احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح
محترم سیدعبدالحٔی شاہ صاحب نے خودبتایا کہ خلافت رابعہ کے آغازمیں حضورؒ نے مجھے طلب فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ براہین احمدیہ کواس طرح شائع کیاجائے کہ متن ایک ساتھ اکٹھا ہواوراس کے بعد ترتیب سے حواشی مسلسل ہوں
باب یازدہم:
براہین احمدیہ کے ایڈیشن اورتراجم
براہین احمدیہ کی اشاعت کی باقاعدہ تیاری ۱۸۷۸ء میں شروع ہوئی۔ جیساکہ لائف آف احمدکے مصنف اپنی انگریزی تصنیف کے صفحہ ۷۱ کے حاشیہ پر لکھتے ہیں:
Ahmad had arranged with Rajab Ali in 1878 to have the book printed at his press, the Safeer Hind, Amritsar
پہلادوسرااور تیسرا حصہ غالباً ۷۰۰ کی تعداد میں شائع ہوا۔ اورچوتھا حصہ ایک ہزارکی تعداد میں شائع کرنے کاارادہ تھا۔ جیساکہ حضرت اقدس ؑ ایک خط میں تحریرفرماتے ہیں کہ ’’کتاب سات سوجلدچھپی ہے۔ لیکن اب میں نے تجویزکی ہے کہ ہزارجلدچھپے تو بہتر۔ ‘‘(مکتوبات احمدؑ جلداول صفحہ ۵۳۸ مکتوب بنام میرعباس علی صاحب مکتوب نمبر ۲۰مرقومہ ۲۱ جون ۱۸۸۳ء)
براہین احمدیہ حصہ چہارم دوطرح کے کاغذپرطبع ہوئی۔ کچھ حنائی کاغذ پر اورکچھ سفیدکاغذ پر۔ (مکتوبات احمدؑ جلددوم صفحہ۴۷۶ مکتوب بنام منشی رستم علی صاحب مکتوب نمبر ۳۰ مرقومہ ۱۱ مارچ ۱۸۸۶ء)
اس سے قیاس کیاجاسکتاہے کہ شاید پہلے حصص بھی ایسے ہی طبع ہوئے ہوں۔
بہرحال براہین احمدیہ کا پہلا حصہ جو کہ ۸۲ صفحات پرمشتمل تھا ۱۸۸۰ء میں اوردوسرا حصہ جو کہ ۵۶ صفحات (ایڈیشن اول) پرمشتمل تھا وہ بھی ۱۸۸۰ء میں شائع ہوا اور اس کا تیسراحصہ ۱۸۸۲ء میں شائع ہواجوکہ ۱۵۰صفحات پرمشتمل تھا۔ اور چوتھاحصہ ۱۸۸۴ء میں شائع ہواجوکہ ۳۹۰ کے قریب صفحات پرمشتمل تھا۔
صفحات کی تعداد کے بارہ میں یہ واضح ہوکہ ایڈیشن اول کے براہین احمدیہ کے صفحات کی تعداد ۵۶۲ ہے جوکہ موجودہ روحانی خزائن کے صفحات کے حاشیہ پرلکھے ہوئے ہیں۔ البتہ ان کے علاوہ بھی کچھ صفحات اس کے اندرہیں جوکہ تعداد میں ۲۸کے قریب ہیں اور یوں ۵۸۰صفحات بن جاتے ہیں جوکہ روحانی خزائن کی جلداول کے کل ۶۷۳صفحات ہیں۔
بعض تحریرات سے معلوم ہوتاہے کہ یہ ایڈیشن جلدہی ختم ہوگیاتھا اور پھر ایک دوسرا ایڈیشن شائع کیاگیا۔ جوکہ ۱۹۰۰ء میں شائع ہوا اور تیسراایڈیشن ۱۹۰۵ء میں شائع ہوا۔ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد ۱صفحہ۱۳۴حاشیہ)
ایک اور ایڈیشن حضرت اقدسؑ کی اجازت سے ۱۹۰۶ء میں حضرت میاں معراج الدین عمرصاحبؓ نے شائع کروایا۔ اوریوں کم ازکم چار ایڈیشن حضرت اقدس علیہ السلام کے عہدمبارک میں شائع ہوئے۔
ایڈیشن اول یعنی سب سے پہلے ایڈیشن کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ صفحہ ۲۲ پر لفظ تحریر،اشاعت کے بعد حضورؑ نے اپنے دست مبارک سے لکھاایساہی صفحہ ۴۸ پر یہی دلائل کے بعد اس دلیل کے الفاظ اور صفحہ ۸۰ پر جزوی دلائل کوکے بعد لفظ بھی،حضورعلیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے لکھاہواہے۔
