تفسیر میں ایک جگہ لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان نوافل کا اتنا خیال تھا کہ باوجود ان کے نفل ہونے کے آپؐ رات کو پھر کر دیکھتے تھے کہ صحابہؓ میں سے کون یہ نفل پڑھتا ہے ۔یعنی شہر کی گلیوں میں ،سڑکوں پہ پھرتے تھے تو پتہ لگ جاتا تھا کہاں نمازوں کی آواز آرہی ہے۔ تہجد کے وقت لوگ اٹھے ہوئے ہیں اور کون نہیں پڑھتا ۔یعنی آپؐ یہ بھی جائزہ لیا کرتے تھے کون تہجد پڑھ رہا ہے اور کون نہیں۔

آج کل اگر کسی سے نمازوں کے بارے میں پوچھا جائے یا یہی کہہ دیا جائے کہ مسجد میں نمازیں پڑھنی چاہئیں۔ کتنی نمازوں میں مسجد میں آتے ہو؟ تو اس پہ لوگوں کا اعتراض شروع ہوجاتا ہے کہ یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے۔ تم کون ہوتے ہو ہم سے پوچھنے والے؟ جماعت کو اس کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ ہمارا اور اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے۔ لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تو خود تہجد کی نماز کا بھی جائزہ لیا کرتے تھے۔

ایک دفعہ آپؐ کی مجلس میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر آیا کہ وہ بہت اچھے ہیں اور ان میں فلاں فلاں خوبیاں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ہاں !آدمی تو بہت اچھا ہے بشرطیکہ تہجد پڑھے۔ کیونکہ وہ نوجوان تھے اور تہجد میں کچھ سستی کرتے تھے اس لیے آپؐ نے انہیں اس طرح توجہ دلائی۔

پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس میاں اور بیوی پر رحم کرے کہ اگر رات کو میاں کی آنکھ کھلے تو اٹھ کر تہجد پڑھے اور بیوی کو بھی جگائے کہ تُو بھی اٹھ کر تہجد پڑھ اور اگر وہ نہ جاگے تو اس کے منہ پر پانی کا چھینٹا مارے اور جگائے ۔اسی طرح اگر بیوی کی آنکھ کھلے تو وہ خود تہجد پڑھے اور میاں کو جگائے اور اگر وہ نہ جاگے تو اس کے منہ پر چھینٹا مارے۔ دیکھو !ایک طرف تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کے لیے میاں کا ادب کرنا نہایت ضروری قرار دیا ہے اور دوسری طرف تہجد کے لیے جگانے کے واسطے اگر پانی کا چھینٹا بھی مارنا پڑے تو اس کو بھی جائز رکھا ہے۔ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کو اس قدر ضروری سمجھتے تھے۔

پھر قرآن کریم کہتا ہے کہ رات کا اٹھنا نفس کو سیدھا کر دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ ؓکو فرماتے کہ خواہ تہجد دو رکعت ہی پڑھو مگر پڑھو ضرور۔ پھر حدیثوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ رات کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ قریب آ جاتا ہے اور بہت زیادہ دعائیں قبول کرتا ہے۔اس لیے

تہجد کا پڑھنا بہت ضروری اور بہت فائدہ مند ہے۔

(ماخوذ از سیرۃ النبیﷺ از حضرت مصلح موعودؓجلد 1 صفحہ416-417)

