امریکہ (رپورٹس)

جماعت احمدیہ برکینا فاسو کے چونتیسویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۵ء کا بابرکت انعقاد

٭… ’’کل برکۃ من محمد‘‘ کے مرکزی موضوع پر منعقدہ جلسہ سالانہ میں پنجوقتہ نمازوں، دروس، تقاریر از علمائے سلسلہ، تربیتی و تبلیغی اجلاسات اور نمائش وغیرہ کا اہتمام

٭… جلسہ سالانہ قادیان ۲۰۲۵ء کے اختتامی اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعہ شمولیت ٭… ۶۱۴۱؍احباب کی شمولیت

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ برکینافاسو کا چونتیسواں جلسہ سالانہ ’’کل برکۃ من محمد‘‘ کے مرکزی موضوع پر مورخہ ۲۶تا۲۸؍دسمبر ۲۰۲۵ء بستان مہدی، واگادوگو میں منعقد ہوا۔ امسال مکرم عمر معاذ کولی بالی صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ مالی نے جلسہ میں بطور مرکزی نمائندہ شرکت کی۔

وفود کی آمد:جلسہ میں شمولیت کے ليے ملک بھر سے احباب جماعت قافلہ در قافلہ ایک دن قبل روانہ ہوئے اور رات گئے تک ان وفود کی جلسہ گاہ میں آمد ہوتی رہی۔ بعض قافلے جمعہ کی صبح پہنچے۔ یہاں جلسہ میں شمولیت کے ليے بسیں کرائے پر لی جاتی ہیں۔ ان بسوں پر جلسہ کے بینرز لگانا، ریجن سے روانگی سے پہلے جمع ہونا، کھانا کھلانا اور اجتماعی دعا کے بعد نعروں اور لاالٰہ الا للّٰہ کی صداؤں کے ساتھ روانہ ہونا بہت روح پرور نظارہ ہوتا ہے۔ اسی طرح جلسہ گاہ میں ان وفود کا استقبال اور انہیں رہائش گاہوں تک لے جانا، ربوہ کے جلسوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔

جائزہ انتظامات جلسہ:مورخہ ۲۵؍دسمبر شام پانچ بجے مکرم مہمان خصوصی نے مکرم کابورے سلیمان صاحب قائم مقام امیر جماعت برکینافاسو، افسر جلسہ سالانہ، صدر مجلس خدام الاحمدیہ قائم مقام مبلغ انچارج اور دیگر عہدیداران کی معیت میں جلسہ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔

پہلا روز:صبح سوا چار بجے نماز تہجد سے دن کا آغاز ہوا۔ نماز تہجد حافظ عطاء النعیم صاحب مبلغ سلسلہ نے پڑھائی۔ بعد از نماز فجر ’’چندہ کی برکات‘‘ کے موضوع پر حافظ محمد بلال طارق صاحب مبلغ سلسلہ نے درس دیا۔

تقریب پرچم کشائی:صبح سوا نو بجے تقریب پرچم کشائی منعقد ہوئی۔ مکرم مہمان خصوصی اور نمائندہ مرکز نے لوائے احمدیت لہرایا جبکہ برکینافاسو کا جھنڈا مکرم قائم مقام امیر صاحب نے بلند کیا۔ ملکی قواعد کے مطابق ا س موقع پر قومی ترانہ بھی پڑھا گیا۔ مہمان خصوصی نے اجتماعی دعا کروائی۔

دوپہر ایک بجےشاملین جلسہ نے جلسہ گاہ میں بیٹھ کر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ مواصلاتی رابطے کے ذریعہ براہ راست سنا۔ اس کے ليے احباب جماعت ساڑھے بارہ بجے سے ہی جلسہ گاہ میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ خطبہ سنانے کے ليے بڑی سکرین کا انتظام کیا گیا تھا۔ بعدازاں مکرم مہمان خصوصی نے مقامی نماز جمعہ پڑھائی۔ آپ نے خطبہ جمعہ میں سیرت النبی ﷺ کے واقعات بیان کيے۔

معزز مہمانوں کی آمد:سہ پہر تین بجے معزز مہمانان تشریف لانا شروع ہوگئے جن میں روایتی مقامی چیفس، حکومتی نمائندگان پروفیسرز، ڈاکٹرز اور دیگر معززین شامل تھے۔ مہمانوں کا استقبال قائم مقام امیر صاحب اور قائم مقام مبلغ انچارج مکرم حافظ منظور احمد صاحب اور جلسہ کی انتظامیہ نے کیا۔

