آنحضورﷺ کی اپنے اقرباء کو دعوت اسلام
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب اللہ عزّ وجلّ نے یہ آیت نازل کی:وَأَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْأَقْرَبِيْنَ۔اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار اور متنبہ کرو تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپؐ نے فرمایا: اے قریش کے لوگو! یا ایسا ہی کوئی اور کلمہ، تم دنیا کو چھوڑ دو اور خدا کے دین کو قبول کر لو۔ (یاد رکھو) میں اللہ کے حضور تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ اے عبد مناف کے بیٹو! میں اللہ کے حضور تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ اے عبد المطلب کے بیٹے عباس! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ اے صفیہ! جو رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی ہو؛ میں اللہ کے حضور تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ اے فاطمہ! جو محمد ﷺ کی بیٹی ہے تو میرے مال سے جو چاہے مانگ لے؛ میں اللہ کے حضور تیرے کچھ کام نہیں آسکتا۔
(بخاری، کتاب الوصایا باب ھل یدخل النساء و الولد فی الاقارب حدیث نمبر۲۷۵۳)
مزید پڑھیں: روزہ عمداً توڑنے کا کفارہ