اس میں شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کا فضل ہی ہوتا ہے جس سے نجات ہوتی ہے اور کوئی شخص اپنے عمل کی بناپر دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ نجات پائے گا کیونکہ سب سے بڑے عامل اور سب سے بڑے خدا کے فرمانبردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپؐ بھی اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں کرتے تھے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے اور اسے مَیں گذشتہ خطبے میں بیان بھی کر چکا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ کو اور باقی اَور صحابہ ؓکو بھی یہی فرمایا جب انہوں نے پوچھا کہ آپؐ تو اپنے اعمال سے بہشت میں جائیں گے۔ آپؐ نے فرمایا :نہیں عائشہ !مَیں بھی خدا کے فضل سے ہی جاؤں گا۔ پس جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان جس کا ہر ایک سانس ،جس کا چلنا پھرنا عبادت میں داخل تھا۔جس کا سونا اور جاگنا عبادت میں گنا جاتا تھا ۔جس کی ہر حرکت اور سکون عبادت تھی حتّی کہ جس کا رفع حاجت کے لیے جانا اور بیویوں کے پاس جانا بھی عبادت تھا ۔اتنا بڑا عبادت گزار انسان جب کہتا ہے کہ مَیں اپنے اعمال سے بہشت میں نہ جاؤں گابلکہ خدا کے فضل سے تو اَور کون ہے جو کہے کہ مَیں اپنے عمل سے بہشت میں داخل ہو جاؤں گا۔ یہ مت خیال کرو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فعل کیسے عبادت میں داخل ہو گیا۔ یہ اس طرح ہے کیونکہ ان کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ بتا دیا ہے کہ آپؐ کی ہر ایک حالت عبادت تھی۔ ناواقف کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حرکت کیسے عبادت ہو گئی ؟مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بالکل صحیح بات ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فعل عبادت تھا۔ ہاں آپؐ کے سوا کسی اَور کا ہر فعل عبادت نہیں ہو سکتا۔ آپؐ اسوۂ حسنہ ہیں اس لیے آپؐ کاہر فعل خدا کی رضا کے لیے تھا اور جو کام خدا کی رضا کے لیے ہو وہ عبادت بن جاتا ہے۔ کسی اَور کا ہرفعل عبادت نہیں ہو جاتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خدا نے فرمایا: لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فعل میں ایک نمونہ ہے۔ کیا اس کے یہ معنی نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمل سے بتلائیں کہ کون سا فعل جائز ہے اور کون سا ناجائز ہے ۔کون سا مستحسن ہے اور کون سا مکروہ ۔اور کون سا حلال ہے اور کون سا حرام۔ پس رسول کریمؐ  کا ہر ایک کام ایک بیان ہے اور ایک ڈسکرپشن (description)ہے۔ مثلاً آپؐ کا نماز پڑھنا نہ صرف خدا کے ایک حکم کی تعمیل تھی بلکہ اعلان تھا کہ یہ فرائض ہیں ،یہ سنتیں ہیں اور یہ نوافل ہیں جو فرائض کے علاوہ ہیں اور جن کا پڑھنا قرب الٰہی کے لیے ضروری ہے۔ آپؐ کا کھانا کھانا اعلان تھا کہ جو کچھ آپؐ کھاتے ہیں وہ حلال ہے اور جن چیزوں کو آپؐ نہیں کھاتے وہ کھانے کے قابل نہیں۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فعل چونکہ نمونہ بنایا گیا تھا لوگوں کے لیے اس لیے آپؐ جن چیزوں کو جائز بتاتے تھے اور استعمال فرماتے تھے یہ عبادت تھی ۔اسی طرح جن سے منع فرماتے تھے اور استعمال نہ کرتے تھے یہ بھی عبادت میں شامل تھے۔ غرض آپؐ کاہر فعل عبادت تھا کیونکہ خدا کے حکم کے ماتحت تھا۔ چنانچہ اس کی ایک مثال ہے کہ ایک شخص نے عصر کی نماز کا وقت دریافت کیا۔ ظاہر ہے کہ اوّل وقت پر نماز پڑھنا مستحسن ہے۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی دیر کی کہ وقت نہایت تنگ ہو گیا۔ آپؐ کا نماز میں یہ دیر کرنا بھی عبادت تھا۔ کیوں؟ اس لیے کہ آپؐ یہ سبق دے رہے تھے کہ اگر انسان کسی وجہ سے کسی وقت اوّل وقت میں نماز نہ پڑھ سکے تو اگر آخری وقت تک پڑھ لے تو بھی اس کی نماز ہو جائے گی۔ غرض فرائض میں اعلان تھا ۔واجبات میں اعلان تھا ۔نوافل و سنن میں اعلان تھا کہ یہ سب کچھ عبادت الٰہی ہے۔ اس حالت پر بھی آپؐ فرماتے ہیں کہ خدا کے فضل سے بہشت میں جائیں گے۔ یعنی آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا آپؐ کا ہر فعل عبادت ہے لیکن پھر بھی آپؐ نے یہی فرمایا مَیں تو خدا کے فضل سے ہی بہشت میں جاؤں گا۔ پھر ہم لوگ جن کے اعمال بہت تھوڑے ہیں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم اعمال سے بہشت میں چلے جائیں گے؟ اس سے ظاہر ہو گیا کہ فضل کیسی ضروری چیز ہے۔

اللہ کا فضل بہت ضروری چیز ہے لیکن اللہ کا فضل بھی محض دعوے سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے حصول کے لیے بھی کسی چیز کی ضرورت ہے۔ محض دعویٰ ایمان سے کچھ نہیں بنتا۔اور وہ چیز کیا ہے ؟وہ ہے عمل۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل اور اس پر عمل کرنے کی کوشش۔ اپنی عبادت کے معیار کو بڑھانے کی کوشش۔ اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے کی کوشش۔ تبھی جیسا کہ میں نے شروع میں بھی کہا تھا کہ عبادت محبت الٰہی کے بغیر نہیں اور محبت الٰہی عبادت کے بغیر نہیں ہے۔

