متفرق مضامین

چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۸)

(امۃ الباری ناصر)

۶۲۔نہاں دل میں تھا درد و سوز و نیاز

شریروں سے چھپ چھپ کے پڑھتا نماز

نہاں nehaaN: چھپا ہوا Hidden, concealed

سوز Soz: سوزش، جلن، تپش، جلنا، Burning pain

نیاز neyaaz: عاجزی، انکساری Supplication, humility

اس کے دل میں عشق الٰہی کا درد اور تپش تھی وہ اپنے معبود کے آگے عاجزی سے جھکا ہوا تھا۔ اسے نماز میں سکون ملتا تھا مگر اسے ڈر تھا کہ کوئی اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ نہ لے اس لیے وہ شر پسندوں سے چھپ کر نماز پڑھتا۔ اسے یقین تھا کہ وہ حق پر ہے مگر مجبوری تھی اس کے ارد گرد دوسرے مذہب کے لوگ تھے شر کا خطرہ تھا اس لیے مصلحت اسی میں تھی کہ ابھی ظاہر نہ کیا جائے۔

۶۳۔پھر آخر کو مارا صداقت نے جوش

تعشق سے جاتے رہے اس کے ہوش

صداقت sadaaqat: سچائی Truth

تعشق ta’ashshuq: عشق کی راہ سے Due to passionate love

وہ سچائی کو چھپا کے بیٹھا ہوا تھا مگر یہ بات اسے شاق گزر رہی تھی۔ سچ کو سب کے سامنے آنا چاہیے نتیجہ جو بھی ہو حق سب کو بتانا چاہیے اس جوش نے اس کے ہوش و حواس کو زائل کردیا۔ خدا اور اس کے پیغام سے عشق نے یہ کیفیت کردی جیسے سمجھ بوجھ باقی نہ رہی ہو۔

۶۴۔ہوا پھر تو حق کے چھپانے سے تنگ

محبت نے بڑھ بڑھ کے دکھلائے رنگ

یہ خیال ستانے لگا کہ سچائی کو چھپا کر میں نے اچھا نہیں کیا۔ وفور محبت سے اس کو کئی وسوسے آنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کہے گا میں نے تمہاری راہنمائی کی اور تم حق کو دبا کر بیٹھ گئے۔

۶۵۔کہا یہ تو مجھ سے ہوا اک گناہ

کہ پوشیدہ رکھی سچائی کی راہ

پوشیدہ posheedah: چھپا کے Hidden

یہ تو بہت بڑی غلطی ہوگئی بلکہ گناہ ہوگیا کہ سچائی کا راستہ دوسروں کو نہیں بتایا۔

۶۶۔یہ صدق و وفا سے بہت دور تھا

کہ غیروں کے خوفوں سے دل چور تھا

صدق و وفا sidq-o -wafaa: سچائی، راستی، حقTruth, sincerity, honesty

یہ بات سچائی اور وفا سے بہت دور تھی کہ اس کا دل غیروں سے خوفزدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہیں ہے۔

۶۷۔تصوّر سے اس بات کے ہو کے زار

کہا رو کے اے میرے پروردگار

تصوّر tasawwur: خیال concept conception , idea Thought

زار zaar: بری حالت Dejected, miserable

اس خیال نے اس کا برا حال کردیا۔ ا حساس گناہ سے نادم ہو کے رو رو کر اللہ تعالیٰ سے عرض کرنے لگا۔

۶۸۔ترے نام کا مجھ کو اقرار ہے

ترا نام غفّار و ستّار ہے

غفّار Ghaffar: بخشنے والا، عفو و درگزر کرنے والا، ڈھانپنے والا(خدا تعالیٰ کی صفت)۔ Most Forgiving Merciful – an attribute of God

ستّار Sattar: پردہ پوشی کرنے والا، ڈھانپنے والا (خدا تعالیٰ کی صفت) Concealor of human failings – an attribute of God

اے اللہ ! میں تیری سب صفات پر ایمان رکھتا ہوں تو گناہوں کو بخشنے والا ہے تو غلطیوں کی پردہ پوشی فرما نے والا ہے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: نمازِ تہجد عشق الٰہی کا سب سے حسین مظہر

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button