رمضان اور تنویر ِقلب
رمضان گذشتہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کل گیا تھا۔شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ (البقرۃ : ۱۸۶) بھی ایک فقرہ ہے جس سے ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔صوفیا نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر ِقلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے۔کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔صلوٰۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم (روزہ) تجلّی قلب کرتا ہے۔تزکیہ نفس سے مُراد یہ ہے کہ نفسِ اَمّارہ کی شہوات سے بُعد حاصل ہو جاوے اور تجلّی قلب سے یہ مُراد ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لیوے۔
(ملفوظات جلد۳ صفحہ۴۲۴، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
تیسری بات جو اسلام کارکن ہے وہ روزہ ہے۔روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جس ملک میں انسان جاتانہیں اورجس عالم سے واقف نہیں اس کے حالات کیا بیان کرے۔روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتاہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتاہے۔ انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتاہے اسی قدر تزکیہ نفس ہوتاہے اورکشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔ خدا تعالیٰ کا منشا اس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ۔ ہمیشہ روزہ دارکو یہ مدنظر رکھناچاہئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اسے چاہئے کہ خداتعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تا کہ تبتّل اور انقطاع حاصل ہو۔پس روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کی تسلی اور سیری کا باعث ہے اور جولوگ محض خدا کے لئے روزے رکھتے ہیں اورنرے رسم کے طورپر نہیں رکھتے انہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں جس سے دوسری غذا انہیں مل جاوے۔
(ملفوظات جلد۹صفحہ۱۲۲-۱۲۳، ایڈیشن ۱۹۸۴ء)
مزید پڑھیں: پیشگوئی مصلح موعود