(ماخوذ ازخطبات محمود جلد7 صفحہ 111تا112)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی کیفیت کیا ہوتی تھی۔

اس بارے میں بھی حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔ کچھ جگہ میں اپنے الفاظ بھی بیان کر دوں گا لیکن بہرحال اسی سے اخذ کیا گیا ہے کہ بہت ہیں جو دعا کرتے ہیں ۔مگر ان کی آنکھیں،ان کا دل ،ان کا دماغ ،ان کا سینہ دعا کا مؤید نہیں ہوتا۔ دعا کر رہے ہوتے ہیں لیکن آنکھیں کہیں اَور ہوتی ہیں ،دل ان کا کہیں اَور ہوتا ہے ،دماغ کہیں اَور پھر رہا ہوتا ہے ،سینے میں وہ محبت نہیں ہوتی جو ہونی چاہیے۔ خدا تعالیٰ کے لیے وہ محبت نہیں ہے ۔اور پھر کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟نتیجہ اس کا یہی نکلتا ہے کہ کیونکہ یہ چیزیں دعا کے ساتھ ساتھ نہیں چل رہیں ،اس کی تائید نہیں کر رہیں، اس لیے وہ دعا تو پھر ایک ظاہری دعا ہی ہوتی ہے۔ اس کی آنکھیں پُر نم نہیں ہوتیں۔ ان کا دل پگھل نہیں رہا ہوتا۔ دعا کرتے ہوئے تو آنکھیں پُرنم ہونی چاہئیں ۔دل پگھلنا چاہیے۔دماغ یکسو ہو کر خدا کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔جب ان کا سینہ جوش سے ابل نہیں رہا ہوتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی دعا اسی طرح ہوا میں اڑ جاتی ہے جس طرح گرد اڑ جاتی ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ آزاد اور آپؐ سے بڑھ کر زیادہ حُر کون ہوگا؟ مگر آپؐ کی نسبت آتا ہے کہ آپؐ جب دعا کرتے تھے تو بعض اوقات آپؐ کے سینے سے اس طرح آواز نکل رہی ہوتی تھی جس طرح کہ ہنڈیا ابل رہی ہے اور اس قدر روتے تھے کہ ریش مبارک تر ہو جاتی تھی۔

مگر بہت لوگ ہیں جو اپنی عادتوں کے مطابق خدا تعالیٰ سے بھی تکبر کرتے ہیں اور دعاؤں میں رونا ناپسند کرتے ہیں۔

(ماخوذ از سیرت النبی ﷺ ازحضرت مرزا بشیر الدین محموداحمد ؓجلد2 صفحہ 149)

نمازوں میں رقّت طاری ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے بھی انسان کو کوشش کرنی چاہیے۔ اسی کے لیے

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے ایک نسخہ یہ بھی بتایا ہے کہ اپنی شکل رونے جیسی بنا لو تو اسی ظاہری حالت سے بھی دل پہ اثر پڑتا ہے اور پھر انسان کا رونا بھی نکل جاتا ہے۔

(ملفوظات جلد 4 صفحہ 79۔ ایڈیشن 2022ء)

پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں ہمیں یہ فرمایا کہ میری عبادتوں کے یہ معیار ہیں اور مَیں شکرگزار ہوں۔ اللہ کا فضل مجھے بچائے گا اور اس فضل کو حاصل کرنے کے لیے مَیں عبادت بھی کرتا ہوں اور اللہ کی نعمتوں پر مَیں اس کی شکر گزاری بھی کرتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے ۔اگر مَیں شکرگزاری نہ کروں تو کیا پتہ اللہ تعالیٰ کیا سلوک کرے۔ پس

جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان بھی جو سب نیکوں کا سردار ہے اعمال سے مستغنی نہیں ہوتا تو اَور لوگ کس طرح مستغنی ہو سکتے ہیں ؟اَور لوگ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہم عمل سے مستغنی ہو گئے؟ ہمیں اعمال کی ضرورت نہیں ۔اللہ تعالیٰ بخش دے گا۔ یہ تو کافروں کے قول ہیں۔ مومن کے قول نہیں ہیں۔

(ماخوذ از سیرت النبی ﷺ ازحضرت مرزا بشیر الدین محموداحمدؓ جلد2 صفحہ 183)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذکر الٰہی بھی ایک سنت ہے۔