افتتاحی اجلاس:شام پونے چار بجے پہلے اجلاس کی کارروائی بصدارت مرکزی نمائندہ تلاوت قرآن کریم اور نظم سے شروع ہوئی۔ مہمان خصوصی نے جلسہ کے مرکزی موضوع پر افتتاحی تقریر کی۔ تقریر کا ترجمہ مقامی زبان میں کیاگیا۔ پھر آپ نے دعا کروائی۔ اس کے بعد قائم مقام امیر جماعت برکینافاسو نے ’’حب الوطن من الایمان‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ پھر معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا اور وقت کی رعایت سے چند ایک کو اپنے تاثرات پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ وزیر پرائمری تعلیم و نیشنل زبانوں کی ترویج کے نمائندہ نے جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر سے بڑی تعداد میں شرکاء کی موجودگی جماعت کی مضبوط تربیت و تنظیم کا ثبوت ہے۔

لیو ریجن کے مقامی روایتی چیف نے کہا کہ چونکہ انسان کا امیر یا غریب اور کسی قبیلہ یا برادری میں پیدا ہونا اس کی اپنی مرضی نہیں، اس لیے ہمیں تفریق چھوڑ کر باہمی محبت کے ساتھ ایک دوسرے کی مدد اور مسائل کا حل کرنا چاہیے۔

بستان مہدی کے علاقے کے چیف نے کہا کہ ان کے والد نے تین دہائیاں قبل تحقیق کے بعد یہ زمین جماعت احمدیہ کو اس لیے دی تھی کہ وہ ایک پرامن اور محب وطن جماعت ہے۔

اجلاس کے اختتام پر معزز مہمانان جلسہ گاہ سے باہر تشریف لائے اور مقامی میڈیا سے گفتگو کی۔

شام ساڑھے چھ بجے مغرب و عشاء کی نمازیں جلسہ گاہ میں ادا کی گئیں جس کے بعد تمام شاملین کی کھانے سے تواضع کی گئی۔

اجلاس شبینہ:رات نو بجے شبینہ اجلاسات کی کارروائی شروع ہوئی۔ امسال پانچ مختلف زبانوں (مورے، جولا، بیسا، فل فل دے اور انگریزی) میں الگ الگ مقامات پر یہ اجلاسات ہوئے۔ ان اجلاسات میں تقاریر کے بعد سوال و جواب بھی ہوئے۔

جلسہ سالانہ کے پہلے دن کے اختتام پر رات نو بجے تین خصوصی اجلاسات منعقد ہوئے جن میں احمدی طلبہ و طالبات کی تنظیم FEEMAB کا اجلاس، احمدی اساتذہ و پروفیسرز کی میٹنگ جس کا مقصد باہمی تعارف اور تعلیمی تعاون کو فروغ دینا تھا اور احمدی ڈاکٹرز، شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات اور شعبہ صحت سے وابستہ افراد کا اجلاس شامل تھا۔ ان اجلاسات کے ساتھ پہلے دن کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔

دوسرا روز:دن کا آغازصبح سوا چار بجے نماز تہجد کی ادائیگی سے ہوا جو حافظ جیا ؤ مسرور صاحب نے پڑھائی۔ نماز تہجد میں کثیر تعداد میں احباب وخواتین نے شرکت کی۔

نماز فجرکے بعد ’’اسلام میں صفائی کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر درس ڈاکٹر سعود ناصر صاحب نے پیش کیا۔ پروگرام کے مطابق جلسہ سالانہ کے موقع پر تقریب آمین مہمان خصوصی صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں کل ۲۲؍اطفال و خدام اور ۲۵؍ممبرات لجنہ اماءاللہ و ناصرات کی آمین ہوئی اور تمام شاملین کو اسناد دی گئیں۔

دوسرے دن کا پہلا اجلاس:دوسرے روز کا پہلا اجلاس صبح سوا نو بجے صبح حافظ منظور احمد صاحب قائم مقام مبلغ انچارج کی زیر صدارت شروع ہوا۔ تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’صداقت حضرت مسیح موعودؑ‘‘ از مکرم سانیو منیر صاحب استاذ جامعۃ المبشرین برکینا فاسو، ’’سوشل میڈیا کے درست استعمال‘‘ از مکرم جیالو عبدالرحمٰن صاحب چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ برکینافاسو اور ایک نظم کے بعد ’’امن کے بارے میں اسلامی تعلیمات‘‘ از مکرم مائیگا تیجان صاحب لوکل مبلغ سلسلہ۔ اس کے ساتھ اجلاس کی کارروائی ختم ہوگئی۔