انگریزی تراجم
خاکسارکے علم کے مطابق ابھی تک براہین احمدیہ کا انگریزی اورعربی میں ترجمہ شائع ہواہے۔ انگریزی میں ایک ترجمہ ۱۹۵۵ء میں انجمن اشاعت اسلام لاہورکی طرف سے شائع ہوا۔ دسمبر۱۹۵۵ء میں جدیداردوپریس ۳۹چیمبرلین روڈپریس لاہورسے یہ کتاب ۲۰۰۰ کی تعدادمیں شائع ہوئی۔ اس کے ٹائٹل پیج پرلکھاہواہے۔
BRAHIN- I -AHMADIYYA
BY MIRZA GHULAM AHMAD
TRANSLATED BY
MIRZA MASUM BEG, B.A
لیکن اصل میں یہ ترجمہ نہیں ہے۔ بلکہ انگریزی دان طبقہ کے لیے براہین احمدیہ کے مضامین کاتعارف اور خلاصہ ہے۔ جوکہ ۱۱۵صفحات پرمشتمل ہے۔
اس پہلوسے جماعت احمدیہ کوہی یہ سعادت اورتوفیق ملی کہ خلافت خامسہ کے عہدمبارک میں اس کتاب کااردوٹیکسٹ سے انگریزی ترجمہ شائع کیاجائے۔
جیساکہ اس کے پیش لفظ سے جوکہ وکیل التصنیف محترم چودھری محمدعلی صاحب اور ایڈیشنل وکیل التصنیف یوکے نے رقم فرمایاہے معلوم ہوتاہےکہ براہین احمدیہ کے حصہ اول اور دوم کا انگریزی ترجمہ یو کے سے ۲۰۱۲ء میں شائع ہوا۔ جوکہ ۱۵۷صفحات پرمشتمل تھا۔ اوربراہین احمدیہ کے تیسرے حصہ کا ترجمہ جس میں کہ کچھ صفحات چوتھے حصہ کے بھی شامل کیے گئے ہیں ۲۰۱۴ء میں لندن سے شائع ہواہے۔ یہ ترجمہ براہ راست حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی راہنمائی میں اور ہدایات کے مطابق پایۂ تکمیل کوپہنچا۔ اوراس تاریخی کام کی نگرانی محترم چودھری محمدعلی صاحب اور لندن میں محترم منیرالدین شمس صاحب فرماتے رہے۔ ان کے ساتھ مترجمین اور نظرثانی کرنے کے لیے جودیگرممبران تھے ان کے نام بھی کتاب کے شروع میں دیے گئے ہیں۔ جوکہ درج ذیل ہیں۔
صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب ایم اے M. Litt, Oxon وکالت تصنیف، مکرم راجہ عطاءالمنان صاحب، مکرم ذوالقرنین بھروانہ صاحب، مکرم مرزا عثمان احمد صاحب، مکرم سید تنویر مجتبیٰ صاحب،مکرم طاہر محمود مبشر صاحب، مکرم احمد مستنصر قمر صاحب اورمکرم ڈاکٹرمحمد شفیق سہگل صاحب نائب وکیل التصنیف اور ترکی سے سید عتیق احمد صاحب۔ اس کتاب کے ترجمہ کی مزید نظر ثانی ایڈیشنل وکالت تصنیف( برائے ترجمہ انگریزی) نے کی جس کے صدر مکرم منور احمد سعید صاحب تھے اور ان کی معاونت مکرم عبدالوہاب مرزا صاحب، مکرم خرم متین خان صاحب، مکرم نوید احمد ملک صاحب،مکرم سلمان محمد ساجد صاحب، مکرمہ عظمیٰ احمد صاحبہ اور مکرم عثمان ناصر چودھری صاحب نے کی۔ نظر ثانی کے دوران حضورعلیہ السلام کی تحریر کےمتن کا انگلش ترجمہ کے ساتھ موازنہ کیا گیا اور مزید تفصیلی جائزہ مکرم منیر الدین شمس صاحب کی نگرانی میں تیار کیا گیا جس کو بعد میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آخری شکل دی۔
