محترم ملک منور احمد جاوید صاحب (نائب ناظر ضیافت)

خاکسار کاستمبر ۲۰۱۳ء میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد مبارک پر امور عامہ سے دارالضیافت میں بطورمعاون ناظر تقرر ہوا۔ مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب جو کہ اس وقت نائب ناظر ضیافت تھے اور تقریباً تیس، بتیس سال سے دارالضیافت میں خدمات بجالا رہے تھے کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا۔ فرمایاانہوں نے پوچھا کہ کب سے امور عامہ میں کام کر رہے ہو؟ خاکسار نے بتایا کہ ۱۹۹۶ء میں امور عامہ میں تقرّر ہوا تھا اور اب دیوان کی طرف سے چٹھی لے کر حاضر ہوا ہوں۔ اپنے والد قریشی سعید احمد اظہر صاحب کے حوالے سے جو کہ پرانے مربیان میں سے تھے تعارف کروایا۔ اس پر ملک صاحب نے کہا کہ ان کو تو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ بہت ہی شریف النفس انسان تھے۔ کہا: دیکھو بیٹا! یہاں پر حضرت مسیح موعودؑ کے مہمان آتے ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ان کی خدمت کریں اور ان کا ہر طرح سے خیال رکھیں۔ بعض اوقات مہمانوں کی طرف سے شکایات بھی آتی ہیں مگر ہم نے ان کو ناراض نہیں ہونے دینا اور اگر وہ غلط بھی ہوں تو صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہی سے معافی کی درخواست کرنی ہے اور کوشش کرنی ہے کہ مہمان کی خواہش کو پورا کیا جائے۔ چونکہ یہ مہمان حضرت مسیح موعودؑ کے مہمان ہیں اس لیے ہر ممکن کوشش کر کے ان کی خدمت کر کے ثواب حاصل کرنا ہے اور کسی کو ناراض نہیں کرنا۔
پھر کہا کہ آپ کی تعلیم کیا ہے؟ اس پر خاکسار نے جواب دیا کہ ۱۹۸۲ء میں بی اے کیا تھا۔ پھر فیکٹریز وغیرہ میں سروسز کرتا رہا اور پھر والد صاحب کی خواہش پر جماعت کی خدمت کے پیش نظر امورعامہ میں خدمت کی توفیق پائی۔ اس کے بعد مکرم ملک صاحب نے معاون ناظر ضیافت کو بلوایا اور کہا کہ ایک ہفتہ اپنے پاس ان کو ٹریننگ دیں۔ پھر باقی دو معاونین کے ساتھ بھی ان کو کام کروانا ہے تا کہ ان کی ٹریننگ ہو سکے۔ سواسی طرح ہوا اور آج مجھے یہاں بارہ سال ہو گئے ہیں اور جتنا عرصہ مکرم ملک صاحب کے ساتھ گزرا اس کی یادیں ایک الگ ہی رنگ رکھتی ہیں۔ ان سے بہت کچھ سیکھا اور جو ان کی طرف سے مجھے محبت ملی وہ لفظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی۔ اس پورے عرصے کے دوران خاکسار نے مکرم ملک صاحب کو بہت شفیق، مہربان اور فکر کے ساتھ حضرت مسیح موعودؑ کے مہمانوں کی خدمت کرنے والا پایا۔ راتوں کو اُٹھ کر لنگر خانہ کا چکر لگانا۔ استقبالیہ سے مہمانوں کے بارے میں پوچھنا کہ کسی کو کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔ سردیوں کی راتوں میں مہمانوں کی چائے وغیرہ کا خیال رکھنا اور پھر کارکنان دارالضیافت کے ساتھ بھی ایک باپ جیسا سلوک رہا۔ غریب کارکنان کے گھریلو حالات سے باخبر رہنا اور خاموشی سے مدد کرنا ان کا خاصا تھا۔ انتظامی امور میں کمال حاصل تھا۔ پورے دارالضیافت کا چکر لگاتے۔ ان کو اپنے دفتر میں بیٹھے ہوئے علم ہوجاتا تھا کہ کس شعبہ میں کیا ہو رہا ہے اور کونسا کارکن اس وقت کہاں پر کام کر رہا ہے۔ ہر ایک کی خبر رکھتے۔گھر پر ہوتے تو بار باردارالضیافت استقبالیہ پر فون کر کے پوچھتے کہ کہیں کوئی خرابی تو نہیں، کوئی مہمان ناراض تو نہیں۔ اگر کسی مہمان کا ناراضگی کا معاملہ مکرم ملک صاحب کے پاس آتا بھی تو خود جھک جایا کرتے تھے اور مہمان سے باوجود ان کی غلطی کے خود معافی مانگ لیا کرتے تھے۔
حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے احمدیت کے ارشادات زبانی یاد تھے۔ خاص طور پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی تقاریر کے بعض اقتباسات اور پھر خوب مزے لے کر اور ایک جذبہ کے ساتھ یہ اقتباسات مختلف مہمانوں کو سناتے اور خود بھی محظوظ ہوتے۔ اس دوران ان کا جوش اور جذ بہ قابل دید ہوتا۔ مہمانوں کی خدمت کے حوالے سے کارکنان کو اکثر حضرت مسیح موعودؑ اور خلفاء کے ارشادات کی روشنی میں سمجھاتے۔ اور اس خوبصورتی، محبت اور پیار کا انداز ہوتا جو ہر ایک کے دل پر اثرانداز ہوتا۔ اکثر ایک جملہ مجھے کہتے کہ ’’ہم پر ہمارے آباءواجداد کابہت بڑا احسان ہے کہ وہ جماعتِ احمدیہ جیسی نعمت لے کر ہمیں دے گئے ورنہ آج ہم بھی کہیں بھٹک رہے ہوتے۔‘‘ ہر ایک کو جماعت اور خلیفۂ وقت کے ساتھ جڑے رہنے کی تلقین کرتے اور فرماتے کہ اسی میں ہماری بقا ہے۔ ہر کارکن سے پوچھتے کہ کیا تم نے حضورِانور کو دعائیہ خط لکھا ہے؟ کیا تمہاری وصیت ہے؟ حضرت مسیح موعودؑ اور خلفاء کے ساتھ والہانہ عشق تھا اور یہ جوش اور ولولہ آپ کے چہرے سے نظر آتا۔ عاجزی و انکساری اورجماعت سے اطاعت اور محبت کا ایک نمونہ تھے۔
مکرم ملک صاحب کی طبیعت ایسی تھی کہ اپنے گھر میں اگر لنگرخانہ سے ایک روٹی بھی کھائی ہے تو فرماتے تھے کہ فوراً رسید کٹوا دیں۔ اگر حضورِانور ایدہ اللہ کی خدمت اقدس میں دعا کے لیے ذاتی فیکس بھی کرنی تو مجھے یاد ہے کہ اکاؤنٹنٹ کو بلواکر عطیہ کی رسید مبلغ ۱۰؍روپے پہلے کٹوایا کرتے تھے۔ دارالضیافت کے حوالے سے جو رقوم ہوتی تھیں ان کو فکر رہتی تھی کہ پیسہ ضائع نہ ہو اور صحیح جگہ پر خرچ ہو۔ فرمایا کرتے تھے کہ ایک ایک پائی جماعت کی قیمتی ہے کیونکہ ہم نے ان پیسوں کا جواب اللہ تعالیٰ کو دینا ہے۔ رمضان کے مہینے میں لوگ پاکستان یا بیرون ملک سے غرباء کے لیے رقوم بھجواتے۔ بعض دفعہ بہت بڑی بڑی رقوم ہوتیں مجھے بلوا کر کہتے کہ دارالضیافت کے مستحق کارکنان میں تقسیم کروا دو اور بتانا نہیں کہ کس کی طرف سے ہے۔ بس دعا کی درخواست کر دینا اور جب میں فہرست بنا کر ان کو پیش کرتا جن کارکنان کو رقوم دی گئی ہوتیں تو فوراً پھاڑ دیتے اور فرماتے مجھے تم پر اعتبار ہے۔ بس میری یہی خواہش ہوتی ہے کہ خاموشی کے ساتھ رقوم مستحق افراد تک پہنچ جائیں۔
ہر تین چار ماہ بعد کارکنان کے لیے کھانا تیار کرواتے اور یہ کھانا وافر ہوتا جو کارکنان گھروں میں لے جاتے اور دعائیں دیتے۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً دارالضیافت کی طرف سے غریب کارکنان کی مدد بھی کرتے اور ان کی دلجوئی کرتے۔ دارالضیافت کے امور کے حوالے سے ہمیشہ اپنے معاونین کی رائے لیتے اور پھر مناسب فیصلہ کرتے۔ معاونین کے ساتھ بھی ہمیشہ شفقت کا سلوک رہا اور ان کی رائے کا احترام کرتے۔ آج ہم میں مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب موجود نہیں مگر ان کی یادوں اوران کی خدمات کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ مکرم ملک صاحب نے ۳۳؍ سال لنگر خانہ کے مہمانوں کی خدمت کی ہے۔ جس محنت سے کام کیا وہ قابل تعریف ہے۔ اللہ تعالیٰ مکرم ملک صاحب کے درجات بلند فرمائے اور آخرت میں ان سے رحم کا سلوک فرمائے ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ (آمین)
مزید پڑھیں: میرے والد محترم محمد شفیق قیصر صاحب شہید