اجلاس مستورات:دو بجے نماز ظہر و عصر کی ادئیگی کےبعد مستورات کے اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں تلاوت و نظم کے بعد’’ذہنی اور جسمانی صفائی کا کیسے خیال رکھا جائے‘‘ اور ’’دیانت اور وقار ایک احمدی عورت کی پہچان‘‘ کے موضوعات پر تقاریر ہوئیں۔ تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی بارہ ممبرات لجنہ اماءاللہ کو تعلیمی اسناد دی گئیں۔ اس کے بعد چند مہمان خواتین نے اپنے تاثرات پیش کيے۔ آخر پر صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ برکینا فاسو نے اختتامی تقریر کی اور دعاکروائی۔

جلسہ کا تیسرا اجلاس:شام چار بج کر دس منٹ پر جلسہ کا تیسرا ا جلاس بصدارت مکرم کابورے سلیمان صاحب قائم مقام امیرجماعت احمدیہ برکینا فاسو شروع ہوا۔ تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد مکرم ناصر سدھو صاحب مبلغ سلسلہ نے ’’برکات قرآن مجید‘‘ پر تقریر کی۔ دوسری تقریر مکرم حسن جنگانی صاحب مبلغ سلسلہ نے ’’اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حقیقی تصور جہاد‘‘ کے موضوع پر کی۔

فورم:جلسہ کے موقع پر مذہبی ہم آہنگی کے قیام کے ليے ایک فورم منعقد کیا جاتا ہے جس میں متفرق مذاہب کے نمائندگان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی تعلیمات کے مطابق دیے گئے موضوع پر روشنی ڈالیں۔ امسال ’’معاشرے میں قیام امن کس طرح کیا جائے‘‘ کا موضوع رکھا گیا تھا۔ اس موقع پر جماعت کے نمائندہ کے علاو ہ تین دیگر نمائندگان نے شرکت کی اور اپنے اپنے عقائد کے لحاظ سے تعلیمات پیش کیں۔ یہ اجلاس رات ساڑھے نو بجے مسرور آئی انسٹیٹیوٹ کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا۔

اس کے ساتھ جلسہ کے دوسرے روز کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔

تیسرا روز:دن کا آغازصبح سوا چار بجے نماز تہجد کی ادائیگی سے ہوا جو حافظ اچیدے سلام صاحب استاذ جامعۃ المبشرین برکینافاسو نے پڑھائی۔ نماز فجر سے پہلے دوران سال وفات پا جانے والے مرحومین کے نام دعا کی غرض سے پڑھے گئے۔ پھر نماز فجر کے بعد ’’قرض کے متعلق اسلامی تعلیمات‘‘ کے موضوع پر درس مکرم گیمینوں ناصر صاحب سیکرٹری مال برکینا فاسو نے پیش کیا۔

اختتامی اجلاس: اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ برکینافاسو کو جلسہ سالانہ قادیان ۲۰۲۵ء کے اختتامی اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعہ ایم ٹی اے کی نشریات کے ساتھ شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ مقامی طور پر جلسہ کا اختتامی اجلاس بصدارت نمائندہ مرکز مکرم عمر معاذ کولی بالی صاحب صبح نو بج کر دس منٹ پر شروع ہوا۔ تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد مہمان خصوصی نے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے احباب کو تعلیمی اسناد دیں۔ پھر بعض مہمانوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

مہمان خصوصی نے اپنے اختتامی کلمات میں عبادات میں لذت پیدا کرنے، اللہ تعالیٰ سے ذاتی تعلق پیدا کرنے اور اپنے جائزے لیتے رہنے کی طرف توجہ دلائی۔

جلسہ قادیان میں براہ راست شرکت:جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطاب براہ راست سننے کے ليے مردانہ اور زنانہ جلسہ گاہ دونوں طرف بڑی سکرین کا انتظام کیا گیا تھا۔ احباب جماعت نے نظم و ضبط سے بیٹھ کر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب سنا۔ خطاب کے بعد اختتامی دعا کے ساتھ ہی برکینا فاسو کا ۳۴واں جلسہ سالانہ اپنے اختتام کو پہنچا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے تشریف لے جانے کے بعد جلسہ گاہ برکینافاسو میں احبا ب نے جوش و جذبہ کے ساتھ نظمیں اور ترانے پڑھے۔ مکرم عمر معاذ صاحب نےاپنے خاص انداز سے ’’انی معک یا مسرور‘‘ والا ترانہ پیش کیا۔ تمام شاملین جلسہ ہاتھ اٹھا کر اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی جلسہ ختم ہوا اور احبا ب اپنے اپنے علاقوں کی جانب روانہ ہوگئے۔