آپؐ ذکر الٰہی فرمایا کرتے تھے ۔اس بارے میں بھی ایک خطبہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے بیان کیا کہ اذکار میں سے ایک وہ ذکر ہے جو سوتے وقت کیا جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت آیت الکرسی، سورہ اخلاص، سورة الفلق اور سورة الناس جو قرآن کریم کی یہ تین آخری سورتیں ہیں تین دفعہ پڑھ کر ہاتھوں پر پھونکتے اور پھر ہاتھ اپنے جسم پر پھیرا کرتے تھے۔ آپؐ ہاتھوں پر پھونک کر ہاتھوں کو جسم پر اس طرح پھیرتے کہ سر سے شروع کرتے اور جہاں تک ہاتھ پہنچ سکتا وہاں تک پھیرتے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ جس کام کو آپؐ نے دینی کام سمجھ کر باقاعدہ اور ہمیشہ جاری رکھا اسے سنت کہتے ہیں۔

چونکہ یہ ذکر بھی آپؐ ہمیشہ کیا کرتے تھے۔ یعنی رات کو آیت الکرسی پڑھنا اور تینوں قُل پڑھنا اس لیے اس سنت کی پابندی بھی ہر مسلمان کو کرنی چاہیے بلکہ اسے اپنی زندگی کا ضروری حصہ بنانا چاہیے۔

پس

ذکر کو یہ خیال کر کے نہیں چھوڑنا چاہیے کہ یہ ایسا ضروری نہیں ہے جس کے نہ کرنے سے جہنم میں چلے جائیں گے۔اور نہ ہی یہ خیال کرنا چاہیے کہ صرف یہی ذکر جنت میں لے جانے کے لیے کافی ہے اور اس کے ساتھ اَور اعمال کی ضرورت نہیں۔

جو فرائض ہیں وہ بھی پورے کرنے پڑیں گے۔ بعض لوگ مجھے بھی خط لکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کوئی چھوٹی سی دعا بتائیں ،کوئی ذکر بتائیں جو ہم کرتے رہیں تاکہ ہمارے اندر نیکیاں بھی پیدا ہو جائیں، ہمارے گناہ بھی مِٹ جائیں ،ہمارے کام بھی ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل ہو جائے۔ تو پہلی بات تو عبادت ہے۔یعنی نمازیں جو فرض ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض کے بعد نوافل بھی ادا کیے۔ پس

نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے جو معیار ہیں وہ پہلے حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔اس کے بعد نوافل ہیں ۔پھر ذکر الٰہی ہے۔ ذکر انسان کو مزید نیکیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے ۔لیکن اس کے ساتھ دوسرے اخلاق اور اعمال بجا لانا بھی ضروری ہے ۔اعلیٰ اخلاق کا بھی انسان کو حامل ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے ،اپنے مسائل کے حل اور اپنی دعاؤں کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر عمل کیا جائے اور اس طرح کیا جائے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کر کے دکھایا۔ اس کی کوشش کی جائے اور اس مکمل سنت پر عمل کیا جائے۔

بہرحال ذکر کے بارے میں یہ خیال نہیں ہونا چاہیے کہ اس کو چھوڑنے سے جہنم میں چلے جائیں گے ،اور نہ یہ کہ صرف ذکر ہی جنت میں لے کے جائے گا ،یا اسی سے ہمارے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اعمال بہرحال ضروری ہیں اور فرائض بھی ضروری ہیں ۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان اپنی ترقیات کے لیے ان اذکار کا محتاج تھا تو ہم کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں ایسے اذکار کی ضرورت نہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت تھی کہ آپؐ ہمیشہ سوتے وقت آیت الکرسی اور تینوں قُل تین دفعہ پڑھتے تھے جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اور پھر ہاتھوں پر پھونک کر جسم پر پھیرا کرتے تھے۔

(ماخوذ از خطبات محمود، جلد11 صفحہ 19-21)