محترم منیرالدین شمس صاحب ایڈیشنل وکیل التصنیف لندن اپنے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ فائنل نظر ثانی شدہ مسودہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کام میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اس کام کے لیے اپنا قیمتی وقت دیا اورترجمہ کے سلسلہ میں اٹھنے والے بہت سے سوالات کے متعلق راہنمائی فرمائی۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو اس بارے میں بہت فکر تھی کہ ترجمہ جس حد تک ممکن ہو اصل متن کے مطابق ہی ہو اس سلسلہ میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فارسی نظموں کے ترجمہ میں ذاتی طور پر دلچسپی لیتے ہوئے خاص طور پر راہنمائی فرمائی۔ اسی طرح خاکسار نے اس سلسلہ میں وقتاً فوقتاً عریبک ڈیسک (لندن)،پرشین ڈیسک(لندن)، ریسرچ سیل، شعبہ تصنیف ربوہ اور شعبہ اشاعت قادیان سے بھی مدد حاصل کی۔
تیسراحصہ جوکہ ۲۰۱۴ء میں شائع ہوا۔ وکالت تصنیف ربوہ میں براہین احمدیہ حصہ سوم کا ترجمہ مکرم راجہ عطاء المنان صاحب نے کیا ہے اور اس کی نظر ثانی مکرم ذوالقرنین بھروانہ صاحب نے مکرم کاشف عمران صاحب کی مدد سے کی ہے۔ مکرم چودھری محمد علی صاحب وکیل التصنیف ربوہ مسلسل ترجمہ کے کام سے منسلک رہے۔ ایک الگ ترجمہ صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب ایم اے M.Litt, Oxon نے بھی کیاہے۔ مترجمین نے پہلے سے ترجمہ شدہ کتاب The Essence Of Islam (ترجمہ شدہ حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب )کے طرز اسلوب کو مدنظر رکھ کر ترجمہ کیا۔
براہین احمدیہ حصہ سوم کے ترجمہ کی نظر ثانی ایڈیشنل وکالت تصنیف نے انگلش ٹرانسلیشن سیکشن امریکہ (جس کے صدر مکرم منور احمد سعید صاحب ہیں ) کی مدد سے کی ہے۔ منیر الدین شمس صاحب نے ان مسودات کو پڑھ کر مکرم عبدالوہاب مرزا صاحب اور خرم متین خان صاحب کے ساتھ مل کر مزید تبدیلیاں کیں اور متعلقہ سوالات اور حوالہ جات کے استفسارات کے سلسلہ میں وقتاً فوقتاً عریبک ڈیسک (لندن)،پرشین ڈیسک(لندن)، ریسرچ سیل، وکالت تصنیف،نظارت اشاعت اور نظارت نشرو اشاعت قادیان سے بھی مدد حاصل کی گئی۔ نظر ثانی کے جائزہ کے لیے منور احمد سعید صاحب نے کام کیا اور ان کی معاونت مکرم عبدالوہاب مرزا صاحب، مکرم خرم متین خان صاحب، مکرم نوید احمد ملک صاحب، مکرم سلمان محمد ساجد صاحب، مکرمہ رشیدہ کلیم رانا صاحبہ،مکرم نصیر الدین شمس صاحب، مکرم طارق امجد فوزان پال صاحب، بلال احمد رانا صاحب نے کی۔ اسی طرح مکرم ایاز محمود خان صاحب اور مکرم عبد القدوس عارف صاحب بھی شکریہ کے مستحق ہیں۔
اس انگریزی ترجمہ میں بھی متن اورحواشی کوالگ کیاگیاہے۔ تاکہ قاری کاتسلسل نہ ٹوٹنے پائے جیساکہ عربی ترجمہ میں کیاگیاہے۔
عربی ترجمہ
عربی ترجمہ ۲۰۱۳ء الشرکۃ الاسلامیہ لندن کے زیراہتمام CPI Group UK Ltd, Croydon ,CR 0 4YY میں طبع ہوا۔ اس کا ISBN:978 -1-84880-431-9 ہے۔ محترم عبدالمجیدعامرصاحب نے یہ ترجمہ کیاہے۔
اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ ہے جوکہ ترجمہ کی براہ راست تو نہیں بلکہ سیٹنگ کی کہنی چاہیے وہ یہ کہ براہین احمدیہ اردومیں کتاب کے متن کے ساتھ ساتھ حواشی کاسلسلہ بھی چلتاہے۔ جوبعض جگہوں پربیک وقت متن کے دودوحاشیے چل رہے ہیں اور متن کی ایک سطر ہی ساتھ چل رہی ہوتی ہے اوریوں ایک عام قاری کے لئے تسلسل قائم رکھناقدرے مشکل ہوجاتاہے۔ براہین احمدیہ کےعربی ترجمہ میں اس امرکااہتمام کیا گیاہے کہ متن سارا اکٹھا کردیاگیاہے اوراس کے بعد علی الترتیب حواشی رکھے گئے ہیں۔
یہ ساری ترتیب دیکھ کرخاکسارکویادآیاکہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی بھی خواہش تھی کہ اس ترتیب سے براہین احمدیہ کوشائع کرناچاہیے۔ چنانچہ خاکسارکو محترم سیدعبدالحٔی شاہ صاحب نے خودبتایا کہ خلافت رابعہ کے آغازمیں حضورؒ نے مجھے طلب فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ براہین احمدیہ کواس طرح شائع کیاجائے کہ متن ایک ساتھ اکٹھا ہواوراس کے بعد ترتیب سے حواشی مسلسل ہوں۔ اورفرمایا کہ پہلے کچھ مسودے جس کوڈمی Dummy کہاجاتاہے وہ تیارکرکے توچندبزرگان سلسلہ اور علماء کودکھاکررائے لے لی جائے۔ لیکن فرمایا کہ میری خواہش کاکوئی عندیہ نہ دیاجائے۔ محترم شاہ صاحب نے بتایا کہ چنانچہ اس پرتعمیل کرتے ہوئے اسی طرزپرکچھ کاپیاں ان بزرگان سلسلہ اورعلماء کی خدمت میں بھیجی گئیں اور پھرشاہ صاحب محترم نے ہنستے ہوئے فرمایا کہ اکثرعلماء کی طرف سے یہی جواب آیا کہ ہرگزاس طرح نہ شائع کیاجائے یہ تو گویاایک طرح کی تحریف ہوجائے گی۔ شاہ صاحب نے بتایاکہ میں یہ ساری رپورٹ لے کرحضورانورکی خدمت میں حاضرہواتو حضورؒ نے بھی مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اچھا فی الحال رہنے دیں۔
خاکسارکوجہاں تک یادپڑتاہے محترم شاہ صاحب کی خوداپنی رائے وہی تھی کہ جیسے حضورانورؒ نے فرمایا ہے ویسے ہی شائع کردینی چاہیے تھی۔
اب جب اس طرز پرخاکسارنے براہین احمدیہ کی اشاعت کودیکھا تو دل بہت خوش ہوا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی ایک خواہش کواللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے عہد مبارک میں آپ کے ذریعہ سے پورا فرمادیا۔
عربی ترجمہ کے دیباچہ میں یہ لکھاگیاہے کہ حضورانور ایدہ اللہ کی اجازت سے یہ حواشی آخرپردیے گئے ہیں۔ اوریوں ۶۱۱ صفحات کی اس کتاب میں ۱۹۱ نمبرصفحہ تک کتاب کامتن مکمل ہوجاتاہے۔ اوراس کے بعد’’ہم اورہماری کتاب‘‘ جواردوکتاب کاآخری صفحہ ہے وہ ’’نحن و کتابنا‘‘ کے عنوان سے صفحہ ۱۹۳۔ ۱۹۴ ہے اورپھر۱۹۵ نمبر صفحہ سے حواشی شروع ہوتے ہیں جوکہ صفحہ ۶۱۱ تک ہیں۔ ویسے ’’نحن و کتابنا‘‘ اس کتاب کابھی آخری صفحہ ہوناچاہیے تھا۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: وسعتِ حوصلہ کی ضرورت و اہمیت




