قانونِ خدا

(فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)
حاجتِ نُورے بود ہر چشم را
ایں چنیں اُفتاد قانون خدا
ہر آنکھ کو روشنی کی ضرورت ہے خدا کا قانون ایسا ہی ہے
چشمِ بینا بے خورِ تاباں کہ دید
کے چنیں چشمے خداوند آفرید
بغیر سورج دیکھنے والی آنکھ کس نے دیکھی؟ خدا نے ایسی آنکھ کب بنائی ؟
چوں تو خود قانونِ قدرت بشکنی
پس چرا بر دیگراں سر میزنی
جب تو خود ہی قانون قدرت کو توڑتا ہے۔تو پھر تو دوسروں پر کیوں اعتراض کرتا ہے؟
آنکه در هر کار شد حاجت روا
چوں روا داری که نبود رہنما
وہ خدا جس نے انسان کی ہر ضرورت کو پورا کیا، کیا وہ مذہب کے بارے میں تیری رہنمائی نہ کرتا ؟
آنکه اسپ و گاؤ، خر را آفرید
تا رہد پُشتِ تو از بارِ شدید
وہ جس نے گھوڑے، گائے اور گدھے کو پیدا کیا۔تا کہ تیری پیٹھ کو سخت بوجھ سے نجات دے
چوں ترا حیراں گذارد در معاد
اے عجب تو عاقل و ایں اعتقاد
وہ تجھ کو آخرت کے معاملہ میں کیوں پریشان چھوڑ دے تعجب ہے کہ عقلمند ہوکر تو یہ اعتقاد رکھتا ہے
چوں دو چشمت داده اند اے بیخبر
پس چرا پوشی یکے وقت نظر
اے بے خبر جب تجھے دو آنکھیں دی گئی ہیں۔پھر دیکھنے کے وقت ایک کو کیوں بند کر لیتا ہے
آنکه زو ہر قدرتے گشتہ عیاں
قدرت گفتار چوں ماندے نہاں
وہ ذات جس سے ہر قسم کی قدرت ظاہر ہوئی تو بولنے کی قوت کس طرح مخفی رہ سکتی تھی
آنکه شد ہر وصفِ پاکش جلوہ گر
پس چِرا ایں وصف ماندے مُستتر
وہ ہستی جس کی ہر پاک صفت ظاہر ہو گئی۔پھر اس کی یہ صفت کیونکر چھپی رہ سکتی تھی
هر که او غافل بود از یادِ دوست
چاره سازِ غفلتش پیغامِ اوست
ہر شخص جو خدا کی یاد سے غافل ہو۔تو خدا کا پیغام ہی اس کی غفلت کا چارہ ساز ہوتا ہے
تو عجب داری از پیغامِ خدائے
ایں چہ عقل و فکر تست اے خود نمائے
تو خدا کے پیغام پر تعجب کرتا ہے۔اے متکبر ! یہ تیری عقل اور سمجھ کیسی ہے
(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اول صفحہ۱۷۱-۱۷۲ بحوالہ درثمین فارسی مترجم صفحہ ۷۸-۷۹)
مزید پڑھیں: ضرورتِ الہام