حضرت مصلح موعودؓ نے بعض اَور باتوں کی طرف بھی بڑی تفصیل سے توجہ دلائی ہوئی ہے۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ جو لوگ دین کے پیشوا ہوتے ہیں انہیں یہ بہت خیال ہوتا ہے کہ ہماری عبادتیں اور ذکر دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوں۔ بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو دین کے لیڈر ہوتے ہیں ، اپنے آپ کو علماء کہلاتے ہیں یا دینی تنظیموں کے سربراہ کہلاتے ہیں، وہ خیال کرتے ہیں کہ ہماری عبادتیں دوسروں سے زیادہ ہونی چاہئیں۔ اور پھر اس کے لیے خاص طور پر تصنع سے کام لیتے ہیں تا لوگ انہیں نیک سمجھیں۔ جو بڑے لیڈر ہیں ،سیاستدان وہ بھی اب تو یہی کرنے لگ گئے ہیں ہاتھوں میں ان کی تسبیحاں ہوتی ہیں۔ مسجد کے امام ہیں، کسی تنظیم کے عہدیدار ہیں وہ خود کو دنیا کے لیے نمونہ سمجھتے ہیں یا یہ احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم تمہارے لیے نمونہ ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا نمونہ ہے اس لیے بناوٹ سے کام لیتے ہیں اور ظاہری طور پہ ایسا کر رہے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی یہ چیزیں ہیں اور غیر مسلم لیڈروں میں بھی ہوتی ہیں۔ بعض قبائل کی روایتوں میں بھی یہ باتیں ملتی ہیں۔بہرحال اگر مسلمان ہیں تو ان کا اپنی حالت کو ظاہر کرنے کا یہ حال ہے کہ اگر وضو کرتے ہیں تو خاص اہتمام سے دیر تک اعضاء کو دھوتے رہتے ہیں اور یہاں تک کہتے ہیں کہ وضو کرتے ہوئے جو پانی کے قطرے گر رہے ہیں وہ بھی جسم پر نہیں پڑنے چاہئیں ۔اس سے بھی نجاست پیدا ہو جاتی ہے ۔سجدے اور رکوع بھی لمبے لمبے کرتے ہیں۔ اپنی شکل سے حالت خشوع و خضوع ظاہر کریں گے صرف دکھانے کے لیے۔ اگر تو اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہیں تو پھر اَور بات ہے لیکن یہ دنیا کو دکھانے کے لیے کر رہے ہوتے ہیں۔ لوگوں کے سامنے خوب وظائف پڑھیں گے ۔تسبیحیں ہاتھ میں ہوتی ہیں اور ظاہراً ذکر کر رہے ہوتے ہیں ۔مگر

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اس کے کہ سب سے اَتقٰی اور اَوْرَع تھے اور آپؐ کے برابر خشیت اللہ کوئی انسان پیدا نہیں کر سکتا مگر باوجود اس کے آپؐ ان سب باتوں میں سادہ تھے اور آپ کی زندگی بالکل ان تکلّفات سے پاک تھی۔

