حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ (اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭…ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حالیہ حملے میں وفات ہوئی۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان کی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں وفات کی تصدیق کی ہے اور ملک بھر میں چالیس روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق خامنہ ای کی بیٹی، داماد اور نواسی بھی ان حملوں میں مارے گئے۔ان کے دفتر میں ہونے والی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے آفیشل اکاؤنٹ سے یادگار تصویر اور قرآنی آیت (سورۃ الاحزاب:۲۴) بھی شیئر کی جس میں ان کی وفاداری و ثابت قدمی کو بیان کیا گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، سپریم لیڈر ایک زیرِ زمین بنکر میں تھے جہاں تیس بم گرائے گئے جس سے وہ اور کئی ساتھی ہلاک ہوئے۔

٭…روس نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں شدید ردعمل دیا۔ روسی مندوب نے کہا کہ ایران کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں اور آئی اے ای اے نے کبھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی تصدیق نہیں کی۔ انہوں نے ماضی میں عراق جنگ کے دعوؤں کو بھی غلط مثال قرار دیا اور یورپی ممالک کی خاموشی پر تنقید کی۔ دوسری جانب چین نے شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز، فوری کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کی اپیل کی۔

٭… یونانی مرکز جہازرانی کے ذرائع نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد عالمی جہاز رانی شدید افراتفری کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق یورپ سے ایشیا آنے والے جہازوں کو نہر سوئز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا اور انہیں بحیرہ روم میں رکنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ دمام بندرگاہ میں موجود جہازوں کو نکلنے کا حکم دیا گیا۔ خلیج فارس میں کئی جہاز پھنسے ہونے کا خدشہ ہے جنہوں نے اپنی لوکیشن بھی بند کر دی ہے۔ اس صورتحال سے جہاز مالکان کو یومیہ بیس ہزار سے ایک لاکھ ڈالر تک نقصان ہوسکتا ہے۔

٭…نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کو غیر قانونی و جارحانہ جنگ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ یہ کارروائیاں خطے میں نئی جنگ کا دروازہ کھول رہی ہیں اور بمباری و شہری ہلاکتیں امریکی عوام کی خواہش نہیں۔

٭…امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے پر ایران میں کارروائی کی منصوبہ بندی کئی ماہ پہلے شروع کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے حملے سے قبل آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقام کی درست نشاندہی کر لی تھی اور ان کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی تھی۔ذرائع کے مطابق ابتدائی منصوبہ رات کے حملے کا تھا، مگر تہران میں اہم اجلاس میں سپریم لیڈر کی شرکت کی اطلاع ملنے پر وقت بدل کر صبح حملہ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس خفیہ اطلاع نے دونوں ممالک کو موقع دیا جبکہ ایرانی قیادت ممکنہ خطرات کے باوجود مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کر سکی۔

٭…ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کا ردعمل امریکہ کی توقع سے کم رہا ہے، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر حملے کے بعد سفارت کاری اب کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ اگر ایران نے مزید سخت حملوں کا اعلان کیا تو اسے ایسی طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا ’’جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی‘‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی فوج نے ایران میں “بڑی عسکری کارروائیاں” شروع کر دی ہیں جس سے اسرائیل کے پہلے سے جاری حملوں میں واشنگٹن کی شمولیت کی باضابطہ تصدیق ہوگئی۔ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے پہلے ہی خطے میں فوجی موجودگی بڑھا دی تھی تاکہ تہران کو جوہری پروگرام محدود کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر سفارتی حل نہ نکلا تو فوجی کارروائی ہو سکتی ہے، اور جنیوا میں حالیہ بالواسطہ مذاکرات بھی بغیر پیش رفت کے ختم ہوگئے۔کارروائی کے اعلان پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے، اور اس اقدام کو “عظیم مشن” قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ ایران کے جوہری اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام کے باعث ضروری تھا۔

٭…یورپی ممالک نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں وسیع جنگ کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ متعدد یورپی راہنماؤں نے ہنگامی سیکیورٹی اجلاس بلائے اور خطے میں موجود اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے۔یورپی یونین نے صورتحال کو “انتہائی خطرناک” قرار دیتے ہوئے فریقین سے تحمل کی اپیل کی، جبکہ اورزولا فان ڈیئر لائن نے خاص طور پر جوہری تنصیبات کی سلامتی یقینی بنانے پر زور دیا۔ ناروے کے وزیر خارجہ نے اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا اور کہا کہ پیشگی حملہ صرف اسی وقت جائز ہوتا ہے جب فوری اور واضح خطرہ ثابت ہو جو ان کے بقول اس معاملے میں ظاہر نہیں کیا گیا۔برطانیہ نے خبردار کیا کہ صورتحال وسیع علاقائی تنازع بن سکتی ہے اور بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔ایمانوئل ماکروں نے خبردار کیا کہ تنازع عالمی امن کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے اور فوری کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی اپیل کی۔ ادھر جرمنی نے بتایا کہ اسے اسرائیلی حملوں کی پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی اور برلن اپنی کرائسز مینجمنٹ ٹیم کا اجلاس بلا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: سپورٹس بلیٹن

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button