مہمان خصوصی کے ساتھ تصاویر:جلسہ برکینافاسو کی ایک روایت بن گئی ہے کہ جلسہ کے آخری دن تمام مرکزی و لوکل مبلغین کا ایک گروپ فوٹو بنایا جاتا ہے۔ اس سال بھی سٹیج پر مہمان خصوصی کے ساتھ یہ گروپ فوٹو بنایا گیا۔ اسی طرح نیشنل مجلس عاملہ اور بعض دیگر شعبہ جات نے گروپ فوٹوز بنائے۔

مقامی چیفس اور دیگر معززین میں جلسہ کی شرکت:ملک بھر سے سرکاری و غیر سرکاری عہدیداران، وزراء کے نمائندگان، ڈاکٹرز، ہائی کمشنر لیو، سپورٹس اینڈ نوجوانوں کے ڈائریکٹر کمبسری اور دیگرمعززین جلسہ میں شامل ہوئے۔ لیو کے علاقے سے ایک بڑے چیف اپنے بھر پور وفد کے ساتھ جلسہ میں شامل ہوئے۔ ایک مقامی چیف خاص طور پر تشریف لائے اور اپنے تاثرات میں بیان کیا کہ وہ جلسہ میں جماعت احمدیہ کے پیغام اور تعلیمات سے بہت متاثر ہیں۔

حاضری :برکینافاسو میں دہشت گردی کی وجہ سے بہت سے علاقوں سے سفر کرنا ممکن نہیں۔ اس ليے تمام ریجنز سے نمائندگی نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ ڈوری ریجن سے احباب جلسہ میں شامل ہونے کےليے نہیں آسکے۔ ڈوری میں ویڈیو لنک کے ذریعہ تینوں دن جلسہ کی کارروائی دیکھی اور سنی جاتی رہی۔ مجموعی طور پر ڈوری میں ۷۰۰؍سے زائد افراد جلسہ میں آن لائن شامل ہوئے۔ ملکی حالات خراب ہونے کے باوجود احباب بہت قربانی کرکے جلسہ میں شامل ہوئے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال جلسہ کی حاضری ۶۱۴۱؍رہی۔ اس میں ڈوری ریجن کے احباب شامل نہیں ہیں۔

جلسہ کے اختتام پر احباب جماعت وفود کی شکل میں واپس اپنےاپنے علاقوں کی طرف روانہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام قافلے خیریت سے واپس پہنچ گئے۔

اللہ تعالیٰ اس جلسہ کی برکات سے ساری جماعت کو مستفید فرمائے اور جلسہ ترقیات طے کرتا رہے۔

نمائش :جلسہ کے موقع پر نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ آنے والے مہمان اوراحمدی احباب اس نمائش کا دورہ کرتے اور جماعتی لٹریچر سے واقفیت حاصل کرتے۔ نمائش میں قرآن مجید کے تراجم، اور دیگر لٹریچر سلیقہ سے رکھا گیا اسی طرح اہم مواقع کی تصاویر بھی نمائش کا حصہ تھیں۔ نمائش میں ٹی وی کے ذریعہ جماعت برکینا فاسو کی ایم ٹی اے نیوز میں آنے والی خبریں بھی چلائی جا تی رہیں۔

ریڈیو جلسہ:جلسہ کے موقع پر بستان مہدی میں ایف ایم ریڈیو کی انسٹالیشن کی جاتی ہے۔ دوران جلسہ مختلف مقامات اور ڈیوٹیوں پر موجود کارکنان بھی ریڈیو کے ذریعہ جلسہ کی کارروائی سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ اس ریڈیو کی نشریات تقریباً ۲۰؍کلومیٹرز تک سنی جا سکتی ہیں۔

سوشل میڈیا:شعبہ سوشل میڈیا نے جلسہ کی مکمل کارروائی براہ راست سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نشر کی جس میں ایکس، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک وغیر ہ شامل ہیں۔ مجموعی طور پر ان تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمزپر سات لاکھ تیس ہزار ۹۱۹؍لوگوں نے جلسہ کے تعارفی اشتہارات اور کارروائی دیکھی۔

نیشنل میڈیا پر خبریں:نیشنل ٹی وی چینل RTBکے علاوہ BF1اور ٹی وی چینل 3 TV نے اپنے نیوز بلیٹن میں جلسہ سالانہ کی تفصیلی خبریں نشر کیں۔ اسی طرح مقامی آن لائن اخبارات نے بھی جلسہ کو کوریج دی۔

(رپورٹ:چودھری نعیم احمد باجوہ۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: برازیل میں جماعت احمدیہ کے مرکز میں نئے سال ۲۰۲۶ء کی استقبالیہ تقریب کا انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button