متفرق مضامین

برکاتِ ماہِ صیام

رمض سورج کی تپش کوکہتے ہیں۔ رمضان میں چونکہ انسان اکل و شرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔ روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا۔(حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام)

قرآن مجید کی تعلیمات دو حصص پر مبنی اور مشتمل ہیں۔ ایک حصہ احکام ہدایت پر استوار اور قائم ہے جبکہ دوسرا حصہ میں قصص کا بیان ہے۔ احکام ہدایت کے اصول اور ان کی فلاسفی واضح اور اظہر من الشمس کی طرح ہوتے ہیں۔ تاکہ کوئی امر مشتبہ نہ ہو۔ قصص میں محض وہی حصہ بیان ہوتا ہے جو بیان مضمون سے متعلق ہوتا ہے جو ثبوت کے طور پر تائیدی گواہ قرآن کریم میں ذکر کیا گیا ہے۔ احکام اور قصص میں فرق ہے۔ ان میں تمیز اور امتیاز نہ کرنے سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ پھر اس سوال سے بھی ذہن میں خلجان اور اشکال پیدا ہوتے ہیں کہ ان میں مقدم احکام ہدایت ہیں یا قصص؟حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’قصوں کے حقائق بتانے خدا تعالیٰ کو ضرور نہیں ان پر ایمان لاؤ اور ان کی تفاسیر حوالہ بخدا کرو۔ ‘‘ (ملفوظات.جلد اول۔ صفحہ ۴۸۸، ایڈیشن ۲۰۲۲ء).

اس تمہید کا مقصد ماہ صیام رمضان کے بارے جو باتیں منسوب کی جاتی ہیں ان میں سے اکثر وبیشتر خلاف واقع ہیں۔ اکثر کا خیال ہے کہ روزوں کی فرضیت جس مہینہ میں ہوئی، گرمی کا ماہ تھا۔ اس لیے اس کا نام رمضان رکھا گیا ہے۔ کیونکہ رمض کا مادہ ر۔ م۔ ض ہے۔ اس میں شدت پائی جاتی ہے۔ زیادتی یا کمی دونوں میں شدت کی کیفیت موجود ہے۔ رمض کے جتنے اشتقاق رضم،مضر،مرض،ضرم،ضمر ہیں ان میں شدت کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ مثلاً الرمضاء بمعنی گرم زمین اور ریت اور پتھر۔ رضمان بھاری قدموں سے چلنے والا اونٹ۔

مؤلف مصباح اللغات نے رمضان کی یہ تصریح کی ہے کہ رمضان سے مراد وہ بارش ہے جو گرمی کے آخر اور ابتدا خریف میں ہوتی ہے۔ حضرت عبدالقادر جیلانی ؒتحریر فرماتے ہیں: رمضان رمض سے ماخوذ ہے کہ موسم خریف میں ہونے والی بارش ہے۔ کیونکہ رمضان ایماندارو ں کے جسموں اور دلوں کی آلودگیوں کو صاف کرتا ہے۔ ( غنیت الطالبین۔ ب۔ ۱۳)

قرآن مجید کی روحانی آسمانی بارش اور ظاہری آسمانی باراں میں مناسبت اور مشابہت ہے۔ قرآن کریم کا نزول اس وقت آسمانی بارش کی ضرورت کے زمانہ کے عین وقت پر ہوا جب برو بحر میں فساد عظیم بپا ہوگیا تھا۔ ایک اور بھی قابل غور بات ہے کہ موسم برسات میں وبائی امراض ہوتے ہیں۔ فضا وبائی بن جاتی ہے۔ ابتدا خریف کی بارش وبائی فضا کی آلودگی کو صاف کرتی ہے۔ اس بارش سے زمانہ ربیع کی فصلوں کی تخم ریزی کے لیے زمین تیار ہو جاتی ہے۔ اور تمام غذائی فصلیں اسی موسم کی ہیں جو سال بھر کام آتی ہیں۔ گویا قرآن مجید کی روحانی آسمانی بارش عین ضرورت کے مطابق برستی ہے۔ ماہ صیام ان برکات اور رحمتوں کا ایک نمونہ ہے۔ تاکہ سالکین کی روحانی پیاس کی تشنگی دورہو۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام رمضان کی فلاسفی کی بابت فرماتے ہیں:’’رمض سورج کی تپش کوکہتے ہیں۔ رمضان میں چونکہ انسان اکل و شرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لیے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔ روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا۔ اہل لغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینہ میں آیا اس لیے رمضان کہلایا۔ میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہےکیونکہ عرب کے لیے یہ خصوصیت نہیں ہوسکتی۔ روحانی رمض سے مراد روحانی ذوق و شوق اور حرارت دینی ہوتی ہے۔ رمض اس حرارت کو بھی کہتے ہیں جس سے پتھر وغیرہ گرم ہوجاتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۹۴، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