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بعض دفعہ نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور ارادہ کرتا ہوں کہ نماز کو لمبا کر دوں مگر کسی بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اپنی نماز کو اس خوف سے کہ کہیں میں بچے کی ماں کو مشقّت میں نہ ڈالوں نماز مختصر کر دیتا ہوں۔ کس سادگی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم بچے کی آواز سن کر نماز میں جلدی کر دیتے ہیں۔ آج کل کے صوفیاء تو ایسے قول کو شاید اپنی ہتک سمجھیں گے۔ وہ تو اس بات کے اظہار میں اپنا فخر سمجھتے ہیں کہ ہم نماز میں ایسے مست ہوتے ہیں کہ کچھ خبر نہیں رہی اور گو پاس ڈھول بھی بجتے رہیں تو ہمیں کچھ خیال نہیں آتا ۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان تکلّفات سے بری تھے ۔آپؐ کی عظمت خدا تعالیٰ کی دی ہوئی تھی نہ کہ انسانوں نے آپؐ کو معزز بنایا تھا۔ آپؐ کو انسانوں سے کچھ نہیں چاہیے تھا۔ آپؐ کو خدا تعالیٰ سے عظمت چاہیے تھی ۔اس لیے آپؐ ان باتوں سے بری تھے ۔یہ خیال وہی کر سکتے ہیں جو انسانوں کی عزت کو عزت دینے والا سمجھتے ہوں۔ یہ دکھاوا صرف انہی لوگوں کا ہو سکتا ہے جو انسان کو عزت دینے والا سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو عزت دینے والا سمجھنے والے جس طرح کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت قائم فرمائی اور اپنے عمل سے ظاہر فرمایا وہ کبھی ایسا خیال نہیں کر سکتے۔ ان میں تو سادگی ہوتی ہے اور ہونی چاہیے۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ سے یعنی حضرت انسؓ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوتوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے ؟اب ایک طرف عبادتیں ہیں اور معیار اچھے حاصل کرنے ہیں لیکن جہاں آسانی کی ضرورت ہے وہاں آسانی بھی ہے۔ جس طرح عصر کی نماز کے وقت کے بارے میں بتایا میں نے کہ ہر ایک پہلو سامنے رکھتے ہیں لیکن سامنے اصل حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت مد نظر ہو اور اس کی رضا حاصل کرنے کی طرف توجہ ہو۔ بہرحال ان سے سوال کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جوتوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ آپؐ پڑھ لیا کرتے تھے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کس طرح تکلّفات سے بچتے تھے۔ مسلمان جو ایمان اور اسلام سے ناواقف ہیں بلکہ اس کی تعلیم سے ناواقف ہیں اگر کسی کو اپنی جوتیوں سمیت نماز پڑھتے دیکھ لیں تو شور مچا دیں اور جب تک کوئی ان کے خیال کے مطابق کُل شرائط کو پورا نہ کرے وہ دیکھ بھی نہیں سکتے ۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہیں۔آپؐ کایہ طریق تھا کہ آپؐ واقعات کو دیکھتے تھے نہ تکلّفات کے پابند تھے۔ حال تو آج بھی یہی ہے۔ ہمارے ایک احمدی نے مجھے لکھا کہ کسی نے اُسے کہا کہ تم یہ کلمہ پڑھ رہے ہو یا تم نے فلاں بات کی ہے تو اس نے کہا تم تو نماز بھی نہیں پڑھتے ،نہ تمہیں نماز آتی ہے ،نہ تم نے قرآن پڑھا ہے ۔تمہیں کیا پتہ؟تمہیں اس چیز سے کیا تعلق؟ (تو وہ آگے سے)کہتا ہے آئے یا نہ آئے لیکن تم کیونکہ احمدی مرزائی ہو ،قادیانی ہو، اس لیے تم نے نماز نہیں پڑھنی اور نہ تمہیں آنی چاہیے۔ تو یہ آج کل بھی لوگوں کا حال ہے لیکن ہمارے مخالف ہیں خود ان کےعمل نہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے طہارت اور پاکیزگی شرط ہے اور یہ بات قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے۔ پس جو جوتی پاک ہو اور عام جگہوں پر جہاں نجاست کے لگنے کا خطرہ ہو پہن کر نہ گئے ہوں تو اس میں ضرورت کے وقت نماز پڑھنے میں کچھ حرج نہیں اور آپؐ نے ایسا کر کے امّت محمدیہ پر ایک بہت بڑا احسان کیا کہ انہیں آئندہ کے لیے تکلّفات اور بناوٹ سے بچا لیا۔ اس اسوۂ حسنہ سے ان لوگوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے جو آج کل ان باتوں پر جھگڑتے ہیں اور تکلّفات کے شیدا ہیں۔

جس فعل سے عظمت الٰہی اور تقویٰ میں فرق نہ آئے اس کے کرنے پر انسان کی بزرگی میں فرق نہیں آسکتا۔

(ماخوذ از آنحضرتﷺ کی سادہ زندگی، انوار العلوم جلد 12صفحہ517 – 519)

پھر اقامت صلوٰة ایک نہایت ہی ضروری چیز ہے۔ اور اس میں خود نماز پڑھنا ،دوسروں کو پڑھوانا اور اخلاص اور جوش کے ساتھ پڑھنا ۔باوضو ہو کر ٹھہر ٹھہر کر باجماعت اور پوری شرائط کے ساتھ نماز پڑھنا شامل ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ نماز خدا اور بندے کے درمیان ملاقات کا ایک ذریعہ ہوتی ہے۔ گویا اس کے ذریعے الوہیت کا وہ رنگ جو نبی کے واسطے سے اللہ تعالیٰ پیدا کرنا چاہتا ہے مومنوں پر چڑھ جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو جاتے ہیں۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باجماعت نماز کا اس قدر اہتمام فرماتے تھے

کہ ایک دفعہ آپؐ کے پاس ایک نابینا آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرا مکان مسجد سے بہت دُور ہے اور چونکہ مجھے مسجد پہنچنے میں سخت دقت پیش آتی ہے اس لیے اگر آپؐ اجازت دیں تو میں اپنے گھر میں ہی بارش کے دنوں میں نماز ادا کر لیا کروں۔ مدینہ میں کچے مکان تھے ۔بارشوں کی وجہ سے گلیوں میں پانی آ جاتا تھا اور مکانوں کی دیواروں کے ساتھ ساتھ چلنا پڑتا تھا لیکن وہاں دیواروں کو بارش کے پانی سے بچانے کے لیے یہ رواج تھا کہ دیواروں کے ساتھ پتھر لگایا کرتے تھے تاکہ بارش کا پانی دیواروں سے ٹکرا کر ان کچی دیواروں کو نقصان نہ پہنچائے۔ نابینا صحابی نے کہا کہ میں پانی کی وجہ سے راستے کے بیچ میں چل نہیں سکتا۔ کنارے پرچلوں تو مجھے نظر نہیں آتا اور وہاں پتھر چبھتے ہیں جس سے زخمی ہونے اور گرنے کا خطرہ ہے تو کیا میں گھر میں نماز ادا کر لیا کروں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے پڑھ لیا کرو ،کوئی حرج نہیں اگر تمہیں یہ مشکل پیش آتی ہے۔ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے فرمایا کہ ذرا اس کو واپس بلا کر لاؤ۔ جب واپس آئے تو آپؐ نے فرمایا کیا تمہارے گھر میں اذان کی آواز پہنچ جاتی ہے ؟انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہؐ! اذان کی آواز تو پہنچ جاتی ہے۔ تو آپؐ نے فرمایا

اگر اذان کی آواز تمہارے گھر پہنچ جاتی ہے تو مسجد میں آتے وقت چاہے ٹھوکریں لگیں یا زخمی ہو جاؤ مسجد میں تو پھر تمہیں ضرور آنا چاہیے۔

(ماخوذ از تفسیر کبیر، جلد10 صفحہ 23-25 ایڈیشن 2022ء)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیںمیں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اس میں پیدا ہو کر نشوونما پائیں گے اور وہ اَثمارِ شیریں اور طیب ان میں لگیں گے جو اُکُلُھَا دَائِمٌ (الرعد: 36) کے مصداق ہوں گے۔ یاد رکھو کہ یہ وہی مقام ہے جہاں صوفیوں کے سلوک کا خاتمہ ہے۔جب سالک یہاں پہنچتا ہے تو خدا ہی خدا کا جلوہ دیکھتا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ

حالت تعبد یعنی عبادت کی حالت کی درستگی کا نام اصل عبادت ہے۔

ایسی حالت جہاں اللہ تعالیٰ یاد رہے اس کی عبادت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ہی سامنے ہو وہ اصل عبادت ہے۔ آپؐ نے فرمایااِنَّنِیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ(ھود: 3)۔ میں تمہارے لیے اس کی طرف سے ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ چونکہ یہ تعبد، تعبد تام یعنی مکمل طور پر جو اللہ تعالیٰ کی خالص ہو کرعبادت کرنے کا کام ہے یہ بہت عظیم الشان کام ہے اور انسان کسی اسوۂ حسنہ اور کامل نمونے کے بغیر اسے نہیں کر سکتا ۔کسی قوّت قدسی کے کامل اثر کے بغیر وہ یہ نہیں کر سکتا ۔اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَیں اسی خدا کی طرف سے نذیر اور بشیر ہو کر آیا ہوں اگر میری اطاعت کرو گے اور مجھے قبول کرو گے تو تمہارے لیے بڑی بڑی بشارتیں ہیں کیونکہ میں بشیر ہوں اور اگر ردّ کرتے ہو تو یاد رکھو میں نذیر ہو کر آیا ہوں۔ پھر تم کو بڑی بڑی عقوبتوں اور دکھوں کا سامنا کرنا ہو گا۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد1 صفحہ 472-473۔ ایڈیشن 2022ء)

پس یہ وہ بات ہے جس کو ہمیں غور سے دیکھنا چاہیے۔

ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر چلتے ہوئے آپؐ کو جب مانا ہے تو آپؐ کو بشارتیں دینے والا مانا ہے ۔اور ان بشارتوں کو ہم تبھی حاصل کر سکتے ہیں جب ہم اپنی عبادت کے بھی حق ادا کرنے والے ہوں گے اور آپؐ کے اسوہ پر چلنے کے لیے اس معیار کو بھی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں گے۔ یاد رہے کہ کوشش کے لیے قربانی کرنی پڑتی ہے جہاد کرنا پڑتا ہے ۔

بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ پانچ نمازیں پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اگر ان سے پوچھو تو۔ تو یہ نفس کا دھوکاہے۔ اگر کوشش حقیقی ہو تو ایک فکر ہوتی ہے۔ پس