عربی میں صوم اور اردو میں روزہ مستعمل ہے۔ صوم کے مختلف معانی ہیں۔ صوم شتر مرغ کی بیٹ کو کہتے ہیں۔ (ملفوظات.جلد اول صفحہ ۴۸۷، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)ایک معنی روکنا بھی ہے۔ دین اسلام میں صوم کے ایک اصطلاحی معنوں میں سحر تا غروب آفتاب اکل و شرب اور دیگر مکروہات اور ممنوعات سے پرہیز کرنا ہے۔ فواحش اور منکرات سے دور رہنا ہے۔

روزےکی غرض و غایت کا مقصود بالذات تقویٰ شعاری اختیار کرنا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ۔ (البقرہ:۱۸۴)اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ تقوی کیا ہے؟یہ ترک شر اور ایصال خیر کے اخلاق سے اپنی ذات کو مزین اور آراستہ کرنا ہے۔ کامل اور مکمل نیکی ان نیکی کے دونوں پہلوؤں کو اختیار کرنا اور اپنانا ہے۔ یعنی متقی اور محسن بنو۔ قرآن مجید میں ہے: اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ۔(النحل: ۱۲۹) یقیناً اللہ تعالیٰ کی معیت متقیوں اور محسنوں کے ساتھ ہے۔ اس آیہ کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ متقی سے مقدم محسن ہے۔ یعنی تقویٰ سے آگے قدم بڑھاؤ اور درجہ احسان میں قدم رکھو۔ قرآن کریم میں تیسرا مقام و مرتبہ سابق الخیرات ہے۔ جو صلحاء،اتقیاء اور انبیاء ہیں۔

قرآن مجید اور ماہ صیام جزو لاینفک ہیں،کیونکہ اس بابت فرمایا گیا ہے:شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَالۡفُرۡقَانِ۔ (البقرہ:۱۸۶)یعنی رمضان کا مہینہ وہ(مہینہ )ہےجس کے بارے میں قرآن(کریم ) نازل کیا گیا ہے (وہ قرآن )جو تمام انسانوں کے لیے ہدایت(بنا کر بھیجا گیا )ہے اور جو کھلے دلائل اپنے اندر رکھتا ہے(ایسے دلائل )جو ہدایت پیدا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی(قرآن میں ) الٰہی نشان بھی ہیں۔ اسی کے بارے میں ساتھ یہ بھی ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلۡیَصُمۡہُ۔(البقرہ:۱۸۶)اس لیے تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو(اس حال میں )دیکھے(کہ نہ مریض ہو نہ مسافر )اسے چاہیے کہ وہ روزے رکھے۔

آنحضرت سید الانبیاء و امام الاصفیاء صلی اللہ علیہ وسلم رمضان سے قبل ہی شعبان میں اس کے استقبال کی تیاری شروع فرمادیتے۔

رمضان میں آپؐ کے معمولات میں غیر معمولی تیزی اور سرعت پائی جاتی تھی۔ عبادات اور جود و سخا میں خاص تغیر و تبدل نظر آتا۔

روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ دیگر لازم لوازمات ہیں۔ اس کے بدوں اس فرض کی تکمیل پوری ہو نہیں پاتی۔ مثلاً نیت روزہ کرنا۔ سحری کھانا ۔حدیث مبارکہ ہے کہ اس میں برکت ہے۔ غروب آفتاب پر جلد افطاری کرنا موجب خیر بنا دے گا،ممنوعات اور مکروہات سے اجتناب کرنا۔ تلاوت کلام اللہ کرنا،عبادات بجا لانا، جود و سخا میں کثرت، قیام لیل،آخری عشرے میں اعتکاف اور لیلۃالقدر کی جستجو کرنا۔ ذکر الٰہی بکثرت اور دعائیں مانگنا وغیرہ امور روزہ میں شامل ہیں۔ روزہ مجاہدہ اور ریاضت ہے جو دل کو مصفا آئینہ تخت گاہ الٰہی بنا دیتا ہے۔

روزہ کے شیریں ثمرات حسنہ

ماہ صیام روحانی آلاء و نعماء سے مثمر بثمرات شجرہ طیبہ ہے۔

۱۔ رمضان تین عشرے:حدیث نبویؐ میں رمضان کے عشروں کو اس طرح منقسم کیا گیا ہے۔ رحمت، مغفرت اور آگ سے نجات۔ ان عشروں کی الگ دعائیں ہیں جو کثرت سے ہوں۔ عشرہ اول میں یہ دعا ہے: رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِيْنَ۔ دوسرے عشرے میں: اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ رَبِّىْ مِنْ کُلِّ ذَنبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ۔ تیسرے عشرے میں:اللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی۔اللّٰھم اجرنا من النار کی دعائیں ہیں۔ ۲۔ گناہ کی بخشش کا ذریعہ: آنحضرت خیر الوریٰ اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاِحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔جس نے رمضان میں بحالت ایمان اور احتساب روزے رکھے اس کے پہلے تمام گناہ معاف ہوں گے۔ (مشکوۃ المصابیح: ۱۹۵۸)عربی میں ذنب دم کو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ انسان کا وہ گناہ ہے جو دم چھلہ کی طرح لگا رہے۔ رمضان کے روزے اس نوعیت کے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بھی ہیں۔ ۳۔ابواب جنت کھلنا، دوزخ کے دروازے بند ہونا اور شیاطین کا زنجیروں میں جکڑے جانا۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ۔(ریاض الصالحین: ۱۲۲۰) جب رمضان آتا ہے جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں، دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔ یعنی نیکیوں کا غلبہ ہوتا ہے۔ ۴۔ روزہ بےمثل ہونا: ایک صحابی نے بارگاہ نبوت میں عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ مجھے کوئی نافع عمل بتائیں۔ فرمایا: عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ۔ روزہ رکھو یقیناً یہ بےمثل عمل ہے۔ (سنن نسائی۔ ۱۴۰) ۵۔ روزہ ڈھال ہونا: حدیث شریف ہے کہ ان صوم جنتہ۔ روزہ سپر ہے۔ یہ گناہوں کے خلاف ڈھال کا کام دیتا ہے۔ انسان محفوظ رہتا ہے۔ دنیا میں خیر وشر کی پنجہ آزمائی روز ازل سے جاری و ساری ہے۔ شر کے خلاف بطور دفاع روزہ ہتھیار ہے۔ ۶۔ صدقات کے مواقع: رمضان میں صدقات و خیرات کے زیادہ مواقع میسر آتے ہیں۔ بھوک اور پیاس کی شدت کا احساس روزہ داروں کو محسوس ہو کر ان کی نظر غرباء اور مسکینوں اور بےکسوں اور لاچار لوگوں پر پڑتی ہے تو ایثار کا جذبہ بیدار ہوجاتا ہے۔ وہ ان کی امداد کی سعی و کوشش کرتے ہیں۔ آنحضرت فخر الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے رمضان المبارک میں آپؐ اجود نظر آتے ہیں۔ جیساکہ روایت ہے کہ کان رسول اللّٰہ اجود وکان اجود ما یکون رمضان۔ یعنی سخاوت رمضان المبارک میں زیادہ کرتے تھے۔ ۷۔ تارک صوم کی ہلاکت: ایک مرتبہ حضرت سید ولدآدم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پہلا قدم مبارک منبر کے زینہ پر رکھا۔ فرمایا: آمین۔ جب دوسرے زینہ پر قدم رکھا۔ فرمایا: آمین۔ اسی طرح تیسرے زینہ پر پاؤں دھرا۔ فرمایا: آمین۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دریافت کیا: یا رسول اللہؐ!آپ نے کس بات پہ آمین فرمایا ہے؟ ارشاد فرمایا کہ جب میں نے زینہ پر قدم رکھا تو جبرئیل علیہ السلام نے کہا۔ اس شخص کی ہلاکت ہے کہ رمضان آیا اور روزے نہ رکھے۔ مَیں نے آمین کہا۔ دوسری مرتبہ اس نے کہاکہ اس آدمی پر ہلاکت ہو جس نے آپؐ پر درود نہ بھیجا۔ میں نے آمین بولا۔ تیسری دفعہ جبرئیل نے کہا کہ اس انسان پر ہلاکت ہو جس نے والدین کی خدمت نہ کی یا بڑھاپے میں ان کی خدمت سے محروم رہا اور جنت میں داخل نہ ہوا۔ میں نے آمین کہا۔(مستدرک حاکم) ۸۔ لیلۃالقدر: رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں لیلۃالقدر تلاش کرنے کی آنحضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے اور احادیث مبارکہ میں اہمیت اور فضیلت بیان ہوئی ہے۔ لیلۃالقدر سے مراد قبولیت دعا کا وقت اصفیٰ ہے۔ جو نعمت عظمی اور سعادت عظیم ہے۔ ۹۔روزے کی جزا: حدیث نبویؐ کے مطابق روزہ کی جزا خود ذات اقدس پرورکنندہ اللہ تعالیٰ ہے۔ گویا ربوبیت اور عبودیت کے دیگر ذرائع اور وسائل میں سے ایک ذریعہ روزہ ہے جو آئینہ دل کو صیقل کرتا ہے۔ ربوبیت اور عبودیت کے باہمی تعلق سے ایک نورانی چمک پیدا ہوتی ہے۔ انسان کے شمعدان دل کے اندر نور کا چراغ روشن ہوجاتا ہے۔ جس سے آدمی صاحب مستقیم بن جاتا ہے۔ ۱۰۔ جنت کا باب رَیَّان: روزہ کی فضیلت اس سے بھی واضح ہوتی ہے کہ ایک روزہ دار کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کے لیے ایک باب رَیَّان وقف کیا ہے۔ جس کی بشارت حضرت سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ غرض یہ کہ روزہ کثیرالفوائد عبادت ہے جو جسمانی اور روحانی فوائد اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے روزہ کی حقیقت یوں بیان فرمائی ہے کہ’’روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جس ملک میں انسان جاتا نہیں اور جس عالم سے واقف نہیں اس کے حالات کیا بیان کرے۔ روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے۔ انسانی فطرت میں ہےکہ جس قدر کم کھاتا ہے اسی قدر تزکیہ نفس ہوتا ہے اور کشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔ خدا تعالیٰ کا منشا اس سے یہ ہےکہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ۔ ہمیشہ روزہ دار کو یہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اسے چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تا کہ تبتل اور انقطاع حاصل ہو۔ پس روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرےجو روح کے لیے تسلی اور سیری کا باعث ہے۔ اور جو لوگ محض خدا کے لیے روزے رکھتے ہیں اور نرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے انہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں جس سے دوسری غذا انہیں مل جاوے۔‘‘ (ملفوظات جلد۹ صفحہ۳۰۔۳۱)

اللہ تعالیٰ ہماری زندگی انوار روزہ سےروشن اور منور بنائے۔ آمین

(محمد اشرف کاہلوں۔ آسٹریلیا)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: دینِ اسلام کی چوٹی جہاد ہے جس میں روزہ شامل ہے (الحدیث)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button