ہم میں سے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہماری یہ کوششیں حقیقی کوششیں ہیں بھی کہ نہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کیسی تھی ۔آپؐ غار حرا میں جہاں جنگلی جانور ،سانپوں اور چیتوں وغیرہ کا خطرہ تھا وہاں چلے جایا کرتے تھے۔ اس کا ذکر پہلے بیان ہو چکا ہے کہ وہاں آپؐ دعائیں مانگتے تھے ۔اس بات کو بیان کر کے آپؑ نے فرمایا کہ یہ قاعدہ ہے کہ جب ایک طرف کی کشش بہت بڑھ جاتی ہے تو دوسری طرف کا خوف دل سے دور ہو جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی محبت کی کشش بڑھ گئی اور اس کی عبادت کی طرف توجہ ہو گئی تو پھر دوسری دنیاوی چیزوں کا خوف دُور ہو جاتا ہے۔ آپؑ نے مثال دی ہے کہ بعض عورتیں جن کی طبیعت بہت ڈرنے والی ہوتی ہے دیکھا گیا ہے کہ کسی بچے کی بیماری کے وقت اندھیری راتوں میں ضرورتاً ایسی جگہ جاتی ہیں جہاں دن کو نکلنا ان کے واسطے دشوار ہے۔ فرماتے ہیں کہ

جب خوف الٰہی اور محبت غالب آتی ہے تو باقی تمام خوف اور محبتیں زائل ہو جاتی ہیں۔

ایسی دعا کے واسطے علیحدگی بھی ضروری ہے ۔اسی پورے تعلق کے ساتھ انوار ظاہر ہوتے ہیں اور ہر ایک تعلق ایک ستر کو چاہتا ہے ۔یعنی مخفی تعلق ہوتا ہے تبھی وہ ظاہر ہوگا۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد7صفحہ186۔ ایڈیشن 2022ء)

آپؑ فرماتے ہیں کہ

عبادت صرف خدا تعالیٰ کے لیے ہو۔ دکھاوے کے لیے نہ ہو

’’اطاعت، عبادت، خدمت میں اگر صبر سے کام لو تو خدا کبھی ضائع نہ کرے گا۔ اسلام میں ہزاروں ہوئے ہیں کہ لوگوں نے صرف ان کے نور سے ان کو شناخت کیا ہے ان کو مکاروں کی طرح بھگوے کپڑے یا لمبے چوغے اور خاص خاص متمیّز کرنے والے لباس کی ضرورت نہیں ہے اور نہ خدا کے راستبازوں نے ایسی وردیاں پہنی ہیں۔‘‘ کہ چوغے پہن کر پھر سمجھیں کہ بڑا فقیر ہے۔ بڑا صوفی ہے یا بڑا نیک ہے۔’’ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی خاص ایسا لباس نہ تھا جس سے آپ لوگوں میں متمیّز ہو سکتے بلکہ ایک دفعہ ایک شخص نے ابوبکرؓ  کو پیغمبر جان کر ان سے مصافحہ کیا اور تعظیم و تکریم کرنے لگا۔ آخر ابوبکرؓ اٹھ کر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو پنکھا جھلنے لگ گئے اور اپنے قول سے نہیں بلکہ فعل سے بتلا دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہیں۔ میں تو خادم ہوں۔ جب انسان خدا کی بندگی کرتا ہے تو اسے رنگ دار کپڑے پہننے، ایک خاص وضع بنانے اور مالا وغیرہ لٹکا کر چلنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ یعنی بنٹوں کے ہار گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ ہاتھوں میں لمبی لمبی تسبیحیں ہوتی ہیں’’ایسے لوگ دنیا کے کتّے ہوتے ہیں‘‘۔یہ تو دنیا والے ہیں خدا والے نہیں۔’’خدا کے طالبوں کو اتنی ہوش کہاں ہے کہ وہ خاص اہتمام پوشاک اور وردی کا کریں۔ وہ تو خلقت کی نظروں سے پوشیدہ رہنا چاہتے ہیں۔ بعض بعض کو خدا تعالیٰ اپنی مصلحت سے باہر کھینچ لاتا ہے( کہ اپنی الوہیت کا ثبوت دیوے۔)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز خواہش نہ تھی کہ لوگ آپ کو پیغمبر کہیں اور آپ کی اطاعت کریں اور اسی لیے ایک غار میں جو قبر سے زیادہ تنگ تھی جا کر آپ عبادت کیا کرتے تھے اور آپ کا ہرگز ارادہ نہ تھا کہ اس سے باہر آویں۔ آخر خدا نے اپنی مصلحت سے آپ کو خود باہر نکالا اور آپ کے ذریعے سے دنیا پر اپنے نور کو ظاہر کیا۔‘‘

(ملفوظات جلد6 صفحہ125-126 ایڈیشن 2022ء)

اللہ تعالیٰ ہمیں اس نور سے فیض پانے کی توفیق دے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حق ادا کرنے کی ہم توفیق پائیں اور آپ کے اسوۂ حسنہ کو اختیار کرنے کی توفیق عطا ہو اور اللہ تعالیٰ ہمیں آپ کے اسوۂ حسنہ پر چلنے کی اور حقیقی رنگ میں چلنے کی کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 30؍جنوری 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button